نواز شریف کی علالت: مشکل آئینی و سیاسی سوالات


editوزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے آج لندن سے قومی اقتصادی کونسل اور پھر وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر کے تاریخ رقم کی ہے۔ اس طرح قومی بجٹ کو منظور کرنے کے لئے یہ آئینی شرط پوری کر دی گئی کہ اس کی منظوری وزیراعظم کی صدارت میں منعقد ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں دی جائے گی۔ اس کے بعد اسے منظوری کے لئے قومی اسمبلی میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ آج کے اجلاسوں کی صدارت اس لحاظ سے بھی بے حد اہم تھی کہ کل لندن کے ایک اسپتال میں ہی وزیراعظم کی اوپن ہارٹ سرجری ہو گی۔ وہ دل کے علاج کے لئے ایک ماہ میں دوسری مرتبہ لندن گئے تھے لیکن ڈاکٹروں نے اینجیو پلاسٹی کے ذریعے اسٹنٹ ڈالنے کی بجائے بعض پیچیدگیوں کے سبب نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اہم آپریشن سے قبل جو کئی گھنٹوں پر محیط ہو سکتا ہے، وزیراعظم نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر کے بھی ایک مثال قائم کی ہے۔ تاہم قانونی و آئینی ماہرین اور اپوزیشن لیڈر اسے آمرانہ طرز عمل اور بادشاہ جیسا مزاج قرار دے رہے ہیں جو اختیارات چھوڑنے یا بانٹنے پر تیار نہیں ہوتا۔

میاں نواز شریف آج صبح قومی اقتصادی کونسل اور وفاقی کابینہ کے یکے بعد دیگرے اجلاسوں کی وڈیو لنک کے ذریعے صدارت کرنے لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے دفتر پہنچے تو انہوں نے وہاں پر موجود صحافیوں سے بھی مختصر گفتگو کی اور قوم کا صحت یابی کے لئے دعائیں کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تک یہ سب نیک خواہشات پہنچ رہی ہیں۔ بہت سے لوگوں نے فون کر کے میری خیریت دریافت کی ہے اور بعض نے ای میل یا پیغام روانہ کیا ہے۔ ان میں مسلمانوں کے علاوہ عیسائی اور دوسرے عقیدوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔ میں سوشل میڈیا پر بھی لوگوں کی نیک خواہشات اور دعاؤں کو دیکھ رہا ہوں اور ان سب لوگوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صحت یاب ہو کر جلد وطن لوٹنا چاہتے ہیں۔

ہائی کمیشن کے دفتر سے وزیراعظم نے وڈیو لنک کے ذریعے اسلام آباد میں وزرا اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ پر مشتمل قومی اقتصادی کونسل کے شرکا سے بات چیت کا آغاز کیا۔ اس اجلاس میں 17-2016 کے مجوزہ بجٹ کی منظوری دی گئی۔ یہ بجٹ 1675 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے 800 ارب روپے وفاق مختلف ترقیاتی کاموں پر صرف کرے گا جبکہ 875 ارب روپے ترقیاتی مد میں صوبوں میں تقسیم ہوں گے۔ بجٹ میں گزشتہ مالی سال کے دوران قومی پیداوار میں 4.71 فیصد اضافہ دکھایا گیا ہے۔ یہ شرح حکومت کے مقررہ 5.5 فیصد ٹارگٹ سے کم ہے۔ اس کے باوجود آئندہ مالی سال کے لئے قومی پیداوار میں 5.7 فیصد اضافہ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ماہرین اس طرف اشارہ کرتے رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت گزشتہ تین برس سے اپنے مقررہ اقتصادی اہداف پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے باوجود آئندہ برس کے لئے بڑا ہدف مقرر کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران حقیقی قومی پیداوار کی شرح ساڑھے تین سے چار فیصد رہی تھی لیکن عالمی مالیاتی فنڈ نے قومی پیداوار میں اضافہ کے لئے ساڑھے چار فیصد کا ہدف دے رکھا تھا۔ اس شرط کو پورا کرنے اور حکومت کی اقتصادی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اعداد و شمار کے ہیر پھیر سے جاری مالی سال کے دوران قومی پیداوار میں 4.71 فیصد اضافہ دکھایا ہے۔ یہی اعداد و شمار قومی بجٹ کا حصہ بھی بنائے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ تین روز بعد بجٹ، قومی اسمبلی میں منظوری میں پیش کریں گے۔ اس وقت آئندہ مالی سال کے دوران حکومت کی مالی ترجیحات اور محاصل میں اضافہ کے بارے میں معلومات سامنے آ سکیں گی۔ تب اپوزیشن اور ماہرین سرکاری معلومات کو حقائق کی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے ملک کی معاشی صحت کے بارے میں اصل صورتحال واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم ادھر بجٹ کی منظوری کے بعد وزیراعظم منگل کو لندن کے اسپتال میں اوپن ہارٹ سرجری کے تیاری کر رہے ہیں تو پاکستان میں اس سوال پر بحث شدت اختیار کرتی جا رہی ہے کہ وزیراعظم کی بیماری کے دوران امور مملکت کس طرح چلائے جائیں گے۔ کابینہ کے ذرائع یہ بتاتے رہے ہیں کہ پاکستان میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار روزمرہ امور کو دیکھ رہے ہیں لیکن نواز شریف خود بھی پیچیدہ اور مشکل معاملات میں بذریعہ وڈیو لنک رہنمائی کے لئے موجود رہے ہیں۔ ناقدین اور بعض آئینی ماہرین اسے ریموٹ کنٹرول سے حکومت چلانا قرار دیتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ حکمران پارٹی کو اس صورتحال میں وزیراعظم نواز شریف کو رخصت پر بھیج کر عبوری مدت کے لئے نیا وزیراعظم منتخب کر لینا چاہئے تھا۔ اس طرح حکومتی اور ملکی امور میں کسی قسم کا تعطل بھی پیدا نہ ہوتا اور یہ تاثر بھی زائل ہو جاتا کہ نواز شریف کی غیر موجودگی میں ان کی پارٹی کوئی سیاسی فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس پارٹی میں کوئی ایسا قابل اعتبار اور اہل شخص موجود ہے جو ایسی ایمرجنسی میں عبوری وزیراعظم کے طور پر فرائض انجام دے سکے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہمنا عمران خان اس صورتحال کو پاناما لیکس کے بعد دوسرا بڑا قومی بحران قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف پاکستانی حکومت کے معاملات کو بادشاہت کی طرح انجام دے رہے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں ان کا رشتہ دار وزیر اسحاق ڈار ہی کابینہ کا نگران مقرر کیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال ملک میں جمہوریت کے لئے مہلک اور نقصان دہ ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اگر اس دوران ملک میں جمہوریت کا بستر گول کیا جاتا ہے تو اس کی ساری ذمہ داری نواز شریف پر عائد ہو گی جو اس بحرانی اور مشکل وقت میں بھی کسی دوسرے شخص کو ملک کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر کام کرنے کا اختیار دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ افسوسناک صورتحال ہے جس کے ملک کی جمہوریت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ عمران خان نے وزیراعظم کی اوپن ہارٹ سرجری کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کی صحتیابی کے لئے دعا کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا لیکن انہوں نے وزیراعظم کے طرز عمل پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ یہ تنقید کرنے والے عمران خان تنہا نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ریٹائرڈ جسٹس طارق محمود کی بھی یہی رائے ہے کہ نواز شریف کو بیماری کی حالت میں صورتحال کو غیر یقینی بنانے کی بجائے وقتی طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا۔ جب وہ صحت مند ہو کر واپس آتے تو دوبارہ اپنا عہدہ سنبھال سکتے تھے۔ تاہم ملک کے آئین میں ایسا کوئی تقاضا نہیں کیا گیا کہ وزیراعظم کی غیر موجودگی میں لازمی کوئی عبوری وزیراعظم یا چیف ایگزیکٹو نامزد ہونا چاہئے۔ اسی لئے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایسی صورت میں وزیراعطم کابینہ کے سینئر وزیر کو اپنے اختیارات تفویض کر سکتے ہیں۔ البتہ اس سوال پر سب آئینی ماہرین متفق نہیں ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ طویل بیماری یا غیر حاضری کی صورت میں یہ طریقہ اختیار کرنا مناسب نہیں ہے۔

اس بحث کے دوران مسلم لیگ (ن) کے ذرائع وزیراعظم کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ نواز شریف کے علاوہ کوئی ایسا شخص موجود نہیں ہے جو پارٹی کو اکٹھا رکھ سکے۔ اس لئے اس بیماری کے دوران بھی یہ خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا کہ کسی دوسرے شخص کو یہ عہدہ تفویض کر دیا جائے۔ کسی غیر متوقع صورتحال سے بچنے اور فوج کو اعتماد میں لینے کے لئے پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ روز آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی اور انہیں اعتماد میں لیا۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حکومت اور فوج میں اتفاق رائے موجود ہے اور وزیراعظم کی غیر موجودگی میں فوج کسی قسم کی طبع آزمائی نہیں کرے گی۔

اس دوران وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت نواز شریف کے کئی قریبی عزیز کل وزیراعظم کے اہم آپریشن کے موقع پر موجود رہنے کے لئے لندن پہنچ گئے ہیں۔ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن یا مسلم لیگ (ن) کے ذرائع اس اسپتال کا نام بتانے سے گریز کر رہے ہیں جہاں وزیراعظم کا آپریشن ہو گا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس طرح پاکستانی شہری اور مسلم لیگ کے کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہو کر اسپتال کی انتظامیہ اور دوسرے مریضوں کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔ نواز شریف کی صاحبزادی نے گزشتہ ہفتے کے دوران اوپن ہارٹ سرجری کی اطلاع دیتے ہوئے ٹوئٹر پیغام میں بتایا تھا کہ وزیراعظم کو آپریشن کے ایک ہفتہ بعد تک آرام کرنا ہو گا۔ سرکاری ذرائع اور حکومت کے رکن امید کر رہے ہیں کہ نواز شریف دو ہفتے کے اندر وطن واپس لوٹ سکیں گے۔ تاہم اس کا انحصار ڈاکٹروں کی رائے پر ہو گا۔ عام طور سے اوپن ہارٹ سرجری کے بعد چار سے چھ ہفتے مکمل آرام کا مشورہ دیا جاتا ہے جبکہ مکمل طور سے صحت بحال ہونے میں تین ماہ تک صرف ہو جاتے ہیں۔

گو کہ پوری قوم وزیراعظم نواز شریف کی مکمل صحتیابی کے لئے دعا گو ہے اور اس وقت پوری توجہ کل ہونے والے آپریشن کی طرف ہی مبذول ہے۔ تاہم نواز شریف کی علالت کے سبب ملک میں جو اہم سیاسی اور آئینی سوال اٹھائے گئے ہیں انہیں محض اپوزیشن اور مخالفین کی تنقید قرار دے کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صورتحال ملک کے آئین میں کسی کمی سے زیادہ ملک کی سیاسی پارٹیوں کے کمزور ڈھانچے کا پول کھول رہی ہے۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں افراد اور خاندانوں کے گرد گھومتی ہیں۔ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ پارٹی پر کنٹرول کرنے کے لئے ایک ہی خاندان کے مختلف ارکان کے درمیان بھی مقابلے بازی کی صورتحال موجود رہتی ہے۔ آئین میں ترمیم کر کے وزیراعظم کی طویل غیر موجودگی میں عبوری وزیراعظم مقرر کرنے یا سینئر وزیر کو وہی اختیارات دینے کی شق تو شامل کی جا سکتی ہے لیکن سیاسی پارٹیوں کی اصلاح تو خود اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کو ہی کرنا ہو گی۔ اس لئے وزیراعظم نواز شریف کی علالت سے پیدا ہونے والا سوال ملک کی ہر اس پارٹی کے لئے اہم ہے جو صرف فرد واحد کے اشارے پر فیصلے کرنے پر مجبور ہے۔ ملک کے جمہوری نظام میں مستقبل میں کوئی بھی پارٹی حکومت بنا سکتی ہے اور کسی اعلیٰ عہدے پر فائز کوئی بھی شخص اچانک بیمار ہو سکتا ہے۔ ایسی ناگہانی صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے پارٹی کا مضبوط اور قابل اعتبار ڈھانچہ استوار کرنا اور ایک سے زیادہ لوگوں کو پارٹی معاملات میں بااختیار بنانا ہر پارٹی کے لئے ضروری ہے۔

ملک کی سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کو وزیراعظم کی علالت سے پیدا ہونے والی صورتحال سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی اپنی پارٹی میں اصلاح کا عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر اس معاملہ کو صرف نواز شریف پر تنقید یا مسلم لیگ (ن) کو مطعون کرنے کے لئے استعمال کیا گیا تو یہ جمہوریت یا عوام کی کوئی خدمت نہیں ہو گی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali