سرداروں کا بلوچستان ؟


abid mir’بلوچستان کے عوام ہمیشہ سرداروں کے ہاتھ میں کھیلتے رہے ہیں‘ ، یہ وہ معروف فقرہ ہے جو ملک کی مقتدر قوتوں کی جانب سے اس قدر دہرایا اور رٹایا گیا ہے کہ اب بلوچستان سے باہر ایک عام آدمی کے ذہن میں بھی یہ اس قدر راسخ ہو چکا ہے کہ اگر بھری محفل میں کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص بھی اپنا تعارف بلوچستان کے حوالے سے کروائے تو اسے یوں ترحم آمیز نگاہوں سے دیکھا جا تا ہے گویا غاروں کے عہد کا کوئی انسان ہو۔ اپنی تمام تر سردار دشمنی اور روشن خیالی کے باوجود ایک عام بلوچ کے لیے، ایک عام غیربلوچ کے ذہن سے یہ تاثر ہٹانا تو دور کی بات ،خود اپنی صفائی پیش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

قبائلی رویوں کی مخصوص معنوں میں تشریح کی جائے تو ایک طرح سے پورا پاکستان قبائلی کہلانے کا حق دار ہے۔ بالخصوص آج کی سوشل میڈیا والی نئی نسل میں توموروثی قبائلیت کے تمام عناصر بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ اور پاکستان کی ریاستی اشرافیہ کا تو پورا نظام ہی کسی قبائلی نظام کا عکس لگتا ہے، جہاں فردِ واحد ’سردار صاحب‘ ہی عقلِ کل ہوتے ہیں، ان کے کسی فیصلے پر ’نہ‘ نہیں کہا جا سکتا۔ وہ جسے چاہیں اپنی ’وراثت‘ سونپ دیں، کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ شاید اسی لیے بلوچستان میں بھی انہیں یہی موروثی سردار زیادہ ’وارا کھاتے ہیں‘ کہ ایک عرصے سے انہوں نے تمام باگ ڈور انہی کے ہاتھوں میں دے رکھی ہے۔

بلوچوں پر اگر سرداروں اور قبائلی نظام کی غلامی کا طعنہ گراں گزرتا ہے تو اس کے کچھ جائز اسباب بھی ہیں۔ ایک تو واضح ہے کہ غلامی، انسان کی فطرت میں ہے نہ بلوچ کی سرشت میں…. کہ اسی پرتو وہ صدیوں سے جانیں دیتا رہا ہے، سروں کے دیے روشن کرتا رہا ہے۔ دوم کہ یہ قدیم روایتی قبائلی نظام کی شکل وہ نہیں رہی جو آج رائج ہے، بلکہ عین اس کے برعکس رہی ہے۔ یہ قدیم عہد میں سماجی قوانین کا ایک مربوط ضابطہ حیات رہا ہے۔ اس کے تحت قبائل کے معتبرین مل کر ایک امیر کا انتخاب کرتے تھے، جسے سردار کہا جاتا تھا۔ سردار کے انتخاب کے لیے چند شرائط لازم تھیں؛ جیسے سردار کے لیے لازم ہے کہ وہ باعزت ہو، سماج میں اسے مجموعی طور پر قابلِ احترام گردانا جاتا ہو،با صلاحیت ہو، ’صادق و امین ‘ہو، مخلص ہو، وفادار ہو، قبیلے اور قوم کا خیرخواہ ہو، سب سے اہم یہ کہ اس کے پاس نجی ملکیت نہ ہو۔ جسے سردار منتخب کیا جاتا تھا، بالفرض اگر اس کے پاس ذاتی زمین ہو بھی ہو تو اسے قبائل کی مشترکہ ملکیت میں دے دیا جاتاتھا، جب کہ نو منتخب سردار کی کفالت کا ذمہ قبائل کے سر ہوتاتھا ۔ نیز یہ کہ کوئی بھی شخص از خود ، اپنے آپ کو سرداری کے لیے پیش نہیں کر سکتا بلکہ قبائلی معتبرین مل جل کر صلاح و مشورے سے اس کا انتخاب کرتے ۔ اور ان معتبرین کو قبائل کی ذیلی شاخوں سے عوام براہِ راست ، اُن کے تجربے اور کردار کے پیش نظر منتخب کرتے۔ سردار کی موت یا ہلاکت کی صورت میں نئے سربراہ کا انتخاب عین اسی عمل کی صورت میں کیا جاتا۔ سردار کے کسی عزیز اور رشتے دار کو تخت سنبھالنے کی اجازت نہ تھی۔

تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ اس خطے میں موروثی سرداری کی روایت انگریز بہادر نے ڈالی ۔عوامی دانش پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے خطے کے عوام کے اس جمہوری مزاج کو تبدیل کرنا ضروری تھا۔ جس طرح جمہوری حکومتوں کی بجائے، سامراجیوں کے لیے ایک آمر سے بات کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے کہ جمہوری حکومت کو ہر فیصلہ پارلیمنٹ کے ذریعے کرنا ہوتا ہے، نیز عوام کے سامنے پیش ہونے کا خدشہ موجود ہوتا ہے، جب کہ آمر ایک فردِ واحد ہوتا ہے جو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا، اس لیے وہ اپنے نجی مفاد کے لیے سامراج کی ہر خواہش کو بلا چوں و چراں پورا کرنے پر فوراََ آمادہ ہو جاتا ہے، عین یہی معاملہ روایتی قبائلی نظام اور موروثی سرداری کے ضمن میں ہے۔عوام دشمن مقتدر قوتوں کے لیے عوامی دانش پر قبضہ کرنا ضروری ہوتا ہے، اس لیے وہ سب سے پہلا وار عوامی قوتوں پر کرتی ہیں۔ اس میں ہرعوام دشمن قوت ان کا ساتھ دینے کو بے تا ب ہوتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں عوام دشمنوں نے ہمیشہ یہی کیا ہے، بلوچستان کی تاریخ میں عوام دشمن قوتوں کے ہاتھوں یہی ہوتا آرہا ہے۔

بلوچستان میں چوںکہ وسائل کی دستیابی کے باعث علم تک اولین رسائی بالائی طبقے کو ہی حاصل ہوئی، اس لیے عوامی شعور کی بنیاد بھی اس خطے میں ایک نواب زادہ نے ہی رکھی۔ سردارپرستی کا مظاہرہ یہیں دیکھئے کہ آمروں کو یوں تو سبھی موروثی سردار،نواب گوارا تھے، لیکن جونہی کسی نے عوامی مفاد کی بات کی، اسے غدار قرار دے دیا گیا ۔ انگریز کے عہد میںاس خطے میں عوامی شعور ی سیاست کی بنیاد ڈالنے والے یوسف عزیز سے لے کر ،پاکستان کے وزیر دفاع رہنے والے اکبر بگٹی تک آپ کو یہی تسلسل نظر آئے گا۔ لوئر اور مڈل کلاس کی تعلیم یافتہ بلوچستان کے ابتدائی سیاست کاروں غوث بخش بزنجو، محمد حسین عنقا، گل خان نصیر،عبدالکریم شورش، عبدالرحمان کردجیسے ورکرز کو جیلوں میں ڈالا گیا، خانوں اور سرداروں کو اقتدار کے سنگھاسن پہ بٹھا دیا گیا۔ بلوچوں کے عوامی جمہوری مزاج کا اندازہ اسی سے لگالیں کہ پاکستان بننے سے بھی پہلے ،ریاست قلات کے ایوانِ زیریں کی پچاس میں سے بیالیس نشستیں نوخیز قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی نے حاصل کیں۔ یہ اس بات کی گواہی تھا کہ بلوچ عوام موروثی سرداریت کے نہیں بلکہ عوامی سیاست کے حق میں تھے۔ خان قلات اور اس کے حواریوں نے اس اولین بلوچ نمائندہ سیاسی جماعت پر پابندی عائد کی۔ بعدازاں پاکستان میں جب یہی جماعت نیشنل عوامی پارٹی کی صورت میں سامنے آئی، تو اسے بھٹو جیسے خود کو ترقی پسند اور سوشلسٹ کہلوانے والے جاگیردار کے ہاتھوں پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھٹو نے بلوچستان کی پہلی نمائندہ عوامی حکومت کا خاتمہ کر کے ایک نواب کو بلوچستان کا مختارِ کل بنا دیا۔بلوچستان میں سرداری کے خاتمے کا اعلان کر کے، سندھ میں وڈیروں کو مضبوط کرتا رہا۔

نیپ کے خاتمے کے بعد پھربلوچستان میں کبھی بھی عوامی جمہوری سیاست کو ابھرنے نہ دیا گیا۔ یہاں کی ترقی پسند عوام دوست قوتیں اپنی جان و مال کو مشکل میں ڈال کر ،برسوں ان روایتی سرداروں کے خلاف عوام میں کام کرتی ہیں، لیکن مقتدرہ کسی ایک اقدام کے نتیجے میں پھر انہیں ہیرو بنا کر مضبوط کر دیتی ہے، بلوچستان میں گذشتہ تیس، چالیس برس سے سانپ اور سیڑھی کا یہ کھیل جا ری ہے۔بھٹو کے بعد جنرل ضیا کا ’ضیاع شدہ‘دور غیر جمہوری قوتوںکے لیے ہی سازگار رہا۔ بے نظیر بھٹو اور نوازشریف بھی اپنے قلیل ادوار میں انہی سرداروں کو مضبوط کرتے رہے۔ مشرف نے بھی انہی کے بل بوتے پر ببانگِ دہل کہا کہ بلوچستان کے 72سردار میرے ساتھ ہیں، صرف تین سردار شورش پھیلا رہے ہیں۔ ان تین میں سے ایک اکبر بگٹی، جب تک سوئی سے نکلنے والے گیس کی رائلٹی لے کر اپنے بینک اکاﺅنٹ میں ڈالتا رہا تب تک وہ ’اچھا‘ تھا، گورنر اور وزیراعلیٰ تک بننے کا اہل تھا، جب اس نے اس رائلٹی سمیت بلوچستان کے تمام وسائل صوبے اور صوبے کے عوام کے حوالے کرنے کی بات کی، تو وہ غدار قرار پایا اور پیرانہ سالی میں نہایت سفاکانہ اندازمیں مار دیا گیا۔ دوسرا سردار مینگل، جب تک ’چپ‘ تھا، اس کا بیٹا اس صوبے کا وزیر اعلیٰ تھا ، اُس نے بھی جب زباں کھولی اور بلوچستان کے عوامی مسائل پہ بات کرنے لگا، عالمی اداروں کے سامنے دہائی دینے لگا تو اس قدر ناپسندیدہ قرار پایا کہ گذشتہ’ شفاف انتخابات‘ میں اسے اور اس کی پارٹی کومکمل طور پر دیوار سے لگا دیا گیا۔ تیسراکب کا اپنے حصے کی آواز لگا کر منوں مٹی تلے جا سویا۔ اسی طرح عالی بگٹی اور طلال بگٹی تو قابلِ قبول ہیں، لیکن براہمدغ بگٹی قابلِ گردن زدنی ہے،کیوںکہ اوّل الذکر دونوں اپنے خاندان اور قبیلے کہ بات کرتے ہیں ،موخرالذکرپورے بلوچستان کی اور بلوچ کی بات کرتا ہے۔

پاکستان کے عوام اور بالخصوص جمہوری قوتوں کو اب یہ ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ موروثی سرداری نظام کے حامی، عوام نہیں بلکہ وہ طاقت ور قوتیں ہیں جو عوامی قوتوں کو طاقت ور دیکھنا ہی نہیں چاہتیں۔ انہیں خوب اندازہ ہے کہ یہ قوتیں طاقت ور ہوں گی تو عوامی مفاد کے مطالبات کریں گی اور عوامی مفاد تو ہمیشہ سے طاقت ور کے مفاد کے برعکس رہا ہے۔ سو،بلوچستان کی موجودہ اسمبلی کا نوے فیصد حصہ بھی اگر سرداروں پر مشتمل ہے تو اس میں قصور عوام کا نہیں کہ پوری دنیا نے گواہی دی کہ بلوچستان میں گذشتہ انتخابات میںووٹ کا تناسب محض پانچ فیصد رہا۔ گو یا پارلیمنٹ میں موجود یہ سردار محض پانچ فیصد عوام کے نمائندہ ہیں، پچانوے فیصد عوام نے تو ان کے لیے رائے دینا ہی پسند نہیں کیا۔ پاکستان کا کوئی ادارہ اگر اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان کے پچانوے فیصد عوام کی رائے کو سامنے لا سکے تو بلوچستان میں ان سرداروں کا نام و نشان نہ رہے، جنہیں نمائندہ قیادت قرار دے کر بلوچستان کے عوام کی تقدیر ان کے ہاتھ میں سونپ دی گئی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “سرداروں کا بلوچستان ؟

  • 21-01-2016 at 9:50 am
    Permalink

    ماضی قریب کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عوام کو اپنا حق راے دہی استعمال کرنے کی ذرا سی آزادی ملی، انہوں نے اپنا وزن سردار کے خلاف ہی پلڑے میں ڈالا. مثلا سن ستر کے انتخابات میں قلات کے شہزادے محی الدین احمد زئی کو ایک بے زمین ہاری کے بیٹے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے شکست فاش دی. مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جب بھٹو صاحب بڑے طمطراق سے بلوچستان میں سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کر رہے تھے تو ان کے ایک جانب “چیف آف ساروان” نواب غوث بخش رئیسانی اور دوسری جانب “چیف اف جھالاوان” نواب دودا خان زرکزئی ایستادہ تھے. سامنے جام صاحب آف لسبیلہ میر غلام قادر لاسی تو پیچھے نواب اکبر شہباز خان بگٹی .. ستم ظریفی دیکھئے کہ جس نیشنل عوامی پارٹی پر “سرداروں کی پارٹی” کی پھبتی کسی جا رہی تھی اس کی صف اول میں میر غوث بخش بزنجو، میر گل خان نصیر اور ڈاکٹر حئی جیسے لوئر مڈل کلاسیے، بی ایم کٹی جیسے بے سروسامان کیرالہ کے مہاجر اور زمرد حسین جیسے “پنجابی” کتب فروش شامل تھے. مزید ستم یہ کہ جیسے ہی بھٹو صاحب کی جگہ ضیا الحق نے لے کر کوفی و شامی کا انداز بدلا، یہ سب “اسلامی سوشلزم” کے متوالے، بہ مستثنیات چند، جرنیلی اقتدار کے دست و بازو بن گئے.

Comments are closed.