ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنه‌ای کی ذاتی زندگی، دولت اور مشاغل کی جھلکیاں


آیت اللہ  علی خامنه‌ای جون 1989 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد سے ایران کی اسلامی انقلابی حکومت کے اعلیٰ ترین عہدے دار چلے آ رہے ہیں۔ آئینی طور پر انہیں ولایت فقیہ کا منصب حاصل ہے یعنی امور مملکت میں ان کا حکم حرف آخر کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ 1981 سے 1989 تک ایران کے صدر بھی رہے ہیں۔ گویا ایران میں فروری 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے انہیں مسلسل مقتدر ترین حیثیت حاصل رہی ہے۔ ان کے فرامین (احکامات) پر عمل درامد کے لئے ایک خصوصی محکمہ تشکیل دیا گیا ہے جسے سرکاری طور پر ستاد اجرایی فرمان امام کہا جاتا ہے تاہم عام طور پر اس محکمے کو صرف ستاد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1939ء میں پیدا ہونے والے ولایت فقیہہ آیت اللہ علی حسینی خامنه‌ای کی موجودہ عمر 79 برس ہے اور انہیں ایران میں رسمی طور پر رہبر معظم کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔

عام طور پر آیت اللہ علی خامنه‌ای کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ کہ وہ نہایت سادہ زندگی بسر کرتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کی سخت گیر تشریح کے قائل ہیں۔ تاہم مختلف اوقات میں ایرانی حکومت سے منحرف ہو کر بیرون ملک فرار ہونے والے سرکاری عہدے داروں کے مطابق آیت اللہ علی خامنه‌ای کی بظاہر سادہ زندگی درحقیقت بے پناہ دولت، اختیار اور انتہائی قیمتی مشاغل سے عبارت ہے۔

ایک محتاط ترین اندازے کے مطابق 2013ء میں آیت اللہ علی خامنه‌ای کی ذاتی دولت 95 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی تھی۔ واضح رہے کہ فروری 1979 میں برسراقتدار آنے کے بعد ایران کی انقلابی حکومت نے سابق شاہ رضا پہلوی اور ان کی بیوی پر 35 ارب ڈالر کے اثاثے رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔ کرنسی کی موجودہ شرح تبادلہ کے اعتبار سے بھی سابق شاہ کی مبینہ دولت کا تخمینہ 79 ارب ڈالر تھا۔ آیت اللہ علی خامنه‌ای کی دولت کا بڑا حصہ “ستاد اجرایی فرمان امام” نامی محکمے کی مدد سے اندرون ملک مقیم کاروباری گھرانوں نیز نیرون ملک چلے جانے والے ایرانی شہریوں کی جائیدادوں پر زبردستی قبضہ کر کے ہتھیایا گیا ہے۔ اس ضمن میں خاص طور پر بہائی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد اور گھرانوں کی دولت پر منظم طریقہ کار کے مطابق قبضے کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

“ستاد اجرایی فرمان امام” محکمہ ایرانی معیشت کے ہر اہم شعبے بالخصوص بینکاری، خام تیل، ٹیلی کمیونیکیشن، سے لے کر شتر مرغ کی افزایش کے فارموں اور مانع حمل ادویات کی تیاری تک میں دخیل ہے۔ یہ محکمہ براہ راست آیت اللہ علی خامنه‌ای کی نگرانی میں کام کرتا ہے اور اس کی ذمہ داریوں میں مالی امور کے علاوہ سیاسی اختیارات سے متعلقہ امور دیکھنا بھی شامل ہے۔ اس محکمے کے اثاثوں کا حجم خام تیل میں ایران کی سالانہ برامدات کے 40 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ ستاد نے ملک کے مختلف حصوں میں سکول، شفا خانے اور سڑکیں بھی تعمیر کی ہیں تاہم یہ امر واضح ہے کہ یہ اخراجات ہتھیائے گئے اثاثوں کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔

اگرچہ اس کے ثبوت حاصل کرنا نہایت دشوار ہے کہ ستاد کی دولت کا کتنا حصہ براہ راست آیت اللہ علی خامنه‌ای کی ملکیت ہے تاہم اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ دولت اقتدار پر آیت اللہ علی خامنه‌ای کی گرفت مضبوط رکھنے نیز ان کے سیاسی مخالفین کے خلاف موثر کردار ادا کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آیت اللہ علی خامنه‌ای ستاد کے اثاثوں کے استعمال کے لئے پارلیمنٹ یا کسی دوسرے ادارے کی منظوری کے پابند نہیں۔ ان کے زیر استعمال مالی ذرائع کا قومی بجٹ سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ ان کی ذاتی سیاسی حیثیت اور معاشی اختیارات پر مختلف سیاسی گروہ بندیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آیت اللہ علی خامنه‌ای کی ذاتی رہایش گاہ اور ملحقہ دفتر کو بیت رہبری کا نام دیا ہے یہان کی سیکورٹی پر 500 سے زیادہ افراد مامور ہیں۔

موقر ذرائع کے مطابق آیت اللہ علی خامنه‌ای خور و نوش میں نہایت نفیس ذوق رکھتے ہیں انہیں ٹراوٹ مچھلی مرغوب ہے اور وہ کیویار (مچھلی کے انڈوں سے تیار ہونے والی ایک قیمتی سوغات) کے شیدائی ہیں۔ آیت اللہ علی خامنه‌ای کو گھوڑ سواری کا شوق ہے اور ان کے ذاتی اصطبل میں موجود قیمتی گھوڑوں کی تعداد ایک سو سے متجاوز ہے۔ چند برس قبل گھوڑ سواری کے دوران پیش آنے والے ایک حادثے کے بعد ان کے اس شوق میں کچھ رکاوٹ ضرور آ گئی ہے لیکن ان کے قیمتی گھوڑوں کا ذخیرہ مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔ اسی طرح آیت اللہ علی خامنه‌ای کو تمباکو کے منقش اور جڑاؤ پائپ جمع کرنے کا شوق ہے۔ اگرچہ اطلاعات کے مطابق انہوں نے کچھ برس سے تمباکو نوشی ترک کر رکھی ہے تاہم قیمتی پائپوں کا ذخیرہ بدستور موجود ہے۔

معالجین کے مطابق آیت اللہ علی خامنه‌ای ڈپریشن کے پرانے مریض ہیں۔ اس مرض میں شدت کے دوران ایک خاص ملا کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جو فحش لطیفے سنانے میں مہارت رکھتا ہے۔ اس ملا کی صحبت میں آیت اللہ علی خامنه‌ای کو ذہنی دباؤ پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم ذرائع نے اس افواہ کی سختی سے تردید کی ہے کہ آیت اللہ علی خامنه‌ای  افیون یا کوئی اور نشہ آور دوا استعمال کرتے ہیں۔

ایران کی انقلابی حکومت میں اہم مناصب پر کام کرنے والے سابق اہلکاروں کے مطابق آیت اللہ علی خامنه‌ای کے چاروں بیٹوں سمیت ان کے اہل خانہ نے یورپ، افریقہ اور دوسری بین الاقوامی منڈیوں میں معاشی مفادات کا جال بچھا رکھا ہے۔ اس کے باوجود سادہ زندگی کی شہرت رکھنے والے آیت اللہ علی خامنه‌ای کی ذاتی دلچسپیوں کی فہرست حیران کن ہے۔ آیت اللہ علی خامنه‌ای کو قیمتی اور نادر چھڑیاں جمع کرنے کا شوق ہے۔ 2013 میں جواہرات میں جڑی ایسی قیمتی چھڑیوں کی تعداد 170 بتائی جاتی تھی جو آیت اللہ علی خامنه‌ای کے ذخیرے میں شامل تھیں۔ آیت اللہ علی خامنه‌ای کے لئے کندھوں پر اوڑھنےو الی قیمتی شال ایک خاص نسل کے اونٹوں کے بالوں سے تیار کی جاتی ہے جنہیں اسی مخصوص مقصد کے لئے پالا جاتا ہے۔

تہران میں آیت اللہ علی خامنه‌ای کی رہائش گاہوں کی تعداد چھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے جن میں سابق شاہ ایران کے نیاوران اور وکیل آباد والے محلات بھی شامل ہیں۔ ان دونوں محلات میں ایٹمی حملے سے بچاؤ کے لئے کنکریٹ کی گہری اور مضبوط ترین پناہ گاہین بھی تعمیر کی گئی ہیں۔  آیت اللہ علی خامنه‌ای کی صحت کی دیکھ بھال کے لئے ایک مکمل ذاتی ہسپتال تعمیر کیا گیا ہے جو ایک سابق وزیر صحت کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔

آیت اللہ علی خامنه‌ای خفیہ اطلاعات کے نظام میں خاس دلچسپی لیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آیت اللہ علی خامنه‌ای کے دوسرے صاحبزادے مجتبیٰ خامنه‌ای مختلف عقوبت خانوں میں حکومت مخالفین پر تشدد کی ذاتی نگرانی کرتے ہیں۔ آیت اللہ علی خامنه‌ای کی ہر شام کی مصروفیات میں بیس منٹ کا ایک خاص وقفہ شامل ہے جب وہ دبن بھر میں خفیہ اداروں کی طرف سے مختلف سیاسی اور ریاستی عہدے داروں کی گفتگو کا ریکارڈ سنتے ہیں۔ آیت اللہ علی خامنه‌ای کو پرتعیش گاڑیوں کا شوق ہے اور انہیں عام طور پر بی ایم ڈبلیو میں سوار دیکھا جاتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں