قریبی رشتہ داروں میں شادیاں اور موروثی بیماریاں، معذوری اور موت کی اہم وجہ


شبانہ اور شاہد حسن نے یونیورسٹی تعلیم کے چار سال ساتھ گزارے۔ ادب، فلسفہ، شاعری و سیاست جیسے موضوعات میں دلچسپی اور طبیعت میں مماثلت کے سبب وہ دوستی کے اس مقام پہ تھے کہ جہاں اکثر گفتگو الفاظ کی محتاج نہیں رہتی۔ لیکن ان دونوں کے بیچ ایک دیوار ضرور حائل تھی۔ مذہب اور ثقافت کی۔ شبانہ مسلکاً سُنی اور بہار کی تھی۔ اور شاہد ہزارہ سے تعلق رکھنے والا شیعہ نوجوان۔ دونوں کے ہی گھرانے خاندان میں رشتہ جوڑنے کے قائل تھے۔ شبانہ کے والدین کا کہنا تھا کہ۔ ۔ ” اگر خاندان ہی میں پڑھے لکھے اور برسرِ روزگار شریف لڑکے موجود ہوں تو باہر کی خاک چھاننا حماقت ہی نہیں اللہ کی ناشکری بھی ہے۔ ‘‘

اور پھر وہی ہوا کہ جو صدیوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔ یعنی والدین کی طے کی ہوئی شادی اس طرح آنسو بہاتی شبانہ اپنے سگے خالہ زاد جو اس کا سگا چچا زاد بھی تھا، سے بیاہ دی گئی۔ شادی کے اس بندھن سے دونوں خاندانوں کو یقین تھا کہ خاندان آپس میں جڑے رہیں گے۔ اور اس طرح اگلی نسل میں طور طریقہ، مذہب و محبت اور خیال آسانی سے منتقل ہو گا۔ گو وہ آپس میں شادی کی ریت کو برقرار رکھ کر اگلی نسل میں محبت کا ورثہ سونپنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ مگر یہ سپنا شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ شبانہ باوجود دو بار حاملہ ہونے کے کبھی بھی ماں نہ بن سکی۔ ڈاکٹروں نے اس کی سب سے اہم اور ممکنہ وجہ لگاتار دو تین نسلوں میں آپس کی شادیاں بتائیں۔

فرسٹ کزنز یا قریبی رشتہ داروں کے مابین شادی یا ازدواجی رشتہ قائم کرنے کی اس رسم کو (Consanguineous) شادی کہا جاتا ہے۔ یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے۔ ( Con ) مطلب شراکت اور (Sanguis) کا مطلب خون ہے (1؂ ) یعنی خونی رشتہ داروں کے درمیان رشتہ۔ حیاتیاتی سائنس ترقی اور تحقیق کی رو سے ایسی شادیوں کے نتیجے میں خاندان کی بیماریوں کے موروثی ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور یہ معاشرے میں معذور افراد کی تعداد میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ ایسی شادیوں کے نتیجے میں سالانہ کم و بیش سات سو سے زیادہ بچے جینیاتی نقص اور موروثی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں (2؂ ) اور اکثر امراض کسی حد تک ناقابل علاج ہیں۔ یہ صورتحال اگر خود معذور افراد اور ان کے گھر کے لیے تکلیف دہ ہے۔ تو سماج کے لئے ایک لمحہ ِفکریہ۔

موروثیت اور جینیاتی مادہ ڈی این اے

انسانی خواص کی ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقلی ( بشمول موروثی بیماریاں) کا رمز انسانی خلیہ میں موجود جینیاتی مادے ڈی این اے میں مضمر ہے۔ 28 فروری 1953 ؁میں اس اہم جزو کی دریافت کا سہرا جیمس واٹسن اورفرانسس کرک کے سر بندھتا ہے۔

اس عظیم دریافت کے بعد سے آج تک حیاتیاتی سائنس نے مسلسل سائنسی تحقیق اور تجربات سے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ بہت سی بیماریاں موروثی ہوتی ہیں جن میں اہم کردار آپس میں ہونے والی قریبی رشتہ داروں میں شادی کا ہے۔ ڈی این اے جینز بناتا ہے اور اولاد سے والدین میں منتقل ہوتا ہے۔ ویسے تو ہم سب میں ہی ایسی ناقص جینز یا حیاتیاتی مادہ ہوتا ہے لیکن اگر والدین کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہو کہ جہاں یہ ناقص (بیماری سے متعلق) جینز یا Recessive genes پائی جاتی ہے توموروثی بیماری کے ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اور ایک چوتھائی (پچیس فیصد) امکانات بیماری یا ممکنہ معذوری کا سبب بننے کے ہوتے ہیں (4؂ ) اس صورت میں نوزائیدہ بچوں میں اموات (یعنی ایک تہائی یعنی اپنی پانچویں سالگرہ سے پہلے ہی مر جاتے ہیں) ۔

پیدائشی نقص، وزن میں کمی، سیکھنے کی اہلیت میں کمی، اندھا پن، سماعت کے مسائل کے علاوہ ماؤں میں حمل گرنے اور بانجھ پن کا سبب بنتے ہیں۔ بچوں میں ذہنی کمزوری، نیورولوجیکل ) اعصابی) ڈس آرڈر مثلاً آٹزم، دل، گردے، پھیپھڑے اور دوسرے اعضا کے ناقص ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ چند ایک بیماریوں کے نام تھیلیسیمیا، سیکل سیل انیمیا، ہیمو فیلیا، سسٹک فائبروسس (Cystic fibrosis) آنکھوں کی بیماری مثلاً (Retinitis pigmentosa) مائیکرو پتھیلمیا (Micropthalmia) کے علاوہ بیشمار بیماریاں ہیں جو والدین سے اولاد میں منتقل ہو سکتی ہیں۔

دیکھا جائے تو سگے رشتہ داروں حتی کہ بہن بھائیوں میں شادی کا رواج قدیمی ہے۔ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو خونی رشتہ داروں میں ایسی شادیاں ابتدا سے مروج تھیں اور یہ عمل عجوبہ اور ناپسندیدہ بھی نہیں تھا۔ اس کے تحت خاندان کی نسل کو خالص اور (جائیداد کو بالخصوص) شاہی خاندانوں میں رکھنا مقصود تھا۔ خود مصر کی ملکہ قلوپطرہ نے جولیس سیزر اور مارک انطونی سے شادی سے قبل اپنے چھوٹے بھائی ٹولوی ہشتم سے شادی کی تھی۔

یہی نہیں مشہور زمانہ نظریہ ارتقاء کے بانی چارلس ڈارون نے اپنی سگی کزن ایما سے شادی کی جو دس بچوں کی ماں بنی۔ جن میں سے اکثر کم عمری میں مر گئے۔ بعد کے زمانے میں آئین سٹائن نے اپنی سیکنڈ کزن ایلسا سے 1919 ؁میں شادی کی۔ اس طرح مغرب میں بھی اس طرح کی شادیوں کا رجحان عام اور غیر معیوب تھا۔ تاہم علم و آگہی اور حیاتیاتی سائنس کی تحقیق کے نتائج کی وجہ سے آپس کی شادیوں کے رجحان میں کمی آنے لگی۔ آج کچھ ممالک میں اس کی قانوناً پابندی ہے۔ اور اکثر خطوں میں جہاں پابندی نہیں وہاں ثقافتی اور منطقی طور پر اس کو پسندیدہ عمل قرار نہیں دیا جا رہا۔ تاہم دنیا کے بہت سے ممالک ایسے بھی ہیں کہ جہاں قریبی رشتہ داروں (فرسٹ، سیکنڈ اور تھرڈ کزن وغیرہ) سے شادی کے رجحان میں ابھی بھی کمی واقع نہیں ہوئی۔ اور ان میں بالخصوص وہ جغرافیائی حدود ہیں کہ جہاں اسلامی ثقافت نے فروغ پایا۔

یہی وجہ ہے کہ بدقسمتی سے ان ممالک میں موروثی بیماریوں اور ان کے نتیجے میں معذوری کی شرح تشویش ناک حد تک بڑھی ہوئی ہے۔ ان علاقوں میں رہنے والے قریبی اور خونی رشتہ داروں میں شادی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ اسلام میں اس کی منادی نہیں اور محترم ہستیوں نے خود رشتہ داروں میں شادیاں کیں۔ اس سلسلے میں کسی رائے (خواہ سائنسی اور تحقیقی بنیاد رکھتی ہو) کا خیر مقدم آسانی سے نہیں کیا جاتا تاہم مسلمانوں کے علاوہ عیسائیوں، یہودیوں، بدھ مذہب، ہندوؤں اور بالخصوص چھوٹی محدود کمیونیٹیز مثلاً آرمش یا جاپان اور اسرائیل جیسے ممالک میں آباد کمیونیٹیز میں بھی یہ طریقہ کسی حد تک مروج ہے۔

موجودہ دور یعنی 2018 ؁ میں دنیا کی بیس فیصد آبادی ایسی بستیوں میں آباد ہے کہ جہاں Consanguineous شادیوں یا قریبی رشتہ داروں میں شادی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ وہ ممالک کہ جہاں یہ رجحان عام ہے ان کا تعلق مغربی ایشیا، مشرقِ وسطی اور شمالی افریقہ کے علاقوں سے ہے۔ فروری 2017 میں ایجپشن جرنل آف میڈیکل ہیمین جینیٹک (Egyptian Journal of Medical Human ) میں چھپنے والے آرٹیکل کے مطابق ایسی شادیوں کا تناسب سب سے زیادہ عرب ممالک میں ہے۔ کچھ اعداد وشمار اس طرح ہیں۔ سعودی عرب میں 58 فیصد، اردن میں 51 سے 58 فیصد، کویت میں 54 فیصد، یو اے اے میں 50 فیصد، قطر میں 52 فیصد، عمان میں 50 فیصداور اسکندریہ (مصر) میں 68 فیصد ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق انڈیا کے مسلمانوں میں 22 فیصد جموں اور کشمیر میں 40 فیصد اور پاکستان میں 70 فیصد (اور کہیں یہ اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ ہیں) ۔ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جینیاتی بے اعتدالیوں کے نتیجے میں بیماریوں کا سب سے زیادہ تناسب عرب میں یعنی 66 فیصد ہے۔ اور اس کا بنیادی سبب آپس کی شادیاں ہیں۔ ( 7؂ )

وہ ممالک کہ جہاں قریبی رشتہ داروں میں شادیاں یا تو قانوناً منع یا ناپسندیدہ قرار دی جاتی ہیں۔ اس میں ایتھوپیا سر فہرست ہے کہ جہاں چھٹی پشت تک کے کزن سے شادی منع ہے۔ جبکہ ساؤتھ کوریا میں تیسری پشت کے کزن سے شادی پہ پابندی ہے۔ چین میں 1981 کے میرج ایکٹ کی رو سے ایسی شادیاں غیر قانونی ہیں۔ یو ایس میں کزن سے شادی قومی طور پر 1857 تک مروج تھی۔ آج پچاس میں سے اکتیس ریاستوں میں فرسٹ کزنز کے ساتھ شادی غیر قانونی قرار دی گئی ہے جبکہ یورپ اور جنوبی امریکہ میں اس پر پابندی نہیں۔ تاہم یورپ میں اس کا تناسب ایک فیصد اور برازیل میں 1.1 فیصد ہے۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ کزنز یا قریبی رشتہ داروں میں شادیاں ہو سکتا ہے کہ روحانی اور جذباتی آسودگی کا سبب بنتی ہوں۔ ممکن ہے کہ اس کے معاشی نتائج بھی خواہش کے عین مطابق ہوں۔ لیکن اگلی نسل پر اس کے اثرات بالخصوص صحت (ذہنی و جسمانی) پہ اتنے اچھے ہونے کے امکانات نہیں۔ اور یہ کوئی خیالی بے پر کی بات نہیں۔ اس کے ٹھوس دلائل اور سائنسی شواہد ہیں۔ مثلاً یو ایس کی آئیڈاہو ریاست (Idaho) میں ایک کاؤنٹی میں آمش آبادی بارہ فیصد ہے کہ جہاں تین سو سال سے آپس میں شادی کی وجہ سے ان کا شمار معذور اکثریت میں ہے۔ (8؂ ) لیکن اگر وطن عزیز پاکستان کا جائزہ لیں تو صورتحال اسی طرح گھمبیر ہے۔

پشاور کے جنوب میں واقع چارسدہ میں 30 کلومیٹر پر محیط 350 مکانات پر مشتمل ایک گاؤں میں ایسی شادیوں کی قیمت بچوں کو ادا کرنی پڑ رہی ہے کہ جہاں ہر تیسرے گھر میں بچے پیدائشی نقص کا شکار ہیں۔ اس علاقہ میں 80 سے 90 فیصد شادیاں قریبی رشتہ داروں میں ہوتی ہیں ان بچوں میں یہ بیماریاں اندھے پن، دماغی نقص، جسمانی نقص، سماعت و گویائی سے معذوری، تھیلیسیمیا، وغیرہ کی صورت ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں