ہم جنس پرستی کی خواہش کیوں ہوتی ہے؟


ایک ہی جنس کے حامل افراد کے مابین پائے جانے والے جنسی میلان کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وراثتی یا موروثی ہے. انگلستان اور ویلز میں باہمی رضا مندی کے تحت قانون جنسی جرائم مجریہ 1967ء کے تحت اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔ کئی دیگر ممالک میں بھی اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اسلام سمیت اکثر مذاہب میں یہ ناجائز اور سخت حرام ہے اور اس کا مرتکب مستوجب سزا ہے۔

ہم جنس پرستی کو فروغ دینے میں اس وقت اور جو ممالک سرگرم ہیں ان میں امریکہ پیش پیش ہے۔ امریکہ کے تحقیقی ادارے بھی اس پر کام کر رہے ہیں اور ہم جنس پرستی کے حق میں مختلف دلائل دے رہے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں امریکی تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ ہم جنس پرست مردوں کی آپس کی شادیاں صحت مند ماحول پیدا کرنے میں معاون ہوتی ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ شادی کے بندھن میں بندھ جانے والے ہم جنس پرست مرد بیماریوں کا کم شکار ہوتے ہیں۔ کیونکہ قانونی جیون ساتھی مل جانے سے ہم جنس پرست مرد اس اضطراری کیفیت سے نکل آتے ہیں جس کا شکار وہ ہم جنس پرست ہونے اور اپنا ساتھی نہ ملنے کے باعث رہتے تھے۔

حال ہی میں بھارتی سپریم کورٹ نے بھی ہم جنس پرستی کو جرائم کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے 113ممالک میں ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ جن میں مالی، اردن، کاغستان، ترکی، تاجکستان، کرغزستان، بوسنیا اور آذربائیجان جیسے 9 مسلمان ممالک بھی شامل ہیں اور 76ممالک میں غیر قانونی ہے۔

ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم International Lesbian, Gay, Bisexual, Trans and Inter-sex Association( آئی ایل جی اے) 1978 میں معرض وجود میں آئی۔ جس کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں بسنے والے ہم جنس پرستوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ اب یہ تنظیم 110ممالک میں کام کر رہی ہے۔

آئی ایل جی اے کو 2008 میں اس وقت شہرت ملی کہ جب اس کی کوششوں سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پہلی مرتبہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کی توثیق کی۔ اس موقع پر گرما گرم بحث ہوئی اعلامیہ کے حق میں 23 جبکہ مخالفت میں 19 ووٹ پڑے۔ اس اعلامیہ کے حق میں امریکہ ، یورپی یونین ، برازیل اور دیگر لاطینی امریکی ممالک نے ووٹ دیا جبکہ روس ، سعودی عرب ، نائجیریا ، پاکستان نے مخالفت کی ہے جبکہ چین اور دیگر ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔ موریطانیہ سمیت کچھ ممالک نے اس قرارداد کو انسانیت کے بنیادی حقوق کو تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا۔

جن ممالک میں ہم جنس پرستی کی اجازت ہے ان میں سے بیشتر ممالک میں اب اسی موضوع پر فلمیں بھی بن رہی ہیں۔ جیسے اب بھارت میں بھی ہم جنس تعلقات پر فلمیں بن رہی ہیں۔ اسی طرح ترکی میں فلم Zenne میں ہم جنس پرستی سے متعلق ایک حقیقی واقعے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ واقعہ 2008 میں پیش آیا تھا جب 26سالہ طالب علم، احمد یلدز کو استنبول میں اس کے فلیٹ کے باہر اس کے والد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ کیونکہ اس کا والد اپنے بیٹے کو ایک ہم جنس پرست کے طور پر دیکھنا برداشت نہ کر پایا تھا۔ اس فلم کو ترکی کے مذہبی حلقوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق یہ فلم ہم جنس پرستی کی حمایت میں پروپیگنڈا ہے۔ جبکہ اس فلم نے پانچ ایوارڈ بھی جیتے۔ ایک ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی اس فلم کی مالی معاونت ہالینڈ کے سفارت خانے نے کی تھی۔

بھارت میں مرد ہم جنس پرست جریدے ”تفریح“کی اشاعت جولائی 2011 میں شروع کی گئی تھی۔ یہ میگزین جب مارکیٹ میں آتا ہے تو ہاتھوں ہاتھ بک جاتا ہے۔ اس میگزین میں نوجوانوں اور جنسی مسائل سے متعلقہ مضامین کے ساتھ ساتھ انڈرویئر پہنے ہوئے ماڈلز اور جدید کاروں کی تصاویر شائع کی گئیں تھیں۔

ہم جنس پرستی کے حوالے سے برطانیہ میں اپنی نوعیت کے پہلے مقدمے کی سماعت بھی جاری ہے کہ جس میں تین مسلمانوں کو ہم جنس پرستی کے خلاف نفرت پھیلانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ ان افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے ایسا تحریری مواد تقسیم کیا جس میں کہا گیا تھا کہ معاشرے کو ہم جنس پرست خواتین اور مردوں سے چھٹکارا دلوانے کے لیے سزائے موت جائز ہے۔ انہیں اس نئے انگلش قانون کے تحت قصوروار پایا گیا جس میں لوگوں کے جنسی میلان کی بنا پر ان سے نفرت ابھارنا جرم ہے۔ برطانیہ نے ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کو باہم ”شادی“ کرنے کا قانون ”سول پارٹنرشپ“دسمبر 2005ءمیں بنایا تھا۔

آئی ایل جی اے کی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں ہم جنس پرستی کو 1968 میں قانونی قرار دیا گیا جبکہ یونان میں 1951، امریکہ 2003، آسٹریلیا اور ہنگری 1962، آئس لینڈ 1940، آئرلینڈ 1993، اٹلی 1890، کوسوو 1994، لٹویا 1992، لیتھونیا 1993، لگسمبرگ 1795، برکینا 2004، چاڈ ، کانگو، آئیوری کاسٹ ،گنی، 1931گبون ، گنی بساﺅ 1993، مڈاگاسکر ، مالی ، نائیجر، روانڈا، جنوبی افریقہ 1998، کمبوڈیا ، چین 1997، مشرقی تیمور 1975، بھارت 2018، انڈونیشیا، اسرائیل 1988، جاپان 1882، اردن 1951، کازکستان 1998، کرغستان 1998، لاﺅس ، منگولیا 1987، نیپال 2007، شمالی کوریا، فلپائن ، جنوبی کوریا، تائیوان 1896، تاجکستان 1998، تھائی لینڈ 1957، ترکی 1858، ویتنام البانیہ فلسطین 1995، انڈورہ ، آرمینیا2003، آسٹریا 1971، آزربائیجان 2000، بلجیم 1795، بوسنیا 1998، بلغاریہ 1968، کروشیا 1977، سائپرس 1998، چیک رپبلک 1962، ڈنمارک 1933، اسٹونیا 1992، فن لینڈ 1971، فرانس 1791، جارجیا 2000، میکوڈینیا 1996، مالٹا 1973، مالدیپ 1995، مناکو1793، مانٹیگرو1977، نیدر لینڈ 1811، ناروے 1972، پولینڈ 1932، پرتگال 1983، رومانیہ 1996، روس 1993، سان مارنیو 1865، سر بیا 1994، سلاوکیہ 1962، سلوانیا1979، سوئٹزرلینڈ 1942، یوکرائن 1991، برطانیہ 1929، ویٹی کن سٹی 1929، ارجنٹائن1887، باہاماس1991، بلوویا1831، برازیل 1831، کوسٹ ریکا1971، چلی 1999، کولمبیا 1981، کیوبا 1979، ایکاڈور1997، سالواڈور ، گوئٹے مالا، ہیٹی، ہنڈراس1899، میکسیکو 1872، نکاراگوا 2008، پاناما 2008، پیراگوئے 1880، پیرو 1836، سورینام 1869 ، اوگرائے 1934، وینزویلا ، فیجی 2010، مارشل آئی لینڈ 2005، نیوزی لینڈ 1986 میں ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔

آئی ایل جی اے کی رپورٹ کے مطابق ایران ، سعودی عرب، ماریطانیہ، یمن ، پاکستان اور سوڈان سمیت 76 ممالک میں ہم جنس پرستی پر پابندی ہے اور اس جرم میں سزائے قید سے لے کر سزائے موت تک دی جاتی ہے۔ ان ممالک میں الجیریا، انگولا، بوسٹوانہ ، بورونڈی، کیمرون ، کوموروس، مصر، ایریٹیریا، ایتھوپیا، گیمبیا، گنی، کینیا، لائیبیریا، لیبیا، ملاوی، مراکش، موزمبیق، نائیجریا، سینیگال، سیریا لیون ، صومالیہ، تنزانیہ، یوگنڈا، زمبابوے، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، برونائی، برما، کویت، لبنان، ملیشیا، عمان، قطر، سنگاپور، سری لنکا، شام، ترکمانستان، متحدہ عرب امارات، ازبکستان، یمن، برمودہ اور جمیکا وغیرہ شامل ہیں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں