بھارت کی سفارتی قلابازی اور عمران خان کا ویژن


بھارت کی طرف سے دونوں ملکو ں کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات پر اتفاق کے ایک روز بعد انکار پر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا غصہ بجا ہے۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ یہ بھارتی فیصلہ ’منفی اور متکبرانہ‘ ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے پیش کش کی تھی کہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ ملاقات کریں تاکہ باہمی تعلقات پر جمی سرد مہری کی برف پگھل سکے۔ بھارت نے اس ملاقات پر آمادگی تو ظاہر کی تھی لیکن اسے غیر رسمی قرار دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اس ملاقات کو کسی طرح دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا آغاز نہ سمجھا جائے۔ تاہم یہ خبر سامنے آنے اور امریکہ سمیت تمام خیر خواہ ملکوں کے دارالحکومتوں میں اظہار اطمینان کے ایک روز بعد ہی بھارت نے عمران خان پر الزامات عائد کرتے ہوئے ملاقات منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نےتازہ فیصلہ کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان اور اس کے وزیر اعظم کے خلاف سخت اور غیر سفارتی زبان بھی استعمال کی۔ لائن آف کنٹرول پر ایک بھارتی فوجی کی ہلاکت اور پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے شہدائے آزادی کے لئے جاری ہونے والے ڈاک ٹکٹوں کے اجرا کو بہانہ بناتے ہوئے بھارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کی پیشکش کے پیچھے چھپا پاکستان کا مکروہ مقصد اب کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اور دنیا کےسامنے پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان کا اصل چہرہ بھی آشکار ہوگیا ہے۔ ایسےماحول میں پاکستان کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت سود مند نہیں ہو سکتی۔‘

بھارتی حکومت کی اس قلابازی اور سفارتی اوچھے پن پر پاکستان ہی طرف سے سخت احتجاج اور حیرت کا اظہار سامنے نہیں آیا بلکہ اہم بھارتی اخبارات نے بھی اسے مودی حکومت کی سفارتی ناکامی اور علاقے میں حالات کو بہتر بنانے کی ایک کوشش کو ضائع کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ بھارتی ترجمان نے حیرت انگیز طور پر عمران خان کی حکومت پر جو الزامات عائد کئے ہیں، وہ بھی بے بنیاد اور غلط ہیں۔ بھارت کے بقول پاکستان کا ’شیطانی ایجنڈا‘ مذاکرات کی دعوت کے بعد یوں عیاں ہؤا کہ ایل او سی پر بھارتی سیکورٹی فورسز کے ایک اہلکار کو پاکستان کی سرپرستی میں کام کرنے والے عناصر نے قتل کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے دہشت گردوں کو اعزاز دینے کے لئے ڈاک ٹکٹ جاری کئے۔ بھارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کبھی نہیں سدھرے گا‘۔ تاہم بعد میں پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان سے واضح ہو گیا کہ بھارت نے دراصل پرانے واقعات کو عمران خان کی حکومت کے سر منڈھ کر اپنی سفارتی خفت مٹانے کی کوشش کی تھی۔

 بھارتی سیکورٹی فورس کے جس اہل کار کی ہلاکت کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا ہے وہ وزرائے خارجہ کی ملاقات کا اعلان ہونے سے دو روز پہلے کا تھا اور پاکستان نے اس سے بریت کا اعلان کرتے ہوئے پیش کش کی تھی کہ وہ اس سانحہ کی تحقیقات میں تعاون کرنے پر آمادہ ہے۔ اسی طرح پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے شہدا کے اعزاز میں 24 جولائی کو ڈاک ٹکٹ جاری کئے تھے جنہیں اب ’دہشت گردوں کو اعزاز دینا ‘ قرار دے کر عمران خان کی حکومت کے ناپاک ارادوں کی قلعی کھلنا قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ اس طرح کی سفارتی قلابازی سے بھارت کی اپنی سفارتی مہارت اور پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرنے کے بارے میں مودی حکومت کی ناقص حکمت عملی اور مجبوری کا پول کھلا ہے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ بھارتی حکومت کو پاکستانی وزیر اعظم کی طرف سے مذاکرات کی فراخدلانہ پیش کش دونوں ملکوں کے درمیان متعدد پیچیدہ اور مشکل معاملات کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔ لیکن بھارتی حکومت داخلی سیاسی مجبوریوں اور آئندہ برس ہونے والے انتخابات کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ وزرائے خارجہ کی ملاقات پر رضامندی کے فوری بعد ہی بھارت میں انتہا پسند حلقوں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ معتدل مزاج سیاسی لیڈروں نے بھی یہ استفسار کیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کون سی ایسی تبدیلی واقع ہوئی ہے کہ حکومت اب وزرائے خارجہ کی سطح پر بات چیت کے لئے راضی ہو گئی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ نریندر مودی سرکار اس چیلنج کا جواب دینے میں ناکام رہی ہے کیوں کہ اس نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گزشتہ چند برس کے دوران پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا ہے۔

بھارت اور پاکستان کی سیاست میں ایک بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ پاکستان کے انتخابات میں سیاسی پارٹیاں عام طور سے بھارت دشمنی کے نعرے لگا کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتیں۔ جو چند مذہبی گروہ اس قسم کے سیاسی مؤقف کی تائید کرتے ہیں انہیں انتخابات میں ووٹروں کی پذیرائی نصیب نہیں ہوتی۔ پاکستان میں مقبوضہ کشمیر کے عام شہریوں اور حریت پسندوں پر بھارتی سیکورٹی فورسز کے مظالم پر ضرور تشویش ہے لیکن پاکستانی عوام بھی اپنی حکومتوں کی طرح کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل باہمی بات چیت سے طے کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان میں اب بھارت کے ساتھ دشمنی اور تصادم کا ایسا پرچار نہیں کیا جاتا جس کا لازمی نتیجہ جنگ کی صورت میں سامنے آئے۔ لیکن بد قسمتی سے اقتصادی ترقی کرنے اور عالمی سطح پر سفارتی کامیابی سمیٹنے کے باوجود بھارت بدستور پاکستان کے ساتھ جنگ کی خواہش کا اظہار کرتا رہتا ہے۔

بھارت کے انتخابات میں پاکستان کے خلاف منفی نعرے بازی ووٹ سمیٹنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ نریندر مودی اور ان کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس بارے میں تخصص حاصل ہے۔ 2014 میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ بھارتی حکومت نے دنیا بھر میں پاکستا ن کو دہشت گردوں کا سرپرست قرار دینے کی کوشش کی ہے حالانکہ پاکستان نے اپنی کمزوریوں کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ کشمیر میں براہ راست مداخلت کو بھی کنٹرول کیا گیا ہے اور پاکستان اس وقت کشمیری عوام کی سیاسی اور سفارتی امداد ہی کرتا ہے۔ اس حوالے سے جو سقم موجود ہیں انہیں باہمی بات چیت اور اعتماد سازی کا ماحول پیدا کرکے آسانی سے دور کیا جا سکتا تھا لیکن نریندر مودی کی حکومت نے تصادم، پاکستان کا بائیکاٹ کرنے اور اسے ہر محاذ پر زچ کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کا پروپیگنڈا کرنے کے علاوہ بھارت کے فوجی و سیاسی لیڈر پاکستان کے خلاف اپنی مرضی کی جنگ شروع کرنے کا عندیہ بھی دیتے رہے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کی سیاسی حکومت اور فوج نے واضح کیا ہے کہ جنگ اس علاقے میں مسائل کا حل نہیں۔

عمران خان نے انتخابات میں جیتنے کے بعد سے بھارت کے ساتھ مفاہمت کی طرف قدم بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر بھارت دوستی کی طرف ایک قدم بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا۔ تاہم ماضی میں پاکستان کی ہر حکومت کا یہی طرز عمل رہا ہے۔ البتہ دونوں ملکوں کے درمیان بد اعتمادی کی فضا اس قدر کثیف ہو چکی ہے کہ آگے بڑھنے کا راستہ کھوجنا مشکل ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بھارت کی موجودہ حکومت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے کر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو سنگین تعطل کا شکار کردیا ہے۔ یہ بات بھی نہایت خطرناک اور تشویش کا سبب ہے کہ بھارت میں جنگ کو پاکستان سے نمٹنے کا ذریعہ قرار دینے کی سوچ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ بھارت کے لیڈروں کو عقل کے ناخن لیتے ہوئے جنگ کے آپشن کو بھول کر مصالحت کے لئے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔ نریندر مودی حکومت کا مذاکرات سے انکار کا مطلب جنگ کو آپشن کے طور پر قبول کرنے کا اقرار ہے۔ یہ ناقابل قبول سیاسی رویہ ہے جس کے خلاف پاکستان کی بجائے بھارت کے عوام کو آواز اٹھانا ہوگی۔

مودی حکومت نے پاکستان کے خلاف جنگجوئی کی باتیں کرکے حالات کو خراب کیا ہے اور وہ آئندہ انتخاب اب صرف پاکستان دشمنی کی بنا پر جیتنا چاہتے ہیں۔ وہ ’سب کا وکاس‘ کا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ملک کے سرمایہ کاروں کی امیدوں پر بھی پورے نہیں اترے۔ اب انتخابی کامیابی کے لئے ان کے پاس پاکستان دشمنی اور انتہا پسندی کےسیاسی سلوگن کو استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ بلاشبہ عمران خان کی دعوت پر وزرائے خارجہ کی ملاقات سے انکار کی وجہ داخلی سیاسی صورت حال ہے۔ برصغیر کی ایک جوہری قوت کا اپنے ہمسایہ ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک کے خلاف یہ رویہ بھارت کے عوام ہی نہیں بلکہ بنی نوع انسان سے دشمنی کا اظہار ہے۔ بھارت کے عوام کے علاوہ امریکہ اور نریندر مودی جیسے سیاسی لیڈروں کی سرپرستی کرنے والے عالمی لیڈروں کو بھی اپنی حکمت عملی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت گو بھارت کے ساتھ امن کی خواہش کا اظہار کرتی ہے اور اسی لئے مذاکرات کی ضرورت پر زور بھی دیتی ہے لیکن وہ اس مقصد کے لئے اپنی پالیسی کو تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت سے آئے ہوئے کسی مہمان کو آرمی چیف کے گلے لگانے یا گرو نانک کے 550 ویں یوم پیدائش پر سکھ زائرین کے لئے کرتار پور تک رسائی کی پیشکش جیسے اعلانات دونوں ملکوں کے درمیان موجود تعلقات کی پیچیدگی اور سنگینی کے معاملہ میں بہت چھوٹے اور علامتی نوعیت کے ہیں جو اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔ بھارت کے ساتھ امن کے لئے پاکستان کو اپنی خارجہ اور سیکورٹی پالیسی کے بعد بنیادی اصولوں کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ عمران خان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ اسلام آباد میں کس کی حکومت ہے۔ دیگر ملکوں کی طرح بھارت بھی جانتا ہے کہ صورت حال کی تبدیلی راولپنڈی میں ہونے والے فیصلوں کی محتاج ہے۔ اس لئے بھارتی ترجمان کے سطحی بیان کے جواب میں اتنا ہی سخت ٹویٹ کرنے سے نہ حالات بدلیں گے اور نہ ہی بھارتی لیڈر اپنا قد اونچا کرنے کی فکر میں دبلے ہونے لگیں گے۔

عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں بھارتی ترجمان کے بیان کومنفی اور گھمنڈی قرار دینے کے علاوہ کہا ہے کہ ’ میں نے زندگی بھر ایسے چھوٹے لوگ دیکھے ہیں جو بڑے عہدوں پر فائز ہوجاتے ہیں لیکن بڑی تصویر دیکھنے کے ویژن سے محروم ہوتے ہیں۔‘ عمران خان کو مصالحت کی بڑی تصویر کو دیکھنے کا تصور عام کرنے کے لئے اپنے گھر سے کام شروع کرنا پڑے گا۔ جس روز عمران خان یا ملک کا کوئی سیاست دان فیصلوں کو ان کے جائز مرکز یعنی پارلیمنٹ میں لانے میں کامیاب ہو گیا تو نئی دہلی اور واشنگٹن کا لب و لہجہ بھی تبدیل ہو جائے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1006 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali