لبرل ذہن کے لئے آزادی اہم ترین قدر ہے


\"zeeshanآزادی سے کیا مراد ہے ؟ اس سے مراد بغیر کسی جبر پابندی اور رکاوٹ کے بولنے، سوچنے اورعمل کرنے کا حق اور طاقت ہے۔ اور یہ کہ انسان کے پاس اختیار بھی ہے اور آزادی بھی کہ جسے سچ سمجھے، اس کا اظہار کرے، جو سوال تجسس بن کر اس کے ذہن میں کھٹکے، اس کے جواب کی جستجو کرے، اور جو بھی فیصلہ یا منصوبہ بندی اپنے لئے بہتر سمجھے، اس پرعمل کر سکے۔ آزادی کی اخلاقیات بھی یہی ہیں کہ جس آزادی سے وہ خود مستفید ہونا چاہتا ہے اس آزادی سے کسی دوسرے فرد کو محروم نہ کرے، کسی کے بولنے، سوچنے اور عمل کرنے پر پابندی نہ لگائے اور رکاوٹ نہ بنے۔

بنیادی بات یہ ہے کہ آزادی مانگی نہیں جاتی، یہ کوئی چیز یا شے نہیں جو آپ کو کوئی اٹھا کر دے دے گا، جو آپ کے پاس پہلے نہیں تھی اور کوئی دے گا تب آئے گی- ہم پیدا ہی آزاد ہوئے ہیں۔ ہمارے رویےبنیادی طور پر ہماری فری ول (آزاد ارادے) کا نتیجہ ہیں، ہماری شخصیت کا جوہر ہی آزادی میں ہے۔ ہماری فطرت کسی ٹھوس چیز کی طرح جامد اور متعین نہیں بلکہ ہمارے رویے لچکدار غیر متعین متنوع اور غیر متوقع ( unpredictable ) ہیں جنہیں کنڑول کرنا یا پلان کرنا ناممکن ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کے سبب آمریت ہر میدان میں ناکام ٹھہرتی ہے

جب ہم کہتے ہیں ہمیں آزادی دو تو اس کا مطلب ہے کوئی اور ہے جس کے پاس آزادی کے خزانے ہیں، اور وہ ہمیں اس میں سے کچھ اٹھا کر دے دے گا۔ اس کا آزادی پر اختیار ہے اور ہم اپنی آزادی کے لئے اس کے پابند و عاجز ہیں۔ ایسی کوئی مادی طاقت دنیا میں وجود نہیں رکھتی۔ جس طرح ہندوستان پر جب سلطنت برطانیہ کی حکومت تھی اور ہم نے اس نو آبادیاتی تسلط سے نجات پائی تھی تو دراصل ہم نے اپنی آزادیوں پر ایک غیر قانونی غاصبانہ قبضہ ہٹایا تھا نہ کہ برطانوی یہاں سے جاتے جاتے آزادی نام کی کوئی چیز ہم میں مساوی طور پر بانٹ کر گئے تھے۔

بنیادی حقوق کو دراصل ہم حقوق (حق کی جمع) کہتے ہی اس لئے ہیں کہ یہ فطری طور پر ہماری ملکیت ( possession ) ہوتے ہیں، ہمارے ذاتی ہوتے ہیں، ہمارا حق ہوتے ہیں، اور ہم اس اپنے حق کا تقاضا کر رہے ہوتے ہیں کہ پلیز اس میں مزاحم نہ ہوں، اس کے مکمل اظہار میں رکاوٹ نہ بنیں۔ بنیادی حقوق کسی سے مانگے نہیں جاتے، بولنا سوچنا اور عمل کرنا ہمارا فطری حق ہے۔ اس دنیا میں ہمارے درمیان اپنی مادی شکل میں کوئی اتھارٹی اپنا وجود نہیں رکھتی جس سے ہم سوچتے ہوئے اجازت طلب کریں، بولتے ہوئے پوچھیں کہ کیا بولنا ہے، اور عمل کرنے سے پہلے یا بعد میں اس کی رضامندی چاہییں۔

– ریاست ہمارے سوشل کنٹریکٹ سے وجود میں آتی ہے، وہ ہم پر اتھارٹی نہیں۔ شہری ریاست پر حکمران ہیں، ریاست شہریوں پر نہیں۔

– قانون ہماری جنرل ول (اکثریت کی مرضی) پر بدل جاتا ہے، اور اگر وہ ہماری مرضی پر نہیں بدلتا تو ہم اس سے انحراف کر کے اپنی راہیں خود منتخب کر لیتے ہیں یا اسے اکھاڑ پھینکتے ہیں۔ شہری مشین نہیں ہوتے جسے ہدایات دے کر آپریٹ کیا جائے۔ ہمارے رویے آزادی ارادہ اور آزادی عمل کا نام ہیں-

– سماج ہم اپنے رضاکارانہ تعاون و تبادلہ سے قائم کرتے ہیں۔ جہاں یہ رضاکارانہ نہیں ہم اس سے بغاوت کرتے ہیں اور جہاں اس کا ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ہم وہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں۔

– حکومتیں ہمارے ووٹ سے بنتی اور بدلتی ہیں۔

– بیوروکریٹ شہریوں کے خدمت گزار (سول سرونٹ) ہیں۔
جو اتھارٹی بھی ہم پر ہماری مرضی کے بغیر مسلط ہونے کی کوشش کرتی ہے دور جدید کی اخلاقیات اور دانشورانہ اتفاق رائے اسے ظلم جبر منافقت اور آمریت ڈکلئیر کر چکے ہیں۔

فرد کے لئے اس کی آزادی دراصل اس کی خود دریافتگی (self discovery) اور خود نگہبانی (self responsibility) کا نام ہے۔ آزاد معاشرہ وہ ہے جس میں فطری نظم (self and spontaneous ordering ہو۔ اور یہی صفت ایک مضبوط اور مستحکم سیاست اور معیشت میں ضروری ہے ورنہ اس کے بغیر وہ بھی آزاد نہیں- ایک مسیحا یا مسیحاوں کا گروہ جو نیت میں جتنے بھی مخلص ہوں ایک متنوع پیچیدہ اور ہمہ جہت (ملٹی ڈائمنشنل) سوسائٹی اور اس کی سیاست و معیشت کو ٹائم اور جگہ (Place ) سے ماوراء ہو کر نہ منظم کر سکتے ہیں، نہ کنٹرول اور نہ پلان۔

ہمارا معاشرہ، اس کی ثقافت اور تہذیب روز اول سے اب تک کسی مخصوص شخص یا ادارے یا ریاست کی منصوبہ بندی سے ارتقا کا سفر نہیں طے کرتی آئیں، بلکہ یہ فرد سوسائٹی اور اس کی سیاست و معیشت کی فطرت کے سبب ہے جو آزاد اور خودکار طریقے سے منظم (self and spontaneous ordering ) انداز سے آگے بڑھتی آئی ہیں۔ جس نے بھی اس آزاد فطری جوہر پر آمریت مسلط کی ہم نے اس کے بدترین نتائج تاریخ میں دیکھے ہیں۔

فاشزم کیا ہے ؟ فاشزم دراصل آزاد رو ارتقاء کا نام نہیں بلکہ فرد، معاشرہ اور اس کی سیاست و معیشت کو اپنی منصوبہ بندی سے ڈیزائن کرنے کی کوشش کا نام ہے۔ باوجود اس کے کہ تاریخ کے بدترین فاشسٹ ملینز کی تعداد میں معصوم شہریوں کی لاشوں پر کھڑے رہے مگر وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکے آخر کیوں؟ سب کچھ ان کی دسترس میں تھا۔ افراد پر کمانڈ، زیر اطاعت حکومتی و ریاستی مشینری، سیاست و معیشت پر ان کی اجارہ داری اور سماج ان کے مطیع، مگر وہ اس لئے ناکام رہے کہ آزادی کا جوہر کسی پنجرے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی حیلے بہانے سے،سوشل ویلفیئر کا لالچ دے کر یا مذہبی و نسل تفاخر کو بیدار کر کے وہ آزادی کو پابند سلاسل کرنے میں وقتی طور پر کامیاب ہوئے بھی تب بھی اس امن و خوشحالی پسند پرندے نے پھڑپھڑا کر پنجرے کی سلاخیں توڑ دیں اور آزادی کے سورج نے آمریت کے بت کو پگھلا ڈالا۔ یہ افسانہ نہیں ہماری تاریخ ہے زرا گزشتہ صدی کے احوال پر تو نگاہ دوڑائیے –

خلاصہ کلام یہ کہ پاکستانی لبرلز کی آرزو کسی سے آزادی کا مطالبہ نہیں، بلکہ ناجائز پابندیوں، رکاوٹوں، اور آمریت کی ہر شکل اور اس کے ہر جبر سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔ یہ جبر چاہیے وہ ریاست کا ہے، حکومت کا، بیورو کریسی کا، خاکی وردی کا،کسی خدائی فوجدار طبقہ کا، یا آئین کی کسی مخصوص شق کا، وہ باطل ہے اور وہ ظالم ہے- انسانوں کی زندگی اور ان کی معاشرت کی بنیاد رضاکارانہ بنیادوں پر ہو نہ کہ غاصبانہ جابرانہ یا آمرانہ بنیادوں پر، ہم ہر صورت میں اس سے بغاوت کا اعلان کرتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 115 posts and counting.See all posts by zeeshan