صدر مملکت کو شرمندہ کرنا بند کیا جائے


ہمیں یہ خبر شدید پریشانی میں مبتلا کر گئی ہے کہ ہمارے ہردلعزیز اور عوامی صدر ڈاکٹر عارف علوی کو ایک سازش کے تحت مسلسل شرمندگی سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ ایک بار ایسا ہوتا تو اسے اتفاق سمجھا جا سکتا تھا۔ مگر پے در پے دو مرتبہ ایسا ہونا ایک سازش ہی ہو سکتا ہے۔ کیا یہ محض ایک اتفاق ہے کہ دونوں مرتبہ ایسا کراچی میں ہی ہوا؟

پہلی مرتبہ تو یہ ہوا کہ ڈاکٹر عارف علوی صدر بنتے ہی اپنے اولین دورے پر کراچی پہنچے۔ انہوں نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ وہ پروٹوکول نہیں لینا چاہتے۔ بلکہ انہوں نے اسلام آباد ائرپورٹ پر عام مسافروں کی طرح قطار میں کھڑے ہو کر بورڈنگ پاس وغیرہ بھی لیا تھا۔ کراچی ائرپورٹ کے لئے بھی انہوں نے ہدایت دی تھی کہ انہیں شاہانہ پروٹوکول نہ دیا جائے بلکہ دو گاڑیاں ان کی حفاظت کے لئے بہت ہیں۔

لیکن ہوا کیا؟ جیسے ہی وہ کراچی ائیرپورٹ پہنچے تو یہ دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے کہ وزیر اعلی، گورنر، بے شمار وزرا، کمشنر، تمام ڈپٹی کمشنر، آئی جی اور کئی سیکرٹری اور دیگر سرکاری افسر ان کو سلامی پیش کرنے موجود ہیں۔ انہوں نے دوبارہ سختی سے ہدایت کی کہ خبردار کوئی گاڑی میرا تعاقب نہ کرے لیکن پھر چوک پر کھڑے ایک شخص نے ویڈیو جاری کر دی جس میں بے شمار گاڑیاں صدرِ مملکت کی گاڑی کے پیچھے پیچھے بھاگتی دکھائی دے رہی تھیں۔

شہریوں نے صدر کا ٹویٹر ہینڈل ہلایا تو صدر مملکت نے فرمایا:
”آفیشل گاڑیوں کی لمبی لائن جو میری اس ہدایت کے باوجود میرا تعاقب کر رہی تھی کہ میں نے ائرپورٹ پر موجود تمام آفیشلز کو کہا تھا کہ مجھے ایک بہت بڑے پروٹوکول سے شرمندہ نہ کروا دینا اور صرف ایک دو گاڑیاں آگے اور ایک دو پیچھے ان کی سیکیورٹی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بہت ہیں۔ ایسا نہیں ہوا۔ ہمیں زیادہ محنت کرنی ہو گی۔ “

ابھی ہمارے عوامی صدر کا عرق ندامت خشک نہیں ہوا تھا کہ کراچی کی انتظامیہ نے مزید عرق نکال دیا۔ خبر آئی ہے کہ حکومت کی جانب سے پروٹوکول کے خاتمے کے اعلانات کے باوجود گزشتہ شب صدر کی آمد و رفت کے لئے ٹریفک روک دی گئی۔ کارساز کے مقام پر ایک شہری نے ٹریفک کی بندش کے خلاف ویڈیو بناتے ہوئے آواز اٹھائی تو پولیس والے ہتھے سے اکھڑ گئے اور انہوں نے اس شہری کی مزید آوازیں نکال دیں۔ تشدد بند کرنے کے بعد اس شہری پر کارِ سرکار میں مداخلت اور دیگر افراد کو سرکار کے خلاف اکسانے کا مقدمہ درج کر دیا۔ اس کی قسمت اچھی تھی کہ وہ شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہونے کی وجہ سے نامعلوم ہو کر غائب ہو گیا۔

صدر کو دوسری مرتبہ تھانہ ٹیپو سلطان میں شرمندہ کیا گیا۔ نرسری کے بس سٹاپ پر فکس اٹ کی شرٹیں پہنے دو افراد نے صدر کا پروٹوکول درہم برہم کرنے کی کوشش کر ڈالی اور رکی ہوئی ٹریفک کو چلانے کے درپے ہوئے۔ پولیس نے دونوں کو ناپ لیا۔

اس پر صدر نے پانی پانی ہوتے ہوئے فرمایا
”سیکیورٹی کے خلاف احتجاج کرنے والے شخص کے خلاف ایف آئی آر مضحکہ خیز ہے۔ جب لوگوں کو پریشانی میں مبتلا کیا جاتا ہے توہ وہ ردعمل دیتے ہیں“۔

سی آئی ڈی کو پتہ چلانا چاہیے کہ ہمارے ہردلعزیز صدر کو کون ان کے آبائی شہر میں مسلسل شرمندہ کر رہا ہے۔ کیا یہ کراچی پولیس ہے، یا ادھر کی مخالف سیاسی حکومت یا پھر اس شرمندگی میں کوئی بیرونی ہاتھ ملوث ہے؟ بہرحال جو بھی ہے، ہم اپیل کرتے ہیں کہ صدر مملکت کو اس طرح شرمندہ کرنا بند کیا جائے اور کراچی کی انتظامیہ ان کی ہدایات پر عمل کیا کرے۔

اسی بارے میں

کراچی؛ صدر کے پروٹوکول کے خلاف احتجاج پر شہریوں کے خلاف مقدمات درج

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1027 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar