ریڈیو پاکستان کی بحرانی صورت حال


اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر کے بیان کے مطابق شاہراہ دستور پر واقع پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی عمارت کو کسی اور مقصد کے لئے استعمال کی تجویز زیر غور ہے۔ اور ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعہ کہا گیا ہے کہ ریڈیوکے ملازمین ایک ماہ کے اندر اس عمارت کو خالی کر دیں اور اپنا ساز و ساماںن لے کر ریڈیو پاکستان کی اکیڈمی میں شفٹ ہو جائیں۔

اس خبر سے ریڈیو کے ملازمین اور ملک بھر کے اہل فکر و دانش حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کیونکہ ریڈیو وہ ادارہ ہے جس سے ملک کی اعلی ترین شخصیات وابستہ رہی ہیں۔ پاکستان کے قیام کی روح پرور اطلاع نشر کرنے اور خصوصا 1965ء کی جنگ میں نہایت والہانہ اور موثر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور افواج پاکستان اور عوام الناس کا حوصلہ بڑھانے اور ولولہ تازہ کرنے میں ریڈیو پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا جس کا اعتراف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کیا گیا۔ ریڈیو کی آواز ملک کے دور دراز علاقوں اور ایسے علاقوں جہاں ابھی تک لوگ بجلی کی سہولت سے محروم ہیں، ریڈیو ہی ابلاغ کا موثر ذریعہ ہے۔ سنگلاخ سرحدی علاقوں ، صحراﺅں اور بیابانوں میں اپنے فرائض منصبی ادا کرنے والے شیر دل جوانوں کا رابطہ ریڈیو کے ذریعے ہی دنیا سے قائم ہے۔

خصوصا سیا چین کی برف پوش چوٹیوں پر اگر ہمارے بہادر فوجی جوانوں اور افسروں کا دنیا سے کوئی رابطہ ہے تو وہ ریڈیو کے ذریعے ہے۔ بین الاقوامی سطح پر خصوصا مشرق وسطی ، یورپ، افریقہ اور امریکہ میں لوگ گاڑیوں میں ریڈیو پاکستان کے ذریعے ہی اپنے ملک کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ دنیا بھر کی تیس زبان میں ریڈیو پاکستان سے خبریں، حالات حاضرہ اور تفریحی پروگرام نشر ہو تے ہیں۔ ان زبانوں میں دنیا کے بڑے بڑے ممالک میں بولی جانے والی زبانوں کے علاوہ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں بولی جانے والی زبانوں میں بھی خبریں، دینی معلوماتی اور تفریحی پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ جن کا مقابلہ پاکستان کے کسی بھی اور نشریاتی ادارے سے نہیں ہو سکتا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تیس زبانوں میں ہونے والی خبروں ، حالات حاضرہ اور تفریحی پروگراموں کے لئے بہت بڑے عملے کی ضروت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریڈیو پاکستان سے دنیا کی مختلف زبانوں سے تعلق رکھنے والے افراد وابستہ ہیں۔ جس سے ریڈیو پاکستان کی بین الاقوامی شناخت ہوتی ہے۔ ویسے بھی ہر کوئی جانتا ہے کہ اگر کسی ملک کا ریڈیو بند ہو جائے تو بین الاقوامی سطح پر سمجھا جاتا ہے کہ خدانخواستہ کوئی بڑی افتاد ٓن پڑی ہے۔ جنگ، امن اور ہنگامی صورت حال خصوصا زلزلوں ، سیلابو ں اور جنگوں میں ریڈیو ہی ابلاغ کا موثر ترین ذریعہ ہوتا ہے۔

پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی موجودہ عمارت میں ریڈیو کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ یہاں خبروں ، مانیٹرنگ ،حالات حاضرہ، انتظامیہ، پروگرام اور انجینئرنگ کے شعبہ جات چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے دور میں قائم کی گئی اس عمارت کی اہمیت اور افادیت مسلمہ ہے۔ اتنے بڑے سیٹ اپ کو ریڈیو پاکستان کی اکیڈمی میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے بے شمار سٹوڈیوز کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرا ہیڈ کوارٹر ز کی موجودہ حالت کو تمام شعبوں میں پیشہ وارانہ ضروریات کو مدنظر رکھ کر تعمیر کیا گیا ہے۔ جسے تبدیل کرنا نہایت غیر مناسب ہوگا۔ یہ پرشکوہ عمارت ریڈیو پاکستان جیسے عظیم ادارے کی پہچان ہے۔ اس کی ایک نہایت شاندار اہمیت ہے۔ اس عمارت میں کسی قسم کا ردوبدل کرنا یا پھر اس کے شعبوں کو کہیں اور منتقل کرنا پیشہ وارانہ نکتہ نظر سے نہایت قبیح حرکت ہو گی۔ اس قسم کے اقدام سے اک بڑے قومی ادارے کو تباہ کرنا کسی بھی لحاظ سے ملکی مفاد میں نہیں ہو گا۔

تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے سادگی اپنا نے اور اوپر کی سطح سے نیچے کی سطح تک بچت کے اصولوں کو اپنانے کا جو وژن دیا ہے، وہ قابل صد ستائش ہے۔ اور عوام میں اس کو پذیرائی ملی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کہیں لاعلمی میں کسی بڑے ادار ے کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچ جائے۔ اس سلسلے میں کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا چاہئے۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ وژن کہ اداروں کو مضبو ط بنانا ہے ، نہ کہ کمزور کرنا۔ اسی کو مدنظر رکھنا چاہیئے۔ پاکستان سے اپنی تیس سالہ وابستگی اور جذباتی لگاﺅ کی وجہ سے ہم سمجھتے ہیں کہ پیشہ وارانہ لحاظ سے یہ ایک عظیم اور بے نظیر ادارہ ہے۔ اس ادارے کو مزید فعال بنانے کے لئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ لیکن برسوں کی شبانہ روز محنتوں میں اس کی ساکھ کو قائم رکھنے والوں کے لئے یہ بہت بڑا دھچکہ ہوگا ۔ اگر اس کی عمارت کو کسی اور مقصد کے لئے استعمال کیا جائے، جس سے ادارہ تباہی کا شکار ہو جائے گا۔

حکومت کو اپنے فیصلے پہ خلوص نیت کے ساتھ اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ بصورت دیگر ریڈیو ملازمین اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے اعلی عدالتوں سے رجوع کرنے کا آئینی اختیار رکھتے ہیں جو موجودہ حکومت کے لئے پشیمانی کا باعث ہو گا۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں