حجلہ عروسی میں لب بستہ دلہن اور محاذ جنگ پر کامرانی کی لب ریز دعا


ہم فوج میں کپتان ہوئے تو گھر والوں نے ہماری شادی کی ٹھان لی، مگر بڑے بھائیوں نے عجب ظلم ڈھائے، کہ ایک نے شادی کا رِسک ہم پہ لینے کے بعد، اپنی شادی کا فیصلہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور دوسرے نے شادی نہ کرنے کا اعلانِ عام سنا دیا۔

ہم چھوٹے تھے کوئی بڑا فیصلہ نہیں کر سکتے تھے، لہٰذا ابا جی نے تیسرا ظلم یہ کیا، کہ سب رشتے داروں کے یہاں سلام کے لیے بھیجا۔ سلام کا مطلب کلام اور پھر پیام تھا۔ ہم جانتے تھے۔ ہمیں پھوپھی اماں کی ایک رشتے دار کے یہاں ایک حسینہ بھا گئیں، مگر اماں نے بتایا کہ ابا جی نے ایک ہی لفظ میں انکار کر دیا۔

ہم واپس آ گئے؛ اس کے بعد ہمیں صرف اپنی شادی کا کارڈ ملا۔ جس پر پھوپھی زاد کا نام گرامی ہمارے ساتھ درج تھا۔ ادھر ملکی حالات میں بگاڑ آ رہا تھا۔ ادھر اندر کی کیفیت دگرگوں تھی؛ چوںکہ ہم فوجی تھے، خود کو ملک پر قربان کرنے کی ٹھان لی۔

اس کے بعد ہماری شادی کی تیاریاں بڑے بھائی جان کرتے رہے اور ہمیں دوسرے بھائی جان کے خطوط سے اطلاع ملتی رہتی، کہ شاہی شیروانی سلنے جا چکی ہے۔ خاندانی طرز کا شاہی کلاہ بھی لے لیا گیا ہے۔ کرتا اور چست پاجامہ بھی آچکا ہے۔ ایک طرف خط ملا تو دوسری طرف تبادلے کی اطلاع۔

شادی کے لیے بھی باقاعدہ چھٹی نہ مل سکی کہ مہندی کی ڈھولک گھر میں بج رہی تھی اور فوج سمیت ہمارا سامان اتر رہا تھا۔ ہم اتنے دن کے تھکے ہارے بہنوں اور چچا، تایا، ماموں، خالہ زادوں کی چھیڑ چھاڑ سے بھی خود کو دولہا تصور نہیں کر پا رہے تھے، جو تیل اُبٹن انھوں نے ہم پہ لگایا تھا، اس سمیت سو گئے۔

اذانِ فجر کے ساتھ ہی ہمیں بھی اٹھا دیا گیا، اگر چہ ہمیں معلوم تھا کہ ہماری فلائیٹ امی ابا کے ساتھ شام کی ہے۔ باقی سب کو صبح ریل گاڑی سے روانہ ہونا تھا۔ لیکن ہمارے پہ صبح صبح حملہ ہو گیا کہ فلائیٹ ملکی حالات کے باعث کینسل کروا دی گئی ہے، لہٰذا دولہا بننا پڑے گا۔ کیوں کہ گھر میں خاندان ا کٹھا ہو چکا تھا۔ کچھ ریت رواج تھے۔ جس کو شان سے نبھانا بھی تھا۔ ورنہ کچھ ہوتا نہ ہوتا، ناک کٹ جاتی۔ جو فوج میں آنے سے پہلے ہی ڈاکٹرز نے کاٹ دی تھی۔ تو ہم فوج میں آنے کے قابل ہوئے۔

بے وقت کے دولہا بننے کے لیے بھائی جان نے ہمیں باتھ روم میں گھسا دیا۔ تولیے میں لپٹے باہر آئے، تو صدقہ خیرات ہونے لگی۔ اور بھائی ہمیں کمرے میں لے گئے۔ چست پاجامہ تو کمال آیا۔ کیا زبردست سائز تھا۔ مگر شیروانی۔
”بھیا یہ تو لُوز ہے۔‘‘
اب کیا کیا جائے۔ بھیا نے جون جولائی کی شدید گرمی میں بھی اس کا حل تلاش کر ہی لیا، آخر۔ انٹیلیجس کا تجربہ کام آیا۔ سویٹر لائے۔ ہماری شیروانی اتاری اور کرتے کے نیچے دونوں سویٹرز پہنا دیے۔ اور پیار سے کہنے لگے۔
”کوئی بات نہیں بیٹا، کچھ ہی دیر کی تو بات ہے۔‘‘
’’مگر بھائی جان جولائی ہے‘‘۔
تو چھوٹے بھیا بولے ”یار ریلیکس! ہم سب بھی تو ابا کی جلالی جولانی کی تخلیق ہیں۔‘‘
اور یوں دو سویٹرز کے ساتھ شیروانی کا سائز فٹ فاٹ ہو گیا۔

ہم کیا جچ رہے تھے، سب نے واری جا جا کر۔ ہم کو صبح بہاری کر دیا۔ مگر جو آگ اس وقت اندر لگی ہوئی تھی، اس کا تذکرہ کون کرتا۔ کس سے کرتا۔ اب بدن میں گرمی کے ساتھ خارش بھی معرضِ وجود میں آنے لگی۔ کسی قسم کا کوئی صدقہ اس عذاب کو نرم و کم نہ کر سکا۔ انگاڑے گلزار نہ ہوئے۔ چہرہ جو گرمی اور خارش سے تلملا رہا تھا، اس کو خوشی سمجھا جانے لگا۔ ہمارے خاندانی خانسماں قریب آئے، اور بہت انہماک سے بولے۔
”بیٹا! جب بچپن میں آپ خوش ہوتے تھے، آپ کا چہرہ خوشی سے تمتما اُٹھتا تھا، کیا شادی کے نام پہ کان بھی تمتانے لگے؟“
ہم ایک خاندانی جمِ غفیر میں پھنسے ہوئے تھے۔ بس اتنا کہہ سکے۔
”بڑے بھیا سے پوچھیے۔“
خیر چند گھنٹوں کی برف باری کے بعد ہم ریل گاڑی میں تھے۔ ٹرین کی فرسٹ کلاس، ساری فیملی بکنگ تھی۔ لہٰذا اس میں ایک ڈربا ہم دس بھائیوں کا بھی تھا۔ جہاں بڑے بھیا مجھے جلدی سے لے گئے اور سب کچھ اتار کے مجھے گیلے ٹاول میں لپیٹ دیا۔
ا[[بھائی آپ نے کمال کر دیا۔‘‘
کچھ ہمارا خاندانی مزاج ایسا تھا کہ ہم بڑے بھائیوں کے سامنے ٖکچھ کہہ بھی نہیں سکتے تھے۔ کچھ اماں سے وراثت میں ملے برف مزاج کی پیداوار نے ہمیں چند گھنٹوں میں دانے دار کر دیا۔ مگر دونوں بڑے بھائیوں نے ہمیں سفر میں دوبارہ فوجی بنا دیا تھا۔

لاہور سے دوسری بارات بھی باقی ڈبوں میں سوار ہو گئی، جو ہماری ہونے والی زوجہ کی ہم شیر محترمہ ہی کی تھی جو اپنے خالہ زاد کے مقدر میں لکھی گئیں تھیں۔ کراچی میں یہ میدان جنگ بپا ہونا تھا۔ لہٰذا پھر وہ جرسیوں والا دولہا بنا کر ہمیں ہال لے جایا جانے لگا۔ پھر سے خوشی سرخی بن کر چہرے اور کانوں سے عیاں ہونے لگی۔

دونوں دولہاؤں کو اکٹھے شاہی تخت پر بٹھایا گیا، تو ہم نے اپنے ہم زلف کے گوش گزار کیا، کہ ”بھائی زرا دیکھ کے اپنا ہی کپسول لے جا یے گا۔ کہیں ہماری بندوق کی گولی نہ لے جایے گا۔‘‘
انھوں نے مسکرا کر ہماری طرف دیکھا اور بولے۔
”بھائی جان ڈاکٹروں کو معلوم ہوتا ہے کہ انجکشن لگانا ہے یا۔ ۔ ۔“

ہم مسکرا ئے اور لمحہ بھر کو سکون ہوا؛ کیوں کہ ہال میں برف باری نہ سہی، ٹھنڈی ہوائیں ضرور تھیں۔ اب ہمیں لمحہ بھر کے لیے احساس ہوا کہ ہم دولہا میاں ہیں۔ اور شادی بھی ہماری ہی ہے۔ بس کچھ ہی دیر میں کھانا رسمیں اور پھر ہمیں ریل گاڑی سے رخصت ہونا تھا۔ جس میں عروسی ڈربا خصوصاً تیار کروایا گیا تھا۔ پہلا نکاح ہو گیا۔ مگر جس کے ساتھ مولانا ہمیں ایجاب و قبول کروا رہے تھے، وہ ان کی بڑی بہن صاحبہ تھیں۔ جن کا نام کارڈ پر درج تھا۔
ہم نے حیرانی سے آنکھیں اوپر اٹھائیں تو سامنے ابّا کی ہم بڑی آنکھیں موجود تھیں۔ ہم نے آنکھیں جھکا کر رومال رکھ کر تین بار قبول کر لیا۔ رخصتی ہو گئی؛ عروسی ڈبے میں زوجہ کو پہنچا دیا گیا۔ ہم کانپتے کانپتے قدموں اندر گئے۔ خلوت خانہ سجایا اور جلدی سے شیروانی کا عذاب اتارنے لگے۔ زوجہ محترمہ نے جو دیکھا تو بے ہوش ہو گئیں۔ اتنے میں ابّا نے دڑبا بھی کھٹکھٹا دیا اور کہنے لگے۔
”بیٹا زرا دولہن کا خیال رکھیے گا۔“

ایک جسمانی آگ میں ہم تڑپ رہے تھے، دوسری ابا لگا کر چلے گئے۔ مگر کیسے کہتے۔ ”اپنے تو چودہ شیر خوار تھے، آپ کے اور ہماری مرتبہ۔‘‘
مگر ہم منمنائے۔ ’’جی۔ جی ابّا حضور۔‘‘
ادھر زوجہ کو پانی کے چھینٹوں سے نوزانے لگے۔ خاتون کو زرا ہوش آیا، تو ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں۔ ریل باہر دوڑے جا رہی تھی اور گرمی میرے اندر۔ سوچا اب حالات بہتر ہیں، جرسی اتار ہی لوں۔ شیروانی کے چوتھے بٹن ہی پہ ہاتھ تھا، کہ خاتون پھر بے ہوش ہو گئیں۔ ہم نے پھر اپنی کوششوں سے انھیں ہوش دلایا، تو ابا جی کی آواز پھر ٓائی۔
”بیٹا، دولہن کا خیال رکھیے گا۔ ہماری بہن نے بہت ناز سے پالا ہے“۔
ہم نے جوس کا گلاس محترمہ کو تھمایا اور کہا۔
”محترمہ مجھے غلط نہ سمجھیے۔ یہ دیکھیے‘‘!
ابھی ہمارے ہاتھ کرتے کے بٹن تک ہی گئے تھے، کہ گلاس دھڑام سے نیچے اور محترمہ بے ہوش۔

اس مرتبہ ہم نے پہلے خود کو جرسیوں سے آزاد کیا اور لان کا حیدر آبادی کرتا پہنا، اس کے بعد محترمہ کو ہوش میں لائے اور شکر کیا خاتون نے ایک نظر ہی سہی ہمیں دیکھا تو۔ ہم نے وہ انگوٹھی رسماً سہمناً انھیں پہنا دی۔ وہ کپکپا گئیں۔ ہم جوش میں جو زرا مزید کھسکے، تو وہ پھر بے ہوش ہو گئیں۔ لیکن اس مرتبہ ہم نے انھیں ہوش میں لانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ دوسری طرف دھیرے سے لیٹ گئے۔

یک دم ہمارا سارا خیال وجود سمیت سرحدوں کی طرف چلا گیا۔ زمین اپنی اور کھینچ رہی تھی کہ اتنے میں اذانِ فجر سنائی دینے لگی، دریں اثنا وہ ہوش میں آ گئیں۔ ہمیں سلام کیا۔ نمازپڑھی اور ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں۔ صبح کا اجالا اپنا رستہ بنانے کی سعی مسلسل میں تھا۔ دو وقت آپس میں مل رہے تھے۔ ہم نے بھی کوشش کی، مگر وہ بے ہوش ہو گئیں۔ اب کی بار تو ہم بے ہوش ہونے والے تھے، مگر ہم نے سب ارمان دل سے نکال باہر کیے اور باقی کا سفر دونوں کی بے ہوشی کے بغیر خامشی سے گزر گیا۔

گھر پہنچے تو خاتون کو فریش کروا کے دوبارہ عروسی لباس سے مزین کر دیا گیا اور اب ہم حجلہ عروسی میں تھے۔ ارمانوں  نے انگڑائی لی اور جوان ہو گئے۔ ہم جو قریب گئے تو اب وہ ہوش میں تھیں۔ ان کے ہوش نے ہمارے ہوش اڑا دیے۔ تھوڑی دیر میں دروازے پر دستک ہوئی۔ بڑے بھائی کی اداس آواز آئی۔ ”شمشاد تمھیں ایمرجنسی کال کر لیا گیا ہے، حملہ ہوا ہے بیٹا فوراً پہنچنا ہے‘‘۔

ہم اپنے ارمانوں سمیت رخصت ہونے لگے، تو انھوں نے بڑھ کر اپنے لبِ شیریں سے ہمیں مدہوش کر دیا اور بولیں۔

”فتح مند لوٹیے گا۔ ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں“۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں