سافٹ سیکولرازم


ata rashadراقم کی تحریر ’سیکولرازم لادینیت نہیں‘ کے بعد جہاں اختلاف رائے سننے کا موقع ملا، وہیں بہت کچھ مزید سمجھنے، سوچنے اور لکھنے کا موقع بھی نصیب ہوا۔ خاکسار اس میدان میں طفل مکتب کی حیثیت رکھتا ہے اور اپنی غلطی تسلیم کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتا۔ اس موضوع پر مزید گزارشات حاضر ہیں۔

سیکولرازم کو مذہب سے الگ سمجھنے کے حق میں مختلف ڈکشنریز میں موجود اس لفظ کی تعریف کی مثالیں دی جاتی ہیں جن میں وبسٹر نیوز ڈکشنری ، انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن، انسائیکلو پیڈیا آف تھیالوجی اور لرنر ٹائپ کنسائز ڈکشنری وغیرہ شامل ہیں جن کے مطابق سیکولرازم مذہبی عقائد کی مکمل نفی کرتا ہے۔ صرف ان تعریفوں کو پڑھ کر اس موضوع کا ایک خاکہ بنالینا انصاف پسندی کے اصولوں کے منافی ہے۔ اگر تعریفوں کی بات ہے تو دوسری طرف آکسفورڈ ڈکشنری میں سیکولرازم کی تعریف یوں درج ہے

’یہ مذہبی اداروں کو ریاست سے الگ کرنے کا نام ہے‘۔

اس لفظ کو پہلی بار برطانوی مصنف جارج جیکب نے 1851ءمیں استعمال کیا، اس نے سماجی نظام کی بات کی، انصاف کا مطالبہ کیا لیکن مذہب پر تنقید نہیں کی۔ جارج جیکب لکھتا ہے کہ ”سیکولرازم عیسائیت کے خلاف ایک دلیل نہیں ہے بلکہ اس سے آزاد ہے“۔

 یہاں یہ نکتہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ انسٹیٹوٹ فار دا سٹڈی آف سیکولرازم ان سوسائٹی اینڈ کلچر کے ڈاکٹر بیری کاسمن نے سیکولرازم کو دو اقسام ’ہارڈ سیکولرازم‘ اور ’سافٹ سیکولرازم‘ میں تقسیم کیا ہے۔ جہاں ہارڈ سیکولرازم مذہبی قوانین کی نفی کرتا ہے، وہیں سافٹ سیکولرازم مذہب کی نفی کرنے کی بجائے تمام مذہبی اور غیرمذہبی اداروں اور شہریوں کو برابر حقوق دینے کا حامی ہے۔ یہ مذہبی یا غیرمذہبی ہونے کی بجائے ایک سیاسی نظام کا نام ہے، اس لئے اسے بعض اوقات سول سیکولرازم کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر نگل جی رائیٹ جو سپرجن کالج لندن کے پرنسپل ہیں اپنے ایک مقالے میں لکھتے ہیں

”سول یا سافٹ سیکولرازم ایک ایسا سیاسی نظام ہے جس میں ایک ایسے معاشرے کو رہنے کے قابل بنایا جاتا ہے جس میں مختلف مذاہب اور مختلف نظریات کے حامی بستے ہوں۔ بنیادی اختلافات کے ہوتے ہوئے ہم مشترکہ مفادات کے حصول کے لئے اکٹھے رہنا کیسے سیکھ سکتے ہیں؟یہ ہر کسی کو آزادی دے کر، کسی پر اپنا نقطہ نظر تھوپے بغیر اور رنگ ، نسل اور مذہب کی تفریق کئے بنا امتیازات کا خاتمہ کرنے سے ممکن ہے“۔

ان حقائق کے ہوتے ہوئے یہ کہہ دینا کہ ’یا تو آپ مسلمان ہوسکتے ہیں یا سیکولر‘ ایک ایسا ہی فتویٰ ہے جس طرح کے فتوے نام نہاد علما آئے روز دیتے رہتے ہیں۔ مثبت سیکولر روایات کو مخصوص حالات کے مطابق معاشرے اور سیاسی وریاستی نظام میں ضم کیا جاسکتا ہے ، اس سے اسلام کے اصولوں کی کسی بھی صورت میں نفی نہیں ہوتی۔

قرآن مجید کا واضح فیصلہ موجود ہے کہ ’دین میں جبر نہیں‘۔ سنت نبوی ﷺ سے بھی ہمیں یہی اصول ملتا ہے۔ چودہ سو سال پرانی ریاستِ مدینہ اور وہاں نافذ شدہ ” میثاقِ مدینہ “ کے آئین میں آنحضور ﷺ نے تمام شہریوں کو یکساں حقوق دے رکھے تھے – جن میں اہل یہود سے لے کر بے مذہب تک سبھی شامل تھے ۔ تاریخ اسلام اٹھا کر دیکھ لیجئے آپ ﷺ نے ’میثاق مدینہ‘ میں مدینہ کے سبھی شہریوں کیلئے ’امت ‘ کا لفظ استعمال فرمایا ۔ اس معاہدے میں ہر شہری کے حقوق یکساں تھے ۔ اس میثاق کو دوسرے الفاظ میں سیکولر بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ سیکولر نظام میں لوگوں کو ہر طرح کی مذہبی آزادی کا حق دیا جاتا ہے۔ ہر شہری قانون کی نظر میں برابر ہوتا ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح کی گیارہ اگست کی تقریر کو پاکستان کے آئین میں سیکولر نظام ریاست کی بنیاد کے حق میں استعمال کیا جاتا ہے، اس تقریر میں قائد نے ملک میں بسنے والے تمام شہریوں کو برابر حقوق دینے کی بات کی تھی ، جبکہ قائداعظم کی بیشترتقاریر کو، جو پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کے بارے ہیں، سیکولرازم کے خلاف پیش کیا جاتا ہے۔ اگر ہم ان تقاریر میں سے کسی ایک کو ہی حوالہ بنائیں گے، تو ہم کسی ایک طرف جھک کر انتہا پسندی کی طرف جاسکتے ہیں، لیکن اگر ان سب کو ملا کر دیکھا جائے تو ان میں تضاد ختم ہوتا نظر آتا ہے۔ قائداعظم ایک ایسی مسلم اکثریتی ریاست کے حامی تھے جس میں ایسے سیکولر قوانین لاگو کئے جائیں جو تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے ضامن ہوں۔

ہم نے قرارداد مقاصد منطور کر لی ، اس کی بنیاد پر پاکستان کا آئین استوار کر لیا، لیکن پاکستان میں عدم برداشت کے جذبات بڑھتے ہی گئے اور مذہبی رواداری گھٹتی گئی۔ پاکستانی سیکولر خواتین و حضرات کو قرارداد مقاصد پر کوئی اعتراض نہیں، یہ اسلامی اصولوں کے مطابق عوام کو مساوی حقوق کی فراہمی کا عندیہ دیتی ہے، مگر ریاست میں دہشت گردی، عدم برداشت اور مذہبی عدم رواداری کو کم کرنے کے لئے ایسے قوانین پر نظرثانی کرنے میں کیا مضائقہ ہے جو اقلیتی گروہوں کے لئے مصیبت کا باعث بنتے ہیں۔ سلمان تاثیر کو صرف اس لئے قتل کردیا گیا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون میں اصلاح کا مطالبہ کیا تھا۔ آج سلمان تاثیر کے قاتل کو بچانے کے لئے کون تحریک چلارہا ہے؟ یہ سب جانتے ہیں۔ مذہبی گروہ نواز شریف کے پیچھے ہاتھ دھو کر صرف اس لئے پڑگئے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی کے احمدی شہریوں کو اپنے بھائی کہہ دیا تھا، جس کے بعد ان کو سو تاویلیں دے کر اپنی جان بچانا پڑی۔ جس ملک میں عدم برداشت کی یہ سطح ہو، اس کو بنیادی انسانی حقوق کے لیے سیکولرازم سے استفادہ کرنے میں کیا حرج ہے تا کہ اسلامی تعلیمات بھی متاثر نہ ہوں۔

پاکستان ایک مسلم اکثریتی ملک ہے، کون کہتا ہے کہ یہاں شراب کی اجازت دی جائے، کھلے عام جوا کھیلا جائے، یا ڈانس کلب کھولے جائیں۔ (حالانکہ یہاں یہ سب ہوتا ہے) سیکولرازم یا سیکولر سوچ سے متاثر افراد یہ ہرگز نہیں کہتے کہ آپ مذہب مخالف ہو جائیں لیکن ایک انسان کو وہ درجہ تو دیں جو اس کا بنیادی حق ہے۔ صرف اتنا سا مطالبہ ہے کہ ریاست جب کسی شہری کے ساتھ معاملہ کرے تو رنگ، نسل، زبان اور مذہب کی کسی تفریق کی بنیاد پر انصاف کا ہاتھ دامن سے نہ چھوڑے۔ جب ہم مذہب کو انفرادی معاملہ کہتے ہیں تو اس کا مقصد انسان کے ایسے افعال ہیں جس کا جوابدہ انسان خدا کے سامنے ہے، جیسے نماز، روزہ، حج اور دوسری عبادات؛حکومت کسی پر زبردستی عبادات مسلط نہیں کرسکتی۔ یہ مذہبی رہنماﺅں کا کام ہے کہ وہ لوگوں کی تربیت کا بیڑا اٹھائیں اور ان کو عبادات اور حقوق العباد کی طرف راغب کریں، مگر ان کا رجحان سیاست اور حکومت کی طرف زیادہ ہے۔ جہاں تک اسلام کے اجتماعی زندگی میں دخل کی بات ہے تو وہ ایسے افعال پر لاگو ہوتا ہے کہ جن کا تعلق معاشرے کے حقوق و فرائض سے ہے، اس کی ذمہ داری حکومت پر ہے کہ وہ اس کا نظم و نسق سنبھالے۔

سیکولرازم کو یک طرفہ طور پرلادینیت، مذہب بیزاری اور جرم کہنے والے اہل دانش کو ایک محدود تناظر سے نکل کر اس نظریے کو عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر جانچنے کی اشد ضرورت ہے۔ دسویں جماعت میں راقم نے مضمون بعنوان ’جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘ بڑے جوش و خروش سے لکھا تھا اور نمایاں پوزیشن بھی حاصل کی، تب نصاب کے زیر اثر تھا، عالمی حالات و واقعات سے آگہی نہیں تھی۔ بصد احترام عرض ہے کہ ہمارے اہل قلم کو نصاب کے اس بیانیے سے باہر نکل کر جھانکنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ دنیا لمحہ بہ لمحہ بدل رہی ہے، جس سے ہم آہنگ ہونا بہت اہم ہے، وگرنہ بہت پیچھے رہ جانے کا خطرہ ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “سافٹ سیکولرازم

  • 26-04-2016 at 9:57 pm
    Permalink

    Laa deen log Madeenay m nahi thay
    dosra ager ap ki defined liberel islamic state banani thi to phir pakistan bnanay k liy 9Lakh log kio marway

    Pakistan say ziada acha liberel state to barr e sagheer m bna saktay thay

Comments are closed.