سب کو معلوم ہو گیا کہ ہمارا حقیقی حاکم کون ہے


یہ بات روز بروز عیاں ہوتی جا رہی ہے کہ تین بار منتخب ہونے والے وزیراعظم کے خلاف کرپشن کے الزامات کا جو ہمالیہ پہاڑ کھڑا کر دیا گیا تھا ان میں سے ایک کا بھی ثبوت نہیں ملا۔ پاناما الزامات کے تحت سپریم کورٹ کی جانب سے خصوصی طور پر قائم کی جانے والی جے آئی ٹی نے امکان بھر حد تک تلاش و تحقیق کر کے دیکھ لی۔ متعلقہ دستاویزات کھنگال ماریں۔ دبئی، سعودی عرب اور لندن وغیرہ کے کئی چکر لگائے۔ کچھ نہ ملا۔ قطری شہزادے کی شہادت حاصل نہ کی گئی مبادا منی ٹریل سامنے آ جائے۔ نوازشریف کو فوری طور پر برطرف کرنا مقصود خاطر تھا۔ اس لیے اقامہ جیسے کھوکھلے الزام کا سہارا لیا گیا اور وہ جسے انتخابات کے اندر اور عوام کے ہاتھوں شکست دینا ناممکن ثابت ہو رہا تھا بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کی پاداش میں بیک گونی دوگوش باہر اٹھا پھینکا گیا۔ عدل و انصاف کے رکھوالے ہمارے منصفین گرامی قدر نے اسے عمر بھر کے لیے نااہل قرار دیا۔ کرپشن کے الزامات کو ثابت کرنا ابھی باقی تھا۔ سو احتساب عدالت قائم کی گئی۔ نیب کو حکم صادر ہوا ناقابل تردید شواہد سمیت مقدمہ تیار کر کے پیش کرے اور فیصلہ حاصل کرے۔

خدا جھوٹ نہ بلوائے سو کے قریب سماعتیں ہوئیں۔ نوازشریف ہر موقع پر بیٹی اور داماد سمیت پیش ہوتے رہے۔ یہ سب کچھ اس عالم میں ہوتا تھاکہ برطرف شدہ وزیراعظم کی کینسر کے مرض میں مبتلا اہلیہ مرحومہ کلثوم نواز لندن کے ایک ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش سے گزر رہی تھیں۔ سابق وزیراعظم لندن جاتے تھے اور ہر پیشی کے موقع پر اسلام آباد میں آن حاضر ہوتے تھے۔ استثناء کی درخواست بمشکل ایک آدھ بار منظور کی گئی۔ اسی دوران میں چشم فلک یہ تماشا بھی دیکھ رہی تھی کہ کرسی انصاف پر فائز بڑی شخصیت نے آئین مملکت کی دفعہ 6 کے تحت سنگین غداری کیس میں ماخوذ اور فراری قرار دیئے جانے والے سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کو بار بار ترغیب دی آپ کا پاسپورٹ بحال کیے دیتے ہیں۔ ہر طرح کی سکیورٹی کی ضمانت دیتے ہیں ایک دفعہ وطن لوٹ کر اور ملکی عدالت کے سامنے پیش ہونا گوارا کر لیجئے۔ وہاں سے صاف انکار ہوا۔ کوئی میرا کیا بگاڑ سکتا ہے آخر اس ملک کے اصل حکمرانوں میں سے ایک رہا ہوں۔ دوسری جانب اسی بڑے گھر کا معتوب سابق سویلین وزیراعظم تھا خود کو بے قصور سمجھتے ہوئے بھی اپنے ملک کے قوانین، اس کی عدالتوں کی حرمت اور پاسداری کی خاطر سر نیہوڑائے چلا آتا تھا۔ تاآنکہ فیصلے کی گھڑی قریب آ گئی۔

گزشتہ 6 جولائی کو احتساب عدالت نمبر1 کے جج محمد بشیر صاحب نے دن بھر کے لیت و لعل کے بعد شام سے ذرا پہلے باپ، بیٹی اور داماد کو بھاری جرمانوں سمیت بالترتیب دس، سات اور ایک سال کی سخت سزاؤں کا مستوجب قرار دیا مگر ساتھ ہی فیصلے میں لکھ ڈالا کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا تاہم اثاثے ان کے آمدن سے زیادہ ہیں۔ آج تک کوئی بتا نہیں پایا کہ اثاثوں کی مالیت کیا ہے اور آمدنی کتنی۔ فیصلہ جلدی میں لکھا گیا یا اس کی ناقص انگریزی جج صاحب کی اہلیت پر دلالت کرتی ہے مگر ماہرین قانون کی بڑی تعداد نے فیصلے کی نہایت درجہ قانونی بنیادوں کو بھی واشگاف کیا۔ یہاں تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں سب کچھ چھپ چکا ہے۔ ’اوپر‘ والوں کو چونکہ اپنے نافرمان کو ہر حالت میں جیل میں بھیجنا مقصود تھا اس لیے کھوکھلے پن کی پرواہ نہ کی گئی۔ انتخابات کو ہفتہ دس دن باقی رہ گئے تھے۔ وہ ان کا انعقاد سابق وزیراعظم کی غیر موجودگی میں چاہتے تھے۔ نواز کو لندن میں پیغام بھیجا گیا آپ اگر وطن واپس نہ آئیں تو تعرض نہ کیا جائے گا۔ قانونی معاملات کو بعد میں دیکھ لیا جائے گا۔ مگر وہ آیا۔ بیٹی اور داماد سمیت اپنے آپ کو حکام کے سپرد کر دیا۔ زندان میں چلا گیا۔ ضمانت ہو سکتی تھی۔ ایسا ہونے نہ دیا گیا تاکہ اسے پابند سلاسل رکھ کر انتخابات کرا لیے جائیں۔ مرضی کے نتائج حاصل کر لیے جائیں۔ تیارشدہ گھوڑے کو وزیراعظم بنوا لیا جائے۔

چند روز بعد قیدی کی اہلیہ لندن میں انتقال کر گئیں۔ میت پاکستان لائی گئی۔ ایک ہجوم بے کراں تھا جو جنازے پر اُمڈ آیا۔ ہر کوئی غمزدہ تھا۔ تینوں قیدیوں کو بھی ازراہ عنایت خسروانہ تین یا پانچ روز کے لیے پیرول پر رہا ہونے کی اجازت مرحمت فرما دی گئی تھی۔ اس نے اپنی قانونی جنگ میں مگر کمی نہ آنے دی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ’نان پی سی او‘ ججوں نے سماعت کے دوران ہی سوال و جواب میں احتساب عدالت کے فیصلے کی دھجیاں بکھیر دیں۔ مختصر فیصلہ سنایا۔ سزائیں معطل کر دیں۔ یار لوگوں کو مگر پرواہ نہیں انہوں نے ’باغی‘ کو مشہور اڈیالہ جیل میں بند رکھ کر انتخابات کے ذریعے مطیع اور تابع فرمان کی حکومت بنوا ڈالی ہے۔ حکمرانی وہ کریں گے ٹھپے یہ لگائے گا۔ کدھر کا آئین اور کہاں کا سویلین بالادستی کا تصور جو اس مملکت کے بانی کو بہت عزیز تھا۔

اب بھارت سے بار بار کہا جا رہا ہے ایک مرتبہ ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ جاؤ۔ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے مبارکبادی کے خط کے جواب میں لکھا۔ ہم کشمیر کی بات کریں گے تم دہشت گردی کا مسئلہ اٹھا لینا۔ نیویارک میں دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات میں کیا حرج ہے۔ اس نے پہلے ہلکی سی ہاں کی پھر صاف انکار کر دیا۔ عمران خان نے وزارت عظمیٰ کی کی تقریب حلف برداری میں دیگر بھارتی کرکٹرز کے ساتھ نوجوت سنگھ سدھو کو بھی دعوت دی تھی۔ وہ چلا آیا۔ خوب آؤ بھگت ہوئی۔ آرمی چیف نے گلے لگایا اور کرتار سنگھ بارڈر کھولنے کی سرعام پیشکش کر دی۔ اس سے واضح ہو گیا کہ خارجہ امور یا دفاعی معاملات میں پیش قدمی (INTIATIVE) کا اختیار کس کے پاس ہے۔ سدھو خوشی خوشی واپس گیا۔ وہاں پر سخت ملامت ہوئی۔ تم گلے کیوں ملے تھے۔

اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھارت جاتے ہوئے مختصر دورے پر اسلام آباد ٹھہرے۔ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف سے ملاقات ہوئی۔ اس بااثر ذریعے سے بھی بھارت والوں کو مذاکرات کا خاموش پیغام بھیجا گیا۔ نئی دہلی والوں نے سرد مہری دکھائی۔ آپس میں باتیں کرتے ہوئے سنے گئے اور بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا وہاں مذاکرات کس سے کیے جائیں اصل حاکم کون ہے۔ بھارتی بہت ہٹ دھرم ہیں۔ کشمیری عوام کی بے مثال جدوجہد آزادی اور لازوال قربانیاں اس مقام پر پہنچ گئی ہیں کہ ایک دن اس ملک کو راہ راست پر آنا پڑے گا۔ مگر ہماری خارجہ پالیسی کیا ہے اور کدھر لے جائے گی۔ یہ اہم سوال ہے۔

نئی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد اعلیٰ ترین سطح پر دو اہم غیر ملکی دورے ہوئے ہیں۔ ایک وزیراعظم عمران خان کا سعودی عرب کا پھیرا اور مدینہ منورہ حاضری دوسرا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا تقریباً ہفتے کے لیے چین جانا۔ سعودی حکمرانوں نے پاکستان کے نئے وزیراعظم کی مدارت کی۔ مکمل پروٹوکول دیا۔ طے کیا ہوا ہے۔ ان کی جانب سے کچھ نہیں بتایا گیا نہ کوئی مشترکہ علامیہ جاری ہوا ہے۔ واپسی پر شریک سفر وزیر اطلاعات فواد چودھری نے باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے بتایا سعودی عرب کو سی پیک کے عظیم منصوبے میں تیسرا شراکت دار بننے کی دعوت دی گئی ہے۔ جو تسلیم کر لی گئی ہے۔ اس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ماہ اکتوبر میں پاکستان آئے گا۔ گوادر میں دس ارب کی سرمایہ کاری سے آئل سٹی بنائے گا۔ اس طرح کا سٹی بنانے کا پہلے چین کا پروگرام تھا۔ اسی لیے سابق حکومت کے وزیر داخلہ اور منصوبہ بندی احسن اقبال نے سوال اٹھایا کیا چین کی رضا مندی حاصل کر لی گئی فواد چودھری کا بذریعہ ٹویٹر جواب آیا جی ہاں بالکل۔ یقیناًایسا ہی ہو گا مگر تادم تحریر چین نے سرکاری طور پر صاد کیا ہے نہ سعودی حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ فی الواقع اس منصوبے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسی دوران جنرل قمر جاوید باجوہ چین میں ہی تھے۔ ہم منصب کے علاوہ عوامی جمہوریہ کے صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہیں یقین دہانی کرائی کہ پاکستانی فوج سی پیک کے منصوبے پر خراش نہ آنے دے گی۔ یہ پراجیکٹ پاکستان کو بھی ہمارے دوست چین کی مانند عزیز ہے۔ ہمارے اچھے برے وقتوں میں ساتھ دینے والے ہمسایہ ملک کو غالباً تشویش ہو گئی تھی کہ اسلام آباد میں نئی حکومت کے سی پیک کے بارے میں لچھن کچھ زیادہ اچھے نہیں۔ ایک تو ان پر امریکہ کا دباؤ ہے دوسرے حکومتی حلقوں کے اندر بھی ایک مؤثر لابی ہے۔ جس کے مفادات سی پیک منصوبے کی بحسن و خوبی تکمیل میں آڑے آ سکتے ہیں۔ انہی دنوں وزیراعظم عمران خان کے مشیر امور تجارت اور معروف امریکہ نواز صنعت کار رزاق داود کا تحفظات بھرا غیر ملکی اخبار کو دیا جانے والا انٹرویو بھی سامنے آگیا۔ رزاق داؤد کے والد اور اپنے وقت کے سب سے بڑے پاکستانی صنعتکار سیٹھ داؤد نے امریکی شراکت داری کے ساتھ لاہور کے نواح میں Dawood Herculese کے نام سے کھاد کی پیداوار کا بہت بڑا کارخانہ لگایا تھا۔ اب بھی صاحبزادے کی کمپنی ڈیسکون کا سی پیک کی ذیل میں ہونی والی سرمایہ کاری کے منصوبوں کے ساتھ Conflict پایا جاتا ہے۔ چینیوں کے خدشات بجا تھے۔ انہوں نے ہمارے آرمی چیف کو مہمانداری میں بلا کر پختہ یقین دہانی حاصل کر لی ہے کہ گیم چینجر منصوبہ بتمام و کمال تکمیل کی منزل کی جانب رواں دواں رہے گا۔ پہلے وہ اس حوالے سے تمام تر معاہدے پاکستانی قوم کے منتخب نمائندے کی حیثیت سے نواز شریف کے ساتھ کرتے تھے۔ اب حال ہمارا جان چکے ہیں اوّل وہ آخر کون حاکم ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں