بھارت پاکستان کشیدگی: تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارض وطن؟


پاکستان ہندوستان کے تعلقات قیام پاکستان اور تقسیم ہند کے وقت سے ہی کشیدہ چلے آ رہے ہیں ، اس نفرت اور دشمنی کی تاریخ بہت پرانی ہے، اگر ہم اختصار سے بیان کریں تو ہندوستان پر مسلمانوں کی حکمرانی سے اس کا آغاز ہوا، خاص طور پر مغل حکمرانوں کے ہندوستان پر تین سو برس سے زائد عرصہ پر محیط دور حکومت نے ہندوؤں کے دلوں میں مسلم حاکمیت کے بہت گہرے اثرات مرتب کیے جس کے اثرات آج بھی نظر آتے ہیں جب کچھ ہندو رہنما 80 فیصد ہندوؤں کے مقابلے میں 18 فیصد مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے خوفزدہ ہیں، اور بقول ان کے 2050 میں ہندوستان کے اندر مسلمان اکثریت میں بدل جائیں گے۔ انگریزوں کے مغلوں کو شکست دینے اور مسلمانوں کے مقابلے میں ہندوؤں کو اہمیت دینے کی وجہ سے یہ نفرت اور دشمنی اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔

انگریز نے اس ہندو، مسلم نفرت اور دشمنی کا فائدہ اٹھا کر اور ہندوستانیوں کو آپس میں لڑا کر 200 سال تک ہندوستان پر حکومت کی، ہندوستان کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا اور ہندوستانیوں کا بھرپور استعمال کیا، اور جاتے جاتے غیر منصفافانہ تقسیم کے ذریعے اور ہندو، مسلم اور دیگر اقلیتوں میں دائمی نفرت اور دشمنی کا بیج بو کر ہمیشہ کے لئے ہندوستان سے رخصت ہو گئے۔ اس نفرت اور دشمنی کا نتیجہ ہمیں ہندوستان کے ٹکڑوں کی شکل میں، 2 لاکھ سے 10 لاکھ ہندوستانیوں کے جانوں کے زیاں اور ڈیڑھ سے 2 کروڑ لوگوں کے بے گھر ہونے کی شکل میں بھگتنا پڑا۔ اس کے علاوہ دردوغم کی کتنی ہی ایسی کہانیاں ہیں جو آج تک پوشیدہ ہیں۔

1947 سے 2018 تک بھارت پاکستان کے درمیان چار جنگوں اور دیگر تنازعات خصوصاً کشمیر کے اندر گزشتہ 70 سالوں سے دونوں اطراف کا جانی نقصان ہو رہا ہے، امن عامہ کی صورتحال مسلسل خراب ہے اور کشمیری عوام آج بھی امن اور خوشحالی کے منتظر ہیں۔

70 سال سے جاری پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے دونوں ممالک اپنے اپنے ملک کے بجٹ کا ایک کثیر حصہ دفاع پر خرچ کرتے ہیں جو کہ دونوں ممالک میں دوستانہ تعلقات اور امن کی صورت میں غریب عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو سکتا ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے اور ملکی اور عالمی حالات پر خصوصی نظر رکھنے والے حضرات یہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے عوام خصوصاً بھارت کی کثیر غریب آبادی جو کہ ان گنت مسائل کا شکار ہے۔ دونوں ممالک کی کثیر آبادی، غربت، مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے بحران، صحت، تعلیم، انصاف اور صاف پانی جیسی زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہے، ایک تازہ سروے کے مطابق 50 فیصد سے زائد ہندوستانی ٹوائلٹ جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہیں اور دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی دونوں ممالک کا مشترکہ اور بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے دونوں ممالک کا نقصان ہو رہا ہے۔

ان سنگین مسائل کی موجودگی کے باوجود اور بغیر اس بات کا ادراک کیے کہ دونوں ممالک ایٹمی ہتھیار رکھتے ہیں عوام کے بنیادی مسائل اور بنیادی ضروریات کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلسل ایک دوسرے کے خلاف اشقال انگیز بیانات، سرحدی جھڑپیں اور خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے ایک دوسرے کے ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کرنا آتش فشاں کے اوپر بیٹھ کر خواب غفلت میں رہنے والی بات لگتی ہے آج ہندوستان اور پاکستان کی اکثریت خصوصاً پڑھے لکھے افراد دونوں ممالک کے درمیان محبت، امن دوستی اور بھائی چارے کی خواہش رکھتے ہیں۔

انگریز نے نفرت کا جو بیج بویا تھا آج ضرورت ہے کہ ہم اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور جنگ کی بجائے محبت اور دوستی کی بات کریں، اسی میں دونوں ملکوں کے عوام کی بھلائی اور خوشحالی کا راز پوشیدہ ہے، ہم نے نفرت اور جنگوں سے بہت نقصان اٹھا لیا، ہماری کئی نسلیں اس نفرت کی بھینٹ چڑھ چکیں ہیں لیکن ہم موجودہ اور آنے والی نسلوں کو اس نفرت اور دشمنی کے نقصانات سے بچا سکتے ہیں۔ آج ہمیں اپنی آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے، جو لوگ مذہب اور ملک کے نام پر اقتدار اور سیاست کا گندہ کھیل کھیلتے ہیں انہیں پہچاننے کی ضرورت ہے انہیں لوگوں نے کل مہاتما گاندھی کے ہندو ۔ مسلم اتحاد کے نظریے کو ناکام بنایا اور اپنے ذاتی مفاد اور اقتدار کے لئے مہاتما گاندھی کے نظریے کے ساتھ ساتھ ان کو بھی قتل کر دیا۔ انہیں قوتوں کی وجہ سے اقلیتوں کو اُس وقت بھی اور آج بھی عدم تحفظ کا خوف ہے، ان قوتوں کو شکست دینے کا واحد راستہ جنگ، نفرت اور دشمنی سے انکار اور محبت، امن، دوستی اور بھائی چارے کا فروغ ہے۔

لہٰذا آج وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ان تمام قوتوں کا ساتھ دیں جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ نہیں بلکہ امن اور دوستی کی خواہش رکھتی ہیں۔ جنگوں سے مسائل حل نہیں ہوتے صرف تباہی ہوتی ہے۔ دنیا میں ہمارے سامنے کئی مثالیں موجود ہیں ، تازہ ترین مثال افغان امریکا جنگ ہے، سترہ (17) سال کی مسلسل جنگ کے بعد امریکا آخرکار اب طالبان سے مذاکرات کے ذریعے افغانستان کے مسئلے کا حل ڈھونڈ رہا ہے، اس لئے پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی مسائل کا حل جنگ کے ذریعے نہیں بلکہ صرف اور صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔

تجھ کو کتنوں کا لہو چاہئے اے ارض وطن

جو تیرے عارض بے رنگ کو گلنار کریں

کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہو گا

کتنے آنسو تیرے صحراؤں کو گلزار کریں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

حسنین اشرف ایڈووکیٹ کی دیگر تحریریں
حسنین اشرف ایڈووکیٹ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں