سنہری معبد کا شہر


جو لوگ ٹوکیو دیکھ کر چلے جاتے ہیں، انھیں جاپان کی روح دکھائی نہیں دیتی۔ اس کام کے لیے ان علاقوں کو دیکھنا لازم ہے جو اس قدیم روح سے قریب ہیں، کیوٹو ان میں سے ایک ہے۔ سویا مانے مجھے بتاتے ہیں۔ اسٹیشن سے باہر نکل کر ہم شہر کی سڑکوں پر چل رہے ہیں۔ یہاں کی فضا بدلی ہوئی ہے۔ پرانی وضع کی بے شمار عمارتیں نظر آرہی ہیں۔

اس شہر میں تین ہزار سے زیادہ مندر ہیں، وہ مجھے بتاتے ہیں۔

یہ تو جاپان کا وارا ناسی ہوگیا، میں نے دل میں سوچا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا نے یہاں بم باری نہیں کی۔ اس لیے یہ مندر محفوظ رہے، جاپان کی قدیم ثقافت محفوظ رہی۔ وہ مجھے بتاتے ہیں۔

تین ہزار تو کیا، تین مندر دیکھنے کے لیے بھی مہلت کم تھی۔ پھر بھی جس قدر دیکھ سکتا تھا، دیکھا اور دل میں اتار لیا۔

پرانے معبد سے پہلے زین گارڈن دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ اپنی وضع میں نرالا ہے۔ باغ کے چار کونے، ہر کونے سے الگ نظارہ۔ باغ کیا ہے، دنیا کی علامت ہے۔ گھاس کا قطعہ سمندر ہے اور اس میں انسان جزیرے ہیں۔ درخت اس ترکیب سے اگائے گئے ہیں کہ ان کی شاخیں ایک خاص انداز پر قائم ہیں۔ اسی طرح اگتی ہیں اور پھیلتی ہیں۔ شاخوں کا یہ انداز ایک نہیں، کئی نسلوں میں ممکن ہو پاتا ہے۔ ہر شاخ انسان اور دنیا سے اس کے رابطوں کی علامت ہے۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ مالی بہت پہلے سے طے کر لیتا ہے کہ سو سال بعد اس شاخ کو کس رُخ پر بڑھنا چاہیے اور اسی طرح سے تراش لیتا ہے۔ باغ میں پودے، پیڑ کیا بڑھتے ہیں ایک علامت کا نقشہ بناتے رہتے ہیں۔ ترتیب کسی طرح بگڑنے نہیں پاتی۔ اور ہر بات کے اظہار میں کم سے کم اشاروں میں عندیہ ظاہر ہو جاتا ہے۔

زین گارڈن نے بہت سرشار کیا، بانس کے جھنڈ کو دیکھا، لکڑی کی پُلیا پر سے جھرنا پار کیا مگر کیوٹو آنے کا میرا اصل مقصد گولڈن پویلین کو دیکھنا تھا۔ مدتوں پہلے یوکیوشیما کا ناول پڑھ کر اس عمارت کے دیکھنے کا اشتیاق پیدا ہوا تھا، سو وہ موقع آج مل گیا۔

اس کی طرف بڑھے تو وہ فوراً نظر نہیں آیا۔ مجھے خیال آیا، یہ تاج محل کی طرح ہے، آہستگی سے سامنے آتا ہے۔ پھر مسحور کر دیتا ہے۔

ہرے بھرے باغ میں پانی سے گھرا ہوا ایسا لگا کہ سونے کا ڈلا دمک رہا ہے۔ دھوپ میں جگمگا رہا ہے۔ پانی میں اس کا عکس ہلکورے لے رہا ہے۔

بالکل امرتسر کا دربار صاحب، میں نے دل ہی دل میں کہہ دیا۔ یہ ٹی ہائوس تھا پھر بعد میں شاہی عمارت بن گیا۔ اس کے پیچھے مندر ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس میں آگ لگ گئی تھی۔ اس کے جلنے سے جاپان کے بہت سے لوگوں نے محسوس کیا کہ ایک پورا دور ختم ہوگیا ہے۔

میں نے اس کے چاروں طرف چکر لگایا۔ مشیما کا ناول پڑھ کر بھی اس عمارت کے شان دار نقوش کا اندازہ نہیں ہوا تھا۔ یہ سونے کا ہے مگر نقوش میں سادگی ہے، opulence نہیں ہے۔ اس لیے مجھ پر اس کا اثر اور بھی گہرا ہوگیا۔ میں یہاں سے چلا آیا تب بھی نظروں کے سامنے سے نہیں ہٹا، دیر تک جگ مگ جگ مگ کرتا رہا۔

قدیم معبد اور ان کی بہتات، یا پھر ایک سے دوسرے کی مسافت طے کرنے سے زیادہ مشکل میرے لیے چائے خانے ثابت ہوئے۔ پروفیسر سویا مانے کمال مہربانی کے ساتھ مجھے اس قدیم عمارت میں لے گئے تو ایسا لگا کہ وقت کو چوکٹھے سے نکل کر جاپان کے کسی کلاسیکی ناول میں داخل ہوگئے ہیں، چاروں طرف اس پرانی کتاب کے ورق پھٹ پھٹا رہے ہیں جن پر خوب صورت خطاطی بہت نازک برش سے کی گئی ہے۔ کلاسیکی انداز کی چائے پینے تو چلے گئے مگر میرے لیے کلاسیکی انداز میں بیٹھنا دوبھر ہوگیا۔ گھٹنے ٹیک کر بیٹھنے کی عادت نہیں رہی۔ کرسی میز نے کسی اور طریقے کے قابل نہیں چھوڑا۔ جتنی دیر چائے کا دور چلا، کمر احتجاج کرتی رہی۔ کیمونو میں ملبوس نازک اندام میزبان مسکرا کر پیالیوں میں مشروب انڈیلتی رہی اور میں دل ہی دل میں سوچتا رہا، یہ سلسلہ ختم کب ہوگا۔

اتنی دیر میں ٹانگیں اکڑ گئیں اور بڑی مشکل سے کھڑا ہوا۔ مگر میں پھر بھی چلنے کو تیار تھا کیوں کہ ہم نے کیوٹو کے پرانے بازار کا رُخ کیا۔ چھوٹی چھوٹی گلیاں، ان کے درمیان تین سا راستہ اور اس کے دونوں طرف مکانات جیسے اپنے ہی وقت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ان کے سکوت میں مداخلت کرنے پر شرمندگی ہورہی تھی۔

آگے نکلے تو جس طرح گائوں ہیں، وہاں بانس کے کنج ہیں سادہ سا لکڑی کا مکان، بانس کی چھت۔ جیسے پرانی وضع کی تصویر جواب صرف کیلنڈر پر یا عجائب گھر میں نظر آتی ہے۔

مگر ایک فرق کے ساتھ۔ لکڑی کے مکان کے آگے چمچماتی ہوئی گاڑی کھڑی ہے۔ جاپان میں واقعی گاڑیوں کی ریل پیل ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ رقبے کے اعتبار سے جاپان میں گاڑیوں کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

کیوٹو کے پرانے مندروں کے درمیان بھی گاڑیاں تو نئی سے نئی نظر آئیں مگر فاسٹ فوڈ کے ریستوران برائے نام تھے۔ نوجوان نسل یہ سب کھاتی تو شوق سے ہے مگر اعتدال کے ساتھ، پروفیسر سویا مانے نے مجھے باور کرایا۔ جاپان کی خوبیوں کی فہرست میں، مَیں نے ایک اضافہ اور کرلیا۔ یوں بھی یہ فہرست وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی چلی جارہی تھی۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں