جرائم و جنات کے ٹی وی تماشے!


waqar ahmad malikکیا سماج کی بہتری کے لیے ‘کشید کی گئی مجموعی انسانی دانش کو کوئی کردار ادا کرنا چاہیے یا نہیں؟ اس مجموعی انسانی دانش کو کیا کسی پیمانے سے پرکھا جا سکتا ہے؟

اگر ہم یہ کہیں کہ دانش overview effect کے بڑھنے کا نام ہے اور اس کا حتمی نتیجہ رواداری کی شکل میں برآمد ہوتا ہے تو شاید کلی اتفاق ممکن ہے۔ یہ اتفاق اس لیے ناگزیر ہے کہ بنیاد سائنس ہے۔

اسی انفرادی دانش کے دائرے کو پھیلا کر ہم مجموعی انسانی دانش کی کوئی شکل بنانا چاہیں تو شاید یہ ایک مشکل کام نہیں ہو گا۔ یوں ہماری حتمی منزل معاشرتی رواداری ، اظہار آزادی رائے ہو گی۔

جب تک ہماری حتمی منزل ایک مثالی معاشرہ نہیں ہو گا چاہے وہ بظاہر کتنی ہی ناممکن خیالی جنت کیوں نہ لگے، ترقی کا سفر ناممکن ہے۔

معاشرے کی تشکیل نوع انسانی میں اس لیے ممکن ہوئی کیونکہ انسان حال میں رہتے ہوئے پیش بیں بھی ہے۔ اسی صلاحیت کی وجہ سے قانون اور آئین کی شکلیں نظر آئیں اور یہی ہتھیار معاشرے کو شکل دینے کا سبب بنا۔ ہم سب معاشرے میں رہنے کے لیے باہم کیے گئے معاہدوں کے پابند ہیں اور یہی معاہدے بین المذہبی اخلاقی بنیادیں بھی فراہم کرتے ہیں ۔

utrorvalleyان معاہدوں میں ایک بنیادی شق دھوکہ دہی سے متعلق ہے۔

جرائم و جنات کے حوالے سے ٹیلی ویژن پر چلنے والے تماشے کیا اظہار آزادی رائے کے زمرے میں آتے ہیں؟

اگر یہ آزادی ”رائے“ ہے تو مزید یہ فیصلہ کرنا بھی ضروری ہے کیا یہ تفریحی تماشے ہیں یا معلوماتی ؟

معلومات تویہی کہتی ہیں کہ دونوں حوالوں کا دفاع کرنے سے قاصر میڈیا نے اسے ”معلوماتی تفریحی تماشوں“ کا نام دیا ہے۔

میں تلہ گنگ کے اڈے پر بیٹھا تھا،(نائن الیون سے پہلے کی بات ہے) جب اچانک خون آلود کپڑوں اور ہاتھ میں ایک خنجر لیے جس سے خون ٹپ ٹپ کر رہا تھا ایک نیم پاگل سا شخص جس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی میری طرف دوڑتے ہوئے آیا۔ میرا دل حلق میں تھااور سانس رک گئی، میرے پاس ردعمل کا وقت بھی نہیں تھا، عین اس وقت کہ جب وہ خنجر گھونپنے کے لیے ہاتھ اٹھاتا، ساتھ ہی ایک زور دار قہقہہ سنائی دیتا ہے۔ یہ قہقہہ اسی بہروپیے کا تھا۔ جب میرے اوسان بحال ہوئے تو اس نے اپنی کارکردگی اور اظہار فن کے لیے پیسے طلب کیے۔یہاں پر اخلاقیات کے حوالے سے پیچیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ پہلا سوال یہ کہ کیا میں کسی ایسی تفریح کا طالب تھا؟ یقینا نہیں تھا۔تو یہاں تک تو بہروپیا مجرم ہے لیکن اپنے اس تماشے کے فورا بعد وہ قہقہہ لگاتا ہے اور تماشا ختم کرنے کا اعلان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جناب یہ تماشا تھا اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا یہ اعلان اخلاقیات کا بنیادی تقاضا ہے کہ اگر اس نے پیش بینی کی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے میری حسیات کو دھوکہ دیا اور میری بنیادی جبلت خوف کے ساتھ کھیلا تو اب اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اس’ دھوکہ‘ کے حوالے سے مجھے ’ معلومات‘ بھی دے۔

u2اسی کی دی یہ معلومات کوئی انہونی بات نہیں ہے یہ باہم ایک معاشرے میں رہنے کے حوالے سے بنائے قوانین کا بنیادی حصہ ہے۔

ورلڈ ریسلنگ اینٹر ٹینمنٹ کی جانب آئیے، دو قسموں کے لوگ یہ کشتیاں دیکھتے ہیں، ایک وہ کہ جانتے ہیں یہ ڈرامہ ہے اور ان کی تمام چالیں جھوٹی ہیں، کرسی جو ایک دوسرے کو ماری جاتی ہے کس میٹریل سے بنی ہوتی ہے اور رنگ کے اندر لگے تختے کیوں لچکدار ہوتے ہیں، رسوں سے چھلانگ لگا کر دوسرے پہلوان پر گرنے والا جسم کا زیادہ وزن اپنی ہی کہنی پر کیوں سہتا ہے اور مکے کی رفتار نشانے سے دس انچ پہلے کیوں سست ہو جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔۔ورلڈ ریسلنگ اینٹرٹینمنٹ کی چالوں پر یعنی جھوٹی چالوں پر محنت صرف ہوتی ہے اور ان چالوں کو ’ تجارتی راز‘ کہا جاتا ہے کہ دولت کمانے کا ذریعہ ہے۔

دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اس کشتی کو حقیقت سمجھتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ شرطیں لگاتے ہیںاور اس ساری تمثیل کاری کو سنجیدہ لیتے ہیں۔

کیا ورلڈ ریسلنگ انٹر ٹینمنٹ کو تمثیل کاری کے بعد آگاہ کرنا چاہیے کہ یہ حقیقت نہیں تھی ؟

کیا دوسری قسم کے لوگ جو علم اور تجربات میں کمی کے باعث اس تمثیل کاری کو سمجھنے سے قاصر ہیں ان کو دھوکہ دہی میں رکھنا چاہیئے؟

جب کہ مجموعی انسانی دانش جو اس بات سے آگاہ ہے کہ یہ دھوکہ ہے کو جانتے بوجھتے صرف نظر کرنا چاہیے کہ ان کو جو دھوکہ ہوتا ہے ہوتا رہے؟

5ٹیلی ویژن کی جانب آئیے اور جنات اور بین الفطرتی تماشوں کو نگاہ میں لائیے۔

ایک خوفزدہ چہرہ لیں اور اس پر ویڈیو ایفیکٹ ’ نیگیٹو ‘ ڈال دیں یقیننا ایک نیلاہٹ سی لیے خوفزدہ کرنے والاچہرہ دکھائی دے گا۔

کیمرے کے اپرچر میں اتنی کم روشنی گزرنے دیں یا اتنی کم روشنی میں ریکارڈنگ کریں یا آئی ایس او بڑھا کر کم ترین روشنی میں ریکارڈنگ کریں کہ ویڈیو پر سبز رنگ اور نقطے نقطے دکھائی دیں کچھ بھی واضح دکھائی نہ دے اب کیمرے کو الٹی سیدھی مومنٹس دیں، دیوار پر کہیں ٹارچ ماریں اور روشنی کے گولے کا پیچھا کریں، کہیں ایڈوب کے ماسک کو استعمال کر کے ایک ہیولا تشکیل دیں جو ایک دم تیزی سے گزرتا ہے اور ساتھ خوفزدہ کرنے والی آوازیں استعمال کریں جو یو ٹیوب پر کثرت سے دستیاب ہیں۔

توانائی کی پیمائش کرنے والا میٹر دکھائیں اور پرانی حویلیوں اور قبرستانوں میں توانائی کی پیمائش کا ڈرامہ کریں بعد میں پوسٹ پر آواز کی لہروں پر مبنی ایک ایک ویڈیو ایفیکٹ لیں اور اس پر انتشار ظاہر کریں ۔۔۔

آپ کی اس ساری کاوش کو میں فن کا نام دینے کو تیار ہوں اگر آپ پروگرام کے شروع یا آخر میں لکھ کر یہ دکھانے کو تیار ہیں کہ یہ سب ایک تفریح کے لیے کی گئی تمثیل کاری ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

4آپ کی اس ساری کاوش کو میں معلوماتی کہنے کو تیار ہوں اگر متذکرہ بالا دھوکہ دہی کے اثرات نہیں ہے اور سب کچھ حقیقی ہے ، اور شب و روز آپ کا جنات سے ملاکھڑا چل رہا ہے۔

یہی سوالات جرائم سے متعلقہ تماشوں کے حوالے سے کیے جا سکتے ہیں۔ بنیادی مقصد کیا ہے؟ معلوماتی سبق آموز یا تفریحی؟

میڈیا کے اندر ان شوز کے حوالے سے ایک اصطلاح اکثر سننے میں آتی ہے “Bitchy pan”

’یار اس قسط میں bitchy پن تھوڑا سا اور ڈالو مزہ نہیں آیا‘

چالیس منٹ پر محیط اکثر جرم کہانیوں کا مرکز قتل اور جنس ہوتا ہے ۔ انسان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بہترین موضوعات ہیں۔

پیچیدگی بیانیہ پر پیدا ہوتی ہے۔ آپ نے چالیس منٹ میں جو کچھ دکھایا اس کا اصل کہانی سے کتنا تعلق ہے؟ پاس سے کتنی سچویشنز ڈالیں۔ جو سچویشنز ڈالیں ان کو کس قدر مسالے دار بنایا۔ کیا کوئی ماہر نفسیات ‘ پورے پاکستان میں ۔۔۔کوئی ایک ماہر نفسیات یہ سرٹیفیکیٹ دے سکتا ہے کہ چالیس منٹ دورانیہ کی یہ جرم کہانی بہت سبق آموز ہے اور اس سے برے اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ ایک عام ناظر پوری کہانی کو غور سے دیکھتا ہے۔ کیونکہ اس میں جرم بہت دلکش انداز سے دکھانے کی کوشش کی گئی ہوتی ہے ۔اگر جرم کہانیوں کی اسی طور تصویر کشی جائز ہے تو اردو صحافت کی اس طرح کی خبروں ’ ’ستر سالہ بوڑھا جوان دوشیزہ کی عزت سے پوری رات کھیلتا رہا۔۔ داد عیش دیتا رہا۔۔ عصمت تار تار کردی “ وغیرہ پر تنقید بے معنی ہے کہ یہ معاملہ بھی اظہار آزادی رائے میں آتا ہے۔ اگر کسی محبوب نے دھوکے سے محبوبہ کو قتل کیا ہے تو قتل اور اس کے مضمرات تو آخری پانچ منٹ ہوتے ہیں جبکہ ابتدائی تیس پینتس منٹ کیا ہوتا ہے؟ آخری پانچ منٹ میں ناظر لاشعوری طور پر سوچتا ہے کہ اگر مجرم یہاں یہ والی غلطی نہ کرتا تو بچ سکتا تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے جرم کو پیش ایسے کیا۔عکسی نیورانز ہر وقت متحرک رہتے ہیں۔ فلم ٹی وی ہو یا ناول ، یہ ہر وقت دلکش سچویشنز میں ناظر کی اپنی ذات گھسانے کی کوشش میں مصروف رہتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کرائم شوز کے موضوع پر بیس سالہ طویل تحقیقات بھی یہی نتیجہ دیتی ہیں کہ ان سے ہم دلی میں کمی واقع ہوتی ہے۔ آپ کی اس کاوش سے معاشرہ mean world syndrome  کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے ۔

تصور کیجیے کہ گیلپ سروے کے مطابق امریکہ میں تین دہائیوں سے بتدریج جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن 52 فی صد سے 89 فی صد لوگ گذشتہ تین دہائیوں سے لگاتار یہ سمجھتے رہے ہیں کہ جرائم کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ عوام کی یہ سوچ حقیقی اشاریات سے کوسوں دور کھڑی ہے۔ ان کو اس حقیقت سے دور لے کر جانے والے کون ہیں؟ کیا وہ معاشرے میں باہم مل جل کر رہنے کے حوالے سے معاہدے کی پاسداری کر رہے ہیں یا دھوکہ دہی کر رہے ہیں۔

جب آپ دنیا کو حقیقت سے کہیں زیادہ خطرناک سمجھنے لگتے ہیں تو ردعمل میں لاشعوری حوالے سے ایک میکانیت آنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اور اس میکانیت کے زیر اثر کسی معصوم کی جان جا سکتی ہے ۔

میڈیا کی ایک مثالی تعریف معاشرے کو توہمات سے نکالنا‘ اور شعور پیدا کرنے کے حوالے سے ہے لیکن اگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ میڈیا ایک صنعت ہے جس کا بنیادی مقصد پیسہ کمانا ہے تو یقینا یہ جنات و جرائم کی دنیا جائز دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس ’جائز‘ کام سے دھوکہ دہی کی بو آئے تو کوئی ایسا ادارہ ہو نا چاہیے جو میڈیا یا کسی بھی شعبہ کو اس سے باز رکھے۔

اظہار آزادی رائے میں پہلے دو لفظوں کے ساتھ ایک تیسرا جاندار لفظ ’ رائے ‘ نتھی ہے۔ رائے کے پیچھے اگر جھوٹ اور دھوکہ دہی نمایا ں دکھائی دے تو ان تین لفظوں کے آگے میں سر بسجود نہیں ہو سکتا۔

3ریٹنگ کے حوالے سے ہم عجب مغالطے کا شکار ہیں ۔ اسی مغالطے کے سبب پہلے ہم نے فلمی صنعت کا جنازہ نکالا کہ ہم کیوں بہتر مضامین پر فلمیں بنائیں ہمارا ناظر تو ریڑھی والا ہے۔ یہ قوم اتنی باشعور نہیں ہے کہ بہتر کہانی کو سمجھ سکے۔ ہم یہ بات کسی طور سمجھنے سے قاصر رہے کہ ستر کی دہائی میں بہترین فلموں کے بعد اسی کی دہائی میں گنڈاسہ کیوں مشہور ہو گیا۔ اس کے پیچھے کون سے نفسیاتی عوامل تھے۔ آمر جب پورے زوروں پر ہوتا ہے تو گھٹن زدہ ماحول میں عوام کے لیے ایسے مناظر بہت تسکین آمیز ہو جاتے ہیں کہ کوئی تو ہے جو گنڈاسے سے منفی کرداروں کو پیٹ رہا ہے۔

لیکن نوے کی دہائی کے وسط تک ہی گنڈاسہ دم توڑ گیا۔ آپ اس کے باوجود مصر رہے اور فلمی صنعت کا جنازہ نکال کے رکھ دیا۔

پرائیویٹ ٹیلی وژن آیا تو ابتدا میں جیو نے بہترین صحافتی روایات کا مظاہرہ کیا۔ غامدی، حمزہ نامہ اور الف جیسے پروگرام مشہور ہوئے۔ پروگرام ’الف ‘جو کہ مابعد الطبیعاتی نوعیت کا پروگرام تھا وہ بھی شہرت حاصل کر گیا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ اس وقت Orkut  اور فیس بک کی پروفائلزمیں پسندیدہ پروگراموں میں یہی پروگرام دکھائی دیتے تھے۔ اسی چینل کے پروگرامز میں ایک تنوع نظر آتا تھا جو کہ معاشرے کے ہر طبقے کو مخاطب کرتا تھا۔ لیکن ان پروگراموں کو مقبولیت حاصل کرنے کے لیے ایک وقت درکار ہوتا ہے ۔ بعد میں آنے والے چینلز کے بیشتر مالکان کاروباری پس منظر رکھتے تھے اور فوری منافع کے قائل تھے۔ کرائم شوز، اور جنوں کی تلاش جیسے پروگرام کم بجٹ زیادہ منافع والے پروگرام تھے۔

ابھی حال ہی ایک مثال ہمارے سامنے ہے۔ ”ہم سب“ کے مدیر محترم پہلے ایک اور آن لائن اخبار سے وابستہ تھے اور تخلیقی ، تحقیقی مواد اس اخبار کی زینت تھا۔ حیرت انگیز بات ہے کہ اس اخبار نے کمال شہرت پائی۔ بعد میں کچھ وجوہات کی وجہ سے یہی مدیر محترم اس ویب سائیٹ کو چھوڑ کر” ہم سب“ کا اجراء کرتے ہیں۔ پہلے والی ویب سائیٹ جنس اور جرائم کو موضوع بناتی ہے جبکہ ”ہم سب “ کی پالیسی نفرتوں اور تعصبات سے بالا سنجیدہ مکالمہ کی جانب راغب ہوتی ہے ۔ ہم سب صرف دو ماہ میں ہی شہرت یافتہ ہو جاتا ہے پاکستان اور عالمی رینکنگ میں نمایا ں جگہ پا لیتا ہے۔ ہم سب کو پڑھنے والی مخلوق کہاں سے آئی ہے۔ اگر قوم کو آپ یونہی پست ذہن خیال کرتے رہیں گے اور پست ذہن قوم کے لیے دھوکہ دہی کا سامان تیار کرتے رہیں گے اور اس سے منافع کماتے رہیں گے تو یقننا ترقی کا سفر سست روی کا شکار رہے گا۔

میں اب بھی یہ کہتا ہوں کہ میڈیا کی مثالی تعریف کو اگر ہم ایک طرف رکھ دیں، انارکی کو بطور نظام چن لیں تو یہ پروگرام کیا برے ہیں۔

اگر یہ اخلاقی حوالے سے جائزدوڑ ہے کہ بہتر مواقع ملنے کی وجہ سے کچھ لوگ تعلیم یافتہ ہو جاتے ہیں اور یہ تعلیم یافتہ لوگ حق رکھتے ہیں کہ بہتر مواقع نہ ملنے والے ’جاہلوں‘ کو دھوکے میں رکھ کر دولت کما سکتے ہیں تو میں اختلاف کرنے والا کون ہوں۔

لیکن اگر مجموعی انسانی دانش ‘ انسانی معاشرے کو تشکیل کرنے والے معاہدے کو مد نظر رکھتی ہے اور اس معاہدے کو احترام دیتی ہے، پسے ہوئے طبقوں کو ’خوف‘ اور ’توہمات‘ سے نکالنا چاہتی ہے تو اس کو کردار ادا کرنا ہو گا۔

(پس نوشت: پیمرا نے جو حالیہ نوٹس لیا ہے اس حوالے سے ابتدائی خبریں ان کرائم شوز کے حوالے سے تھیں لیکن جب نوٹس آیا تو دیکھا گیا کہ کرائم شوز وغیرہ کی آڑ لے کر مقاصد کچھ اور نظر آئے جن پر شدید تحفظات بجا اور ضروری ہیں)

 


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 61 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik