کمرہ جماعت میں سوال کرنے کی آزادی


تعلیم کا بنیادی مقصد تبدیلی ہے۔ انفرادی اور سماجی سطح پرتبدیلی۔ تعلیم کا ایک اور اہم مقصد آزادیوں کا حصول ہے۔ سوچ کی آزادی‘ اظہار کی آزادی اور انتخاب کی آزادی‘ لیکن بعض اوقات تعلیم جب تقلید محض کا سبق دیتی ہے‘ تو یہ لوگوں کی سوچ کو سلانے کے کا م آتی ہے۔ تعلیم کی اس قسم میں طالب علم کو صرف تقلید محض سکھائی جاتی ہے اور انفرادیت‘ جدت پسندی‘ اور تخلیق کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

70کی دہائی میں ایک کتاب Deschooling Society نے تعلیم سے وابستہ افراد کو چونکا دیا۔ کتاب کے مصنف Ivan Illich نے اس تعلیم کو تنقیدکا نشانہ بنایا ‘جس کے نتیجے میں ادارہ جاتی سطح پر ایک ہی قسم کی سوچ پروان چڑھائی جاتی ہے اور جس میں انفرادیت کی کو ئی گنجائش نہیں ہوتی۔

پالوفریرے (Paulo Freire) نے بھی اپنی کتاب The Pedagogy of Oppressed میں اس تعلیم کے تصور پر شدید تنقید کی ہے‘ جسے وہ (Banking Model of Education) کہتا ہے‘ جس میں استاد شاگرد کے خالی ذہن میں علم انڈیلتا ہے۔ اس ماڈل میں سب سے بڑا مفروضہ یہ ہے کہ شاگرد کا ذہن خالی برتن (Empty Vessels) کی طرح ہوتا ہے۔

یہی وہ تعلیم کا رجعت پسندانہ تصور ہے‘ جس میں طلباء کو ایک سادہ تختی (Clean Slate) سے تشبیہ دی جاتی ہے اور استاد کو علم کا واحد ذریعہ سمجھا جاتا ہے ۔ جدید تحقیق سے ان دونوں مفروضوں کی نفی ہوتی ہے۔

ہمارے زیادہ تر سکو لوں میں طالب علموں کو کلاس میں سوال کرنے پر اساتذہ کے غیظ وغضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ یوں ابتدائی جماعتوں میں ہی طلباء اس بات کو اچھی طرح جان لیتے ہیں کہ عافیت اسی میں ہے کہ کلاس میں خاموش بیٹھا جائے اور ٹیچر کی کسی بات سے اختلاف نہ کیا جائے۔ ہمارا نظام امتحان بھی طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں کو جانچنے کے بجائے ان کی یادداشت کو پرکھتا ہے۔ امتحانی سوالات کی اکثریت کیا (What)  ٹائپ سولات ہوتے ہیں۔ کیوں(Why)  اور کیسے (How) قسم کے سوالات کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ یوں ہمارا نظام امتحان طالب علموں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کا ر لانے کی بجائے صرف ان کی یادداشت کا پیمانہ بن جاتا ہے۔

یوں ہمارے زیادہ تر سکو لوں میں طلباء کو تقلید محض سکھائی جاتی ہے۔ اگر کو ئی طالب علم گھڑے گھڑائے جواب سے ہٹ کرچیزوں کی تفہیم کرے‘ توامتحان میں اس کی کا میابی مشکو ک ہوجاتی ہے۔ کسی خیال کو چیلنج کرنا خوبی کی بجائے ایک جُرم تصور کیاجاتا ہے۔ بقول اقبالؔ:

گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا

کہاں سے آئے صدا لا الہ الا للہ

جدید تحقیق نے یہ ثابت کر دی ہے کہ بچے کا ذہن خالی سلیٹ کی طرح نہیں ہوتا‘ بلکہ ابتدائی عمر سے ہی ان کے ذہن کے پردے پر تصورات اور عقائق کا ظہور ہوتا ہے۔ تعلیمی ادارے جن کا فرض منصبی طلباء کے خیالات کو جلا بخشنا ہوتا ہے ۔ ان کی تحقیقی صلاحیتوں کی آبیاری کرنا ہوتا ہے اور ان کے کردار کو اجالنا ہوتا ہے۔ وہی تحقیقی ادارے ان کو ایک خاص ڈگر کے تابع کردیتے ہیں‘ جس میں انفرادی سوچ ‘ انفرادی تصور‘ اور انفرادی افتادطبع کو نہ صرف نظرانداز کیاجاتا ہے‘ بلکہ اس کی سزابھی دی جاتی ہے۔

مجھے (Dead Poets Society)فلم یاد آرہی ہے‘ جس میں انگریزی اد ب کا استاد ایک پبلک سکو ل میں جدید طریقہ تدریس کو متعارف کراتا ہے‘ جس کا مقصد طلباء میں تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ وہ طلباء کی شخصیت کی ہمہ گیری (Holistic Development) کے لیے کلاس سے یا باہرہم نصابی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے‘ لیکن یہی تخلیقی انداز تدریس آخرمیں اس کے سکو ل کے اخراج کا باعث بن جاتا ہے۔

تعلیم کا ایک اہم مقصد تخلیقی اذہان کی تشکیل ہے‘ تاکہ طلباء فکر کے نئے زاویوں سے آشنا ہوں اور پٹے پٹائے راستوں کی آرام طلبی کو چھوڑ کرسوچ کی نئی پگڈنڈیاں تلاش کریں۔ یہی جدتِ فکر معاشرے میں بوسیدہ مسائل کے تازہ جواب تلاش کرنے میں مدد گارثابت ہوتی ہے۔ ترقی پذیرممالک کا المیہ یہ ہے کہ ان کے تعلیمی نظام میں  Critical Thinking کی کو ئی جگہ نہیں ہوتی۔ طلباء کو لکیرکا فقیر بنا دیا جاتا ہے‘ اگر کوئی طالب علم استاد کے خیالات سے اختلاف کی جسارت کرے ‘تو اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ استاد کا کردار طلباء کے ذہنوں پر ان مٹ نقوش چھوڑتا ہے۔ استاد کا قول اور فعل طلباء کے لیے ایک مخفی نصاب (Hidden Curriculum) ہوتا ہے‘ جوروایتی نصاب سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے‘ مثلاً :اگر ایک استاد کلاس میں خود دیر سے آتا ہے‘ تو اس کے شاگرد کے لیے وقت کی پابندی نہ کرنا ‘ایک عام اور قابل قبول بات ہوگی۔ اساتذہ کے قول اور فعل کا یہی تضاد طلباء کے ذہنوں میں انتشار کا باعث بنتا ہے۔ قول اور فعل کا یہ تضاد تعلیمی اداروں کی سطح پربھی پایاجاتا ہے یہ ادارے کچھ اقدار کے بلندوبانگ دعوے کرتے ہیں‘ ان اقدار میں ایک ڈسپلن بھی ہے‘ جس کی خاطر انفرادی سوچ اور تخلیقی فکر کو بے رحمی سے کچل دیاجاتا ہے۔

مجھے ایک اور خوبصورت فلم Scent of a woman یاد آ رہی ہے جو یار مہربان رئوف کلاسرہ کے توسط سے میں نے دیکھی۔ رئوف کلاسرا کتابوں اور فلموں کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اخبار میں کالم‘  ٹی وی پر پروگرام کرنے‘ دوستوں کی محفلوں میں شرکت‘ اپنے گائوں جیل کلاسرا کے آئے دن دوروں کے بعد بھی اس کے پاس کتابوں اور فلموں کے لیے وقت کہاں سے آتا ہے۔

Scent of a woman کی کہانی Baird Schoolکی کہانی ہے۔ جہاں ڈسپلن کے نام پر انفرادی  Integrityکی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ فلم میں خاصے کی چیز وہ تقریر ہے‘ جو معروف اداکار  Al Paciono  ڈسپلن کمیٹی کے سامنے کرتا ہے اور سکو ل کی منافقانہ پالیسی کا پردہ چاک کرتا ہے۔

کسی بھی معاشرے میں رواداری‘ اختلاف رائے اور برداشت کی ابتدائی تربیت گھراور سکو ل سے ہوتی ہے۔ اسی طرح جدتِ فکر اور ندرتِ خیال کی کو نپلیں بھی ابتدائی سالوں میں پھوٹتی ہیں؛ اگرہمارے تعلیمی اداروں میں طلباء کو سوال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی اختلاف رائے کی تو انفرادی سوچ اور تخلیق کے سوتے خشک ہوتے جائیں گے۔ معاشرے میں یک رخی سوچ اور عدم برداشت کے مظاہرے عام ہوںگے۔ تبدیلی کے اس عمل میں اساتذہ بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں تربیت اساتذہ کے خصوصی کو رس کرائے جائیں۔ ان کو رسز میںCritical Thinkingاور Reflective Practice کے ماڈیولز ہوں‘ تاکہ اساتذہ کو انفرادی سوچ اور تخلیق کی اہمیت کے ساتھ ساتھ وہ مہارتیں بھی سکھائی جائیں ‘جن کی مددسے وہ طلباء میں وہ اعتماد پیداکرسکیں ‘جو آزادیٔ افکا ر اور آزادیٔ اظہار کے لیے ضروری ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 60 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui