سندھ کا دلت ڈرامہ


mukhsپچھلے کچھ ماہ سے سندھ میں سوشل میڈیا پر ایک عجیب ہی قسم کی بحث چھڑی ہوئی ہے، جس کا اہم موضوع ہے دلت اور نان دلت۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ صرف اپنی دکان چمکانے کی گیم ہے، اور کچھ کہتے ہیں کہ مارکیٹ میں ابھی کوئی چیز نہیں چل رہی تو اب دلت کا چورن بیچا جا رہا ہے، کون صحیح ہے اور کون غلط، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائےگا۔

دلت ہے کیا ؟ سندھ میں کچھ مہینے پہلے سوشل میڈیا پر اچانک ایک تحریک نے جنم لیا جس کو دلت نام دیا گیا، ان کے مطابق دلت کا مطلب ہے پسے ہوے لوگ، ہاری مزدور اور سناتن دھرم سے تعلق رکھنے والے کچھ قبیلے جو کہ نچلی ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا موقف یہ بھی ہے کہ دلت تحریک ہی پاکستان کی واحد وہ تحریک ہے جس کے پاس تمام مسائل کا حل موجود ہے،

ان کے ہی مطابق دنیا کے تمام مظلوم لوگ دلت ہیں، دلت دلت ہیں اور بس دلت۔۔! اس کے سوا کچھ نہیں۔

یاد رہے کہ ھندستان مٰیں یہ ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر نے دلت نام کی تحریک چلائی تھی، جو صرف اور صرف نچلی ذات کے لوگوں کی تحریک تھی، باقی ذات اور مذاہب کے لوگ اس میں شامل نہیں تھے، اگر کچھ تھے تو وہ لوگ تھے جو اچھوت پن سے تنگ ہو کر دوسرے مذاہب کو اختیار کر چکے تھے، یہ تحریک خالص ذات پات کی تحریک تھی جس پر بھی بعد میں بہت سارے سوالات اٹھائے گئے، کیونکہ کچھ مخصوص قبیلوں کو دلت کہا گیا جس سے بہت زیادہ شور شرابا برپا ہوا، اور نچلی ذاتوں کے ھندئوں سے مزید نفرت برتی گئی کیونکہ انہوں نے خود کو سماجی دھارا کے الگ کر کے ایک الگ پہچان دینے کی کوشش کی گئی، جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ دلتوں قبیلوں میں سے کچھ خاندان ہی ترقی کرتے گئے، باقی عام غریب بندہ غریب ہی رہا۔

بہرحال ھم بات کرتے ہیں سندہ کی۔ اس وقت تمام تر بحث مباحثوں میں سندھ میں اس وقت گرما گرم موضوع ہے دلت ازم، جس بحث میں اب سندھ کے نامور قلمکار بھی شامل ہو گئے ہیں، دلت کی اصطلاح واقعی ھندوستان میں اچھوت نچلی ذات کے لیے 1932 میں استعمال کی گئی جو کہ وہاں کے عام لوگوں کے کہنے پر نہیں کی گئی۔

 بلکہ اس کے برعکس سندھ میں، میں نے کبھی بھی یہ اصطلاح نہیں سنی، نہ ہی عام ہوتے دیکھی سوائے کچھ گنے چنے لوگوں کے۔

دلت والے کہتے ہیں کہ دلت ایک طبقاتی جدوجہد کا نام ہے۔ مگر بات پھر بھی یہ لوگ دلت کے نام پر ذات پات اور مخصوص قبیلوں کی کرتے ہیں۔ اور شیڈیول کاسٹ رائٹس کی کرتے ہیں، ذیادہ تر دلت کے مراد کولہی، بھیل، میگھواڑ، باگڑی، اوڈ اور دیگر ہندو ذاتیں اور قبیلے ہیں، وہ یہ بھی کہتے ہیں، دلت لفظ انڈیا میں کبھی بھی ذات پات یا اچھوت کے لیے استعمال نہیں کیا گیا، مگر دلت لفظ تمام پسے ہوئے طبقے کے لیے استعمال کیا گیا، آج تک ھندستان کی تاریخ میں کبھی بھی ایک غریب پسے ہوئے مہاراج کو دلت نہیں کہا گیا، کسی مسیح پاسٹر کو دلت نہیں کہا گیا، اور نہ ہی کسی سید کو دلت سے منسوب کیا گیا۔ دلت لفظ صرف اور صرف کچھ مخصوص ذاتوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

اگر اس سارے دلت کے معما کو ھم تاریخی پس منظر میں دیکھیں تو، سندھ کی تہذیب پانچ ہزار سال پرانی ہے، اور اس تہذیب کے ورثاء کو دراوڑ کہا جاتا ہے، آج بھی بلوچستان کے کچھ علائقوں میں دراوڑی زبان بولی جاتی ہے، گو کہ وہ اب اس شکل میں موجود نہیں رہی، مہرگڑھ، بلوچستان، موئن جو دڑو، ہڑاپا جیسی تہذیبیں آج تک اس بات کا ثبوت ہیں، مگر پچھلی 3 صدیوں سے سماجی اور سیاسی طور پر دراوڑ تہذیب کو ختم کرنے اور مسمار کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جار رہے ہیں، یہاں تک تہ اس خطے کے اصل باسیوں کو دراوڑ کی جکہ نت نئی پہچانوں سے منسوب کیا گیا جن میں، اچھوت، شودر، شیڈیول کاسٹ، اور اب دلت۔ اب یہ وبا انڈیا سے امپورٹ کر کے یہاں دراوڑوں کو دلت بنانے کے لیے مختلف نام نہاد تحریکیں چلا کر ایک عظیم تاریخ سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ اور بچارے عام معصوم لوگ اس ساری موقع پرست گیم کا شکار ہو رہیں ہیں۔

واضح رہے کہ انڈیا میں جن لوگوں کو دلت جیسی ذلت سے نوازا گیا، وہ زیادہ تر دراوڑ قبیلے سے ہیں، یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ھندوازم کوئی مذھب نہیں ہے بلکہ یہ ایک علاقائی پہچان ہے، جس میں تمام سامی مذاھب، جین مت، بدمت،سکھ مت، سناتن دھرم اوربعد میں اسلام، عسائیت، پارسی بھی اس کا حصہ بنے۔ ھندوازم ان کچھ مذاھب کا مرکب ہے، بلکہ ھندو ایک پوری تہذیب کا نام ہے، جو مختلف ادوار میں مختلف لوگوں کے پاتھوں استحصال کا شکار ہوتی رہی اور آج بھی ہو رہی ہے۔

یہ لوگ بار بار یہ حوالا دیتے ہیں کہ مارٹن لوتھر کنگ، نیلسن منڈیلا، افریکن اور ایفرو امیرکن بھی دلت ہیں، ان کو یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ آج تک ان لیڈران اور ان اقوام نے کبھی بھی خود کو گوروں سے الگ نہیں کیا، انہوں اس وقت تحریکیں چلائیں جب وہاں رنگ اور نسل کے نام پر تحریکیں عروج پر تھیں، مگر کبھی بھی انہیوں نے خود کو سماج سے الگ لا کر کھڑا نہیں کیا۔ انہوں نے کبھی بھی دلت جیسی ذلت کو قبول نہیں کیا، ان کو پتا تھا کہ نفرت کا جواب نفرت نہیں پیار سے بھی دیا جا سکتا ہے، سماجی اور سیاسی فلاح و بہود اسی میں ہے کہ ماضی کو بھول کر اجتماعی طور پر ساتھ مل تاریخ رقم کی جائے۔

نسل اور رنگ کی بنیاد پر نفرت ذیادہ تر یورپیں لوگوں میں تھی، وہ جہاں بھی گئے اپنے ساتھ وہ چیز ساتھ لے گئے، آفریکا، اور امریکا میں گوروں کی رنگ اور نسل کے نام پر لڑائی، اور اس سے بھی کئی صدیاں پہلے برصغیر پر آسٹریا اور سائیبریا کے گوروں نے بھی مقامی لوگوں کے ساتھ یہ ہی کیا۔ پھر ہزاروں سال بعد جب برطانیہ کے گورے آتے ہیں تو وہ بھی یہ ہی روش اپنائے ہوے ہوتے ہیں، برصغیر پر قبضہ کے بعد انہوں نے تمام ھندوستانیوں کو اچھوت قرار دیا، اور اپنے کلبوں کے باہر لکھ دیا کہ “کتوں اور ھندستانیوں کا اندر آنا منع ہے” مگر ان سب کے باوجود آج بھی مملکتی سطع پر ھمارے تعلقات ان گوروں کے ساتھ اچھے ہیں، نیلسن منڈٰیلا بھی سب کو ساتھ لیکر انقلاب پربا کرتا ہے، روزا پارک اور مارٹن لوتھر کنگ کی تحریکوں کے نتیجے میں وہاں بھی ایک انقلاب برپا ہوتا ہے، حقوق مانے جاتے ہیں، برابری دی جاتی ہے، اور اسی تحریک کے دور رس نتائج یہ نکلتے ہیں کہ بارک اوباما امریکا کا صدر بنتا ہے، مشل اوباما خاتون اول بنتی ہے مگر وہاں کے گوروں کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ اتنی ساری اچھی، مضبوط اور مثبت مثالوں کے باوجود بھی پتہ نہیں کچھ لوگوں کے ذہنوں سے یہ گمان کیوں نہیں نکلتا کہ دلت تحریک ہی سب مسائل کا حل ہے، یا تو اس گروہ کا کوئی ذاتی مفاد منسوب ہے یا تو کچھ لوگوں کے ساتھ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے۔ کیونکہ اس وقت جو سندھ میں دلت کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے وہ اس وقت کے سماجی ڈھانچے کے بجائے کالونیل اور امبیدکر کے دور کا ہے، جس کو کسی بھی حال میں لاگو نہیں کیا جا سکتا، اس کے نتائج ابھی سے سامنے آ رہے ہیں کہ جن ھندو قبلیوں کو دلت جیسی ذلت سے منسوب کیا جا رہا ہے وہ خود اس دلت لفظ کو تسلیم ہی نہیں کر رہے، کیوںکہ اس کی ذلت آمیز حقیقتیں ان کے سامنے ہیں۔

اس ماڈرن دور میں جہاں دنیا گلوبل ولیج بننے جا رہی ہے اور اس وقت دینا کے تمام سوچنے اور سمجھنے والے لوگ پرانی فرسودہ اصطلاحات کو ختم کرکے ان کے متبادل اصطلاحات استعمال کر ہے ہیں تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو، کسی کو احساس محرومی نہ ہو،

آجکل Victim کی جگہ survivor، blind کی جگہ visually impaired, اور disable کی جگہ a person with different abilities کا استعمال کیا جاتا ہےتاکہ کسی بھی انسان کو یہ محسوس نہ ہو کہ وہ کسی معاملے میں کسی سے کم تر ہیں۔ مگر سندہ میں پھر بھی دلت کی لت، جو کہ لاکھوں لوگوں کے سماجی جذبات مجروح کر رہی ہے، اس کا تمام پڑہے لکھے لوگوں کو احساس تک نہیں اور بات کرتے ہیں حقوق کی۔

سب سے اھم بات یہ کہ دلت کا چورن بیچنے والوں میں سے، فیصلہ سازی، مھم جوئی، کرنے والے لوگ وہ ہی ہیں جن کا نہ تو اس طبقے سے کوئی تعلق ہے، اور نہ ہی اس سارے معاملے کو صحیح طرح سے سمجھتے ہیں، کیونکہ جن قبیلوں کو وہ شیڈیول کاسٹ اور دلت قرار دے رہے ہیں وہ ہی لوگ ان کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ صرف باہر سے جو دیکھ رہیں ہیں وہ ہی حرف آخر سمجھ رہے ہیں، اور پتہ نہیں کیوں اتنی مخالفت کے بعد بھی اسی بات پر اڑے ہوئے ہیں، کچھ کا کہنا ہے کہ بات اب نظریات سے ہٹ کر انا پر آ کر رکی ہے۔

سوشل میڈیا پر چل رہی بحث کے بعد میں نے کچھ مخالفین سے پوچھا کہ آپ کیوں دلت تحریک کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ آپ بھی ان ہی قبائل سے تعلق رکھتے ہیں جن کی وہ بات کر رہے ہیں۔ تو جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ زمانہ کوئی اور تھا جب ہمارے ابا و اجداد کو مختلف ٹیگ لگا کر سماجی دھارا سے دور رکھا گیا وہ دور آج سے سو سال پہلے کا تھا، مگر آج کے اس دور میں کوئی بھی نوجوان بلکہ بوڑھے بھی خود کو دلت والی ذلت سے ٹیگ نہیں کرتا، کیونکہ اس لفظ کی ایک بدترین تاریخ رہی ہے،اور اس کو اب زندگی کے تمام پہلوئوں سے خارج کیا جائے، پسے ہوئے طبقات، ہاری، مزدورں کے لیے کوئی متبادل لفظ استعمال کیا جائے تو کافی سارے نوجواں اس تحریک میں ساتھ آ سکتے ہیں، ایک اور سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ھم نے آج تک کوئی بھی دلت اور شیڈیول کاسٹ کے کوٹا کو استعمال نہیں کیا، آج ھمارے لوگ پوری دینا میں ہیں، آکسفورڈ جیسی یونیورسٹی سے لیکر دیگر یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہیں، کافی نوجواں پی ایچ ڈی بھی کر رہے ہیں، جج، وکلا، لیکچرر، پروفیسر، فوج میں کیپٹن، ڈاکٹر، انجینیئر، آرکیٹیک ہیں، یہاں تک کہ پارلیمنٹ میں بھی پہچنے والوں نے کبھی بھی دلت اور شیڈول کاسٹ کا کوٹا استعمال نہیں کیا۔ جب پاکستان کی 68 سال کی تاریخ میں ہمیں شیڈیول کاسٹ کا کوٹا کچھ نہیں دے سکا تو اب کیا دے گا اس سے بہتر ہے اس کو اب آئین پاکستان سے ختم کیا جائے۔ اس دلت والے ڈرامے کو بند کیا جائے کیوںکہ مسقبل قریب میں اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کے آثار نظر آرہے ہیں، یہ ایک ذات پات کے نام پر نفرت کی آگ کو بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں جن کا شاید ان کو خود کو بھی پتا نہیں، سندھی ھندئوں کا سماج ابھی یکسانیت کی ڈگر پر گامزن ہے مگر دلت تحریک اس برابری کی بیناد والی روش کو پھر سے غلامانہ اور نفرت آمیز سوچ کی طرف موڑنے کی ایک سازش ہے۔ جس کی ابھی تک کوئی آئینی حیثیت بھی نہیں ۔

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 260 B میں جہاں مسلمان اور غیر مسلمان کی تعریف لکھی ہوئی ہے وہاں پر غیر مسلم کی تعریف میں باقی مذاہب کے ساتھ شیڈیولکاسٹ کا لفظ موجود ہے مگر باقی ذاتوں کے بارے میں کچھ نہیں لکھا ہوا۔ اور نہ ہی کوئی شیڈیول دیا گیا ہے۔ حالانکہ گذشتہ دنوں میں نے مردم شماری کا فارم بھی دیکھا تھا جس میں مذاہب باکس میں اسلام، ہندومت، عسائیت، سکھ مت، کے ساتھ ساتھ شیڈیول کاسٹ کو بھی ڈالا گیا ہے، مگر شیڈیول کاسٹ کوئی مذھب نہیں ہے، جن ذاتوں اور قبیلوں کو دلت والے شیڈیول کاسٹ سے منسوب کر رہے ہیں دراصل وہ لوگ تو ہندومت یعنی سناتن درھم کو مانتے ہیں، شیڈیول کاسٹ کوئی مذہب نہیں ہے۔ یہ میرے خیال سے عام ھندئوں (ان پڑھ) سے بڑا کھلواڑ کیا جا رہا ہے، اور قانونی طور پر مردم شماری کے فارم کے ذریعے ان لوگوں سے اپنی ثقافتی اور مذھبی پہچان ختم کرنے کی بہت بڑی سازش ہے، حکومت سے یہ التماس ہے کہ آئین سے اور مردم شماری کے فارم سے شیڈیول کاسٹ کو تو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے ۔

در اصل شیڈیول کاسٹ کا شیڈول بھی گوروں کا ہی متعارف کیا ہوا ہے، اور یہ بھی “تقسیم کرو اور حکومت کرو” والی پالیسی کا حصہ تھا، انھہوں نے کچھ لوگوں کو موقع ضرور دیا مراعاتیں صرف اور صرف ان لوگوں کو دیں جو لوگ ان کے ایجینڈا پر کام کرتے تھے۔ ڈاکٹر امبیڈکر کو موقع ھندستان کے ایک راجا نے دیا برطانیہ پڑھنے کا۔ برحال گوروں نے جو شیڈیول بنایا تھا اس میں اچھوت قببلوں کو شامل کیا اور ان کے لیے ایک کوٹا مختص کیا۔ اس وقت نفرت بھی عروج پر تھی۔ اور آج بھی انڈیا میں یہ نفرت موجود ہے، دلت نظریہ بھی بنیادی طور پر سندہ میں انڈیا سے امپورٹ کیا گیا تھا،

اس کے بر عکس سندھ میں اس وقت وہ صورتحال نہیں رہی، سندھ میں ھندئوں سے نفرت مذہب کے بنیاد پر بھی کی جاتی رہی، عام لوگوں کے اندر بٹوارے کے دوراں کی گئی خونریزی کے اثرات بھی موجود تھے۔ آج سندھ کا سماجی اور سیاسی ڈھانچہ بھی تبدیل ہوا ہے، بلکہ تبدیلی کی ڈگر پر ہے۔ مذھبی نفرتیں بھی ختم ہو رہی ہیں، وہ سندھی ھندو جن کو کچھ نام نہاد دلت کہتے ہیں، آج پڑہ لکھ کر آگے نکل کئے ہیں، کافی خاندان کروڑوں کے بزنس بھی کر رہے ہیں، اور سرکاری طور پر اعلی عہدوں پر بھی فائز ہیں، اب وہ شیڈیول کاسٹ کے ذمرے میں نہیں آتے، آج وقت نے یہ ثابت کر دیا کہ کچھ قبیلوں اور ذاتوں کا شیڈیول بھی زمینی حقائق کے برعکس تھا، اور وہ ایک ٹائم پر ختم کر دینا چاہیے تھا۔ ِاس وقت اگر پاکستان میں شیڈیول کاسٹ کا کوٹا بحال کیا گیا، تو پھر سے استحصال ایک عام غریب کا ہی ہوگا جو پڑہا لکھا نہیں ہے۔

شیڈیول کاسٹس میں شامل قبائل کے امیر لوگ ہی ان ساری مراعاتوں سے فائدہ اٹھائیں گے، پارلیمںٹ میں بھی مخصوص نسشتوں پر جا کر کوئی خاطر خواھ کام نہیں کر سکیں گے، کیوں کہ مخصوص نسشوں پر آئے ہیں آخر میں انہوں نے چلنا تو پارٹی ایجنڈا پر ہی ہے۔ اس سے بہتر ہے ہم جو ہیں وہی رہیں، اس ذلت والی کوٹا سسٹم سے باہر نکلیں، اور جتنے بھی سیکولر، ترقی یافتہ سوچ، اور لیفٹ کے سیاسی پارٹیوں میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ان کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں اس وقت طبقاتی جدوجہد کی ضرورت ہے نہ کی کسی دلت تحریک کی۔ میری یہ بات بہت سے لوگوں کو ھضم شاید اس لیے بھی نہیں ہوتی کیونکہ ان کی دکان بند ہوجائے گی۔

آخر میں یہ بات بھی کرتا چلوں کہ دلت کوئی طبقہ، کوئی شناخت، کوئی تہذیب نہیں، یہ ایک ذلت کا ٹیکہ ہے عام غریب لوگوں کے لیے، اس لفظ نے لوگوں کو بہت ذلت دی ہے، اور ھم سب جس جس نے اس دلت کی ذلت کو قریب سے دیکھا ہے، ھم کبھی بھی اس لفظ کو اپنی زندگی میں دوبارہ نہیں دیکھنا چاپتے، باقی ھمارا کسی سے بھی کوئی ذاتی اختلافات نہیں، یہ اختلافات نظریاتی ہیں، آپ کسی کی ذات کے ساتھ دلت کی ذلت جوڑ کر اس کے وجود کے ساتھ کھلواڑ کرو گے تو ظاہر ہے ردعمل بھی دیا جائے گا۔

ھم تمام اہل دانش، ادیب، تاریخ دان، سیاسی مدبرین سے گزارش کرتے ہیں اس موضوع پر بھی روشنی ڈالیں، خاموشی توڑیں، سچائی عوام تک آنی چاہیے۔ کیونکہ تنقید کا نشانہ ھم بھی بہت بن رہے ہیں، اپنے حق کے لیے کسی صورت بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، بقول کبیر کے

ھم نے اپنا گھر جلایا دیا پلیتا ہاتھ

جو اپنا گھر جلاوے چلے ھمارے ساتھ۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “سندھ کا دلت ڈرامہ

  • 31-05-2016 at 10:45 am
    Permalink

    صاحب مضمون نے اپنا نکتہ عمدگی کیساتھ واضح کیا ہے۔
    یہ بات قابل توجہ ہے کہ ٹیگ لگانے سے آپ سوسائٹی کے ایک حصہ کو مرکزی دھارے سے الگ کر رہے ہوتے ہیں جو کہ ناپسندیدہ نتائج مر منتج ہوتا ہے

  • 31-05-2016 at 11:26 am
    Permalink

    Well written

Comments are closed.