کرکٹ میں ہر وقت کوئی نہ کوئی ریکارڈ بن رہا ہوتا ہے


ہمارے ہاں فٹ بال ، والی بال ، ہاکی اور دیگر ایسے کئی فرسودہ کھیل اس لئے بھی ختم کئے گئے کہ ایک تو ان میں بھاگ دوڑ زیادہ کرنی پڑتی ہے اور پھر ڈیڑھ گھنٹے میں یہ کھیل جیت یا ہار کے ساتھ اختتام پذیر ہوجاتے ہیں۔ کرکٹ جیسے شرفا کے کھیل میں ایک تو پورا دن فرصت سے تبصرے کا موقع ملتا ہے اور پھر تماشائی ہی نہیں آدھے کھلاڑی بھی پویلین کی ٹھنڈی چھاوں میں باری باری آرام سے بیٹھ کر تماشا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
ایک اور کمال یہ ہے کہ کرکٹ میں ہر وقت کوئی نہ کوئی ریکارڈ بن رہا ہوتا ہے ۔ زیادہ رن بناو ریکارڈ ، کم۔بناو تو بھی ریکارڈ، آوٹ ہو جاو ریکارڈ اور آوٹ کرو تو بھی ریکارڈ۔ میچ جیتو یا ہارو مگر کوئی نہ کوئی ریکارڈ ضرور بنتا ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے تم۔جیتو یا ہارون ہمیں تم سے پیار ہے۔
ایک اور بڑی مزے بات یہ ہے کہ کرکٹ کھیلا تو چند ملکوں میں جاتا ہے مگر کہلاتا عالمی ہے ۔ فٹ بال کی طرح اس میں افریقہ، یورپ اور وسطی اور جنوبی امریکہ کی مصیبتیں بھی نہیں ۔
ہم۔نے جب سے 1992 میں اس کا عالمی کپ جیتا اس کے بعد ایسا کپ پھر نہ بنا اور نہ کسی نے جیتا۔ اگر دوسرا کپ بن گیا ہوتا تو کوئی دوسرا کپتان بھی کہیں وزیر اعظم بن چکا ہوتا۔


ہمارے ہاں پہلے دانشور بننے کے لئے صرف انگریزی بولنا ضروری سمجھا جاتا تھا صرف عمر قریشی واحد مبصر تھے جن کو انگریزی اور کرکٹ دونوں پر ملکہ حاصل تھا۔ مگر جب سے عالمی کپ جیتنے والے واحد کپتان ہمارے وزیر اعظم بن گئے ہیں ہر دانشور کو کرکٹ کو سمجھنا ہی نہیں اس پر تبصرہ کرنا بھی لازمی قرار پایا ہے۔ جب کہیں کرکٹ کا میچ ہورہا ہو تو ٹی وی کے ہر چینل پر کرکٹ پر رواں تبصرہ بھی جاری رہتا ہے جس میں بیشتر مبصر وہ ہوتے ہیں جنھوں نے میری طرح کرکٹ کا اصلی والا بلا اور گیند کبھی اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ہوتا یے۔ جب ان کے تجربے اور تبصرے پر سوال کرو تو احباب کہتے ہیں کہ نجم سیٹھی نے کونسی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی تھی۔ اگر وہ کرکٹ بورڈ کا چئیرمین ہوسکتا ہے تو کیا وہ تبصرہ بھی نہ کریں ؟
ہمارے وزیر اعظم نے آکسفورڈ میں کیا پڑھا اس کا ہمیں معلوم اس لئے بھی نہیں ہوسکا کہ ان کا داخلہ اور خارجہ اس درسگاہ میں کرکٹ کی بنیاد پر ہوا تھا۔ یہ معلوم ہے کہ وہ یہاں دوران تعلیم کرکٹ کھیلتے رہے اور بعد میں بھی۔
سیاست میں بھی ان کا داخلہ کرکٹ کے ذریعے ہی ہوا کیونکہ وہ کبھی کسی عوامی یا سیاسی جلسے جلوس میں تو گئے نہیں ما سوائے کرکٹ کے گراونڈ کے۔ اس لئے ان کے زبان و بیان میں بھی ساری مثالیں اور استعارے کرکٹ کے ہی ہوتے ہیں جو اب قومی بیانیہ کا درجہ اختیار کر گئے ہیں مثلا” امپائر کا انگلی اٹھانا، وکٹ گرانا ، آوٹ کرنا، کلین بولڈ کرنا وغیرہ۔ صرف یہ نہیں بلکہ اب تو جو کرکٹ نہیں جانتے وہ چھوٹے لوگ سمجھے جاتے ہیں جو بڑے عہدوں کے قابل نہیں ہوتے۔

کرکٹ سے محبت اور اس کی قومی سطح پر پزیرائی ایک طرف مگرایشیا کپ کے ٹورنامنٹ کے دوران بھارت کے خلاف میچ میں پاکستان کی کارکردگی دیکھ کر مجھے جانے لاہور قلندر والے رانا فواد یاد آنے لگے ہیں۔ آخر ہم نے احسان مانی کو پی سی بی کا سربراہ بنا کر ان کا احسان کیوں لیا۔ ایسی کرکٹ ٹیم تو رانا فواد بھی بنا سکتے ہیں اور گزشتہ تین برس سے بناتے چلے آ رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 155 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan