پاکستانی جامعات پر تنقید :چند گزارشات


aasimمحترم یاسر پیرزادہ صاحب کے کالم ‘یونیورسٹیوں کا المیہ‘ سے جس بحث کا سلسلہ شروع ہوا وہ نہایت دلچسپ ہے۔ بحث میں شامل دوستوں میں سے کسی ایک سے بھی کلی طور پر اختلاف یا اتفاق مشکل ہے جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ تناظر مختلف ہونے کے باعث سب نے اپنی اپنی جگہ کچھ ایسے مسائل کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے جو دوسرے تناظر میں شاید اتنے اہم نہیں۔ چونکہ یہاں مسئلہ بنیادی تعلیم کا نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کا ہے جس میں تمام فریقین کے تجربات ایک دوسرے سے بہت مختلف ہو سکتے ہیں، لہٰذا ہماری رائے میں پہلے قدم پرایک طرف تو عمومیت سے پرہیز لازم ہے اور دوسری طرف مسئلے کے خدوخال اور مختلف جہتوں پر اتفاق ضروری ہے۔ یہ ناگزیر قدم اٹھانے کے بعد ہی ممکن ہو سکتا ہے کہ تنقید کے عمل کے ذریعے سوال اٹھائے جا سکیں اور پھر ان سوال کے ممکنہ اور قابلِ عمل جوابات کی جانب بڑھا جا سکے۔ اس ضمن میں یاسر پیرزادہ صاحب کے کالم کے ساتھ ساتھ ہمیں پروفیسر ہود بھائی صاحب کا 21 نومبر 2015 کو انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والا نہایت اہم کالم Enough PhD’s, thank you بھی پیشِ نظر رکھنا چاہئے جس میں نہ صرف کئی چشم کشا حقائق بیان کئے گئے ہیں بلکہ چند نہایت دلچسپ حل بھی تجویز کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم فی الحال اپنے سامنے ایک بنیادی منظرنامہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس پر اتفاق کے معنی یہی ہوں گے کہ ہم سب کم از کم مسئلے کی پیچیدگی اور سنگینی سے مکمل اتفاق رکھتے ہیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم اور پھر خصوصی طور پر اعلٰی تعلیم کے بارے میں ہم کچھ نادیدہ مفروضوں پر اس حد تک ایمان رکھتے ہیں کہ انہیں زیرِ بحث لانا مفید ہی نہیں سمجھتے۔ یونیورسٹیوں کی حالت پر کسی بھی تبصرے سے پہلے تو یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یونیورسٹی ہے کیا؟ یا یوں کہہ لیجئے کہ اساتذہ اور طالبعلموں کی حالتِ زار پر کیا گیا کوئی بھی تجزیہ رائج تعلیمی نظام میں ’تعلیم‘ اور ’تعلم‘ کی کیا تعریف پیش قیاس کرتا ہے؟ جہاں تک اعلیٰ تعلیم اور تدریس و تحقیق کی بات ہے تو ہم بالاجماع یہ جانتے اور مانتے ہیں کہ باقی کئی شعبوں کی طرح یہاں بھی کچھ ایسے بین الاقوامی’ماڈلز‘ کا اطلاق کیا گیا ہے جو ترقی یافتہ دنیا میں کامیابی سے استعمال ہو چکے ہیں اور مستقبل کی کامیابی اور ترقی کی ضمانت ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی نظام کے یہ رائج ماڈل ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں مغرب میں کچھ بڑی تبدیلیوں سے گزرے ہیں جب کچھ اہم نظریہ بندیوں کے بعد یہ ثبوت کے درجے میں منوا لیا گیا ہے کہ اعلی تعلیم کے مقاصد کو مارکیٹ اکانومی کے اصولوں پر ہی وضع کیا u2جائے گا اور اس تعلیم کا مقصد معاشی نظام کو طلب و رسد کے تناظر میں مسلسل انسانی سرمائے کی فراہمی ہے۔ اسی تناظر میں نہ صرف مقاصدِ تعلیم بلکہ نظامِ تعلیم کا تجزیہ بھی ممکن ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک سال میں مختصر ترین تدریسی دورانیے کو دیکھا جائے تو یہ دنیا کے تمام ممالک میں مختلف ہے اور اس کی بنیادوں میں معاشی تھیوری سے لیا گیا یہی مفروضہ کارفرما ہے کہ زیادہ سے زیادہ حصول کی خاطر کسی بھی پیداواری نظام کو ٹکڑوں میں بانٹا جائے۔ جامعات میں’ سیمسٹر ‘ کی میعاد اسی مفروضے پر ہے کہ ایک طالبعلم تعلیم کے پیداواری نظام میں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ’انفارمیشن‘ کو اپنے اندر جذب کر سکے۔ اگر ہم یہاں بغور دیکھیں تو فلسفیانہ تناظر میں ’ جستجو‘ سے زیادہ ’حصول‘ کی نفسیات خود بخود اہم ٹھہرتی ہے۔ یہاں جاننے کی اہم بات یہ ہے کہ مغرب اس مسئلے سے بخوبی واقف ہے اور ا س کے ممکنہ حل اسی نظام کے اندر کئی دوسرے طریقوں سے حاصل کرتا ہے جن سے ’جذبیت‘ کی بجائے کسی طالبعلم کی ’تخلیقی ‘ صلاحیتیں اجاگر کی جائیں، لیکن ہم چونکہ عادتاً اوپر کی تہہ سے نیچے جانے میں کچھ خاص دلچپسی نہیں رکھتے لہٰذا وہی ماڈل ہمارے ہاں آ کر ایک عجیب و غریب ملغوبہ سا بن جاتا ہے۔ ہمیں اس سے کوئی بحث نہیں کہ یہ ماڈلز کامیاب ہیں یا نہیں لیکن اسی اور نوے کی دہائی میں پاکستانی جامعات سے منسلک طلباء ہمارے تعلیمی نظام کی بدحواسیوں اور اندھے تجربات سے خوب واقف ہیں۔ مغرب میں اعلی تعلیم سے جڑے مخصوص مسائل پر نظر ڈالنی ہو تو Chronicle of Higher Education، نوم چومسکی اور ایلسڈر میک انٹائر وغیرہ کی حالیہ تنقیدوں کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

قصہ مختصر ہمارے ہاں درآمد کے بعد اعلیٰ تعلیمی نظام سے جڑے کل پرزوں میں سے کسی کی بھی تعریف ہرگز وہ نہیں رہتی جو اس اسم کا بین الاقوامی مسمیٰ ہے۔ عمومی طور پر بھی پورا تعلیمی نظام معاشی نظام سے مربوط نظر نہیں آتا اور اس سلسلے میں حکومت کی پالیسی بس یہی نظر آتی ہے کہ اعلی تعلیم میں اضافہ کیا u ollegeجائے۔ لیکن کن شعبوں میں اور ہر شعبے میں کس درجے تک، یہ سوال فی الحال تو کسی بھی بحث میں دلچسپ نہیں سمجھا گیا۔ پاکستان کو اگلے دس سال میں کتنے ماہرینِ طبیعات کی ضرورت ہے؟ کیا ہمیں کیمیا دان زیادہ تعداد میں درکار ہیں یا ماہرینِ زراعت یا پھر ریڈار اور روبوٹ بنانے والے انجینئر؟ ہم ہرگز یہ نہیں کہہ رہے کہ انفرادی حیثیت میں شہریوں سے انتخاب اور ترجیح کا حق چھین لیا جائے لیکن فی الحال اس قسم کی کوئی ترجیحات جامعات کی سطح پر درجہ بندی اور شعبوں کی وضع کی بابت نظر نہیں آتی۔ یاسر پیرزادہ صاحب کو یہ شکوہ ہے کہ جامعات غیرمعیاری تحقیق کے بعد ڈگریاں دیتی چلی جا رہی ہیں، لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم سوال تو یہ ہے کہ جامعات ہیں ہی کیوں؟ یہ شماریات کہاں ہیں کہ فلاں شہر کو کتنے اور کس قسم کے اعلی تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے اور فلاں تعلیمی ادارے سے فلاں شعبوں میں فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کی قومی اور بین الاقوامی منڈی میں کتنی کھپت رہی؟ انسانی سرمائے کی افادیت جانچنے کا واحد ذریعہ اس کی منافع بخش کارکردگی ہے۔

اس سلسلے میں دوسرا اہم ترین اور اس سے کہیں گھمبیر سوال طالبعلم اور استاد کا ذاتی بیانیہ ہے۔ طالبعلم اپنے شعبے میں طلبِ علم سے کیوں وابستہ ہے اور استاد کے لئے تدریس میں کیا دلچپسی ہے؟ پہلے مسئلے یعنی یونیورسٹی کے جواز کی طرح یہ مسئلہ بھی ہماری مجموعی حالتِ زار کا آئینہ ہے۔ نجی سیکٹر کی حد تک اگر ایک یونیورسٹی کی موجودگی کی واحد وجہ ایک بڑے سرمایہ دار کی موجودگی ہے جو تعلیم کے شعبے میں منافع کی خاطر اپنا سرمایہ لگانا چاہتا ہے تو طالبعلم اور استاد بھی اس منظر نامے کا ہی ایک حصہ ہیں۔ شماریات کے بغیر کوئی دعوی کرنا مشکل ہے لیکن گمان ہوتا ہے کہ کم از کم (مغرب میں) STEM کہلائے جانے والے دائرہ کار یعنی سائنس، ٹیکنالوگی، انجینئرنگ اور ریاضی وغیرہ کی حد تک تو پچھلے دہائی میں طالبعلموں کا ایک بڑا طبقہ نوکری نہ ملنے کے باعث جامعات ہی میں تدریس سے منسلک ہو گیا ہے۔ وطنِ عزیز میں صرف ٹیکنالوجی کی حد تک روزگار کے مواقع میسر ہیں اور وہاں بھی زیادہ تر ان نوجوانوں کی کھپت ہے جو پی ایچ ڈی نہیں u3کیوں کہ وہ نوکری میں دلچسپی رکھتے ہیں اور تحقیق میں نہیں۔ پاکستان میں تحقیقی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں لہٰذا اس صورتِ حال میں مزید ابتری کے امکانات ہی ہیں۔ راقم کی رائے میں اگر اس سلسلے پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو پاکستان میں موجود جامعات کو کارکردگی کے لحاظ سےتین درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جن پر تنقید کے لئے مختلف تناظر قائم کرنا ناگزیر ہے۔ ہم درجۂ اول اور درجۂ سوم کے تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے مجموعی منظر نامے کو ایک ہی تنقیدی لاٹھی سے ہانکنے پر اصرار کریں گے تو لاینحل مسائل پیدا ہوں گے اور پہلے ہی پڑاؤ پر وقت ایک دوسرے کے مغالطے دور کرنے میں ضائع ہو گا۔

عمومیت سے بات کرنے پر اصرار سہل فکری کی علامت ہے۔ آپ کا اضطراب اپنی جگہ بامعنی اور قابلِ احترام ہے لیکن یہ اضطراب کسی ایسی خاطر خواہ تنقید میں نہیں بدل سکتا جو نتائج پیدا کرنے کے قابل ہو۔ یاسر پیرزادہ صاحب تو خیر ایک سماجی نقاد ہیں اور باقاعدہ تحقیق و تدریس سے منسلک نہیں لیکن پروفیسر ہود بھائی صاحب تو ایک اعلی درجے کے محقق ہونے کے علاوہ اساتذہ کے بھی استاد ہیں۔ ان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ بادی ٔ النظر میں اپنے جواز کی معقولیت کے باوجود عملی طور پر یہ بات نہایت مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے کہ جامعات کی دی گئی ڈگریوں کو ڈرائیونگ لائسنس کی طرح دس سال بعد کالعدم قرار دے دیا جائےاور کسی بین الاقوامی یونیورسٹی کے درجۂ اول کا امتحان دوبارہ لیا جائے۔ ان کا خیال ہے کہ اس نسل کشی سے پی ایچ ڈی کی آبادی پچاس سے اسی فی صد کم ہونے کی امید ہے، جیسے پی ایچ ڈی کسی بادشاہ کا عطا کیا ہوا کوئی ایسا نایاب خزانہ ہے جو ایک میکانی حکم کے ذریعے واپس طلب کر لیا جا سکتا ہے۔ اول تو اس قسم کے تجربے میں امتحانی نصاب کے مرحلے پر ہی امکانات محاورتاً لامتناہی ہیں اور اگر پھر بھی اس کے قابلِ عمل ہونے پر اصرار ہے تو ذرا معلوم کیا جائے کہ کیا چین، یورپ، آسٹریلیا، عرب ممالک اور امریکہ کی بی ایس سی، ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی یکساں معیارات لئے ہے؟ درجہ اول کی کسی یونیورسٹی میں بی ایسی سی انجینئرنگ یعنی انڈرگریجویٹ کے درجے پر نصاب کے کسی بھی مضمون کے دروس کا موازنہ انٹرنیٹ پر موجود اعلی ٰ بین الاقوامی 0001nجامعات کے دروس سے کر لیا جائے تو واضح ہو جائے گا کہ ہمارے ہاں تدریس کا کیا مقام ہے۔ لہٰذااس امتحان کے لئے نصاب کونسے ملک منتخب کیا جائے گا؟ پھر ان سب افراد کا کیا ہو گا جو پاکستان کے علاوہ باہر کے ممالک سے اعلی ڈگریاں لے کر آئے ہیں اور انہوں نے نصاب ہی تقریباً مختلف پڑھے ہیں۔ ہود بھائی صاحب یہ بھی جانتے ہیں کہ ایک انجینئرنگ کا طالبعلم انڈرگریجویٹ درجےمیں تقریباً پینتالیس سے پچپن، گریجویٹ درجےمیں تقریباً چھ سے دس اور پی ایچ ڈی میں بھی اتنے ہی مضامین پڑھتا ہے۔ کیا ریڈار ٹیکنالوجی یا مواصلاتی تھیوری میں پی ایچ ڈی کرنے والوں سے دس سال بعد ایک ہی قسم کا امتحان لیا جائے گا؟ اٹامک انرجی کمیشن یا سپارکومیں موجود ایک محقق ڈاکٹر صاحب جو الیکٹریکل انجینئرنگ کے ایک مخصوص مسئلے پر دس سال سے تحقیق میں مشغول ہیں اور رائج بین الاقوامی معیارات کے مطابق اپنی تحقیق منظرِ عام پر بھی لا رہے ہیں، انہیں کیا الیکٹریکل انجینئرنگ کے پہلے سال میں نیٹ ورکنگ، فزکس اور انجیئنرنگ ڈرائنگ وغیرہ کے امتحانات سے بھی گزرنا ہو گا ورنہ ان کی پی ایچ ڈی واپس لے لی جائے گی اور ملازمت سے برخاست کر دیا جائے گا؟ جو حضرات پی ایچ ڈی کے بعد کسی بھی قسم کی تحقیق و تدریس سے منسلک ہی نہیں اور کسی اور کاروبار میں مشغول ہیں ان کے لئے کیا حکم ہو گا؟ اگر پروفیسرہود بھائی صاحب کی یونیورسٹی میں دس مقالے پورے ہو جانے پر کسی پروفیسر کو ترقی دی جا رہی ہے تو اس کی تحقیق پر درس کا اہتمام تو ایک نہایت قابلِ علم بلکہ مفید اقدام ہے، لیکن اس عمل سے اس کی قابلیت کیسے معلوم ہو گی اور یہ نازک فیصلہ کون کرے گا؟ اگر ہود بھائی صاحب کسی ایسے درس کے دوران فرماتے ہیں کہ انہیں فاضل محقق کی بات سمجھ نہیں آئی اور اس کی قابلیت پر شک کرتے ہیں تو ایک فزکس کے پروفیسر ہوتے ہوئے ان کی بات اس بین الاقوامی مجلے کے اداراتی بورڈ سے بھی کیوں کر محکم سمجھی جائے جس نے وہ مقالہ پوری ذمہ داری لیتے ہوئے شائع کیا ہے؟

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

یاسر پیرزادہ اور ہود بھائی صاحب کی تنقید کی عمومی اٹھان بالکل درست ہے، لیکن اس کے بعد تا حدنظر ایک سپاٹ سطحیت نظر آتی ہے۔ اساتذہ جانتے ہیں کہ تحقیق کے معیار پر کسی بھی قسم کا دعوی بہت نازک پیچیدگیاں لئے ہوتا ہے۔ ہماری طالبعلمانہ و عاجزانہ رائے میں تو تاحال اس مسئلےکا واحد حل کسی بھی دوسرے محقق کے نتائج کو بصورتِ تحقیق غلط ثابت کرنا ہے۔ سائنس سے کسی بھی حیثیت میں وابستہ تمام محققین بخوبی جانتے ہیں کہ سائنسی طریقۂ کار میں نتائج کی نوافزودگی یا تخلیقِ مکرر (reproducibility) کو بنیادی اصول کی حیثیت حاصل ہے۔ سائنس کے اعلی ترین ہفتہ وار تحقیقی مجلے Nature کی کل ہی کی ایک خبر کے مطابق ۱۵۷۶ سائنسدانوں سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا تحقیقی نتائج کی نوافزودگی کا اصول خطرے میں ہے؟ نہ صرف زیادہ تر کا جواب ہاں میں تھا بلکہ ستر فی صد کا یہ دعوی تھا کہ انہوں نے کسی اور تحقیقی گروپ کے تجربات دہرانے کر وہی نتائج برآمد کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ یہ دعوی خود اپنے اندر کیا پیچیدگیاں لئے ہے، ہمارا مقصد صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ اتنا بڑا دعوی بھی ان سائنسدانوں کی تحقیقات کو مشکوک کرنے کے لئے کافی نہیں ہے تو ہمارے ہاں ایسا کون سا بھونچال آ گیا ہے جو ایک ہی وار میں سارے جمِ غفیر کو چور قرار دے دیا جائے؟ سوال کی حد تک بات درست ہے لیکن واحد ممکنہ حل یہی ہے کہ مزید وقت اور سرمایہ لگایا جائے اوران تجربات اور نتائج کے سقم کو ثابت کر دیا جائے۔ یہ بالکل وہی مطالبہ ہے جو ہم نیوٹن اور آئن سٹائن کو غلط کہنے والے انجینئر فرید اختر سے کرتے ہیں۔ بات یہ بھی ہے کہ ایسے الزامات کا سلسلہ سائنسی دنیا کی روزمرہ نہیں تو کافی عام حقیقت ہے لیکن عمومیت سے کسی ایک ملک کے پورے تحقیقی کام پرنقل کے الزامات لگانا ایک غیر سنجیدہ تکرار ہے۔ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کی انکوائری کمیٹی میں راقم کو بحیثیت ایک طالبعلم رکن ایک سال کام کرنے کا تجربہ رہا ہے۔ اس دوران سرقہ ثابت ہونے پر دو طالبعلموں کی ایم ایس سی کی ڈگریاں اور ایک پروفیسر کے دس سے زیادہ تحقیقی مقالے کالعدم قرار دئیے گئے۔ ہماری رائے میں کسی بھی الزام کی ثبوت کے بغیر کوئی حیثیت نہیں اور یہ محض وقت کا ضیاع ہے۔ یہ اسی طرح کا دعوی ہے کہ ہم پوری دنیا میں اخباری کالم لکھنا شروع ہو جائیں کہ پاکستانی اسکولوں میں بچے امتحان میں نقل سے پاس ہوتے ہیں۔ ایسے دعووں کو محض کسی نفسیاتی اضطراب یا مخصوص عدم تحفظات کا نتیجہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

u(2)لہٰذا جلد بازی کی بجائے اگر ہمیں اپنے محققین کی تحقیق پر شک ہے تو پہلے تو اس شک کی کوئی واضح سائنسی بنیاد ہونی چاہئے جو ثبوت کے ساتھ واضح کی جا سکے اور پھر اس کی بنیادی ذمہ داری تو ان بین الاقوامی مجلوں پر ہی آنی چاہئے جو یہ تحقیق شائع کر رہے ہیں۔ یہاں قارئین کو ایک بار پھر یہ یاد دلانا مقصود ہے کہ یہ سیدھا سادھا سرمائے کا مسئلہ ہے اور اس کا تعلق پاکستان سے صرف اتنا ہی ہے کہ آپ کو اگر اپنی رائے کی عمومیت پر اصرار ہو تو پاکستان کے طالبعلموںکو کئی وجوہات کی بناء پر غیرسنجیدہ اور اساتذہ کو کچھ دوسری وجوہات کی بنا ء پر غیر ذمہ دار کہہ سکتے ہیں۔ ہماری رائے میں تو یہ عمومیت بھی الزام لگانے والے کے تعصبات پر مبنی ہو سکتی ہے کیوں کہ استثناء موجود ہیں۔ کیا ہمیں آج تک یونیورسٹی میں کسی اچھے استاد نے نہیں پڑھایا؟ ہم میں سے کتنے ہی محققین ہیں جنہیں کم از کم اپنے دو چار مقالے لکھنے پر تو فخر ہے اور انہیں دنیا میں پذیرائی بھی ملی ہے۔ ہمارے مخصوص حالات اپنی جگہ لیکن پہلے مبادیات پر اتفاق لازمی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں کئی ایسے گروپ کام کر رہے ہیں جن کا منافع تحقیق کے شائع ہونے سے مشروط ہے۔ جیسا کہ ہود بھائی صاحب نے اپنے کالم میں فرمایا اس تحقیق کو سند کوئی بھی دو یا دو سے زیادہ آزاد محققین بلامنافع دیتے ہیں۔ دوسری لفظوں میں یہ ان محققین کی دیانت داری پر منحصر ہے اور peer review کے اس ضابطے کو کم از کم اس حد تک معیاری ضرور کہا جا سکتا ہے جتنا اس دعوے کو باجواز کہ دنیا کے تمام محقق بددیانت نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں کئی آزاد ادارے ان مجلوں کو indexing کی خدمات انجام دیتے ہیں لیکن وہ بھی ظاہر ہے کہ سرمائے کے محتاج ہیں اور اپنے معیارات میں ایک دوسرے سے کافی حد تک مختلف بھی ہیں۔ انہیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ان کا قاری کس موضوع میں دلچپسی رکھتا ہے اور محققین جانتے ہیں کہ کئی دفعہ بھیجا گیا مقالہ صرف اس اعتراض کے ساتھ واپس لوٹا دیا جاتا ہے کہ مجلہ اس تحقیق کے لئے موزوں نہیں حالانکہ اس مجلے کےتعارف میں وہ موضوعات شامل ہوتے ہیں۔ کئی بار تحقیق کثیر الجہتی ہوتی ہے اور اسے کسی ایک سائنسی شاخ سے منسوب کرنا مشکل ہوتا ہے۔ چاہے آپ پانی سے چلنے والی گاڑی بنا رہے ہوں یا کششِ ثقل کا کوئی نظریہ تجویز کرنے میں دلچپسی رکھتے ہوں، آپ کو اپنے دعوے کو بہرحال بین الاقوامی سائنسی منظرنامے پر ردو قبول کے لئے پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس سارے منظرنامے سے نظریں پھیر کر اپنے آپ کو برا بھلا کہنا کہاں تک سود مند ہو سکتا ہے، وہ بھی اس وقت جب ہم خود یہ بات تسلیم کر رہے ہیں کہ تحقیق کہیں نہ کہیں شائع ہو رہی ہے۔ کیا یہ زیادہ آسان نہیں کہ بین الاقوامی معیار ات کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے ہاں ان معیارات کو بہتر سے بہتر طور پر نافذ کرنے کی کوشش کی جائے؟ ہماری رائے میں تو ہائر ایجوکیشن کمیشن اسی کشمکش میں گرفتار ہے کہ ان معیارات کو کیسے نافذ کیا جائے۔

U-Image اس تناظر میں کچھ بات تحقیقی معیار کے متعلق بھی عرض کرنی ضروری ہے کیوں کہ تنقید سے یہ گمان پیدا ہو رہےہیں کہ شاید ایسا کوئی طریقۂ کار ہی موجود نہیں یا سب کچھ بہت موہوم ہے۔ یہ بات بھی یا تو درست تناظر میں نہیں کی جا رہی یا پھر کسی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ کم از کم سائنسی موضوعات کی حد تک اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہاں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے طریقۂ کار میں ایک طرف تو کافی نقص نکالے جا سکتے ہیں لیکن دوسری طرف کمیشن کی الجھن کی سمجھ بھی آتی ہے۔ آئیے ایک پورا خاکہ سامنے رکھتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں کہ ہمارے نقاد حضرات کی بات میں کس حد تک وزن ہے۔

 دنیا میں شائع ہونے والے تمام اہم سائنسز اور سوشل سائنسز کے مجلوں کے لئے دو ادارے ہر سال امپکٹ فیکٹر نشر کرتےہیں۔ یہ ایک ایسا عدد ہے جو اس مجلے میں شائع ہونے والے تمام مقالات و مضامین کے حوالے کے طور پر کسی دوسرے مقالے میں ذکر کئے جانے کی اوسط تعداد کو ظاہر کرتاہے۔ اس سال کسی بھی مقالے کا امپکٹ فیکٹر اس کے پچھلے دو سال کی اشاعت پر مبنی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ ہر سال جاری رہتا ہے۔ جو مجلے ان دونوں اداروں میں شامل نہیں ان کی اہمیت پر سوال اٹھائے جا سکتےہیں، لیکن ضروری نہیں کہ ان میں شامل ہر مجلے کو امپکٹ فیکٹر بھی دیا جائے کیوں کہ یہ تو اس میں شائع ہونے والے مقالات کے حوالہ بننے پر منحصر ہے۔ یہ سوال ہمیشہ اٹھ سکتا ہے کہ آیا جو تحقیق ان بیس ہزار مجلوں اپنی جگہ نہیں بنا سکتی وہ سراسر بے وقعت ہے؟ لیکن ہم فی الحال اس سوال سے صرفِ نظر کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ یہاں جاننے کی اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی مجلے کا امپکٹ فیکٹر اس میں شامل ہونے والے مقالات کے انفرادی ’امپکٹ‘ یعنی اہمیت و وقعت کو ظاہر نہیں کرتا۔ اس کے صرف اور صرف یہ معنی ہیں کہ یہ مقالے تحقیقی و تحریری معیارات پر پورے اترتے ہیں اور انہیں دوسرے محقق قارئین تک پہنچنا چاہئے۔ دنیا بھر میں یہ عمومی طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے کہ ان دو اداروں یعنی ISI Thomson – Journal Citation Reports (JCR) اور SciMago Journal and Country Rank (SJR) میں سے اول الذکر کے معیارات زیادہ کڑے ہیں۔ اسی لئے جہاں اول الذکر میں ویب آف سائنس انڈیکس کے تقریباً ۱۲۰۰۰ مجلے شامل ہیں وہاں آخرا لذکر کے مشمولات کی تعداد ۲۰۰۰۰ ہے، جس میں اول الذکر تو کم و بیش شامل ہی ہیں۔ ان دونوں اداروں کی ویب سائٹ پر جا کر باآسانی دیکھا جا سکتا ہے کہ انتخاب کا معیار کیا ہے اور اس میں کس قسم کی پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں۔

u (4)مجلات کے معیار (یعنی امپکٹ فیکٹر) کی حد تک اتنی بات واضح ہو جانے کے بعد اب آئیے دیکھتے ہیں کہ ا س سلسلے میں پاکستانی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسی اورمعیارات کے نفاذ کا کیا طریقہ کار ہے۔ سائنسز اور سوشل سائنسز کی تقسیم قائم کرتے ہوئے کمیشن دونوں صورتوں میں دنیا بھر کے تمام تحقیقی مجلوں کو چار زمروں میں تقسیم کرتا ہے۔ زمرۂ اول میں تو صرف وہی مجلے شمار کئے جاتے ہیں جو نہ صرف ISI Thomson کی فہرست میں شامل ہیں بلکہ ان کو ’امپکٹ فیکٹر‘ بھی دیا گیا ہے۔ زمرۂ دوم میں وہ مجلے آتے ہیں جن کا ’امپکٹ فیکٹر‘ نہیں لیکن چونکہ وہ اوپر دئیے گئے دونوں انڈیکس میں سے کسی ایک میں موجود ہے یا ماہرین کے کسی گروپ کی سند موجود ہے لہٰذا کمیشن کو اطمینان ہے کہ یہ مجلے ایک معقول بین الااقوامی شناخت رکھتے ہیں اور ان میں شامل کی جانے والی تحقیق peer review کے تقاضوں پر پوری اترتی ہے۔ زمرۂ سوم میں وہ مجلے آتے ہیں جو یا تو انڈیکس میں شامل ہیں یا ماہرین کی سند موجود ہے لیکن peer review کے تقاضوں پر پورے نہیں اترتے۔ زمرۂ چہارم میں وہ مجلے موجود ہیں جو کسی بھی انڈیکس میں موجود نہیں۔ چونکہ صرف زمرۂ اول کے مجلوں ہی کا ’امپکٹ فیکٹر‘ ہے لہٰذا Tenure Track System پر تعیناتی کے لئے صرف وہی قابلِ قبول ہیں۔ جہاں تک پی ایچ ڈی کے طلباء کی بات ہے تو ۳۰ جون ۲۰۱۶ تک زمرۂ دوم کے مجلے بھی کمیشن کو قابلِ قبول ہیں۔ اسی طرح زمرۂ دوم کے مجلے سرکاری اور نیم سرکاری جامعات اور اداروں میں نوکریاں حاصل کرنے، ترقی اور پی ایچ ڈی نگران بننے کے لئے بھی قابلِ قبول ہیں۔ زمرۂ سوم کے مجلے نوکری کے حصول کے لئے قابلِ قبول ہیں لیکن پی ایچ ڈی کی تحقیق کے لئےصرف اس صورت میں مانے جائیں گے اگر طالبعلم ۱۱ جنوری ۲۰۱۰ سے پہلے کسی جامعہ کے پی ایچ ڈی پروگرام میں داخل ہوا تھا۔ اس کے بعد داخل ہونے والے تمام طالبعلموں کو پی ایچ ڈی کے حصول کے لئے زمرۂ اول یا دوم میں ہی اپنی تحقیق شائع کرنی ہو گی۔

u215ہماری تہمید، مجلوں کی زمرہ بندی اور معیار ی خاکے کا سرسری جائزہ بھی یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے تنقیدی تناظر قائم کرنے میں کن اہم نکات کو یکسر نظر انداز کر دیا جا رہا ہے۔ پاکستانی پی ایچ ڈی کی صورت حال پر کسی بھی تنقید سے پہلے یہ واضح ہونا بہت ضروری ہے کہ پوری دنیا بشمول ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں کیا اس اعلی ترین تعلیمی پروگرام پر ایک ہی انداز میں بات کرنا ممکن ہے؟ کیا یہ بات سطحی نہیں کہ پی ایچ ڈی کے ڈگریاں دینے کا الزام جامعات پر اس طرح لگایا جائے جیسے ان سے کوئی جرم سرزد ہو رہا ہے؟ بین الاقوامی طور پر پی ایچ ڈی کی ڈگری کے معنی ایک دو یا دس تحقیقی مقالے شائع کرنے نہیں بلکہ یہ ہیں کہ تین یا چار قابل ماہرین کی ایک کمیٹی بدرجۂ اتم یہ سمجھتی ہے کہ طالبعلم اپنے موضوع کی حد تک تحقیق و جستجو کی دنیا میں قدم رکھنے کے لئے ہر طرح سے تیار ہے۔ یہاں کسی بھی درجے کی جامعہ یا ہائر ایجوکیشن کمیشن پر بطور ادارہ کس حد تک الزام عائد کیا جا سکتا ہے؟ اگر میں ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہوں، تحقیق جانتا ہوں اور اپنے بھائی، بیوی یا ادارے کے کسی سینئر افسر کے تحقیقی مقالے لکھ کر ان کو پی ایچ ڈی کرواتا رہتا ہوں تو میں اس قسم کا ایک مافیا چلانے میں اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہوں اگر اس امتحانی کمیٹی کے باقی افراد بھی میرے ساتھ اس جرم میں شریک ہوں۔ ایسے مافیا پاکستان میں یقیناً موجود ہوں گے لیکن اس تناظر میں پاکستانی تعلیم کا مسئلہ اداروں اور معیارات کے نفاذ کا نہیں بلکہ بہت حد تک انفرادی اور اجتماعی بد دیانتی کا ہے۔

بلکہ اگر دوسری انتہا پر دیکھا جائے تو ایجوکیشن کمیشن کے یہ اٹل معیارات کئی اچھے اور محنتی محقق طلباء کے سفر میں شدید منفی ثابت ہوتے ہیں۔ جب ہم ان طلباء کو اچھے اور محنتی کہتے ہیں تو یہ بھی ہمارا مخصوص تیسری دنیا کا پسماندہ تناظر ہے اور اس کا مقصد انہیں کوئی بین الاقوامی سند عطا کرنا نہیں۔ پاکستانی طلباء تحقیق کے دوران جن مسائل او ر جن انفرادی و اجتماعی تعصبات سے دوچار ہوتے ہیں وہ اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ یہ بنیادی مسائل ہیں جن کی جڑیں ہمارے بنیادی تعلیمی نظام اور ا س کے بعد انڈرگریجویٹ درجے تک جاتی ہیں۔ کیا یہ  نکتہ کسی بھی چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لئے کافی نہیں کہ طالبعلموں کے لئے سب u5سے بڑا مسئلہ تحقیقی موضوع کی تلاش ہے؟ بہت سے طالبعلم بنیادی تحقیق کے لئے بھی موزوں ذہن اور مزاج نہیں رکھتے لیکن درسی حد تک اپنی پوری محنت کے ذریعے تعلیمی نظام میں مسلسل اچھے نتائج سامنے لا رہے ہوتے ہیں۔ کئی طالبعلم ایسے ہیں جو درسی طور اتنے اچھے نہیں ہوتے لیکن اگر انہیں کسی ایک موضوع تک محدود کر دیا جائے تو اچھی تحقیق سامنے لانے کے قابل ہوتے ہیں۔ راقم کو اتفاق ہوا ہے کہ کسی ایسے طالبعلم سے تحقیق کروا لینے کے بعد جب اسے شائع کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو کئی عجیب و غریب دل شکن مسائل پیدا ہوتےہیں۔ سائنسز بالخصوص انجینئرنگ کی حد تک ایک اوسط مجلہ آپ کے مقالے پر پہلی رائے تقریباً تین ماہ میں دیتا ہے۔ اگر رائے مثبت ہو تو ایک دو ماہ بعد آپ وہی مقالہ بتائی گئی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ بھیجتے ہیں، جس کے بعد اس کے شائع ہونے میں مزید ایک یا دو ماہ لگتے ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ اس آٹھ نو ماہ کے عرصے میں ’امپکٹ فیکٹر‘ کی نئی فہرست جاری ہوئی اور وہ مجلہ جس کا ’امپکٹ فیکٹر‘ کافی کم تھا آخر فہرست سے باہر نکل گیا۔ ظاہر ہے کہ اب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسی کے مطابق وہ ایک درجہ گر گیا۔ اس قسم کے کئی مسائل ہیں جو بھارت، چین اور یورپ کے کئے ممالک میں پی ایچ ڈی کے طلباء کا دردِ سر نہیں ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن صرف کسی بین الاقوامی کانفرنس میں رجسٹریشن کی فیس ہی دے سکتا ہے اور پاکستان میں بہت کم طلباء ایسے ہیں جو کانفرنس میں مقالہ قبول ہو جانے پر وہاں جانے کے تمام اخراجات برداشت کر سکتے ہوں۔ محققین جانتے ہیں کہ پوری دنیامیں ان کانفرنسوں کی کتنی اہمیت ہے کیوں مجلوں میں شائع کئے جانے سے پہلے زیادہ تر محققین اپنے نتائج یہاں پیش کرتے ہیں۔

معیار کے مطابق مجلوں کی زمرہ بندی کے بعد دوسرا سوال تحقیق کے معیار یعنی کسی محقق کے درجے کا ہے۔ یہ بھی ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلہ ہے اور تاحال ہائر ایجوکیشن کمیشن اس پر کوئی پالیسی نہیں رکھتا، جس کی بنیادی وجہ شاید یہی ہے کہ ایسی کوئی بھی پالیسی کسی مثبت انداز میں لاگو نہیں کی جا سکتی۔ مثال کے طور u80126پر پچھلے کچھ عرصے میں محققین کے کام کی مقدار معیار جانچنے کے لئے h-index کے نام سے ایک متغیرہ دنیا بھر میں مستعمل ہے۔ جہاں ’اپمکٹ فیکٹر ‘کسی مجلے میں شائع ہونے والے مقالات کے حوالہ بننے کو ظاہر کرتا ہے وہاں’ ایچ اینڈیکس‘ کسی بھی محقق کے مقالوں کے دوسرے محققین کے مقالوں میں حوالہ بننے کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ نہ صرف مقالات کی مجموعی تعداد بلکہ ان کے حوالہ بننے پر بھی منحصر ہے اور محققین کے مابین کسی حتمی موازنے کے لئے اس وقت تک قابل قبول نہیں ہو سکتا جب تک وہ سارے محققین نہ صرف ایک عمومی موضوع بلکہ کئی صورتوں میں کسی ایک ہی تحقیقی مسئلے سے متعلق ہوں۔ محققین کے کام کی مقدار اور معیار جانچنے کے اور بھی دو چار ریاضیاتی پیمانے موجود ہیں لیکن ان کو کسی حتمی پالیسی کے طور پر اداروں میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ ان تمام متغیرات کی حیثیت مختلف بین الاقوامی بحثوں کا موضوع ہے اور اس پر سوال اٹھتے ہی رہتے ہیں۔

ان ساری بکھری ہوئی گزارشات سے اگر کسی قسم کا کوئی نتیجہ نکالنا مقصود ہو تو وہ یہی ہے کہ اخباری کالموں کی صورت میں ہونے والے یہ مکالمے کسی حد تک مثبت ہونے کے باوجود ہمارے سماج میں تحقیقی مزاج کی کمزوری کے آئینہ دار ہیں۔ یہاں مفروضوں پر اتفاق اور hypothesis framing پر تمام متعلقین کی رائے عامہ ہموار کئے بغیر کچھ نتائج پر اسی طرح اصرار کیا جا رہا ہے جس طرح کوئی دیوانہ ایک دن اٹھ کر یہ کہہ دے کہ میں نے فلاں نیا قانون دریافت کر لیا ہے۔ پھر hypothesis testing کا طریقہ ٔ کار ہمارے ہاں سرے سے مفقود ہے۔ معاف کیجئے لیکن یوں لگتا ہے کہ یہ بس کچھ مضطرب سی سہل فکری ہے۔

اول، اگر مسئلہ تحقیقی معیار سے جڑے مسائل کی خاکہ بندی ہے تو سائنسز اور سوشل سائنسز کے لئے ایک ہی تناظر قائم نہیں کیا جا سکتا۔ پھر سائنسز کے اندر بھی فزکس اور ریاضی وغیرہ میں تحقیق سے جڑے مسائل کا تناظر انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنسز سے کافی مختلف ہے۔ مثال کے طور پر ریاضی کی تحقیق کے لئے بڑے پیمانے پر اس طرح کی لیبارٹری وضع نہیں کرنی ہوتی جس طرح میکینیکل انجینئرنگ کے لئے ضروری ہے۔ طالبعلم کسی موضوع پر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے سہولیات میسر نہیں ہوتیں لہٰذا انہیں اپنا موضوع تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ ہر منتخب موضوع پر موجود منتہائے تحقیق (state of the art) کا سرسری مطالعہ بھی کم از کم چار سے چھ ماہ چاہتا ہے۔ زیادہ تر طالبعلم اپنے طور پر یہ کام کرنے کے قابل نہیں ہوتے اور نگران اساتذہ سے غیر حقیقی امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ غرض کہیں درمیان میں پہنچ کر زیرِ نظر موضوع پر تحقیق کی مشکلات واضح ہوتی ہیں۔ تحقیق و جستجو کا مزاج پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہے اور اس طرح تحقیق کی اشاعت میں مزید سمجھوتے لازم ٹھہرتے ہیں۔ یہ جاننا اہم ہے کہ یہ صرف ہمارا مسئلہ نہیں بلکہ کئی دوسرے ممالک کا مسئلہ بھی ہے۔

????????????????????????????????????

دوم، ہمیں اس فکری شکنجے سے باہر آنا ہو گا کہ ہم عمومیت سے تمام محققین اور ان کی تحقیق کو بددیانتی اور نقل کہہ سکتے ہیں۔ ویسے تو نقل کے لئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے لیکن نقل پکڑنے کے لئے تو صرف محنت اور ہمت ہی کی ضرورت ہے۔ الزام لگانا ایک بالکل غیرمفید طرزِ عمل ہے اور وہ بھی اس قسم کے ’تحقیقی‘ مزاج کے ساتھ جس میں صغری ٰو کبری ٰ ہی بے بنیاد یا موہوم ہو۔ مثبت ترین راستہ یہی ہے کہ پہلے تو ہم سب اپنی اپنی جگہ سامنے آنے والی تحقیق کو کڑے معیارات پر پرکھنے کے لئے کمر باندھیں اور پھر طالبعلموں کو ذاتی رجحانات اور موضوعی ترجیحات کی بجائے خالص علمی بنیادوں پر پرکھیں۔ اگر آپ پی ایچ ڈی یا ایم ایس سی کے نگران استاد ہیں اور پوری محنت کے باوجود ایک سال میں بھی قائل نہیں ہو سکے کے طالبعلم تحقیقی مزاج رکھتا ہے تو مزید وقت ضائع کرنے سے بہت بہتر یہی ہے کہ اسے سائنسی تحقیق کی بجائے کسی اور مناسب میدان میں قسمت آزمائی کا راستہ دکھایا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لئے اساتذہ کو خود کو بھی انہی معیارات پر پورا اترنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی اشارتاً ذکر ہوا یہ بہرحال ایک دلچسپ سوال ہے کہ عمومی طور پر تحقیقی میدان میں ابتری کے ذمہ دار ادارے، طلباء یا اساتذہ ہیں اور کس کے حصے میں ذمہ داری کا کتنا حصہ آتا ہے؟ شاید ہمارے بہترین اساتذہ، تحقیقی دماغوں اور سماجی نقادوں کو اب ان سوالات پر آنے کی ضرورت ہے کہ اساتذہ، اداروں اور طلباء کی کیا ذمہ داریاں ہیں، تحقیق کیا ہے اور ایک محقق کے کیا فرائض ہیں، اسے عبادت کے درجے میں کیسے کیا جا سکتا ہے اور اس بندگی کے لئے ذہن کی تعمیر کا مادہ کہاں سے دستیاب ہو؟ ہماری رائے میں یہ تعلیمی نفسیات کے سوالات ہیں اور سماجی تناظر میں ہی اٹھائے جا سکتے ہیں۔

سوم، اگر ترقی یافتہ مغربی دنیا خصوصاً امریکہ کا سماجی تناظر مختلف ہے تو بعینہِ تدریسی و تحقیقی ماڈل وہاں سے برآمد کرنے سے مسائل آسانی سے حل ہونے والے نہیں۔ ہمارے ہاں ایجوکیشن کمیشن کی مشکل یہ ہے کہ اسے ایک معیار قائم کرنا ہے کیوں کہ صرف نگران محققین کی کمیٹی کی بات ناقابلِ اعتبار ہے۔ اس معیار کو رائج بنیادوں پر مزید سخت سے سخت بنانے سے بددیانتی بھی اسی تناسب سے مزید بڑھے گی۔ اب ایک دہائی کے بعد یہ سوال از سرِنو غور طلب ہے کہ ہمارے ملک میں نوکریوں اور ترقیوں کو تحقیقی مقالوں کی اشاعت سے مشروط کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ مغرب کا یہ publish or perish کا اصول ہمارے ہاں کس حد تک فائدہ مند ہے ؟ مغربی دنیا کو تو چھوڑئیے، چین اور بھارت کے برعکس ہمارے ہاں کسی بھی قسم کی اعلی تحقیق کی صنعت نہ ہونے کے باعث کیا فوری اہمیت ہے؟ ہماری رائے میں تو اس کی یہی اہمیت ہے کہ تحقیقی ذہنوں کی فصل تیا ر ہو اور بین الاقوامی تحقیقی فورمز پر پاکستان کا نام اونچا ہو۔ لیکن اس اہم ترین مقصد کو نوکری اور ترقی کے ذریعے مالی منفعت سے جوڑ دینے سے تحقیقی ذہن کی بجائے ایک ایسا ذہن تیار ہو رہا ہے جو زیرِ نظر مسئلے کے بہتر سے بہتر حل کی بجائے صرف اور صرف مقالات کی اشاعت میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو بہت دور رس اہمیت کا حامل ہے۔ جیسا کہ پروفیسر ہود بھائی نے اشارہ کیا ہمارے ہاں اگر مقالات کے دفاتر لکھے جا چکے ہوں اور سارے ہی بے وقعت ہوں تو ان کی کیا اہمیت؟ لیکن ہماری رائے میں اس سارے عمل کو میکانی طریقے سے بحکمِ سرکار روکنے کی بجائے یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور اس اشاعتی نفسیات کے محرکات کیا ہیں۔

u6یہاں متعلقہ چوتھا نکتہ یہ ہے کہ اشاعت تو محققین کا کام ہے اور جامعات سے تعلق رکھنے والے قارئین جانتے ہیں کہ تعلیمی نظام کو صرف محققین ہی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہم یہ ذکر کر آئے ہیں کہ جامعات سے باہر بھی بہت سے اداروں میں محققین موجود ہیں بلکہ کچھ لوگ شوقیہ بھی تحقیق سے منسلک ہیں۔ اس سلسلے میں تدریس، تحقیق اور تعلیمی مینجمنٹ کے تینوں دائرے الگ الگ تنقیدی تناظر کو دعوت دیتے ہیں۔ ان تینوں تناظرات میں پی ایچ ڈی کا حصول تو ایک اہم سنگ میل ہو سکتا ہے لیکن اس کے بعد بھی انتخاب کا راستہ کھلا ہے۔ دریافت کا میدان ابلاغ کے میدان سے یکسر جدا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر اچھا محقق اچھا استاد بھی ہو۔ لیبارٹری، کمرۂ جماعت اور انتظامی آفس کی نفسیات مختلف ہے اور ہر انسان ہر میدان میں کارگر نہیں ہو سکتا۔ عین ممکن ہے کہ پی ایچ ڈی کے بعد ایک شخص تو خود کو تاحیات تحقیق و جستجو سے منسلک کر لے اور دوسرا بنیادی طور پر تدریس سے وابستہ رہنے کو ترجیح دے۔ تحقیق کے ساتھ تدریسی ذہن اور ذوق و شوق ہو تو نور علٰی نور، لیکن ہمارے تعلیمی سماج میں کئی پی ایچ ڈی اساتذہ ہائی اسکول یا کالج تو چھوڑئیے انڈرگریجویٹ کلاسوں کو پڑھانے میں بھی ہتک محسوس کرتےہیں۔ لیکن یہی لوگ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسی کے مطابق مقالوں کی اشاعت میں آگے آگے ہیں۔ اسی لئے ایک بالکل واجبی سی تحقیق پر بھی آپ کو چار سے آٹھ مصنفین کے نام ملیں گے۔ ہماری رائے میں اگر مقالوں کی اشاعت کو کسی بھی قسم کی مالی منفعت (یعنی نوکری، ترقی یا تنخواہ میں بڑھوتی) سے غیر مشروط کر دیا جائے تو معیارِ تحقیق خود بخود بہتر ہو گا کیوں کہ تحقیق میں دلچپسی نہ رکھنے والے اذہان اس سے دور ہی رہیں گے۔ اس لئے ہمارے مخصوص تعلیمی سماج کو دیکھتے ہوئے ہمیں تدریس، تحقیق اور تعلیمی انتظامیہ کے شعبوں کو الگ الگ طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حیرت ہے کہ یونیورسٹیوں کی انتظامیہ سے پچھلے پانچ سال سے منسلک پی ایچ ڈی پروفیسران کو مقالے لکھنے کا وقت بھی مل جاتا ہے۔ اگر انہیں اس کی کوئی ضرورت ہی نہ ہو تو انہیں اپنے طالبعلموں کے مقالوں پر لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہونے کی کوئی ضرورت ہی نہ رہے۔ جب آپ کا انتظامی ڈھانچہ ایک ہی تعلیمی سماج میں محقق، مدرس اور منتظم کو باہم ٹکراؤ میں لائے گا تو اس قسم کے نتائج لازمی ہیں۔

آخری اور اہم ترین نکتہ یہی ہے کہ یہ پورا نظام اب مزید مضطرب تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اعلی تعلیم کی اہمیت اور معیار میں بہتری سے تو ہم میں سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے پورے تعلیمی سماج کا جائزہ لینے کے بعد کچھ مفروضے قائم کئے جائیں اور پھر رائج نظام پر تنقید کی ایک سمت متعین کی جائے جو اپنے مخصوص دائروں میں کچھ عملی تجاویز دے۔ جامعات کا نظام چونکہ قومی اور نجی سیکٹر میں براہِ راست سرمائے سے جڑا ہے اس لئے تدریس و تحقیق کے بنیادی معیارات پر اس طرح سمجھوتے کی ضرورت ہے کہ ایک درجۂ اول کی جامعہ اور ایک درجۂ سوم کی جامعہ سے فارغ التحصیل طالبعلم سے ایک ہی قسم کے معیار کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ اگر فی الحال یہ کام مارکیٹ کی حرکیات پر چھوڑ دیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ پی ایچ ڈی ڈگری کی اہمیت اپنی جگہ لیکن تحقیقی مقالوں کی اشاعت کو جہاں ایک طرف مالی منفعت اور اداراتی ترقیوں سے علیحدہ کیا جائے وہیں تحقیقی نگرانی سے سختی سے منسلک کر دیا جائے۔ یعنی پی ایچ ڈی کا نگران بننے کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی حالیہ شرطوں کو مزید سخت کر دیا جائے۔ تحقیقی منظرنامے کو ان دونوں اقدامات سے فوری فائدہ ہونے کی امید ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 48 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

3 thoughts on “پاکستانی جامعات پر تنقید :چند گزارشات

  • 30-05-2016 at 6:46 pm
    Permalink

    سر جی! سلیوٹ۔
    آپ نے اس مضمون میں سب کچھ کہہ دیا ہے۔

  • 30-05-2016 at 9:32 pm
    Permalink

    bahut mutwazin tajzia hay

  • 31-05-2016 at 10:59 am
    Permalink

    . he would better share his valuable suggestions he made during VC conference. nice one,, Yasir just wrote to fill the pages,

Comments are closed.