وکیل صاحب نے ساتھی لڑکی کو پیسے کی بجائے ناقابل بیان خوشی بخشی


ہندوستان نے انگلیوں پر گنے جانے والے چوٹی کے سب سے بڑے قانون دان پیدا کیے، ان میں مرحوم مسٹر نارٹن بہت اہم شخصیت تھے۔ آپ کی پریکٹس ہندوستان کے تمام صوبہ جات تک وسیع تھی۔ آپ کی آمدنی کا اندازہ پچاس ہزار روپیہ ماہوار کے قریب تھا۔ آپ یورپین ہوتے ہوئے بھی انتہائی پرو انڈین تھے۔ اور یہ واقعہ بے حد دلچسپ اور ہندوستان کی تاریخ میں بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے، کہ آپ نے اپنے زمانہ کے ہر انارکسٹ کے مقدمہ کی بغیر ایک پیسہ فیس لئے پیروی کی۔ ان محبان وطن انارکسٹوں میں مرحوم مہارشی آربندو گھوش تھے، جن پر انگریزوں کے خلاف تشدد اور سازش کرنے کے کئی مقدمات چلے۔ ان تمام مقدمات کی مسٹر نارٹن نے بغیر ایک پیسہ فیس لئے پیروی کی، اور جن کی رائے پر عمل کرتے ہوئے ہی مسٹر آربندو گھوش نے ہندوستان کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ کر فرانس کی ہندوستانی علاقہ پانڈیچری میں پناہ لی، تاکہ انگریزی حکومت کی پولیس ان پر نئے مقدمات قائم نہ کر سکے۔

مرحوم مسٹرنارٹن طبعاً بہت ہی فیاض، مخیر اور مالدار شخصیت تھے۔ آپ ایک ایک مقدمہ میں پچاس پچاس ہزار روپیہ فیس لیتے، اور غریبوں کے مقامات نہ صرف مفت کرتے، بلکہ ان کے مقدمہ کے دوسرے تمام اخراجات بھی اپنی جیب سے ادا کرتے۔ اور چونکہ آپ کی پریکٹس ہندوستان کے تمام صوبہ جات تک وسیع تھی، آپ کا اکاؤنٹ بھی قریب قریب ہر صوبہ کے بڑے بنکوں میں تھا۔ کیونکہ مقدمہ کی پیروی کے لئے جہاں جاتے، وہاں ہی بنک میں روپیہ جمع کرایتے، اور اکثر بڑے شہروں میں آپ نے اپنی رہائش کے لئے کوٹھیاں بھی خریدی ہوئی تھیں۔

چنانچہ کئی برس ہوئے راقم الحروف مرحوم مہاراجہ نابھ سے ملنے کے لئے صوبہ مدراس کے پہاڑی مقام کوذائی کنال گیا، تو معلوم ہوا، کہ وہاں بھی جھیل کنارے مسٹرنارٹن کی ایک شاندار کوٹھی موجود ہے۔ اور مرحوم مسٹرنارٹن کے پرو انڈین، غریب نواز اور ظلم کے دشمن ہونے کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے، آپ نے اپنے انتقال سے چند برس پہلے ہندوستان کے حقوق کے لئے ایک بہت ہی شاندار انگریزی ہفتہ وار اخبار جاری کیا، جس کا نام ” لوکر“ (Looker) تھا۔

ہندوستاں کی قانون و عدالت کی تاریخ میں نابھ اور پٹیالہ کے پاس مقدمہ کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے، جو انبالہ میں چلا، اور جس کے جج لکھنؤ ہائیکورٹ کے جسٹس مسٹر سٹوارٹ تھے۔ اس مقدمہ کے حالات یہ ہیں:۔

نابھ کے مہاراجہ ریودمن سنگھ، اور پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپندر سنگھ کے درمیان کشیدگی سی پیدا ہو گئی تھی، اور اس کشیدگی کی وجہ لیڈری ہی تھی۔ یعنی مہاراجہ پٹیالہ چاہتے تھے، کہ وہ روپیہ کے زور سے سکھوں کی لیڈری حاصل کریں، اور مہاراجہ نابھ چاہتے تھے، کہ مہاراجہ نابھ سکھوں کے لیڈر ہوں۔ یہ کشمش اور کشیدگی عداوت کی صورت میں تبدیل ہو گئی۔ ریاست کی حدود میں موضع لوہٹ بدھی کے مقام پر ایک شخص بجلا سنگھ نے بم تیار کیے۔ یہ بم تیار کیے جا رہے تھے، کہ بے احتیاطی کے باعث ایک بم پھٹ گیا۔ اس بم پھٹنے کے باعث اس مکان کی چھت اڑگئی۔

جس مکان میں یہ بم تیار کیے جاتے تھے، اور ایک گھوڑا ہلاک ہوا، جو ساتھ والی کوٹھڑی میں بندھا تھا۔ اس بم کے چلنے کی اطلاع گورنمنٹ آف انڈیا تک پہنچی۔ اور گورنمنٹ نے جب تفتیش شروع کی، تو مہاراجہ پٹیالہ کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا، کہ یہ بم مہاراجہ نابھ نے مہاراجہ پٹیالہ کو ہلاک کرنے کے لئے بنوائے۔ اور مہاراجہ نابھ کا بیان یہ تھا، کہ مہاراجہ پٹیالہ نے یہ بم مہاراجہ نابھ کو بدنام کرنے کے لئے نابھ کے علاقہ میں تیار کرائے۔ چنانچہ ایک دوسرے پر لگائے گئے ان اور بعض کئی دوسرے الزامات کی تحقیقات کرنے کے لئے گورنمنٹ آف انڈیا نے لکھنؤ ہائیکورٹ کے ایک یورپین جج جسٹس سٹوارٹ کو مقرر کیا۔ اس مقدمہ کی کارروائی سرکٹ ہاؤس انبالہ میں ہوئی۔

مہاراجہ نابھ کی طرف سے ہندوستان کے چوٹی کے تین وکلاء مسٹرنارٹن، پٹنہ کے سر علی امام (جو بعد میں وائسر ائے کی انتظامیہ کونسل کے ممبر، اور ریاست حیدر آباد کے وزیر اعظم مقرر ہوئے) اور سر علی امام کے حقیقی بھائی مسٹر حسن امام تھے۔ اور پٹیالہ کی طرف ڈاکڑ سر تیج بہادر سپرو، اور مسٹر سین کے علاوہ کئی اور وکلاء بھی تھے۔ اس مقدمہ میں کتنا روپیہ دونوں فریقین کا خرچ ہوا، اس کا اندازہ صرف اسی سے لگایا جا سکتا ہے، نابھ اور پٹیالہ سے مقد مہ کے اخراجات کے لئے کرنسی نوٹوں سے بھرے ہوئے ٹرک جایا کرتے، اور ہر گواہ کے لئے دس ہزار روپیہ رشوت مقرر تھی۔ یعنی جو گواہ بھی ریاست کے حق میں گواہی دے، اسے اس ریاست کی طرف سے دس ہزار روپیہ دیا جاتا۔

چمار اور بھنگی گواہوں نے بھی اس مقدمہ میں دس دس ہزار روپیہ شہادت دینے کے معاوضہ میں وصول کیا۔ او ر بجلا سنگھ کی شہادت اپنے حق میں لینے کے لئے تو دونوں ریاستیں لاکھوں روپیہ صرف کرنے کی کوشش میں تھیں۔ اور چونکہ بجلا سنگھ انبالہ جیل میں رکھا گیا تھا، اس سے پیغام رسنانی کرنے کے لئے جیل کے وارڈوں اور دوسرے ملازموں نے بھی ہزارہا روپیہ وصول کیا۔

نابھ اور پٹیالہ کے اس مقد مہ حالات تو بہت دلچسپ ہیں، جن پر ایک ضخیم کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ اس مضمون میں صرف مسٹرنارٹن کی زندہ دلی کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں، کیونکہ میں اس زمانہ میں ریاست نابھ میں ملازم تھا۔ مقدمہ کے سلسلہ میں مجھے بھی اکثر انبالہ جانا پڑتا، اور مسٹر نارٹن سے گھنٹوں باتیں ہوا کرتیں۔

مسٹرنارٹن کی عمر اس وقت غالباً ستر برس کی ہوگی۔ مگر آپ جسٹس سٹوارٹ کی عدالت سے شام کو واپس آنے کے بعد سات بجے کے قریب ہی مقدمہ کی تیاری میں مصروف ہو جاتے، اور صبح چار بجے تک وہ اس تیاری میں مصروف رہتے۔ یعنی صبح دس بجے سے شام کے چار بجے تک تو جسٹس سٹوارٹ کی عدالت میں مقد مہ کی پیروی کرتے، اور شام کو سات بجے سے علی الصج چار بجے تک مقدمہ کی تیاری کرتے۔ اس عرصہ میں آپ وہسکی کی ایک بوتل، اور سوڈے کی ایک درجن بوتلیں ختم کرتے۔ رات کو چار بجے سے صبح نو بجے بیدار ہونے کے بعد غسل اور بریک فاسٹ سے فارغ ہونے کے بعد ٹھیک دس بجے جسٹس سٹوارٹ کی عدالت میں پہنچ جاتے۔

یہ عدالت انبالہ چھاؤنی کے سرکٹ ہاؤس میں ہوتی، جہاں کہ جسٹس سٹوارٹ کی رہائش کا بھی انتظام تھا۔ مسٹر نارٹن مقدمہ کی تیاری میں مصروف رہتے کے بعد سنیچر کی رات کو فرنٹیر میل میں لاہور یا دہلی چلے جاتے۔ لاہور جاتے تو وہاں سٹسیفل ہوٹل میں ان اور اگر دہلی جاتے، تو وہاں میڈن ہوٹل میں قیام کرتے۔ اتوار کا تمام دن توان یورپین لڑکیوں کے ساتھ تفریح اور سینما وغیرہ میں مصروف رہتے اور اتوار کی رات کو فرنٹیر میل میں سوار ہو کر سوموار کو علی الصبح انبالہ چھاؤنی پہنچ جاتے، اور چند گھنٹہ سو کر نو بجے غسل اور بریک فاسٹ سے فارغ ہو کر ٹھیک دس بجے جسٹس سٹوارٹ کی عدالت میں پہنچ جاتے۔

یہ ان کا معمول تھا۔ اور جس طرح دوسرے انگریر اتوار کو قطعی کوئی کام نہیں کرتے، آپ بھی اتوار کا دن ہمیشہ تفریح کے لئے وقف رکھتے۔ مسٹر نارٹن مرحوم مہاراجہ نابھ کے ذاتی دوستوں میں سے تھے۔ اس لئے آپ نے اس مقدمہ سلسلہ میں مہاراجہ سے دو ہزار روپیہ روزانہ فیس وصول کی، اور یہ مقدمہ غالباً دو ماہ کے قریب ہر روز ہوتا رہا۔ اور یہی روزانہ فیس سر علی امام اور مسٹر حسن امام کی تھی، کیونکہ تینوں ایک ہی معیار کے قانون دان اور مہاراجہ کے ذاتی دوستوں میں سے تھے۔

مسٹر نارٹن ہر سنیچر کی رات کو جب لاہور یا دہلی جاتے تو وہاں پہنچنے کے بعد وہ اپنی تفریح کے لئے کسی نہ کسی یورپین لڑکی کو منگا لیا کرتے۔ دن بھر اس لڑکی کے ساتھ کھاتے پیتے، اور سیر و تفریح میں مصروف رہتے۔ اور اس سلسلہ میں کئی لڑکیاں ان کے انتظار میں رہتیں، کیونکہ دوسرے تمام مصارف کے علاوہ واپس آتے ہوئے ایک سو کا نوٹ لڑکی کو دے دیا کرتے۔ آپ ایک بار لاہور گئے۔ وہاں آپ نے تفریح کے لئے ایک یورپین لڑکی کو بلوایا۔ یہ لڑکی دن بھر مسٹر نارٹن کے ساتھ تفریح میں مصروف رہی۔ لڑکی بہت خوبصورت تھی۔ آپ کو جب واپس آنے والے تھے، تو آپ نے لڑکی سے کہا، کہ اگر وہ چاہے، تو ایک ہفتہ کے لئے ان کے ساتھ انبالہ جا سکتی ہے۔ لڑکی نے محسوس کیا، کہ یہ بوڑھا بہت مالدار ہے، اور اسے پسند کرتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 25 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon