افغان مہاجر واپس جائیں


kaleemبلوچستان کے وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے کچھ غلط نہیں کہا، بہت ہو چکی میزبانی، افغان مہاجروں کو اب اپنے گھروں کو لوٹ جانا چاہیے۔ باڑجب کھیت کو کھانے لگے تو کسان کو محنت کرنا پڑتی ہے، جان لڑانا پڑتی ہے، کسان باڑ کو کھیت سے الگ کر کے ٹھکانے نہیں لگائے گا، اگر مگر سے کام لے گا یا کام چوری کرے گا تو کھیت کے اناج سے محروم ہو جائے گا اور بھوک اس کا مقدر ٹھہرے گی۔ دھکے دینے کی نو بت لیکن نہیں آنی چاہیے، پاکستان کو اب یہ بندوبست کر لینا چاہیے کہ بلاامتیاز ہر افغان کو طورخم کے اس پار بھجوا دیا جائے۔ جس کو آنے کی ضرورت ہے وہ مروجہ طریقے سے پاسپورٹ پر ویزہ لے اور وقت مقررہ پر واپس چلاجائے۔

ضیاءالحق نے افغان مہاجروں کو مروجہ عالمی ضابطوں کے مطابق کیمپوں میں محدود نہ کر کے پاکستان اور اس کے شہریوں کے ساتھ جو کچھ کیا میرے نظر میں یہ بہت بڑا جرم تھا۔ شتر بے مہاروں کی طرح افغان مہاجر پاکستان میں گھسے اور صوبہ سرحد (تب صوبہ خیبر پختونخواکا یہی نام تھا)اور بلوچستان سے ہوتے ہوئے کراچی سے کشمیر تک وائرس کی طرح پھیل گئے۔ وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، سیکورٹی ادارے سب خواب غفلت میں رہے۔ حد تو یہ کہ دارالحکومت اسلام آباد کے پوش علاقوں میں ریاستی اداروں کی ناک تلے افغان جنگجو پر تعیش بنگلوں میں قیام پذیر رہے اور ان بنگلوں کی چھتوں پر لگی طیارہ شکن توپیں ان کی حفاظت کیا کرتیں۔ پینتیس برس سے پاکستان ان افغانوں کی مہمان نوازی کررہا ہے۔ رہائش، خوراک، لباس، تعلیم، صحت اور اسی طرح ضروریات زندگی کی ہر سہولت ان کو فراہم کی گئی۔ یہ درست ہے کہ اس کام میں عالمی برادری نے بھی پاکستان کا ہاتھ بٹایا لیکن جو معاشی اور سماجی نقصان ان مہاجرین کی وجہ سے پاکستان نے اٹھایا اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے ایک تھنک ٹینک کے اہم عہدیدار نے دوران گفتگوفرمایا پاکستان نے افغان مہاجرین پر اتنی سرمایہ کاری کی ہے جو دنیا کے کسی ملک نے مہاجرین پر نہیں کی۔ پنجابی میں کہتے ہیں ” ٹِڈ کھاوے تے اکھ شرماوے“ (پیٹ کھاتا ہے تو آنکھ شرماتی ہے)۔ افغان مہاجرین اور پاکستان کے بارے میں لیکن یہ کہاوت بالکل الٹ ثابت ہوئی ہے۔ سارا قصور افغانیوں کا بھی نہیں، پاکستان کے پالیسی سازوں کو بھی تو کچھ کرنا تھا۔ مہاجرین پر اس قدر سرمایہ کاری کے باجود اگر پاکستان کو افغانستان سے ہی خطرات لاحق ہیں تو ا س میں ہماری کوتاہی بھی تو ہوگی۔ کیوں پاکستان نے ایسی پالیسیاں نہیں بنائیں جس سے اس معاشی اورسماجی سرمایہ کاری کا فائدہ اٹھایا جاسکتا۔ اسلام پاکستانیوں اور افغانیوں کا مشترکہ مذہب ضرور ہے لیکن ان ہی افغانوں کے اجداد نے جدوجہد آزادی کے دوران برصغیر سے افغانستان ہجرت کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک کیا تھا وہ تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہے۔

 کندھوں پر ستارے سجائے مسلم بھائی چارے کے گن گانے والوں کی جگہ اگر کوئی سیاسی حکمران ہوتا تو اسے اندازہ ہوتا کہ ہر معاشرے کی تہذیب و ثقافت الگ ہوتی ہے اور دوسرے معاشرے کے شہریوں کو اس میں ضم کرنے کے کچھ اصول۔ برطانیہ، امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہر رنگ و نسل او رمعاشرے کے لوگ موجود ہیں لیکن مقامی قوانین کی سختی سے پاسداری کے ساتھ۔ کبھی کسی نے اپنے کلچر کو پورے معاشرے پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی، لیکن افغان جنگ کے دوران پاکستان وارد ہونے والے افغانوں کو شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑ دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ افغانوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ بیٹھی۔ ایک گھر کابل میں بنایا اور دوسرا اسلام آباد میں، بہت سے افغانیوں نے پاکستان کے پاسپورٹ حاصل کئے۔ انکشاف تب ہو ا جب یہ پاکستان سے بیرون ملک منشیات سمگلنگ کے دوران رنگے ہاتھوں پکڑے گئے اور بدنامی پاکستان کی ہوئی۔ تالی مگر دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے !ایسا نہیں ہے کہ انہیں مقامی معاونت میسرنہیں تھی۔

 اشرف غنی کی افغان حکومت نے افغان مہاجرین کی افغانستان میں آبادکاری کے انتظامات کے لئے جو وعدے کئے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا۔ جواز ان کا یہ ہے کہ افغانستان کی معیشت اس قابل نہیں اور نہ ہی عالمی برادری اس حوالے سے تعاون کر رہی ہے۔ ایک جواز یہ بھی ہے کہ افغانستان میں ابھی تک امن قائم نہیں ہو سکا۔

اقوام متحدہ اور حکومت پاکستان کے مطابق پاکستا ن میں اس وقت پندرہ لاکھ سے زائد رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں۔ ریاستوں اور سرحدی امور کے وزیر عبدالقادر بلوچ پارلیمنٹ کے فلور پر یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ پاکستان میں رہنے والے غیر رجسٹرڈ افغانیوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ مطلب !ریاست پاکستان یہ جانتی ہی نہیں کہ کتنے لاکھ افغانی ہیں جو پاکستانیوں کے منہ کا نوالہ چھین رہے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کم از کم چالیس لاکھ افغانی اس وقت پاکستان میں موجود ہیں جن کی تعداد ایک بڑے شہر کی آباد ی کے برابر ہے۔ خطرناک اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ان لاکھوں افغانیوں کے بارے میں ریاست پاکستان جانتی ہی کچھ نہیں کہ وہ ملک میں کس جگہ آباد ہیں ؟کیا کر رہے ہیں؟ان کا ذریعہ معاش کیا ہے؟ پاکستانی معاشرے کو وہ کس انداز سے متاثر کر رہے ہیں اور ان سے ریاست پاکستان کو کیا خطرات لاحق ہیں۔ یہ ایسے سلگتے ہوئے سوالات ہیں جو نہ صرف حکومت بلکہ عوام کے لئے بھی تشویش کا باعث ہیں۔

صحت، تعلیم، مواصلات اور اس جیسی کتنی ہی سہولیات ایسی ہیں جو ان لاکھوں افغانیوں کو پاکستان کے ہر کونے میں میسر ہیں۔ ظاہر ہے یہ اگر اپنے وطن چلے جائیں تو یہ سہولیا ت پاکستا ن کے عوام کو میسر ہوں۔ مزید تشویشنا ک بات یہ ہے کہ ان ا فغانیوں نے پاکستان کے حساس ادارے نادرا میں بھی ملازمتیں حاصل کر لی ہیں اور یہ اپنے ہم وطنوں کو پاکستان شناختی کارڈ جاری کرنے کے مکروہ دھندے میں بھی ملوث ہیں۔ افغان طالبان کے امیر ملا منصور کی ہلاکت نے اس تلخ حقیقت کو بری طرح بے نقاب کیا ہے۔ خدا کرے وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کی معاملے کو درست کرنے کی کوششیں اور خلوص رنگ لائے اور پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا تقدس ایک بار پھر بحال ہو جائے۔

اقوام متحدہ افغان مہاجرین کے لئے جو کچھ کر رہی ہے وہ ان افغانیوں کے مفاد میں ہو تو ہو لیکن پاکستان کے قومی مفاد میں ہر گز نہیں۔ اس صورت حال نے پاکستانی سلامتی کے لئے شدید خدشات پید ا کردیئے ہیں جن کا اندازہ ہمیں بحیثیت قوم ضرور ہونا چاہیے ورنہ دہشتگردی کے خلاف آپ جتنی مرضی ”ضربیں “ لگا لیں کچھ نہیں ہونے والا۔ یہ درست ہے کہ مقامی معاونت میسر نہ ہوتو افغانستان سے درآمد ہونے والی دہشتگردی کا بڑی حد تک خاتمہ ممکن ہے۔ بھارتیوں کی معاونت سے افغان خفیہ ایجنسی کے دہشتگرد جب پاکستان سے پکڑے جائیں گے تو پاکستانی عوام کیوں افغانیوں کی میزبانی کریں۔ بلاواسطہ یا بالواسطہ، دہشتگردی کے ہربڑے واقعے کا کھرا افغانستان جا نکلتا ہے، لیکن ہم ہیں کہ ہمیں افغان مہاجرین کی ”باعز ت واپسی کا“ کا غم کھائے جا رہا ہے۔

 اللہ بخشے مرحوم جنرل ریٹائرڈ حمید گل کے انتقال سے کچھ عرصہ پہلے راولپنڈی میں ان کے دفتر میں ایک نشست کے دوران خاکسار نے سوال کیا کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد پر بڑی تعداد میں فوجوں کی تعیناتی شائد پاکستان کے لئے فی الوقت ممکن نہیں تو کیوں نہیں پاکستان اس سرحد پرکوئی دیوارتعمیر کرے یا لوہے کی خاردار باڑ ہی لگا دے اور اس میں کرنٹ چھوڑ دیا جائے۔ انتہائی بچگانہ جواب ” دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے “زور دے کر جنرل نے کہا © ©” ممکن ہی نہیں“۔ سوال یہ ہے کہ بھارت نے کشمیر کے دشوارگزار ترین پہاڑی علاقوں میں کنٹرول لائن اور ورکنگ باو ¿نڈری پر کیسے خاردار تار لگا لی ہے ؟دنیا سرحدوں کی نگرانی لیزرشعاعوں کے ذریعے سینکڑوں ہزاروں میل دور بیٹھے کنٹرول روم سے کرتی ہے اور ہم ہیں کہ اس کے امکان تک پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ کس کو دھوکا دے رہے ہیں ہم؟۔ گزشتہ پینتیس برس سے افغانستان کا رستا ہوا ناسور پاکستان کے لئے مسلسل عذاب جاں بنا ہوا ہے۔ ”برادرمسلم ملک“ کے مہاجر کراچی سے کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی احسان فراموشی کی بدترین داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ افغان حکومت ہو یا امریکہ، افغانستان میں موجود ملا فضل اللہ ان کو نظر نہیں آتالیکن پاکستان سے ڈو مور کا تقاضا ایسے کیا جاتا ہے جیسے یہ سارابکھیڑاصرف پاکستان نے ہی شروع کیا ہو۔

وقت آگیا ہے کہ اب ہم گزشتہ پینتیس برس کی غلطیوں کو سدھار لیں۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن سیاسی اور سفارتی محاذ پر بھی ہمیں قومی مفاد کے تحفظ کے لئے ایک بھرپور اور ذمہ دارا نہ آپریشن کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی اپنی معیشت دباو ¿ کا شکار ہے لیکن وہ دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کا ”پالنہار“ بنا ہوا ہے۔ افغانستان کی معیشت اچھی ہے یا نہیں یہ ان کا سردرد ہے۔ سیکورٹی کے حالا ت اگر افغانستان میں اتنے ہی برے ہیں تو پاکستان کی سلامتی تو خود افغانستان کے ہی بعض عناصر کی وجہ سے داو ¿ پر لگ چکی ہے۔

صاف بات یہ ہے کہ اب افغان مہاجرین کو ہر صورت ان کے وطن واپس بھیج دینا پاکستان کے قومی مفاد کا اولین تقاضا ہے۔ یہ افغانوں کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک میں امن قائم کریں اور اس کی معیشت کو سنواریں۔ پاکستان اگر ان کے لئے کچھ کر سکے تو ضرور تعاون کرے لیکن لاکھوں مہاجرین کے پاکستان میں قیام کا کوئی جواز نہیں، اور وہ بھی بغیر کسی ریکارڈ کے۔ ظاہر ہے جو افغانی حکومت پاکستان کی نظروں سے چھپ کر یہاں بیٹھے ہیں وہ ریاست پاکستان کے دو ست یا ہمدرد تو ہیں نہیں، تو پھر ہم کاہے کوان کی عزت کے لئے اپنے گھر کو آگ لگائیں۔

 


Comments

FB Login Required - comments