اماں رخصت ہونے کے لیے عاشور گزرنے کی منتظر تھیں


میں نے جب ہوش سنبھالا تو اماں کا چہرہ اس وقت بھی جھریوں سے بھرا ہوا تھا۔

ہم اپنی نانی کو اماں کہتے تھے۔ ان کے زمانے میں ماں کو اماں ہی کہا جاتا تھا۔ پھر امی کہا جانے لگا۔ آج کل بچے ممی اور ماما کہتے ہیں۔

اماں کا نام تحسینہ خاتون تھا۔ چہرے پر جھریاں، دائیں گال پر جلد کے رنگ کا مسّا یا دانہ، سر سفید اور گھر میں بچوں کے سامنے بھی ہر وقت ڈھکا ہوا۔ منہ میں ایک بھی دانت نہیں تھا۔ پھر بھی پان کھاتی تھیں۔ کتھا چونا انگلی سے چاٹ لیتیں اور تمباکو چٹکی سے منہ میں ڈالتیں۔ چھالیہ کا پتا نہیں کیا کرتی تھیں۔ کچھ عرصہ املی کی گٹھلیاں بھی ابال کر سروتے سے کاٹیں۔ وہ ان سے زیادہ میں نے چبائیں۔

اماں نماز پڑھنے کی پابند اور دینی کتابیں پڑھنے کی شوقین تھیں۔ یہ شوق انھیں اپنے والد سید مبارک حسن سے ملا تھا جو امروہے کے بڑے عالم اور استاد تھے۔
شیعہ بچے بولنے کی عمر کو پہنچتے ہیں تو انھیں سب سے پہلے “اللہ ایک اور پنجتن پانچ” سکھایا جاتا ہے۔ میں نے بولنا اماں کی گود ہی میں سیکھا۔

رسول پاک پر کچرا پھینکنے والی عورت کا قصہ، واقعہ معراج، ہجرت، غزوات، حضرت علی کے معجزات، بی بی فاطمہ کی مظلومیت، واقعہ کربلا، دمشق میں بی بی زینب کا خطبہ، یہ سب میں نے سب سے پہلے اماں سے سنا۔

اماں کتابوں سے پڑھ پڑھ کر سب کو دعائیں بتاتی رہتی تھیں۔ عام دعائیں تو وہ اٹھتے بیٹھتے پڑھتی تھیں لیکن کئی ایسی انوکھی باتیں انھوں نے بتائیں جو میں کبھی نہیں بھلا سکا۔ مثلاً ایک دعا ایسی ہے کہ اسے پڑھنے والے کو یا تو لمبی زندگی ملتی ہے یا بہت سا علم یا بہت سی دولت۔ اماں کہتی تھیں کہ انھیں بہت کتابیں پڑھنے کا موقع وہی دعا پڑھنے کی وجہ سے ملا۔

ایک دلچسپ دعا اماں نے بتائی کہ بال کٹواتے ہوئے پڑھیں تو بال کالے ہوجاتے ہیں۔ اماں بال کاہے کو کٹواتیں۔ انھوں نے وہ دعا بالوں میں کنگھا پھیرتے ہوئے پڑھنا شروع کردی۔ کچھ دن بعد انھوں نے ہنستے ہوئے اپنے بال دکھائے۔ واقعی ان کے کچھ بال سیاہ ہوچکے تھے۔ سب لوگ حیران رہ گئے۔ اماں نے وہ دعا پڑھنا چھوڑ دی۔

شاید اماں کو ہی دیکھ کر مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہوا۔ دن و رات رسالے اور ناول پڑھنے کی وجہ سے کبھی کبھی میری آنکھوں اور سر میں درد ہوتا تھا۔ امی کو بتاتا تو وہ ڈسپرین کی آدھی گولی کھلاتی تھیں۔ اماں کو بتاتا تو وہ میرے ماتھے پر انگلیاں پھیرتے ہوئے “عہد نامہ” پڑھتییں۔ ڈسپرین کو اثر کرنے میں دیر لگتی۔ اماں کی دعا جلد کامیاب ہوجاتی۔

امروہے میں پورا خاندان بھرا ہوا تھا۔ سنہ سینتالیس میں ہجرت کے بعد خانیوال میں اپنے چند گھر تھے۔ اماں کو بہت تنہائی محسوس ہوتی ہوگی۔ بہت ہوتا تو وہ اپنی نند کے ہاں ہو آتیں جو ہماری دادی تھیں۔

اماں ٹوپی والا آسمانی رنگ کا برقعہ پہنتی تھیں۔ ایک بار وہ گھر واپس آرہی تھیں کہ کسی اندھوسڑ سائیکل سوار نے انھیں ٹکر مار دی۔ دھان پان سی اماں سڑک پر گر گئیں اور ان کی ٹانگ میں فریکچر ہوگیا۔ اس وقت ان کی عمر ستر سے زیادہ تھی۔ وہ ہفتوں بستر پر پڑی رہیں اور انھیں برسوں لاٹھی کے سہارے چلنا پڑا۔

میری یاد میں اماں نے کبھی کھڑے ہوکر نماز نہیں پڑھی۔ بڑے ماموں نے ان کے لیے چھوٹا سا تخت بنوایا جس کے سامنے محراب بنی ہوئی تھی۔ وہ اس پر بیٹھ کر نماز اور تسبیحات پڑھتی رہتی تھیں۔ جب ہم کراچی منتقل ہوئے تو وہ تخت ان کے ساتھ آیا کیونکہ اس سے جدائی انھیں منظور نہیں تھی۔

اماں نے ہمیں حسین حسین کہہ کر ماتم کرنا سکھایا لیکن میں نے انھیں کبھی ماتم کرتے نہیں دیکھا۔ خانیوال میں تب خواتین کی مجلسیں کم ہوتی تھیں۔ کراچی آنے کے بعد اماں گھر سے کبھی کبھار ہی نکلتی تھیں۔ مجلسوں میں جانا ان کے لیے دشوار تھا۔

خانیوال کی طرح اماں کراچی میں بھی کچھ عرصہ ہمارے ساتھ رہیں لیکن پھر چھوٹے ماموں انھیں اپنے گھر لے گئے۔کبھی کبھی میں انھیں رکشے ٹیکسی میں اپنے گھر لے آتا جو آدھا کلومیٹر دور تھا۔ پہلے ممانی کا انتقال ہوا اور پھر چھوٹے ماموں کا لیکن اماں وہیں رہتی رہیں۔ چھوٹے ماموں کے انتقال سے اماں کو بہت دکھ ہوا۔ وہ بہت کمزور ہوگئیں۔ ان کی بھول بڑھنے لگی۔

میری شادی 1999 میں ہوئی۔ تب تک اماں نوے سال سے زیادہ کی ہوچکی تھیں۔ ان کی یادداشت بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ لیکن مجھے اس کا احساس نہیں ہوا۔ میں جب ان سے ملنے جاتا، وہ مجھے پہچان جاتیں اور پرانی باتیں یاد کرتیں۔

سنہ دو ہزار میں اماں کی طبیعت کافی خراب ہوگئی اور بڑے ماموں انھیں اپنے گھر لے گئے۔ مجھے معلوم ہوا تو انھیں دیکھنے گیا۔ وہ بے ہوشی کے عالم میں تھیں اور آواز دینے پر بھی آنکھیں نہیں کھول رہی تھیں۔ ڈاکٹر کو گھر پر بلایا تو اس نے کہا کہ اماں کو کوئی بیماری نہیں، بس نقاہت ہے۔ اس عمر میں کیا علاج کریں۔ بس دعا کریں۔

وہ محرم کے دن تھے۔ میں نو تاریخ کو ماموں کے ہاں گیا تو دیکھا کہ بے ہوش پڑی ہوئی اماں ہر کچھ دیر بعد ہاتھ بلند کر کر کے سینے پر مار رہی ہیں۔مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ وہ منہ سے بھی کچھ کہنا چاہتی تھیں لیکن آواز نہیں نکل رہی تھی۔ میرا خیال ہے کہ وہ یاحسین کہنا چاہتی ہوں گی۔ میں نے گھر آکر امی سے کہا کہ اماں رخصت ہونے کے لیے عاشور گزرنے کا انتظار کررہی ہیں۔ فوراً جاکر ان سے الوداعی ملاقات کرلیں۔

گیارہ محرم کو اماں کا انتقال ہوگیا۔ انھیں سخی حسن قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

کراچی کی انجمن رضائے حسینی ہر سال گیارہ محرم کو یوم زینب مناتی ہے۔ مجھے وہ دن یاد آجاتا ہے جب اماں نے گود میں بٹھاکر دمشق میں بی بی زینب کا خطبہ سنایا تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 149 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi