نریندر مودی کی ایکسپرس ڈپلومیسی


editبھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی امریکی کانگرس سے خطاب کے لئے جاتے ہوئے 4 جون کو افغانستان پہنچیں گے۔ مختصر قیام میں وہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ساتھ ملاقات کے علاوہ ہرات میں سلما ڈیم کا افتتاح کریں گے جو بھارت کی مدد سے تعمیر کیا گیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم گزشتہ ہفتے کے دوران تہران کا دورہ کرچکے ہیں جہاں انہوں نے چابہار بندرگاہ کی تعمیر اور افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک مواصلاتی رابطوں کے لئے ابتدائی معاہدہ پر دستخط کئے تھے۔ بھارت اس منصوبہ پر فوری طور پر 500 ملین ڈالر صرف کرے گا۔ افغان صدر بھی مشترکہ معاہدہ پر دستخط کرنے کے لئے تہران گئے تھے۔

اس ملاقات کے چند روز بعد ہی خاص طور سے نریندر مودی کی کابل آمد صرف کسی ڈیم کے افتتاح کے لئے نہیں ہے بلکہ اسے بہانہ بنا کر بھارتی وزیر اعظم علاقے میں اپنی سفارتی مہم کو تیز کررہے ہیں۔ اس کے بعد وہ قطر اور سوٹزرلینڈ سے ہوتے ہوئے واشنگٹن پہنچیں گے۔ امریکہ میں قیام کے دوران بھارتی لیڈر صدر باراک اوباما سے ملاقات کرنے کے علاوہ 8 جون کوامریکی کانگرس کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔ یہ قیاس کرنا مشکل نہیں کہ اس تقریر میں وہ علاقے میں دوستیاں بڑھانے اور پاکستان کے علاوہ باقی ملکوں ایران، افغانستان اور بنگلہ دیش وغیرہ کے ساتھ بھارت کی سفارتی قربت کو بڑھا چڑھا کر پیش کریں گے۔ اس مقدمہ میں پاکستان کو ولن کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ بھارتی وزیر اعظم خاص طور سے کانگرس سے خطاب کے دوران پاکستان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات اور بھارت میں دہشت گردی کرنے والے عناصر کی سرپرستی کو نمایاں کرکے پیش کریں گے۔ نریندر مودی کی یہ سفارتی پھرتیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آرہی ہیں جب پاکستان کے وزیر اعظم دل کے آپریشن کے لئے لندن میں مقیم ہیں اور منگل کو اوپن ہارٹ سرجری کے بعد انہیں ایک سے دو ہفتے امور مملکت سے دور رہنا ہوگا۔ پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ نہیں ہے اور سیاسی حکومت اور جی ایچ کیو کے درمیان بظاہر مواصلت کے باوجود مکمل ہم آہنگی کی کمی محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کی اپوزیشن متحد ہو کر حکومت کے خلاف بدعنوانی کے الزام عائد کرتے ہوئے ،اس کی صلاحیتوں کو محدود کررہی ہے۔

21 مئی کو نوشکی میں طالبان لیڈر ملا اختر منصور کی ہلاکت، اور افغان طالبان کی طرف سے ایک رجعت پسند ملا ہیبت اللہ کو نیا لیڈر بنانے کے بعد افغانستان کے امن مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن بھی متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان میں یہ بحث کی جا رہی ہے کہ ملا منصور کی بے وقت ہلاکت امریکہ کی سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ ہے تاکہ پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہو اور وہ مختلف گروہوں کی لڑائی میں پھنسا رہے۔ اس بات کو مکمل طور سے ماننا مشکل ہے کیونکہ اگر امریکی ڈرون حملہ کسی پاکستان دشمن منصوبہ کا حصہ مان بھی لیا جائے تو بھی پاکستانی حکام امریکہ اور افغانستان کے علاوہ پاکستانی عوام کو اس بات کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ کہ افغانستان میں ااتحادی اور افغان افواج کے خلاف برسر پیکار گروہ کا لیڈر پاکستان میں کیسے داخل ہؤا اور وہ پاکستانی کاغذات پر کیوں سفر کررہا تھا۔ اس داغ کو دوسروں پر الزام عائد کرکے دھویا نہیں جا سکتا۔

ملا منصور کی ہلاکت سے عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی پوزیشن کمزور ہوئی ہے کیوں کہ اس ڈرون حملہ سے چند روز پہلے ہی مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے حقانی نیٹ ورک کی اعانت کرنے کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ الزام تو لگاتا ہے لیکن وہ یہ بتاتا نہیں ہے کہ حقانی نیٹ ورک کون سے علاقے میں موجود ہے تاکہ افواج پاکستان ان کے خلاف کارروائی کر سکیں۔ ملا اختر منصور کے پاکستان اور ایران میں آذادانہ سفر کے علاوہ گزشتہ چند برس کے دوران کراچی سے مشرق وسطی کے ملکوں میں ٹریول ہسٹری کی روشنی میں اس دلیل کا جواز ہی ختم ہو گیا ہے۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستانی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کسمپسری اور بحران کا شکار ہے اور ڈرون پر احتجاج کرنے کے علاوہ خارجہ اور سیکورٹی حکمت عملی کے بارے میں نہ تو کوئی واضح مؤقف سامنے آیا ہے اور نہ ہی سفارتی سطح پر پاکستان کی طرف سے کوئی سرگرمی دیکھنے میں آئی ہے۔ بھارت ایران اور افغانستان کے ساتھ پینگیں بڑھا کر پاکستان کی سیاسی اور سفارتی مشکلات اور تنہائی میں اضافہ کررہا ہے۔ واشنگٹن کے قانون ساز بھی بھارتی وزیر اعظم کی پاکستان دشمن باتوں کو خوش دلی سے سنیں گے اور انہیں اپنی پالیسی کا حصہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ اسلام آباد کو اس صورت حال پر فوری اور مؤثر سفارتی کوششوں کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali