اس مشہور کھلاڑی کی وہ حرکت اس قدر قابلِ فراموش بھی نہ تھی!


میرے کمرے کی کھڑکی سے محلے کے لڑکے بالے کرکٹ کھیلتے نظر آتے تھے، اور مجھے یہ نظارہ بہت بھاتا تھا۔ یہ کرکٹ کا عشق تھا یا شاید اپنے بچپن کے کھوئے ہوئے دنوں کی یاد، میں اکثر سہ پہر کو چائے کا کپ لے کر کھڑکی کے ساتھ جا بیٹھتا تھا اور کچھ اس طرح سے ٹکٹکی باندھے ان کے کھیل سے محظوظ ہوتا رہتا تھا کہ دن ڈھلنے کا پتا ہی نہیں چلتا تھا۔ انہی دنوں میں نے نوٹ کرنا شروع کیا کہ ایک پاکستانی کرکٹر، بلکہ یوں کہیے کہ سابقہ کرکٹر، ان میں بہت مقبول تھا۔ وہ اس کے ہر ہر انداز کو اپنانے کی کوشش کرتے تھے۔ بہت سوں نے تو اس کے نام کی، اس کے نمبر کی ہی شرٹ پہن رکھی ہوتی تھی۔

اس کی طرح ان کی بھی کوشش ہوتی تھی کہ جارحانہ انداز میں ہر بال پر چھکا چوکا لگائیں اور گیند کو میدان سے باہر پہنچائیں۔ وہ کسی کھلاڑی کو آؤٹ کرنے کے بعد دونوں بازو بھی اسی کے انداز سے پھیلا کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ اور تو اور کچھ لڑکے تو اس کا ہیئر سٹائل بھی کاپی کرتے تھے۔ ان بچوں کا کیا ذکر مجھے تو یاد پڑتا ہے جب اس کا کوئی میچ ہوتا تھا تو سٹیدیم میں آئے ہوئے شائقین ہوں یا گھروں میں ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہوئے لوگ، سب اسی کے منتظر ہوتے۔ میدان میں سب سے زیادہ اسی کی تصویریں یا اس کے نام کے ہی بینر لہراتے۔ کچھ من چلی لڑکیاں تو بینروں پر یہ بھی لکھوا لاتیں کہ مجھ سے شادی کرو گے؟

وہ اگر جلد آؤٹ ہو جاتا تو لوگ مایوس ہو جاتے، گھروں کو لوٹنا شروع کر دیتے۔ جتنی دیر پِچ پر کھڑا رہتا، امید قائم رہتی کہ وہ کسی بھی پل میچ کا پانسا پلٹنے کی اہلیت رکھتا تھا۔ مخالف ٹیمیں اس سے خائف رہتی تھیں اور اسے جلد آؤٹ کرنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کرتی تھیں اور اس کے آؤٹ ہو جانے پر جشن مناتی تھیں، جبکہ اس کی اپنی ٹیم دباؤ کا شکار ہو جاتی تھی۔ ٹی وی کے بہت سے اشتہاروں میں بھی وہ نظر آتا تھا اور اشتہاری صنعت بجا طور پر یہ سمجھتی تھی کہ اگر وہ ان کی مصنوعات کی توثیق کر دے گا تو انہیں قبولِ عام حاصل ہو جائے گا۔ یہ بھی درست ہے کہ بطور کھلاڑی اس کی کارکردگی میں کم ہی تسلسل رہا ہو گا، لیکن لوگوں کا کیا کیجئے، ان میں سے بہت سوں کا تو محبوب کھلاڑی وہی تھا!

ماننا پڑتا تھا کہ اس نے نوجوانوں کی ایک پوری نسل کو متاثر کیا تھا، ان پر اپنے اثرات مرتب کیے تھے اور ہر کوئی اس جیسا بننا چاہتا تھا۔ اب ایسی صورتحال میں ہمارے محلے کے کرکٹ کھیلنے اور اس میں دلچسپی لینے والے بچے اس لہر سے، اس رجحان سے کیونکر محفوظ رہ سکتے تھے، سو اسے ہی اپنا آئیڈیل بنائے پھرتے تھے۔

پھر ایک روز میں نے ایک عجیب نظارہ دیکھا۔ بچے کھیلنے کے بعد، شام کا دھندلکا پھیلنے پر، میدان کے ایک کونے میں بیٹھے خوش گپیوں میں مشغول تھے کہ اس اثنا میں ایک نسبتاً بڑی عمر کے بچے نے جیب سے ایک پڑیا نکالی اور دوسرے بچوں کو دکھانا شروع کر دی۔ سب بچے اس پڑیا کے سفوف کو اپنی ہتھیلی پر ڈال کر بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ پھر اس بڑے بچے نے اس کی ایک چٹکی بھری اور اپنے بالائی گال کے نیچے دبا لی۔ اس کی دیکھا دیکھی کچھ اور بچوں نے بھی اس عمل کو دہرایا۔ میں دم بخود ہی رہ گیا۔

اگلی صبح میں نے نماز کے بعد سیر کے دوران ان میں سے ایک بچے کے باپ کو جا پکڑا اور سارا واقعہ اس کے گوش گزار کر دیا۔ وہ انتہائی غور اور تشویش سے میری بات سنتا اور تاسف سے سر ہلا تا رہا۔ ٹھنڈی سانس بھر کر اس مشہور کھلاڑی کے حوالے سے بولاکہ کچھ روز قبل ٹی وی پر ایک تقریب میں ان بچوں نے اسے دوسرے لوگوں سے نظربچا کر ایسا کرتے دیکھا تھا۔ اب کرکٹ میں دلچسپی لینے والے، اسے اپنا ہیرو سمجھنے والے بچوں نے اس سے اثرتو لینا ہی تھا۔ مجھے بھی ٹی وی کی خبروں میں دیکھا ہوا وہ واقعہ فوراً یاد آگیا اور اس کھلاڑی کی دی گئی ہوئی صفائی بھی۔

میں نے ان صاحب کو طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے یاد کروایا کہ وہ تو کہتا ہے وہ لونگ اور سونف تھی۔ ان کے چہرے پر چھائی سنجیدگی اور گہری ہو گئی، کہنے لگے اس سے بھی بڑھ کر غضب یہ کہ بچوں کو غلطی تسلیم کرنے، ندامت کا اظہار کرنے اور معذرت کرنے کے بجائے، انتہائی ڈھٹائی سے جھوٹ بولنے کا سبق دے گیا ہے۔
شام کو ان صاحب کا مجھے فون آیا، ٹھہری ہوئی آواز میں کہنے لگے ”میں نے اپنے بیٹے سے پو چھا ہے، وہ کہہ رہا تھا، وہ تو لونگ اور سونف کی گولی تھی!‘‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں