پوری زندگی ادنیٰ لوگوں کو بڑے عہدوں پر دیکھا ہے: عمران خان کی انڈین قیادت پر کڑی تنقید


حال ہی میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں مجوزہ ملاقات کی منظوری کے اعلان کے 24 گھنٹے بھی مکمل نہیں ہوئے تھے کہ انڈین وزارت خارجہ کی جانب ملاقات منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔

Getty Images
حال ہی میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں مجوزہ ملاقات کی منظوری کے اعلان کے 24 گھنٹے بھی مکمل نہیں ہوئے تھے کہ انڈین وزارت خارجہ کی جانب ملاقات منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ مـجوزہ وزرائے خارجہ سطح کی ملاقات کی منسوخی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انڈین رویے کو ’منفی اور متکبرانہ‘ قرار دیا ہے۔

ٹوئٹر پر ایک پیغام میں عمران خان نے انڈین قیادت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ’ادنیٰ‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کی بحالی کی اُن کی دعوت کے جواب میں بھارت کا منفی اور تکبر سے بھرپور رویہ باعث افسوس ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے اپنی پوری زندگی میں ادنیٰ لوگوں کو بڑے بڑے عہدوں پر قابض ہوتے دیکھا ہے۔ یہ لوگ بصارت سے عاری اور دوراندیشی سے یکسر محروم ہوتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ حال ہی میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں مجوزہ ملاقات کی منظوری کے اعلان کے 24 گھنٹے بھی مکمل نہیں ہوئے تھے کہ انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے ملاقات منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔

یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر ہونا تھی۔

اس سے قبل انڈیا کا کہنا تھا کہ’ملاقات کے اعلان کے بعد رونما ہونے والے بعض واقعات سے پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان کا اصلی چہرہ سامنے آگیا اور اب نیو یارک میں دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات نہیں ہوگی، کیونکہ اس ملاقات کا کوئی مطلب باقی نہیں رہ جاتا۔’

دلی نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ ‘(اس اعلان کے بعد) ہمارے سکیورٹی اہلکاروں کو پاکستان سے سرگرم عناصر نے بربریت کے ساتھ قتل کیا ہے اور پاکستان نے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے اعزاز میں 20 ڈاک ٹکٹ جاری کیے۔۔۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نہیں سدھرے گا۔’

تاہم پاکستانی دفتر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے ڈاک کے ٹکٹ 25 جولائی سے قبل جاری کیے گئے تھے اور عمران خان کی حکومت اس کے بعد آئی۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ (انڈیا) خود کہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ ہم بھی بات کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اب وہ پیچھے ہٹ رہے ہیں۔’

‘ہمارے پاس بھی شواہد موجود ہیں کہ بلوچستان میں کچھ عناصر بدامنی پھیلا رہے ہیں لیکن ان سب کے باوجود ہم عوام کے لیے آگے بڑھنا اور بات کرنا چاہتے تھے۔’

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے 14 ستمبر کو وزیراعظم مودی کو ایک خط لکھا تھا جو دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر نے 17 ستمبر کو حکومت کے سپرد کیا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے وزیر خارجہ کا بھی ایک خط تھا جو وزیر خارجہ سشما سواراج کے نام تھا۔

اس ملاقات میں کسی ٹھوس پیش رفت کی توقع نہیں تھی لیکن ملنے کے فیصلے کو ہی ایک بڑی کامیابی مانا جارہا تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5729 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp