منٹو اور علیشاہ


 maliha hashmiبازار حسن کا نام سنتے ہی تصور کے پردے پر طبلے کی تھاپ، گھنگروؤں کی کھنک اور آنکھوں میں مستی لئے حسینہ آ جاتی ہے لیکن کیا کبھی کسی کے ساتھ ایسا بھی ہوا ہے کہ ان کے سامنے بازار حسن کا نام لیا جائے اور تصور میں آنکھوں کو چبھتے شوخ رنگ کے کپڑے اور سستے میک اپ سے لتھڑے مردانہ خدوخال والے کسی مخنث کی شبیہہ لہرائی ہو؟ اس کا عمومی جواب نفی میں ہے۔ کم از کم میں نے اپنے اطراف میں موجود افراد سے جب بازار حسن کا نام لیا تو کوئی ایک بھی شخص ایسا نہ ملا جس کے ذہن میں بازار حسن اور خواجہ سرا کے بیچ میں کوئی تعلق موجود رہا ہو۔ ایسا کیوں ہے؟ کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ بازار حسن کی منظر کشی ہی ہمیشہ اس انداز میں کی گئی کہ معاشرے کے اس مکروہ چہرے کو ہمیشہ حسن و رعنائی کی شوگر کوٹڈ شکل دینے کے لئے طوائف کو تو بطور علامت استعمال کیا گیا لیکن اسی بازار میں عام بکنے والی اس جنس کو کسی نے توجہ کے قابل نہ گردانا۔ شاید صرف اس لئے کہ مجبوری، بے کسی اور بے بسی کی یہ علامت طوائف کی نسبت دنیاوی حقائق سے قریب تر تو محسوس ہوتی ہے لیکن یہ باعث کشش ہرگز نہیں یا پھر شاید اس لئے کہ معاشرے کو اس کے مکروہ چہرے کا آئینہ دکھانے کے لئے عمومی ذمہ دار سمجھے جانے والے فنکار، تخلیق کار اور ادباء نے بھی اس موضوع کو درخور اعتنا نہ جانا یا پھر شاید اس لئے کہ یہ طبقہ بھی اس بازار کے اس روایتی تصور میں ہی آج تک کھویا ہوا ہے کہ جس کے مطابق یہاں سر شام ہی کوٹھوں پر رقص و سرور کی محافل سج جاتی ہیں اور اپنی شناخت کی تلاش میں در در بھٹکتی یہ صنف زیادہ سے زیادہ بائی کے پہلو میں بیٹھی نچھاور ہونے والے نوٹوں کو اکھٹا کرنے کا کام کرتی ہے لہذا توجہ کے قابل نہیں۔

اردو ادب میں سب سے زیادہ معتوب ٹھہرائے جانے والے ادیب سعادت حسن منٹو جنہوں نے ساری زندگی اشرافیہ کے خلاف اعلان جنگ کئے رکھا اور طوائف کی صورت میں چھپی معاشرتی غلاظت کو سربازار لانے کے سبب فحش نگاری کا الزام اپنے سر لیا، وہ بھی کالی شلوار کی سطانہ،ہتک کی سوگندھی، بابو گوپی ناتھ کی زینت کے ذریعے معاشرے کو آئینہ دکھانے کا کام تو بخوبی کرتے رہے لیکن ایک بھی علیشاہ جیسا کردار تخلیق نہ کرسکے جو معاشرے کے اس مجبور ترین طبقے کی عکاسی کرتا۔ عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی اور کرشن چندر، جنہیں پریم چند کے بعد افسانہ نگاری سے شہرت ملی، وہ بھی اس ضمن میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

یہ صورتحال صرف ادبا تک ہی محدود نہیں۔ کیا آج تک آپ نے کبھی کسی نوکری کے اشتہار کے لئے سنا کہ ’’ خواجہ سرا‘‘ کو ترجیح دی جائے گی؟ یہاں اگر آپ کے ذہن میں ان کی تعلیم سے محرومی کا معاملہ آ رہا ہے تو یہاں مالی، چوکیدار، چپڑاسی، جمعدار سمیت ایسی بہت سی نوکریاں ہوتی ہیں جہاں پرائمری پاس یا پھر ان پڑھ شخص بھی بھرتی کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس طبقے کو بھی بھرتی کرنے کا اشتہار دیا جائے تو کیا پھر بھی معاشرے میں کوئی ایک بھی خواجہ سرا ایسا نہ ہوگا جو یہ نوکری حاصل کرنے اور باعزت طریقے سے روزگار کما کے اپنی زندگی گزارنے کی سعی نہ کرے گا؟ این سی اے میں دفتری امور کے لئے ایک خواجہ سرا کی بھرتی کے سوا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ خیر نوکریوں کے حصول تک کی نوبت تو اس وقت آئے گی ناں جب اس جنس کو ہم معاشرے میں ایک جیتے جاگتے اور ہم جیسے انسانوں کے برابر کا انسان تصور کرتے ہوئے انہیں معاشرے میں شناخت کا ذریعہ یعنی کے شناختی کارڈ کی سہولت دیں گے۔ یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ 2012 میں اس طبقے کو اپنی شناخت یعنی شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت دی گئی تاہم اس سہولت سے محض وہی خواجہ سرا فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہیں اپنے والد کا نام معلوم ہے اور ان کا نام سرکاری دستاویزات میں رجسٹر ہے۔ یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے کہ ایسا معاشرہ جہاں ان بچوں کو والدین قبول کرنے کے لئے ہی تیار نہیں ہوتے اور وہ بچپن سے ہی اپنے والدین کے سائے سے محروم کردیئے جاتے ہیں، ان سے ان کے والدین کا نام معلوم کیا جائے۔ یہی صورتحال دارالامان میں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی درپیش ہے۔ عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کی علمبردار سمجھی جانے والی این جی اوز جو بظاہر عورتوں اور اقلیتوں پر تشدد اور ان کی حق تلفی پر مبنی کسی بھی واقعے کی تاک میں دکھائی دیتی ہیں، کیا آج تک کبھی خواجہ سراؤں کے حق کے لئے سڑکوں پر آئی ہیں؟ کاش کہ حکومت ان کو بھی اقلیتی براداری قرار دے ڈالے۔ پھر شاید ان کے لئے بھی کوئی آواز اٹھانا پسند کرے۔ سیاستدانوں کے تو کیا ہی کہنے ہیں۔۔۔ وہ تو محض انہی ایشوز پر بات کرنا پسند کرتے ہیں جس کا براہ راست تعلق ان کے ووٹ بینک سے ہو، اب جو برادری اپنا شناختی کارڈ بنوانے میں ہی مسائل کا شکار ہو، بھلا اس کے حق میں آواز اٹھانے میں وقت کیوں ضائع کیا جائے۔ اسی طرح کبھی آپ نے سنا کہ کسی امام مسجد نے اپنے وعظ میں خواجہ سراؤں کا نام بھی لیا ہو؟ یقین جانیئے ان کا نام لینے سے زبان ہرگز بھی ناپاک نہیں ہوتی ہے لیکن ان کے معاملے میں رویہ کم و بیش سب کا ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ شادی بیاہ، مہندی پر ناچ گانے کے لئے بلائے جانے والے یہ خواجہ سرا عام زندگی میں شاید انہی گھروں میں داخلے کا تصور بھی نہیں کرسکتے، جہاں شادی کے موقع پر ان کی خوب آئو بھگت کی گئی ہوتی ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ ہم بحیثیت ایک معاشرے کے فرد کے، انہیں کبھی بھی اس معاشرے کا حصہ تسلیم ہی نہیں کرسکے ہیں۔

پشاور میں گولیوں کا شکار ہونے اور پھر ہسپتال انتظامیہ کی غفلت کا نشانہ بننے والا علیشاہ تو خوش قمست تھا جس کی دکھوں کی داستان جلد ہی سمٹ گئی کہ جو زندہ ہیں ان کی حالت تو مردوں سے بھی بدتر ہے۔ ظلم وہ نہیں جو علیشاہ کے ساتھ ہوا، ظلم وہ ہے جو ہم، آپ اور اس معاشرے کا ہر فرد اس طبقے کے ساتھ کرتا ہے۔ خواجہ سراؤں کو اس معاشرے میں مرد و زن کے متوازی جنس تصور کیئے جانے۔۔۔ بلکہ یہ بہت بڑا مطالبہ ہے، اسے رہنے دیں، معاشرے میں انہیں ایک جیتا جاگتا وجود تصور کیے جانے اور اس نادار طبقے کو ایک زندہ حقیقت تسلیم کئے جانے جسے سائنس و مذہب دونوں قبول کرتے ہیں، پشاور کی علیشاہ کی طرح یوں ہی نجانے کتنی علیشائیں ہسپتال کے ٹوائلٹ کے آگے معاشرتی بے حسی کا نوحہ پڑھتی اس دنیا سے رخصت ہوتی رہیں گی۔


Comments

FB Login Required - comments

ملیحہ ہاشمی

ملیحہ ہاشمی ایک ہاؤس وائف ہیں جو کل وقتی صحافتی ذمہ داریوں کی منزل سے گزرنے کر بعد اب جزوقتی صحافت سے وابستہ ہیں۔ خارجی حالات پر جو محسوس کرتی ہیں اسے سامنے لانے پر خود کو مجبور سمجھتی ہیں، اس لئے گاہے گاہے لکھنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

maliha-hashmi has 7 posts and counting.See all posts by maliha-hashmi

One thought on “منٹو اور علیشاہ

  • 06-06-2016 at 2:03 pm
    Permalink

    thank you for this article. very much appreciated!

Comments are closed.