پاکستانی جامعات اور تحقیق کا معیار


afzal khanپاکستانی جامعات میں تحقیق اور اس کے معیار کے حوالے سے جو بحث و مباحثہ یاسرپیرزادہ کے کالم سے شروع ہوا، ایک اچھی ابتدا ہے۔ جس سے کم ازکم عام پاکستانی بھی ملکی جامعات کے مسائل اور معیار کے متعلق اپنی دلچسپی کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ جیسا کہ یاسر پیرزادہ کے کالم اور پھر جوابی کالموں پر تبصروں سے ظاہرہوتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں، کہ جس طرح دوسرے قومی اداروں کی کاکردگی تسلی بخش نہیں ہے، اسی طرح تعلیمی اداروں کا بھی وہی حال ہے۔ وہاں بھی اہلکار سہولیات کے فقدان کا رونا روتے ہیں، اور تعلیمی اداروں سے وابستہ اساتذہ بھی۔ تاہم نامساعد حالات کے باوجود بہتری کی گنجایش نکال لینی چاہیے۔

اس مباحثہ میں کچھ چیزیں ایسی تھی، کہ انکو ذاتی انداز میں لیا گیا اور کچھ حقایق سے چشم پوشی کی گئی۔ یونیورسٹیوں کو مالی وسائل کی کمی کا سامنا ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے، چاہے آپ جتنا بھی انکار کرلیں۔ معیاری سائنسی تحقیق اچھی خاصی مالی وسائل کے بغیر اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔ معیاری سائنسی تحقیق جدید سازوسامان سے لیس تجربہ گاہ کے بغیر ناممکن ہے۔ جامعات کی بجٹ کا یہ حال ہے کہ تنخواہیں مشکل سے پوری ہوجاتی ہے، اور ریسرچ کے لئے مطلوبہ وسائل مہیا نہیں ہوپاتے۔ ایچ ای سی اور کچھ دیگر ادارے تحقیق کے لئے مالی وسائل مہیا کرتے ہیں، لیکن وہاں بھی ہزار مسئلے ہوتے ہیں جس پر ایک تفصیلی کالم لکھا جا سکتا ہے۔ جہاں تک پیسوں کی ریل پیل کا تعلق ہے، تو یونیورسٹی میں ہر پروفیسر ٹی ٹی ایس پر نہں ہوتا۔ تقریباّ آدھے سے بھی زیادہ پروفیسرز بی پی ایس پر ہوتے ہیں جو کہ کسی بھی دوسرے سرکاری ملازمین جتنی تنخواہیں لیتے ہیں۔ ٹی ٹی ایس آسسٹنٹ پروفیسرز اگر ایک لاکھ تیس ہزار لیتے ہیں، تو فُل پروفیسرزقریباّ تین لاکھ لیتے ہیں جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ امپیکٹ فیکٹر جرنل میں کوئی تحقیق شائع کرنا ایک مشکل اور وقت طلب کام ہے اور ہایئ امپیکٹ فیکٹر جرنل میں تو اور بھی مشکل ہو جاتاہے- ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیوں میں بھی ایک پی ایچ ڈی سٹوڈنٹ اوسطاّ تین پیپپرزامپیکٹ فیکٹر جرنلز میں شائع کرتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں یہ اوسط اگر ایک ہو، تو برا نہیں۔

جامعات میں تحقیقی کام کے کم ہونے یا غیر معیاری ہونے کا ایک تعلق انڈسٹری سے بھی بنتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں انڈسٹریز جامعات میں تحقیق کو مالی طور پر سپورٹ کرتے ہیں۔ اور یوں وہاں پر ایجادات اور دریافتیں ہوتیں ہیں۔جبکہ پاکستان میں یونیورسٹی اور انڈسٹری کا تعلق نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک تو یہاں پر انڈسٹریز ہیں بھی بہت کم، اور جو ہیں وہ عشروں پہلی پرانی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ اُن کو innovations سے کوئی لینا دینا نہیں۔

جامعات میں معیاری تحقیقی کام نہ ہونے میں طلبۃ اور اساتذہ دونوں برابر کے شریک ہیں۔ ایک طرف طلبۃ کم سے کم وقت میں تھوڑی سی محنت سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری لینا چاہتے ہیں، تو دوسرِی طرف کچھ اساتذہ نے بھی ڈگریاں بانٹنے والی مشینیں لگا رکھی ہیں۔ ایسے اساتذۃ جو طلبۃ سے معیاری تحقیق کروانا چاہتے ہیں، طلبۃ اُن کے پاس پھٹکتے بھی نہیں۔ اور یوں کچھ سال سنجیدہ طلبۃ کے انتظار میں ضایِع کرنے کے بعد ان میں بھی اکثر نمک کے کان میں نمک بن جا تے ہیں۔

موجودہ لوڈشیڈنگ اور دوسری سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ہماری جامعات میں تحقیق انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ جو تحقیق پاکستان میں ایک سال میں مکمل ہوتی ہے، وہ ترقی یافتہ ممالک میں چند مہینوں میں مکمل ہو کے امپیکٹ فیکٹر جرنلز میں شائع بھی ہو جا تی ہے۔ اور جب کوئی تحقیق کسی بھی امپیکٹ فیکٹر جرنل میں ایک دفعہ شائع ہو جا تی ہے، تو وہی تحقیق یا اُس سے ملتی جلتی تحقیق کسی بھی امپیکٹ فیکٹر جرنل میں شائع ہونے کے قابل نہیں رہتا۔ اور یوں ایک سال کی پاکستانی جامعات میں تحقیق کی حیثیت صرف ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے برابر ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ بھی معیاری تحقیق کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں ہیں جن کا دور کیا جانا ضروری ہے۔۔ اس مباحثے کے ضمن میں کسی پر ذاتی حملے کرنے سے بہتر ہے کہ جو بنیادی مسائل ہیں ان کی طرف توجہ مبذول کرایئ جائے اور ان کا مناسب حل بھی تجویز کیا جائے۔


Comments

FB Login Required - comments