سفارتکاری سیکھیں


ناتجربہ کاری کا عذر اپنی جگہ مگر اتنی سی بات تو کچہری میں مکھیاں مارتا کوئی نکما ترین وکیل یاگائوں کی پنچایت کا سرپنچ بھی بتاسکتا ہے کہ دشمن سے لڑائی ختم کرکے صلح کرنے کا بہترین وقت کب ہوتا ہے ۔اگر آپ کا کسی ہمسائے سے جھگڑا چل رہا ہو اور بات مقدمے بازی تک جا پہنچی ہے تو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے بات چیت کیلئے پہل کرنا یقینا اچھی بات ہے لیکن دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے پہلے یہ جائزہ ضرور لیا جاتا ہے کہ فریق ثانی کی پوزیشن اور کیفیت کیا ہے۔

لڑائی میں کبھی ایک فریق کو برتری حاصل ہوتی ہے تو کبھی دوسرے فریق کا پلہ بھاری ہوتا ہے۔بات چیت کیلئے سازگار ماحول تب ہوتا ہے جب دونوںپارٹیاں ایک ہی نہج پر ہوں ۔مثال کے طور پر جب نریندرا مودی نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد پاکستانی ہم منصب نوازشریف کو اپنی تقریب حلف برداری میں مدعو کیا تو یوں لگا جیسے کشیدگی اور تنائو ختم ہو رہا ہے اور خوشگوار تعلقات کا نیا دور شروع ہونے لگا ہے۔

برسہا برس سے تطل کا شکار مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے کیلئے دونوں ملکوں کے سیکریٹری خارجہ نے 26اگست 2014ء کو اسلام آباد میں ملنا تھا مگر بھارت نے اچانک یہ ملاقات منسوخ کر دی۔ملاقات کی منسوخی کی وجہ بظاہر تو یہ بیان کی گئی کہ نیو دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر نے کشمیری حریت پسندوں سے ملاقات کی جس سے مودی سرکار کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا ۔

حالانکہ اس سے قبل 2005ء میں پرویز مشرف بھارت گئے اور حریت رہنمائوں سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو بھارتی سیکریٹری خارجہ شیام شرن نے فراخدلی سے کہا ،بھارت ایک جمہوری ملک ہے ،پرویز مشرف جس سےملنا چاہیں مل سکتے ہیں۔

اس ملاقات کو منسوخ کرنے کی وجہ دراصل یہ تھی کہ اپوزیشن اسلام آباد میں دھرنا دیئے ہوئے تھی ،ملک میں سیاسی عدم استحکام تھا ،جمہوری حکومت اپنی بقاکی جنگ لڑ رہی تھی اور مودی کو اس بات کا اِدراک ہو گیا تھا کہ نوازشریف کی حکومت سیاسی ضعف کے باعث کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میںنہیں اس لئے بامقصد اور نتیجہ خیز بات چیت نہیں ہو سکتی ۔

امریکی مصنف بو بینیٹ نے فنِ سفارتکاری کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا ہے،سفارتکاری صحیح وقت پر درست بات کہنے یا درست قدم اٹھانے کے بجائے غلط وقت پر غلط بات کہنے یا غلط قدم اٹھانے سے گریز کرنے کا نام ہے۔عمران خان سے غلطی یہ ہوئی کہ انتہائی غیر موزوں اور نامناسب وقت پرمودی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھادیا۔

اس وقت مودی سرکارکو نہایت مشکل حالات کا سامنا ہے ۔بھارتی روپے کی قدر بہت تیزی سے کم ہو رہی ہے اور مودی اب تک عوام کو خود یہ بتاتے رہے ہیں کہ بھارتی کرنسی مضبوط ہو گی تو ملک مضبوط ہو گا ۔نریندرا مودی کو دفاعی سودوں میں کرپشن جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور مستعفی ہونے کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔

بات کچھ یوں ہے کہ بھارت نے 2016ء میں فرانس سے رافیل جنگی جہاز خریدنے کا معاہدہ کیا ۔ڈیل کے مطابق لڑاکا طیارے بنانے والے فرانسیسی ادارے نے ان طیاروں کی فروخت سے حاصل ہونے والا 50فیصد سرمایہ بھارت میں ہی لگانا تھا۔

سابق فرانسیسی صدر فرانسز ہالینڈ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے یہ ڈیل کرتے وقت دبائو ڈالا کہ ان کے دوست انیل امبانی کیساتھ اشتراک کرکے یہ سرمایہ ان کی فرم میں لگایا جائے ۔اس انکشاف کے بعد بھارتی سیاست میں بھونچال آ گیا ہے اور راہول گاندھی نے ٹویٹ کی ہے کہ مودی نے انیل امبانی سے ملکر انڈین ڈیفنس فورسز پر 130ہزار کروڑ سرجیکل اسٹرائیک کئے ہیں ۔

مودی جی ! آپ نے ہمارے فوجی شہداء کے خون کی بے حرمتی کی ہے ،آپ کو شرم آنی چاہئے ۔مودی سرکار کی اڑچن یہ ہے کہ اگلے برس ملک میں چنائو ہے اور ان کی راج نیتی کی کشتی بھنور میں ہے ۔معاشی خوشحالی کے دعوے مٹھی میں بند ریت کی طرح پھسل رہے ہیں ،کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں ،ضعف و ناتوانی کی اس کیفیت میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو مودی سرکار نے اسے غیبی امداد سمجھ کر اپنے حق میں استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔

عمران خان چاہتے تو نریندرا مودی کو اپنی تقریب حلف برداری میں مدعو کرکے مشکل میں ڈال سکتے تھے کیونکہ ایسی صورت میں یہ دعوت نامہ ایسی چھچھوندر ثابت ہو تا جسے اگلنا اور نگلنا مشکل ہوتا۔بہر حال جب عمران خان نے ڈیئر مودی کے عنوان سے پریم پتر لکھا تو اس کی خبر مخصوص وقت پر جاری کرنے کے بعد نیویارک میں وزرائے خارجہ سطح کی ملاقات کا مطالبہ تسلیم کرلیا گیا اور پھر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت برہان وانی کے ڈاک ٹکٹ اور دہشتگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر یہ ملاقات منسوخ کر دی گئی ۔

بھارتی دفتر خارجہ نے دانستہ ایسی زبان استعمال کی کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی انا کوٹھیس پہنچے اور وہ مشتعل ہو کر ایسا جواب دیں جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو جائے ۔حسب توقع اشتعال انگیزی بڑھ گئی اور پھر بھارتی آرمی چیف نے جلتی پر تیل پھینکتے ہوئے درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ۔

بھارت سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے پر شاید ہی کسی کو اعتراض ہو مگر سوال یہ ہے کہ ہر بار ہم دوستی کا ہاتھ بڑھانے کیلئے ذلت آمیز راستہ کیوں اختیار کرتے ہیں ؟1999ء میں اٹل بہاری واجپائی خود چل کر لاہور آئے اور مینار پاکستان جاکر یہ اعتراف کیا کہ پاکستان ایک حقیقت ہے مگر محب وطن حلقوں کو یہ بات ایک آنکھ نہ بھائی اور نوازشریف کو بھارت نواز کہا گیا ۔

چند برس بعد پرویز مشرف آگرہ گئے تو بھارت سے مذاکراتی عمل کا سلسلہ جاری رکھنے کی بھیک مانگتے رہے ۔اسی طرح جب گزشتہ دورِ حکومت میں نریندرا مودی لاہور آئے اور دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی امید دکھائی دینے لگی تو ایک بار پھر نوازشریف پر الزامات کی بوچھاڑ کردی گئی اور انہیں مودی کا یار کہا جانے لگا ۔لیکن نئی حکومت آنے پر ہم نے ایک بار پھر نہایت منت سماجت کا رویہ اختیار کرتے ہوئے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو حسب سابق بھارت نے حقارت سے جھٹک دیا ۔

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں