قومی سلامتی کے دشمن صحافی اور سیاستدان بچ نہ پائیں


لاہور ہائی کورٹ نے ڈان اخبار کے رپورٹراور کالم نگار سیرل المیڈا کا ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا ہے تاکہ وہ اپنے خلاف غداری کے الزام میں دائر مقدمہ میں 8 اکتوبر کو جبراً پیش کئے جائیں۔ اس مقدمہ میں سابق وزیر اعظم اور نیب مقدمات میں عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور، حال ہی میں جیل سے رہا ہونے والے نواز شریف کو بھی پیش ہونے کا حکم جاری ہؤا ہے۔ نواز شریف اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف آئین کی شق 6 کی خلاف ورزی پر سول سوسائیٹی کی ایک رکن امینہ ملک نے لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کر رکھاہے۔ سہ رکنی بنچ نے جس کی سربراہی جسٹس مظاہر علی نقوی کررہے ہیں اس سال کے وسط میں اس مقدمہ پر سماعت انتخابات کے بعد تک ملتوی کردی تھی۔ اب انتخابات منعقد ہوچکے ہیں اور نئی حکومت اسلام آباد میں ہی نہیں بلکہ پنجاب میں بھی اقتدار سنبھال چکی ہے۔ اس لئے لاہور ہائی کورٹ کے اس سہ رکنی بنچ نے غداری جیسے مقدمہ میں سامنے آنے والی شکایت کو انجام تک پہنچانے کا تہیہ کیا ہے۔ سیرل المیڈا چونکہ گزشتہ دو پیشیوں پر حاضر نہیں ہو ئے تھے اور ان کی طرف سے صرف وکیل کی حاضری ججوں کی شان عدل کے خلاف سمجھی گئی ہے۔ ان کے وکیل نے المیڈا کی حاضری کا پختہ یقین دلانے سے بھی گریز کیا۔ اسی لئے ایک ممتاز صحافی کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنا ضروری سمجھا گیا۔ اس حوالے سے یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ دوسری طرف سپریم کورٹ کے ایک سہ رکنی بنچ نے ڈیڑھ برس پرانی درخواست نمٹانے کا ’حتمی‘ فیصلہ کرلیا ہے کیوں کہ اب یہ درخواست بے سود ہو چکی تھی۔

سپریم کورٹ نے جس درخواست کو بے سود اور بعد از مدت قرار دیتے ہوئے مسترد کیاہے وہ چیف جسٹس کی محبوب آئینی شق 62 (1) ایف کے تحت وزیر اعظم عمران خان کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ یہ درخواست عمران خان کی سابقہ اسمبلی میں رکنیت کے خلاف دائر تھی لیکن سپریم کورٹ کو اپنی گوناں گوں مصروفیات کی وجہ سے اس پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملا حتیٰ کہ سابقہ قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کرکے تاریخ کا حصہ بن گئی، عمران خان 25 جولائی کے کرشمہ ساز انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے وزیر اعظم منتخب ہو گئے اور حالات نے ایک نئی کروٹ لے لی۔ نئے حالات میں ایک پرانی درخواست پر عدالت عظمی منتخب وزیر اعظم کے خلاف تو کوئی اقدام کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ خاص طور سے جب سول ملٹری معاملات مثالی شکل اختیار رکرچکے ہوں اور وزیر اعظم چیف جسٹس کے اتنے پرستار ہوں کہ وہ ان کے دل و جان سے بھی عزیر ڈیموں کی تعمیر کےمنصوبوں کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دے کر اندرون ملک اور بیرون ملک آباد پاکستانیوں میں اپنی ’گڈ ول‘ کو استعمال کرتے ہوئے ڈیم فنڈ میں چند جمع کرنے کی مہم کو چار چاند لگا چکے ہوں۔ ان حالات میں سابقہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے سوال پر غور وقت کا ضیاع اور قوم کو بے مقصد الجھانے کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے جب یہ تصویر درخواست گزار کے سامنے رکھی تو انہیں اپنی درخواست واپس لینے اور سپریم کورٹ کے قابل عزت بنچ کو اسے قبول کرنے میں کوئی تامل نہیں ہؤا۔

یوں بھی درخواست گزار کو باخبر ہونا چاہئے تھا کہ وہ نواز شریف کے شق 62 (1) ایف کے تحت نااہل قرار دینے کے دھوکے میں یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ سپریم کورٹ عمران خان جیسے شفاف کردار کے لیڈر کو بھی جھوٹا اور خائین قرار دے کر نااہل کردے گی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے جن لوگوں کو صادق و امین ہونے کے سرٹیفکیٹ جاری کرنا ضروری سمجھا تھا ان میں شیخ رشید کے علاوہ عمران خان بھی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ سے بالکل یہ سوال نہیں کیا جاسکتا کہ اس نے ایک پرانی درخواست کو کیوں مسترد کیا لیکن یہ سوال تو کیا جاسکتا ہے کہ ملک کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے والے چیف جسٹس کی نگرانی میں کام کرنے والی سپریم کورٹ ایسی درخواستوں پر ہی غور مؤخر کرتے ہوئے ان کے غیر ضروری ہونے کا ’انتظار ‘ کیوں کرتی ہے جن پر فیصلہ کرنے سے اسٹیٹس کو متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ ایک دلاور چیف جسٹس کی نگرانی میں قائم ایک بنچ سے یہ توقع بھی کی جاسکتی تھی کہ وہ درخواست کی فطری مدت گزر جانے کا عذر استعمال کرنے کی بجائے یہ واضح کرتا کہ ایک ایسے وزیر اعظم کے خلاف نااہلی کی درخواست دائرنہیں ہوسکتی جسے پہلے ہی صادق و امین قرار دیا جا چکا ہے۔ اور اگر اس میں اس اعتراف کا اضافہ کرلیا جاتا کہ ملک کی سپریم کورٹ خواہ کتنی ہی بااختیار اور آئین کی کتنی ہی فرماں بردار ہو، وہ بھی ہر سال تو ایک وزیر اعظم کو فارغ نہیں کرسکتی۔ بے صبر درخواست دہندگان کو کم از کم پانچ برس یا اس مدت تک تو انتظار کرلینا چاہئے کہ عمران خان بھی نواز شریف کی طرح کسی شریف النفس اور محب وطن ادارے سے سینگ پھنسانے کی غلطی کر بیٹھیں۔ کیوں کہ وزیر اعظم کو ’فارغ ‘ کرنے کے لئے صرف آئین و قانون کی وضاحتیں کافی نہیں ہوسکتیں۔ قومی مفادات اور معروضی حالات کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں خارج ہونے والے اس مقدمہ کا ذکر کرکے دراصل لاہور ہائی کورٹ میں دائر مقدمہ پر دکھائی جانے والی مستعدی کی ضرورت کو نمایاں کرنا مقصود ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کا سہ رکنی بنچ بغاوت کے الزام میں دو سابق وزرائے اعظم اور ایک صحافی کے خلاف درخواست کو اتنا اہم سمجھتا ہے کہ صحافی کی غیر حاضری پر برہم ہو کر نہ صرف اس کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے بلکہ اس کے بیرون ملک سفر کو روکنے کے لئے سیرل المیڈا کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم بھی صادر ہؤا۔ قومی اہمیت کے اس معاملہ میں البتہ لاہور ہائی کورٹ نے بیگم کلثوم نواز کی رحلت کا عذر تسلیم کرتے ہوئے نواز شریف کے وکیل کی یہ درخواست قبول کرلی کہ اسے مرحومہ کے چالیسویں کی رسم تک مؤخر کر دیا۔ لاہور ہائی کورٹ کو اندازہ ہونا چاہئے تھا کہ اسے تین ملک دشمنوں اور آئین کے غداروں کے خلاف کارروائی کا جو نادر روزگار موقع دستیاب ہؤا ہے، اسے ضائع کرنا غیرمناسب اور قومی مفاد کے بالکل برعکس ہے۔ صرف ایک صحافی کی نقل و حرکت محدود کرنے سے ’قوم سے غداری ‘ کرنے والوں کی سرزنش نہیں ہو سکتی۔ مناسب ہوگا کہ درخواست گزار لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں تاکہ قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے جلد از جلد اپنے انجام کو پہنچیں۔

ملک میں عدالتوں کی طرف سے یہ روایت قائم کرنا ضروری ہے کہ وہ باور کروا سکیں کہ وہ آئین کی شق 6 کے تحت کارروائی سے نہیں گھبراتیں۔ خاص طور سے اگر اس کا اطلاق سیاست دانوں اور بے ضرر صحافیوں پر کیا جا سکتا ہو تو اس نیک کام میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ قومی مفاد میں آئین توڑنے والوں کو اگر گنجائش یا رعایت ملتی رہی ہے یا مسلسل فراہم ہورہی ہے تو اس کی معقول وجوہات رہی ہوں گی۔ اگر پاک فوج کے ستارے سجائے کوئی جرنیل سیاست دانوں کی نالائقیوں کی وجہ سے آئین کو منسوخ یا معطل کرتا ہے تو اس کا عذر بھی قابل قبول ہونا چاہئے۔ ملک پر جان وارنے والا کوئی سپاہی بلاوجہ تو ماورائے آئین اقدام نہیں کرسکتا۔ اب ملک کی عدالتیں اس کی مجبوریوں اور قومی مفاد کے لئے اس کی ضرورتوں کو نہیں سمجھیں گی تو کون اس کی فہم عام کرے گا۔ یوں بھی آئین ہے کیا؟ سابق فوجی حاکم جنرل ضیا الحق کے بقول کاغذ کا ایک بے کار ٹکرا جسے کسی وقت بھی پاؤں تلے مسلا جاسکتا ہے۔ لیکن ہمارے جنرل پرویز مشرف نے تو دوسری بار آئین معطل کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے اجازت لینے کی کوشش بھی کی تھی۔ لیکن اس وقت چند برس پہلے ان کے پی سی او پر حلف اٹھانے والے جسٹس (ر) افتخار چوہدری اپنے خلاف ریفرنس سے گلو خلاصی کے بعد قومی مفاد کی اصل تفہیم کو سمجھنے سے گریز کرنے اور پرویز مشرف سے ’انتقام‘ لینے کے جذبہ سے سرشار، دلیل اور حجت سے ماورا ہو چکے تھے۔ اسی لئے پرویز مشرف کو کبھی بھاگ کر ہسپتال میں پناہ لینا پڑی اور کبھی جنرل راحیل شریف پر کئے گئے احسانات کا تھوڑا سا بدل وصول کرکے نواز شریف جیسے منتقم مزاج ’دشمن‘ کے چنگل سے نجات حاصل کرکے ملک سے فرار ہونا پڑا۔ ورنہ چالیس برس تک ملک کی فوج میں خدمت انجام دینے والا ایک باعزت جنرل ملک سے باہر یوں ہی زندگی بسر کرتا ہے جیسے مچھلی پانی کے بغیر تڑپتی ہے۔

سیاست دان ہو یا صحافی یا ڈیم کی مخالفت کرنے والا کوئی بد طینت۔۔۔ ان کے خلاف آئین کی خلاف ورزی کا اقدام کرنے کا ارادہ کرنے والی عدالتیں ہی دراصل آئین سازوں کے دلوں میں موجود خیالات کو جان کر آئین کی حقیقی روح کو سمجھ رہی ہیں۔ جب ملک میں فوج سول حکومت کی سرپرست ہو، جب سول حکومت خارجہ اور سلامتی کے علاوہ حکومت سازی کے سارے معاملات یاد کرائے گئے اسباق کے مطابق انجام دے رہی ہو، جب عدالتیں اس تاریخی تعاون کی سہولت کار بن چکی ہوں ، جب دشمن ملک و قوم کے تمام اداروں کی یک جہتی اور اتحاد سے اتنا گھبرا چکا ہو کہ بات چیت سے منکر ہو کر اپنے چھوٹے پن کا مظاہرہ کررہا ہو اور سفارت و سیاست میں اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرکے جنگ کی دھمکیاں دینے پر اتر آیا ہو تو ملک کے غداروں سے رعایت درست فیصلہ نہیں ہو سکتا۔

چیف جسٹس غور کریں کہ نواز شریف اور سیرل المیڈا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کی نرمی سے کہیں کوئی بڑا نقصان نہ ہوجائے۔ اس سے زیادہ ملک کے عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور کیا ہوگی۔ بانیان آئین نے اسی لئے تو شق 184 (3) شامل کی تھی جس کی روح تک چیف جسٹس ثاقب نثار پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔ تو دیر کس بات کی ہے۔ ایک حکم جاری ہوجائے۔ اس ملک میں اگر صحافی سچ لکھنے کا عادی ہو گیا اور سیاست دان راز ہائے دروں خانہ کی پردہ دری پر اتر آئے تو کسی چہرے کا کوئی عیب چھپا نہیں رہ سکے گا۔ یہی وقت ہے کہ عصائے عدل گھمایا جائے اور ان سب کو ان کے بلوں میں گھسنے اور قومی مفاد پر بری نظر سے ڈالنے سے باز رکھنے کا اقدام کیا جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 986 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali