دہشت گردی اور موبائل فون کی بندش


ہر سال محرم کے جلوسوں اور عزاداری کے پر امن انعقاد کے لئے موبائل فون سروس کی بندش، ڈبل سواری پر پابندی اور راستوں کو بند کرکے معمولات زندگی کو مفلوج بنا دینا ہمارے سیکیورٹی اداروں کی نا اہلی کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کے ادارے سیلف کلیمڈ نمبر ون ادارے ہوں وہاں عوام کو ان ہی کی سیکیورٹی کے نام پر ان کی زندگی مفلوج کردینا کوئی کامیابی یا بہادری نہیں ہوتی۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں پر ان سے بچنے کے لئے اس طرح کے اقدامات نہیں کیے جاتے بس فرق یہی ہے کہ وہ ممالک عوام کی حفاظت کو فرض سمجھتے ہیں نہ کہ اپنا اختیار۔ سال 2015 کے نومبر میں فرانس کے دارلحکومت پیرس میں ایک ہی روز میں متعدد دھماکے اور حملے ہوئے جس میں قریب 130لوگ ہلاک اور 100 سے زائد لوگ زخمی ہوئے جس کی ذمہ داری دور حاضر کی ظالم ترین آئی ایس آئی ایس نے قبول کی۔

پہلا دھماکہ ایک اسپورٹس اسٹیڈیم کے نزدیک ہوا جہاں فرانس کے صدر خود موجود تھے تاہم انہیں وہاں سے بحفاظت نکال لیا گیا۔ کچھ حملے ریسٹورنٹس اور ایک موسیقی کے کنسرٹ پر ہوا پر ماسوائے اس ہال کے جہاں کنسرٹ چل رہا تھا کسی بھی جگہ کو بند نہیں کیا گیا نہ کہ موبائل فون سروس کی بندش جیسے اقدامات کیے گئے بلکہ فرانس نے آئی ایس آئی ایس پر شام میں ایئر اسٹرائیکس شروع کردیں۔ ہمیں ہر سانحہ کے بعد اسے پڑوسی ملک کی سازش یا اس کی سرزمین استعمال ہونے کا بتایا جاتا ہے پر ایئراسٹرائیکس کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہمارے ذہن میں اور اس طرح ادارے بھی اپنی ذمہ داریوں سے بری ہوجاتے ہیں کہ ہم نے قوم کو دشمن کا پتا بتا دیا ہے اب اس کا کیا کرنا ہے وہ فیصلہ قوم خود کرلے۔

دہشتگردی کے واقعات کے بعد فرانس کی حکومت نے داخلی سیکیورٹی کے اقدامات کو بھی مزید ٹھوس بنایا اور ٹھیک پانچ دن بعد فرانس کی پولیس نے حملہ آوروں کے رنگ لیڈر کے ٹھکانے کا سراغ لگالیا اور پولیس کے ساتھ مقابلے میں وہ مارا گیا۔ قریب ایک ماہ میں ہی فرانسیسی حکومت نے حملہ آوروں کا طریقہ واردات واضح کیا جس کے مطابق دہشت گردوں نے حملوں کے لئے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام نامی ایپلیکیشن کا استعمال کیا اگر ایسا واقعہ پاکستان میں واٹس ایپ کے ذریعے ہوتا تو آج ہم شاید واٹس ایپ بھی نہ استعمال کر پاتے۔

اپریل 2018 میں ان حملوں ملوث ایک دہشت گرد سلام عبدسلام کو فرانس کی عدالت سے 20 سال کی سزا بھی ملی۔ ہمارے یہاں تو ہر واقعہ کے بعد ملزمان کا اینکاؤنٹر ہونے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ مارا جانے والا ملزم فلاں فلاں واقعے کا ماسٹر مائینڈ تھا اور ایسے ماحول کا فائدہ اکثر پولیس افسران ذاتی دشمنیاں نکالنے اور سیاسی وابستگی کے تحت یا فقط اپنا ریکارڈ بنانے کی غرض سے لوگوں کو قتل کرکے اسے اینکاؤنٹر کا نام دے دیتے ہیں۔

مارچ 2016 میں فرانس کی طرز کے ہی واقعات بیلجیئم کے دارلحکومت برسلز میں بھی ہوئے جہاں ایک ہی دن میں تین دھماکے ہوئے۔ جن میں دو ایک ہی وقت میں برسلز کے ہوائی اڈے پر ہوئے۔ عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جب پہلا دھماکہ ہوا تو ایئرپورٹ پر موجود مسافر اس سے بچنے کے لئے دوسرے ٹرمینل کی طرف بھاگے جہاں دوسرا دھماکہ ہوا اور تیسرا دھماکہ میٹرو بس اسٹیشن پر ہوا۔ ان واقعات میں 32 لوگ ہلاک جبکہ 340 زخمی ہوئے جن میں فقط وہاں کے مقامی نہیں بلکہ دیگر ممالک کے لوگ بھی ہلاک ہوئے۔ ان واقعات کے بعد برسلز میں سیکیورٹی اداروں نے پھرتی دکھانا شروع کی اور قریب ایک ماہ میں ہی ماسٹر مائینڈ کی گرفتاری کی خبریں مقامی میڈیا پر نشر ہونا شروع ہوگئیں۔

بیلجئیم کے اداروں نے یہ تعین کرلیا تھا کہ پیرس اور برسلز میں ہونے والے واقعات کی کڑی ایک ہی ہے۔ تاہم برسلز میں ہونے والی دہشت گردی کے دو دن بعد یورپین یونین کے جسٹس اور سیکیورٹی کے وزراء کا اجلاس منعقد ہوا جس میں برسلز اور پیرس کے باہمی بارڈر انٹیلیجنس اور سیکیورٹی معاونت پر سوالات کھڑےکیے گئے۔ یورپین کمیشن کے صدر کلاڈ جنکر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یورپین یونین کے تمام ارکان ممالک میں اسلحہ کی خرید کو دشوار بنایا جائے۔ مختصر یہ کہ دہشت گردی ناکام نہ کرپانے پر اداروں پر تنقید کی گئی سوالات کھڑے کیے گئے پر جس طرح کے اقدامات ہمارے یہاں کیے جاتے ہیں ایسا کچھ نہیں ہوا۔

نہ یورپ میں ہمارے جیسے خود ساختہ دانشوروں نے یہ کہا کہ ایئرپورٹ، ریسٹورینٹ، کنسرٹ ہال یا میٹرو بندکیے جائیں جیسے ہمارے یہاں کہا جاتا ہے جلوس نکالنا بند کردیں ایسا کرلیں ویسا کرلیں۔ دنیا کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع بھارت کے شہر الہ باد میں 12 سال میں ایک دفعہ ہونے والا کنبھ میلہ ہے جس میں قریب 10 کروڑ افراد شرکت کرتے ہیں۔ اس میلے کے پرامن انعقاد کے لئے بھارتی ادارے چار پانچ ماہ پہلے ہی تیاریاں شروع کردیتے ہیں ظاہر ہے اجتماع بڑا ہے تو تیاریاں بھی اس حساب سے ہوتی ہیں ہمارے ہاں محرم کا چاند نظر آنے کے بعد تیاریاں شروع کی جاتی ہیں۔

ایسا نہیں کہ کنبھ میلے میں شرکت کرنے والوں کے مخالفین نہیں ہیں گذشتہ تہوار 2013میں ایک مخالف فرقہ ”مہانروانی اکھارا“ کے لوگوں نے مبینہ طور پر میلے میں شریک افراد کے خیموں کو نذر آتش کردیا جس کے باعث ایک شخص جاں بحق اور پانچ لوگ زخمی ہوئے جبکہ 30 سے زائد خیمے آگ کی لپیٹ میں آکر راکھ ہوگئے۔ پھر بھی جس طرح ہمارے پاس سیکیورٹی اداروں کا رویہ اور حکمت عملی ہوتی ہے ویسا کچھ نہیں کیا گیا۔ جس طرح ہمارے ہاں 2018 میں بھی راستے، موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ کی بندش معمول ہے کوئی یہ سوال نہیں کرتا کہ ان اداروں میں بیٹھے ہمارے ٹیکس سے اتنی موٹی موٹی تنخواہیں لینے والے ادارے آخر کر کیا رہے ہیں وہ ایک موثر حکمت عملی بنانے میں کیوں ناکام ہیں؟

سیکیورٹی کی فراہمی کے اور بھی طریقے ہوتے ہیں پر مسئلہ سیکیورٹی پر ختم نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ سیکیورٹی کی ضرورت کو ختم کیوں نہیں کیا جاتا؟ ایسے بھی ممالک ہیں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں بھی محرم کے جلوس نکالے جاتے ہیں پر انہیں اس طرح کی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وجہ یہ ہے کہ ہم جس دشمن کو سرحد کے پار ڈھونڈتے ہیں وہ تو ہماری ہی صفوں میں موجود رہتا ہے اور وہ دشمن کوئی اور نہیں وہ ہمارے بیچ بسنے والی نفرت اور انتہا پسندی ہے جب تک ہم عدم برداشت اور انتہاپسندی کی اس لعنت سے بذریعہ تعلیم اور شعور جان نہیں چھڑا لیتے ہمیں ہمیشہ سیکیورٹی میں اضافہ کرنے کی ضرورت رہے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں