تھپڑ سے نہیں، پیار سے ڈر لگتا ہے


پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے لیے قابلِ قبول اور نارمل ممالک بنانے کا کام پہلی جنریشن کی قیادت ہی کر سکتی تھی۔ جناح، لیاقت ،گاندھی، نہرو اور پٹیل ایک دوسرے کی صلاحیتوں، نفسیات،طاقت،کمزوری اور انداز سے نہ صرف واقف تھے بلکہ برت بھی چکے تھے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ تقسیم کے خونی دنوں میں دونوں طرف کی قیادت قتلِ عام کی شدت کا اندازہ کرنے یا روکنے میں بری طرح ناکام رہی۔

مگر یہی ناکامی اس کارِ خیر کی بنیاد بھی تو بن سکتی تھی کہ اس پاگل پن سے عبرت پکڑتے ہوئے آیندہ کی ممکنہ جنگوں میں الجھاؤ سے بچنے کے لیے رابطہ کاری کا ایسا میکینزم وضع کر لیا جاتا جو دونوں ممالک کی اگلی قیادت اور آنے والی نسلوں کو دوطرفہ شرمندگی سے بچا سکے۔ پر ایسا نہ ہو سکا۔ لہذا ایک کے بعد ایک آنے والی نسل مزید الجھتی چلی گئی اور آج دونوں جانب کی قیادت کی چوتھی پیڑھی اسی الجھی ڈور کا گولہ لیے کھڑی ہے جس میں سات دہائیوں کا ہر برس نئی گرہیں لگاتا چلا گیا۔ دونوں میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس الجھے ہوئے گھچے کا سرا کہاں ہے ؟

دو طرفہ تدبر و برداشت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھنے کے بجائے کیسے کم ہوتے ہوتے زیرو پر آ گئے۔ اس کا اندازہ یوں لگائیے کہ تیس جنوری انیس سو اڑتالیس کو جب پاکستان بنے صرف ساڑھے پانچ ماہ ہوئے تھے، مسلمان و غیر مسلم مہاجروں کے لٹے پٹے قافلوں کے بٹے ہوئے پنجاب اور بٹے ہوئے بنگال کے آر پار جانے کا سلسلہ جاری تھا۔ گاندھی جی کو ایک جن سنگھی ہمدرد نتھورام گوڈسے نے گولی مار دی۔ کیونکہ گاندھی نے اس مطالبے کے حق میں چند دن پہلے ہی مرن برت رکھا تھا کہ بٹوارے کے نتیجے میں پاکستان کو جو اثاثے ملنے ہیں ان کی ترسیل میں حکومتِ ہند کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔

جیسے ہی گاندھی کے قتل کی خبر کراچی پہنچی تو پاکستان کا قومی پرچم ایک دن کے لیے سرنگوں ہو گیا اور گورنر جنرل نے اپنے تعزیتی پیغام میں گاندھی کو ایک عظیم ہندوستانی لیڈر کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ حالانکہ سن اڑتالیس انچاس میں کشمیر کی ملکیت کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلح تصادم ہو چکا تھا۔ اس کے بعد بھارت نے پاکستان جانے والے دریائی پانی کو بھی روکنے کی کوشش کی، اس کے جواب میں لیاقت علی خان نے مکا بھی دکھایا۔ مگر ساتھ ساتھ یہ روائیت بھی جاری رہی کہ نہرو جب بھی دلی سے یورپ جاتے یا آتے تو اکثر ان کا جہاز کراچی میں رکتا اور کوئی نہ کوئی وزیر ان کا خیرمقدم کرتا۔

اسی طرح جب کوئی پاکستانی وزیر یا وزیرِ اعظم کراچی سے ڈھاکا جاتا تو اس کا جہاز دلی میں پالم کے ہوائی اڈے پر ضرور رکتا۔ لنچ بھی اکثر وہیں کیا جاتا اور پھر آگے اڑان بھری جاتی۔ پینسٹھ کی جنگ سے پہلے کسی اعلی بھارتی شخصیت کا کراچی آنا یا پاکستانی شخصیت کا دلی جانا معمول کی خبر تھی۔ جب کہ ایک دوسرے کو بین الاقوامی طور پر نیچا دکھانے اور کبھی کبھار تندو تیز بیانات کے تبادلے کا سلسلہ بھی اپنی جگہ برقرار تھا۔

پاکستان کے پہلے دیسی سپاہ سالار جنرل ایوب خان اور بھارت کے پہلے دیسی سپاہ سالار جنرل کری اپا کے درمیان کری اپا کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پرانا تعلق باقی رہا بلکہ ایک بار تو ایوب خان نے بھارت میں جاری علاقائی تحریکوں اور سیاستدانوں کی بے اعتدالیوں سے نمٹنے کے لیے کامریڈ جنرل کو مارشل لا نافذ کرنے کا دوستانہ مشورہ بھی دیا۔

مگر پینسٹھ کی جنگ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان مروت و دشمنی ساتھ ساتھ چلانے کی روائیت کو دفن کر دیا۔ شہریوں کی آسان آمدو رفت، غیر رسمی تجارتی تعلقات ، فلموں کا تبادلہ ماضی کا قصہ ہو گیا۔ حتی کہ ریڈیو پاکستان سے بھارتی شاعروں کا کلام نشر ہونا بھی بند ہو گیا۔ مگر فراق گورکھپوری کا کلام پھر بھی نشر ہوتا رہا کیونکہ کسی فیصلہ ساز کے علم میں یہ بات نہیں لائی گئی کہ فراق کا اصل نام کیا ہے؟ ( رگھو پتی سہائے)۔ پینسٹھ کی جنگ شروع ہوتے ہی پاکستان میں جو ایمرجنسی نافذ ہوئی اسے بیس برس بعد جونیجو حکومت نے ہی ختم کیا۔

اکہتر کی جنگ کے نتائج نے بھارت اور پاکستان کے تعلقات کو ایک طرح سے قبائلی و ذاتی دشمنی کا رنگ دے دیا۔ یعنی ایک دوسرے کو ہر سطح پر کسی بھی فورم پر نیچا دکھانا لازمی ہے۔ جب سن چوہتر میں بھارت نے پہلا جوہری دھماکا کیا تو اس خبر نے اکہتر کی جنگ سے پھوٹنے والے انتقامی جذبے کے لاوے کو پتھر بنا دیا۔ تب سے اب تک پاکستان اور بھارت کے تعلقات اسی سنگِ دشمنی پر چل رہے ہیں۔ ( حالتِ امن میں گر جنگ کا مزہ لینا ہو تو واہگہ اٹاری بارڈر پر روزانہ گیٹ کھلنے بند ہونے کا ایڑی مار تماشا دیکھنا کافی ہے )۔

یہ دشمنی رفتہ رفتہ غلام عباس کی آنندی بن گئی۔ یعنی پہلے دشمنی نے نیچائی سے اٹھ کر بلندی پر بسیرا شروع کیا۔ پھر اس دشمنی کو سینچنے والے اسلحہ ساز آس پاس بس گئے، پھر اسمگلر آ گئے، پھر دشمنی کو پختہ عقلی و نظریاتی رنگ دینے والے دانشوروں اور اسٹرٹیجی بازوں کا روزگار اس کارخانہِ دشمنی سے وابستہ ہونا شروع ہو گیا۔ پھر میڈیا نے اس بستی میں ڈیرہ جما لیا۔ آج یہ حالت ہے کہ بات چیت تو درکنار دونوں ممالک میں اگر کوئی صرف یہ بھی کہہ دے کہ خطے کو آگے بڑھانا ہے تو اقتصادی تعاون کے بغیر نہ سیاسی گاڑی چلے گی نہ معاشی۔ اس جملے کے بعد غداری ، وطن فروشی ، ایجنٹی اور مشکوک کرداری کے وہ وہ دشنامی تیر چلتے ہیں کہ ایسی تجویز دینے والے کی سات پشتیں بھی ناک سے لکیریں نکالنے پر راضی ہو جائیں۔ یہ وہ بدقسمت تعلقات ہیں جنھیں دونوں ممالک میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حریف ایک دوسرے کی پتنگ کاٹنے کے لیے بطور مانجھا استعمال کرتے ہیں۔

جب تک پاک بھارت دشمنی مخصوص مفادات کے لیے منفعت بخش معیشت نہیں بنی تھی تب تک کوئی نہ کوئی امکان ضرور تھا کہ دونوں ممالک کی قیادت ہوش کے ناخن لے کر کچھ بڑے اور کڑوے فیصلے کر لے۔ مگر بہت سے اور مواقع کی طرح یہ وقت بھی ہاتھ سے نکل گیا۔ اب اس دشمنی میں کمی دونوں جانب بہتوں کے پیٹ پر لات مارنے کا سبب بن سکتی ہے لہذا جنگجو معیشت آسانی سے کوئی بھی پودا نہیں لگنے دے گی۔

مرے پے سوواں درہ یہ کہ اب ان تعلقات کا مستقبل سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کی دسترس سے نکل کر بطرزِ استرا میڈیا کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ اس بابت ماضی قریب میں ایل کے اڈوانی اور آنجہانی جسونت سنگھ کی جانب سے قائدِ اعظم محمد علی جناح کی تعریف اور رائے ونڈ میں مودی کی میزبانی کرنے والے نواز شریف کے جیسے لتے لیے گئے اس کے بعد تازہ ترین جنرل قمر جاوید باجوہ سے معانقہ کرنے والے نوجوت سنگھ سدھو اور اب ایک قدم کے بدلے دو قدم آگے بڑھنے کی پیش کش کرنے والے عمران خان کے ساتھ جو میڈیائی و حزبِ اختلافی سلوک ہو رہا ہے وہ آپ کے آگے ہے۔ لہذا رہی سہی امید رکھنا بھی بہت زیادہ امید رکھنے جیسا ہے۔

آپ نے وہ فلمی جملہ تو سنا ہی ہوگا ’’ تھپڑ سے نہیں صاحب پیار سے ڈر لگتا ہے‘‘۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں