فلسفہ روزہ سمجھنے کی ضرورت


anwar ghaziمسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو دینِ اسلام کے بعض احکام کو بالکل نہیں مانتا یا پھر اس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ کبھی وہ قربانی کا یہ کہہ کر انکار کرتا ہے کہ قربانی پر جو بھاری بھرکم وسائل خرچ ہوتے ہیں وہ کسی فلاحی کاموں کو لگادینے چاہیے کہ اس وقت فلاحی کاموں کی عامة المسلمین کو بہت زیادہ ضرورت ہے۔ کبھی وہ پردے کا یہ کہہ کر انکار کرتا ہے کہ یہ عورتوں پر جبر ہے۔ یہی طبقہ آج کل ہیٹ اسٹروک اور شدید گرمی کا بہانہ بناکر روزے کی اہمیت کو کم کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ان حضرات کا خیال ہے کہ روزے کی جگہ فدیہ دیدینا ہی کافی ہے، کیونکہ قیامت خیز گرمی اور انتہائی حبس زدہ موسم میں 15 سے 22 گھنٹے بھوکا پیاسا رہنا انسانیت پر ظلم ہے اور یہ خودکشی کے مترادف ہے۔ حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ دین اسلام کی بنیاد کی جن پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے، ان میں سے ایک روزہ بھی ہے۔ بخاری شریف کی حدیث نمبر 50 ہے”اسلام یہ ہے: ”کلمہ پڑھنا، نماز پڑھنا، زکوٰة ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، حج ادا کرنا۔“

قارئین! روزے کا ثبوت قرآن و حدیث سے ہے اور اس کے بے شمار فضائل وارد ہوئے ہیں۔ قرآن میں ہے: ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کردیے گئے ہیں،جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تمہارے اندرتقوی پیداہو۔“ (البقرة 183) ”رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے سراپا ہدایت، اور ایسی روشن نشانیوں کا حامل ہے جو صحیح راستہ دکھاتی اور حق وباطل کے درمیان دوٹوک فیصلہ کردیتی ہیں، لہٰذا تم میں سے جو شخص بھی یہ مہینہ پائے، وہ اس میں ضرور روزہ رکھے۔“ (البقرہ، 185) ان آیات کے علاوہ بھی کئی آیتیں اس حوالے سے ہیں۔ اب چند احادیث پیش خدمت ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے محض اللہ تعالی کے لیے ثواب کی نیت سے رکھے تواس کے پچھلے سب گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ (صحیح بخاری:1/16۔ حدیث نمبر: 38) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ فرماتے ہیں: روزہ میرے لیے ہے ، میں ہی اس کابدلہ دوں گا۔میرابندہ میری رضا کے واسطے اپنی خواہش نفس اورکھاناپینا چھوڑ دیتاہے۔ روزہ ڈھال ہے۔ روزہ دار کے لیے دومسرتیں اوردوخوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے پروردگار کے بارگاہ میںحضوری اورشرف باریابی کے وقت۔ اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالی کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔“ (صحیح البخاری :9/143۔ حدیث نمبر: 7492) حضرت سھل بن سعدؓ سے روایت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:”جنت کے دروازوں میں سے ایک خاص دروازہ ہے، جس کو” باب الریان“ کہاجاتاہے۔ اس دروازے سے قیامت کے دن صرف روزے داروں کا داخلہ ہوگا، ان کے سوااس میں کوئی داخل نہ ہوسکے گا۔ اس دن پکاراجائے گا، کہاں ہےں وہ جو اللہ کے لیے روزے رکھاکرتے تھے،پس وہ اس دروازے سے جنت میں داخل ہوں گے۔جب آخری آدمی بھی داخل ہوجائے گاتودروازہ بند کردیاجائے گا، پھر کسی کا اس سے داخلہ نہیں ہوسکے گا۔“ (صحیح مسلم :2/ 808۔حدیث نمبر: 1152) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، آپﷺ نے فرمایا:میری امت کورمضان میں پانچ چیزیں خصوصی طورپرعطاکی گئی ہیں، اس سے پہلے یہ خصوصیات کسی امت کونہیں دی گئیں:(1) روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالی کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے (2)ان کے لیے دریا کی مچھلیاں بھی افطاری کے وقت تک دعاکرتی رہتی ہیں (3) روزانہ جنت کو ان کے لیے آراستہ کیاجاتاہے، پھر اللہ جل شانہ فرماتے ہیں: قریب ہے کہ میرے نیک بندے دنیا کی مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آویں(4) اس میں سرکش شیاطین قید کردیے جاتے ہیں، وہ رمضان میں ان برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف غیررمضان میں پہنچ سکتے ہیں (5) رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! یہ شب مغفرت شب قدر ہے؟ آپ نے فرمایا :نہیں، بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کوکام ختم ہونے کے وقت مزدوری دے دی جاتی ہے۔ (مسند ا ¿حمد: 13/295۔ حدیث نمبر: 7917 ) حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے،آپ ﷺ نے فرمایا: روزہ اور قرآن دونوں بندوں کی سفارش کریں گے۔ روزہ عرض کرے گا اے میرے پروردگار! میں نے اس بندے کو کھانے پینے اوردن کوشہوات نفس کی خواہشات کو پوراکرنے سے روکے رکھا، آج میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما، قرآن کہے گا، میں نے اس کو رات میں سونے اورآرام کرنے سے روکے رکھا، پس آج اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔چنانچہ روزہ اورقرآن دونوں کی سفارش قبول فرمائی جائے گی۔ (شعب الایمان: 3/378۔ حدیث نمبر: 1839) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، جس نے رمضان کا روزہ بغیر کسی عذر اوربیماری کے چھوڑدیا، عمربھرکے روزے بھی اس کی تلافی نہیں کرسکتے۔ (صحیح البخاری:3/32) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے،آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی روزہ رکھ کر بھی باطل کلام اورباطل کام نہ چھوڑے، تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔“ (صحیح البخاری:3/26۔ حدیث نمبر: 1903) حضرت ابوہریرہؓ آپ ﷺسے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”جب تم میں سے کسی کاروزہ ہوتوچاہیے کہ وہ بے ہودہ اورجاہلانہ گفتگونہ کرے، اگر کوئی دوسرا اس سے گالی گلوچ یاجھگڑاکرے توکہہ دے میں روزہ دارہوں۔“ (صحیح مسلم: 2/806۔ حدیث نمبر: 1151) حضرت ابو ہرےرہؓ سے رواےت ہے آپﷺ نے فرماےا: ”جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شےاطےن اور سرکش جنات باندھ لیے جاتے ہےں اور جہنم کے دروازے بند کر لیے جاتے ہےں ، پس ان مےں سے کوئی دروازہ کھلا نہےں رہتا اور جنت کے دروازے کھول دئےے جاتے ہےں، پس ان مےں سے کوئی دروازہ بند نہےں کےا جاتا اور اےک پکارنے والا پکارتا ہے: ”اے نےکی کے طلبگار! آگے بڑھ اور اے برائی کے طلبگار! رک جاﺅ“ اور اللہ تعالیٰ رمضان کی ہر رات بہت سے لوگوں کو دوزخ سے آزاد فرماتے ہےں۔“ (ترمذی) حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہےں: رمضان کا مہےنہ شروع ہوا تو آپﷺ نے فرماےا: ”تم پر ےہ مہےنہ آگےا ہے اور اس مےں اےک رات ہے جو ہزار مہےنوں سے بہتر ہے، جو شخص اس کی بھلائی سے محروم رہا تو بے شک وہ ہر بھلائی سے محروم رہا اور اس کی بھلائی سے محروم نہےں رکھا جاتا مگر ہر محروم شخص کو۔“ (ابن ماجہ) حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرماےا: ”جب رمضان کا مہےنہ شروع ہوتا تھا تو آپﷺ ہر قےدی کو رہا فرماتے تھے اور ہر مانگنے والے کو دےتے تھے۔“ (مشکوٰة) اب آتے ہیں فلسفہ روزہ کی طرف! روزے کے پانچ فلسفوں میں سے ایک فلسفہ یہ ہے کہ مصیبت زدہ انسان ہی کسی کی پریشانی و دکھ کا صحیح احساس کرسکتا ہے۔ روزے سے یہ بات پائی جاتی ہے کہ بڑے سے بڑے سرمایہ دار دولت مند کو بھی جب ایک بار بھوک و پیاس کا ذائقہ روزے کی وجہ سے چکھنے کا موقع ملتا ہے۔ جب اپنے معصوم بچوں کے روزے کے موقع پر ان کی متغیر حالت دیکھتا ہے تو اس کو غربت زدہ لوگوں کی بھوکو پیاس کا احساس ہوتا ہے۔ یہ جذبہ بھی دل کے کسی گوشے میں اُبھرنے لگتا ہے کہ ان مفلوک الحال بھوکے پیاسے لوگوں کی صدقہ و خیرت سے مدد کی جائے۔ دولت مند خوش حال کو اگر روزے میں بھوک و پیاس کی تکلیف نہ برداشت کرنی پڑتی تو ساری عمر گزرنے پر بھی بھوک و پیاس کا احساس نہ ہوتا۔ اگر کوئی بھوکا ضرورت مند اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا اور اپنی تکلیف و پریشانی کا اظہار کرکے کچھ طلب کرتا تو چونکہ دولت مند کو فاقے کی تکلیف معلوم ہی نہیں، اس لیے وہ اس پر کیسے رحم کھاتا؟ برخلاف روزہ رکھنے کے کہ اس کی وجہ سے غریبوں، محتاجوں اور یتیموں کی دستگیری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ ہمدردی و ایثار جیسی خوبیوں کا وجود عمل میں آتا ہے۔ تجدد پسند طبقے سے درخواست ہے کہ خدا دین اسلام کی بنیادوں پر بودے دلائل سے حملہ آور نہ ہوں۔


Comments

FB Login Required - comments