صرف دو بچوں کی ممی اور ہمارا تجربہ



پچھلے دنوں ہم سب کے پیج پر ایک مضمون پڑھاتھا۔”ممی اور صرف دو بچے“۔ ایسا لگا جیسے کسی نے چوری چوری دل میں سیندھ لگا کر ہمارے درد کو چرایا اور سرراہ رکھ دیا۔ ممی اور ہمارا دکھ “سانجھا”سا لگا، ہمارا درد مشترک ہے۔ اس مضمون پہ قارئین کے کمنٹس بھی پڑھے، کچھ حق میں تھےاور کچھ مخالفت میں۔ تو سوچا کیوں نہ ہم بھی اپنا ” تجربہ” آپ کے ساتھ بانٹ لیں۔

ہم نے جتنی زندگی گزاری ہےدو انتہاوءں کے درمیان پھنس کے گزاری ہے۔بچپن افراط میں گزرا،والدین نے بہبود آبادی کے محکمے کے کسی بات پہ کان نہ دھرےاور اپنی ذاتی کرکٹ ٹیم بنالی۔ پورے ایک درجن کے بعد شائد قدرت کو ازخود رحم آگیااور ہم مزید کسی بہن بھائی کے تحفے سے محروم رہ گئے۔

خاندان کا رواج ہوتا ہے یا کوئی تکنیکی خرابی کہ اگر ایک بھائی اولاد میں خود کفیل ہو گیا ہے تو باقی بہن بھائی پیچھے نہیں رہتے۔ہمارے ساتھ بھی یہی معمالہ ہوا اور کزنز کی ایک فوج تیار ہو گئی۔بارہ پھوپیوں،چار چچا،چھ خالہ اور دو ماموں،سب کا اپنا اپنادرجن ۔کل ملا کے کتنے ہوئےآپ حساب لگا لیں کیونکہ آجکل ہمارے ملک میں حساب کتاب کا موسم چل رہا ہے۔

ہمیں کسی سے کوئی مسئلہ نہیں،ہم تو بس یہ بتا رہے ہیں کہ اس فراوانی کی نتیجے میں کس گرانی کا سامنا رہتاتھا۔ والدین ہمیشہ پریشان ہی دیکھے۔رزق کا وعدہ رب کا سہی پر تن کے کپڑوں،جوتوں اور تعلیمی اخراجات،ان کو پورا کرنے کے لیئے گھن چکر بنے رہے۔اب اس سب میں محبت کی نفسیاتی ضرورت اور تربیت کے لیئے وقت کہاں سے آتا؟بساط بھر کوشش وہ بھی کرتے تھے لیکن تھکا ماندہ بدن،اولاد کی فکر میں ہلکان دماغ،کس کس کی ضرورت پوری کرتا؟جس کے نصیب میں جو آیا وہ اللہ کی مرضی۔ تربیت کتابوں نے کی اور سبق زمانے نے دئیے۔ بہن بھائی اچھے دوست نہ سہی،برے ساتھی بھی نہیں تھے۔ اللہ کا کرم رہا لیکن ابھی بھی تشنگی سی باقی ہے۔
جب شادی ہوئی تو خیال یہی تھا کہ اپنے بچوں کے لیئے کوئی کمی نہیں چھوڑنی،یوں سات سال میں بچے دو ہی اچھے کا فارمولا استعمال کیا۔لیکن فارمولے فقط کتابوں میں ہی اچھے۔ زندگی ریاضی کی کتاب نہیں جو فارمولا لگا کے درست جواب آجائے۔

کبھی سنا کرتے تھے،دن کے تارےدکھانا،نانی یاد آنا،ناکوں چنے چبوانا،اب سمجھ لیا ہے۔دو بچوں نے وہ خون کے آنسو رلایا ہے،کیا ہی زمانے نے رلایا ہو گا۔ ہم نے جان لڑا دی ان کی خوشی کے لیےاور وہ ہر دم جان کو آئے رہتے ہیں۔ ہماری جان ناتواں ہر پل جوکھم میں رہتی ہے،مگر مجال ہے جو لاڈلے کبھی ہم سے راضی ہو جائیں۔

تجربہ تو یہی کہہ رہا ہےافراط وتفریط سے بچ کے رہئیے۔ مشاہدہ بھی یہی درس دیتا ہے کہ اعتدال رحمت ہے۔ انتہا کسی شکل میں ہو بگاڑکا سبب بنتی ہے۔میانہ روی میں بھلائی ہے۔ہمارا مشورہ تو یہی ہے کہ بچے دو اچھے نہ درجن، ہاں چار ہوں تو زندگی میں سکون آئے۔ مشورہ ماننا نہ ماننا آپ کی مرضی ہے،دعا کیجئے گا ہماری زندگی میں تو سکون آئے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں