جنگ سے رومانس کرنا بند کر دیں


 انڈیا میں الیکشن کے قریب آتے ہی جنگ کے فرضی طبل بجا دیے جاتے ہیں۔ پاکستانی بھی فورا سینہ تان کر سپاہی بن جاتے ہیں اور دونوں طرف سے لفظی جنگ میں شدت آ جاتی ہے۔ خوب کوشش کی جاتی ہے کہ کسی طرح سے اصل جنگ بھی شروع ہو جاے۔ پاکستان اور انڈیا کا المیہ یہ ہے کہ ان دونوں ممالک نے محدود پیمانے پر ہی جھڑپیں کی ہیں ۔ ان کی جنگوں میں سویلین آبادی کا نقصان کم ہوا ہے، شہر تباہ نہیں ہوے۔ اوپر سے بدقسمتی سے جنگی جوش کو ہوا دینے کے لیے پاکستانی نورجہاں کے گانوں اور بھارتی فوجی فلموں نے جنگ کو مزید رومانوی بنا دیا ہے۔ دونوں ممالک شومئ قسمت سے ایٹمی قوت ہیں۔ آپس کے تناؤ کے وقت فورا سے پیشتر ایٹم بم چلا دینا چاہتے ہیں۔ ان تمام حالات میں ہم بھول جاتے ہیں کہ جنگ کتنی تباہ کن ہوتی ہے۔ جنگ کی تباہ کاریاں شام، عراق یا افغانستان میں ٹی وی پر دیکھ کر ہم دس منٹ بعد بھول جاتے ہیں، کیونکہ یہ تباہ کاری ہم سے دور ہے تو انسانی فطرت کے مطابق ہم سمجھتے ہمارے ساتھ یہ حشر نہیں ہو سکتا۔ ایٹم بم پر سینہ پھلا کر ہم ہیروشیما بھول جاتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ واقعہ ہم پر گزرا نہیں۔

دنیا میں بہت کم ممالک ہیں جہاں آپ ماضی قریب کی جنگ کی تباہ کاری دیکھ سکتے ہیں۔ وجہ یہ کہ بیشتر یا تو اب بھی حالت جنگ میں ہیں یا سفر کے لیے خطرناک گردانے جاتے ہیں۔ یورپ کے بیچوں بیچ ایک ملک ایسا ہے جہاں البتہ ماضی قریب کی خوفناک جنگ کی باقیات جگہ جگہ ہیں۔ بوسنیا میں ہونے والی جنگ کو تقریبا دو دہایاں گزر چکی ہیں۔ متحدہ یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد نسلی تعصب کی بنیاد پر ہونے والی اس جنگ میں سربیا نےبوسنین مسلمانوں کا تاریخ کا بھیانک ترین قتل عام کیا۔ موستار بوسنیا کا ایسا شہر ہے جہاں آدھی آبادی مسلمان اور آدھی عیسائی ہے۔ یہاں باہمی جنگ میں کوئی گھر ایسا نہیں ھے جہاں آج بھی مورٹر، گولیوں یا بم کی تباہ کاری کے نشان نہ ہوں۔ شہر کی آبادی میں بیشتر لوگ بےروزگار ہیں۔ جنگ سے پیشتر دھاتی انڈسٹری کے لیڈر اور ہوائی جہاز بنانے والے بوسنیا کی اندسٹری جنگ نے بالکل تباہ کر دی ہے۔ اب بوسنیا صرف تمباکو، کاغذ کی صنعت پر گزارہ کر رہا ہے۔ معیشت تمام دنیا کی مدد کے باوجود سنبھل نہیں پا رہی۔ ریلوے کا سسٹم جو جنگ میں تباہ ہو گیا تھا آج تک دوبارہ قائم نہیں ہو سکا۔ یہ تو صرف معاشی قیمت رہی جنگ کی۔ انسانی قیمت کہیں زیادہ تھی۔ سربرینیکا کے قتل عام کے علاوہ کئی لوگ مارے گئے۔ ذہنی اذیت آج تک نہیں گئی۔ ٹراما اور ذہنی تکلیف کے باعث کئی زندگیاں تباہ ہو گئیں۔ کئی لوگ کہتے ہیں آج بھی وہ خوف سے سو نہیں پاتے۔

پاکستانیوں کی جنگ سے واقفیت کا یہ عالم ہے کہ میری والدہ سناتی ہیں کہ اوجڑی کیمپ کے واقعہ کے وقت مشہور ہوا کہ دشمن نے حملہ کر دیا ہے اور ان کے پڑوسی چھت پر کھڑے میزائلوں کو مکے دکھا رہے تھے۔ میرے فوجی والد نے بمشکل آ کر انھیں نیچے اتارا کہ شب برات کی پھلجھڑیاں نہیں ہیں، جان سے جاؤ گے۔ کئی لوگ چھتوں پر چڑھ کر میزائلوں کا نظارہ تفریح سمجھ کر کرتے ہوئے ہی جان سے گئے۔ ہم جانے کیا لوگ ہیں جو جنگ کو تفریح سمجھتے ہیں۔

دشمنی اور اختلافات اپنی جگہ، مگر جنگ اور ہولناکی کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا ظلم ہے۔ جنگ کے حربی تعلیم میں معانی ہیں کہ جب ہر سیاسی کوشش ناکام ہو جائے تو جنگ کو سوچا جائے اور جنگی ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ تب بھی جنگ کے بعد بھی مسلہ حل بات چیت سے ہی ہوتا ہے۔ لہذا پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک کے خاص وعام سے گزارش ہے کہ خدارا جنگ کو رومانوی عینک لگا کر دیکھنا بند کر دیں۔ جتنی جنگ کرنی ہے کرکٹ کے میدان میں کر کے ہی گزارہ کر لیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

قرۃ العین فاطمہ

قرۃ العین فاطمہ آکسفورڈ سے پبلک پالیسی میں گریجویٹ، سابق ایئر فورس افسراور سول سرونٹ ہیں۔

quratulain-fatima has 15 posts and counting.See all posts by quratulain-fatima