نقاد کی خدائی: عسکری اور فسادات کا ادب (4)


ajmal kamalنقاد کی یہ چابک دستی اُس وقت چیرہ دستی کی شکل اختیار کرلیتی ہے جب وہ کسی زبان یا علاقے کے ادب کی تاریخ کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس رویے کو عسکری کی تحریروں میں بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ نیاز فتح پوری وغیرہ کی ‘‘جمال پسندی’’ کو ۱۹۲۰ء سے ۱۹۳۵ء تک کے اردو ادب کا ‘‘غالب رجحان’’ قرار دے کر اس پورے دور کو مسترد کر دیتے ہیں اور اس جوشِ استرداد میں ‘‘مغلوب رجحان’’ والے دو غیراہم فنکاروں ۔۔ پریم چند اور اقبال ۔۔ کو فراموش کر دیتے ہیں، یا اگر ان میں سے کسی کا ذکر کرتے بھی ہیں تو استثنیٰ کے طور پر۔

مندرجہ بالا مثال سے عسکری کے ‘‘مقبول ترین’’ اور ‘‘صحیح ترین’’ تصورات کی تعریف متعین کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ عسکری کے مختلف تنقیدی فیصلوں کی روشنی میں یہ نتیجہ برآمد کرنے کے سوا چارہ نہیں کہ کسی زبان، علاقے، دور یا رجحان کے ادب کی تعبیر کرنے اور اسے ‘‘مقبول ترین’’ یا ‘‘صحیح ترین’’ تصور کے طور پر پیش کرنے کے عمل میں ان کا انحصار اکثر اپنی موضوعیت پر رہتا ہے۔ عسکری کا یہ تنقیدی طریق کار ‘‘فسادات اور ہمارا ادب’’ میں بھی ان کے اسی طرح کام آتا ہے جیسے اُن موقعوں پر جب انھیں اپنے تازہ ترین عرفان کی شہادت دینے کے لیے ادب کا کوئی تاریخی، جغرافیائی، معاشرتی یا نظریاتی تصور خلاصے کی شکل میں پیش کرنا ہو۔

یہ تکنیک مختلف ادیبوں کی تحریروں کے ذخیرے کے علاوہ انفرادی طورپر کسی ایک ادیب کا ‘‘درجہ متعین کرنے’’ میں بھی عسکری کے بہت کام آتی ہے۔ کسی ادیب یا شاعر کے زندگی بھر کے کام کو ایک فقرے یا نظریے کے کوزے میں بند کر دینا اُن کی ایجاد نہیں؛ آخر ہم ایسے اقوالِ زریں پہلے بھی سنتے چلے آئے ہیں کہ میر کا کلام آہ ہے اور سودا کا کلام واہ (اور اس کا تازہ روپ: سلیم احمد کا کلام ضعفِ باہ۔) لیکن عسکری نے اس فنِ لطیف کو بڑی چابک دستی سے اور گوناگوں مقاصد کے لیے جس طرح استعمال کیا ہے اس کی مثالیں اردو تنقید کی اس سرسبز روایت میں بھی کم ملیں گی۔

غالب کے بارے میں عسکری کا فیصلہ ہے کہ وہ ‘‘خودپسند’’ ہیں اس لیے ان کی شاعری مردود ہے۔ (بعد میں ایک تازہ عرفان کے تحت غالب پر ایک اَور اعتراض وارد ہوا کہ وہ دارالعلوم دیوبند کی تجویزکردہ معرفت سے بےگانۂ محضِ تھے؛ اس اعتراض کی رو سے بھی ان کی شاعری کی بےوقعتی قائم رہی۔) حالی کی شاعری کے گلے میں مفلر لپٹا ہوا ہے اور وہ والدین کی تربیت کے زیرِاثر کُھل کر عشق نہیں کر پاتے اور زیادہ سے زیادہ ‘‘بھلے مانس غزل گو’’ ہو سکتے ہیں۔ (اس بدنصیب مفلر کو اُچھال اُچھال کر عسکری کے مقلدین نے اس بھلے مانس کا جو پتلا حال کیا اس سے تو آپ واقف ہی ہیں۔) تصورِ محبوب اور دیوبندی معرفت دونوں کے لحاظ سے انھیں میر کی شاعری بہت مرغوب ہے۔ خواہ اس سے پڑھنے والے کو کچھ مدد ملے یا نہ ملے لیکن اس قسم کی دلچسپ تنقید کی معراج وہاں نظر آتی ہے جہاں عسکری فراق کی شاعری کو موضوع بناتے ہیں اور ‘‘کل یہ عشق نہ روٹھ سکے گا، آج منا لے آج منا لے’’ کی قبیل کے شعروں میں ناقابلِ تصور گہرائیاں اور بلندیاں بیک وقت دیکھ لیتے ہیں۔ فراق کے کسی شعر کے عسکری کے سامنے آتے ہی کچھ اس طرح کا انشائیہ وجود میں آتا ہے:

یوں کہنے کو تو درد نے بھی کہا ہے:

آخرالامر آہ کیا ہو گا

کچھ تمہارے بھی دھیان پڑتی ہے

مگر اس کے مقابلے میں فراق کا شعر دیکھیے:

وہ آگے آگے وصل کا وعدہ کیے ہوئے

ہم پیچھے پیچھے کاندھے پہ کھٹیا لیے ہوئے

Firaq-Gorakhpuriدرد کے شعر میں جو جمال پرستوں کی سی لجلجی جذباتیت ہے، فراق کا شعر اس سے بالکل پاک ہے۔ فراق کا محبوب بھی عام اردو شاعری کا محبوب نہیں بکہ وہ تو خود عاشق کی نازبرداریوں کو تیار رہتا ہے۔ اور اس شعر میں تو فراق کا عشق وقتی لگن اور طلب سے بہت بلند ہو کر پوری کائنات کے متعلق ایک رویہ، ایک اندازِ نظر بلکہ ایک مکمل فلسفۂ حیات بن جاتا ہے جس میں زندگی کے سارے تضاد، سارا جبرواختیار، سارے جدلیاتی عناصر آ کے ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔

پھر فراق کی محبت محض کسی محبوب کی لگن نہیں ہے بلکہ اپنی شخصیت کے امکانات کو وسیع کرنے کا ہمہ گیر تقاضا۔ یہ فراق کا سب سے بڑا احسان ہے کہ انھوں نے جنسی کشش کو زندگی اور شعور کے پورے نظام میں وہ جگہ دے دی ہے جہاں یہ جذبہ دوسرے عناصر سے علیحدہ نہیں بلکہ سب کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر عمل کر سکے۔ اس ہجر ووصال کی کیفیت میں ایک عجب کسک، عجب سرشاری، عجب سکون ہے۔

کھٹیا کو کوئی معمولی چیز نہ جانیے۔ خود فراق نے کہہ دیا ہے:

کہاں ہر ایک سے بارِ نشاط اٹھتا ہے

بلائیں یہ بھی محبت کے سر گئی ہوں گی

کھٹیا اٹھا کے چلنا ہنسی کھیل نہیں، زندگی کرنے کا ایک اسلوب ہے۔ یہ وہ بارِامانت ہے جس کے تصور ہی سے بڑے بڑے چیں بول جاتے ہیں۔ پروست نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ لوگ اس کو اٹھانے سے ایسا گھبراتے ہیں کہ قومی جنگوں میں شریک ہو کے جان تک دے دیتے ہیں۔ یہ عشق کو قبول کرنے اور اپنی ہستی کو اس کے سپرد کر دینے کا معاملہ ہے۔ محبوب کی شخصیت کے سچے احترام اور اس کے فطری تقاضوں کو اپنے وجود میں رچائے بغیر یہ شعر نہیں کہا جا سکتا تھا۔ اب آئیے غالب کی طرف۔ یوں تو غالب کے ہاں آفاق گیر استعجاب اور تحیر بھی مل جائے گا مگر عشق کے مناسبات کا ذکر آتے ہی وہ اپنے اندر سکڑ سمٹ جانے اور دوسروں سے اپنے آپ کو الگ کر لینے کی ترغیب سے نہیں بچ سکتے۔ بلکہ اس سے تو انھیں خودبینی اور خودنمائی کا اچھا بہانہ مل جاتا ہے۔ غرض غالب کی توجہ تو ہمیشہ اپنے اوپر ہی مرکوز رہتی ہے۔ جس شخص سے منّتِ درباں تک ڈھنگ سے نہ اٹھ سکے وہ کھٹیا کیا کھا کے اْٹھائے گا۔ پھر آتے ہیں ان کے شاگرد حالی۔ ‘‘مناجاتِ بیوہ’’ لکھنا اور قومی درد کا خیال کرنا اپنی جگہ، مگر عاشقی چیزے دیگر است۔ بچارے حالی تو عشق کر بیٹھنے کے بعد بھی یہ کہتے رہتے ہیں کہ ‘‘مجھ کو خود اپنی ذات سے ایسا گماں نہ تھا’’۔ پھر عشق سے وہ ایک اس وجہ سے بھی گھبراتے ہیں کہ اس میں پڑ کے آدمی بدنام ہو جاتا ہے۔ حالی کو خود اس کا احساس ہے کہ محلّے والوں اور سماج کے ڈر سے وہ اپنا گلا خود گھونٹتے رہے۔ انھوں نے زندگی کو فاعلی حیثیت سے نہیں قبول کیا بلکہ عشق سے ڈر کے لوگوں کو یہ سبق پڑھانے لگے کہ شاعری میں سماجی افادیت ہونی چاہیے۔

مریل جمال پرستوں سے تو خیر کھٹیا اٹھانے کی توقع کرنا ہی بےکار ہے۔ ان سے تو لغت کی پنسیریاں ہی ٹھیک سے اٹھ جائیں تو سمجھیے بیل بیاہا۔ لیکن حالی کے زیرِاثر جو استعارے کے خوف اور دو جمع دو چار کی قسم کی حقیقت نگاری کا آغاز ہوا، ہمارے ادب کا ستیاناس اصل میں تو اس نے کیا ہے۔ حالی کے سائے میں پلنے والے ترقی پسند قلیوں کی ہڑتال کرا کے صلیب کا بوجھ بھلے ہی اٹھا لیں، کھٹیا اٹھا کر زندگی کا سامنا کرنا ان کے بھی بس کا روگ نہیں۔ جو شاعری یا جو محبت جسمانی خواہش کی پاکیزگی محسوس نہ کر سکے وہ قوت اور عظمت سے بھی پاک ہو گی۔ کھٹیا کے استعارے ہی کو لیجیے، اس میں فراق نے گویا عشق اور زندگی کے تجربات کا جوہر پیش کر دیا ہے۔ اس سے ملتی جلتی بات میر نے بھی کہی تھی کہ

تری گلی میں سدا اے کشندۂ عالم

ہزاروں آتی ہوئی چارپائیاں دیکھیں

لیکن میر کے ہاں جو چیز ایک تعمیم کی شکل میں آتی ہے اس نے فراق کے شعر میں ایک دلربا تخصیص حاصل کر لی ہے۔ پھر کھٹیا کے صوتی آہنگ میں کسے کسائے ہونے کا جو احساس ہے وہ چارپائی کے لفظ میں کہاں! اس کی مثال تو صرف یٹیس کے ہاں ملے گی:

Her beauty like a tightened bow

اس قسم کے استعارے کی تخلیق کے لیے آدمی میں دو طرح کی ہمت ہونی چاہیے۔ ایک تو اپنے لاشعور سے آنکھیں چار کرنے کی، دوسری اپنی خودی کی کوٹھری سے نکل کر گردوپیش سے ربط قائم کرنے کی۔ یہ ہمت اردو کی حد تک یا تو میر میں تھی یا اس کی نتھر ہوئی شکل فراق کے ہاں۔۔۔

وغیرہ وغیرہ۔

(انتباہ: بعض حضرات و خواتین کی معصومیت کو پیش نظر رکھتے ہوے یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ اوپر دیا گیا انشائیہ دراصل ایک پیروڈی ہے اور جو صاحب یا صاحبہ اس مضمون کو عسکری کی کتابوں یا اس لافانی شعر کو فراق گورکھپوری کے مجموعوں میں تلاش کرنے کی کوشش کریں وہ یہ کارِ لائقہ اپنی ذمےداری پر کریں۔ اگرچہ عسکری کے بیشتر فقرے جو اس انشائیے میں موجود ہیں انھی کی تحریروں سے لیے گئے ہیں اور جہاں تہاں ہاتھ آ سکتے ہیں۔ اسی طرح فراق صاحب کے کلام میں یہ والا نہ سہی، اسی قبیل اور سطح کے دوسرے لافانی شعر مل جائیں تو تعجب کی بات نہ ہو گی۔)

اتنی خوبیاں تو عسکری کے اسلوب کی میں نے گِنوا دیں۔ اب کچھ خامیاں بھی ہوں تو وہ آپ گنوادیجیے۔ عسکری کے الفاظ میں، یہ اسکول کے مدرّسوں کا کام ہے کہ دریاؤں کے پانچ فائدے بتائیں تو پانچ نقصانات بھی ضرور بتائیں، اور میں اسکول کا مدرّس تو بڑی بات ہے، اردو کا نقاد تک نہیں ہوں۔

(جاری ہے)

 


Comments

FB Login Required - comments