تہذیب کے فرزندوں سے ڈیڑھ بات


wajahatچند ہفتے گزرے، کھانے کی ایک دعوت میں صاحبان باوقار کا ایک نمائندہ بھی موجود تھا۔ چاق و چوبند نوجوان، چھریرا بدن، کرسی کی پشت میں میخ جیسی نشست، بدن بولی میں وہ اعتماد جو مکمل تحفظ اور اختیار کے احساس سے جنم لیتا ہے۔ آپریشن ضرب عضب پر دھواں دھار بحث ہو رہی تھی۔ گفتگو میں کچھ وقفہ آیا تو درویش نے صاحب ذی وقار سے تخلیہ کی درخواست کی۔ دونوں اٹھ کر میز کی ایک طرف آ گئے۔ شاید کسی نے خیال کیا ہو کہ کسی فائل پر فیصلے کا معاملہ ہے۔ مگر یہاں سفارش کی صورت کچھ اور تھی۔ عرض کیا کہ آپریشن ضرب عضب ایک بہت بڑا سنگ میل ہے۔ پاکستانی شہریوں کی جان و مال پر بلا روک ٹوک اختیار کا دعویٰ رکھنے والوں کو اہم پیغام دیا گیا ہے۔ دہشت کے بندوبست کو تتر بتر کر دیا گیا ہے۔ لیکن کچھ دیگر پہلو بھی توجہ چاہتے ہیں۔ ہماری آبادی بیس کروڑ ہے اور اس آبادی کی اوسط عمر 22.6 برس ہے۔ اقوام عالم میں اپنا معاشی اور سیاسی مقام حاصل کرنے کے لیے نہ تو ہمارے معدنی وسائل فیصلہ کن ہوسکتے ہیں اور نہ ہتھیار۔ جغرافیائی محل وقوع کی افادیت بھی لا محدود نہیں۔ ہماری اصل قوت ہماری نوجوان آبادی ہے۔ ہم نے ان نوجوانوں سے شخصی آزادی اور خوشی کے مواقع چھین لیے ہیں۔ چار کنال کے گھر میں راج ہنس کی زندگی بسر کرنے والا نوجوان بھی مغرب میں دس ضرب بیس فٹ کے بسیرے تک پہنچنے کے لیے بے چین ہے۔ ہمیں اپنی معاشرتی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو خوشی کا خواب لوٹا دیا جائے تو ہم اخلاقی توانائی کا اتنا بڑا ذخیرہ دریافت کر سکتے ہیں جس کے سامنے بجلی کا بحران بازیچہ اطفال ٹھہرے گا۔ فرد کی اخلاقی توانائی، اجتماعی انصاف اور شخصی آزادی کے تصور سے جنم لیتی ہے۔ صاحب اقتدار جہاںدیدہ ہے۔ چہرے کے تاثرات میں قبول و استرداد کا کوئی رنگ نہیں آیا۔ اوائل مارچ کی یہ گفتگو اس وقت اس لیے یاد آئی کہ ان دنوں پیمرا کی کچھ ہدایات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی مبینہ سفارشات زیر بحث ہیں اس اس بحث کے کچھ زاویوں پر رائے دینا مناسب ہے۔ اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے۔

پیمرا نے گزشتہ دنوں جرائم پر مبنی پروگراموں کے لیے کچھ ضابطہ اخلاق طے کیا۔ جرم کی عکاسی کے بارے میں حدود کی بحث بہت پرانی ہے۔ فلم اور ٹیلی ویژن کے عامل فریق کا نقطہ نظر اور علم معاشرت کے ماہرین کے دلائل جانے بوجھے ہیں۔ جرم کے بارے میں معلومات اور جرم کے آلات تک رسائی کا جرم کی شرح سے تعلق بھی معلوم ہے۔ معاشرے کو دراصل بیان اور اخفا کے درمیان توازن دریافت کرنا ہوتا ہے۔ جرم کے بیان پر مکمل پابندی وہ تاریکی فراہم کرتی ہے جس میں جرم کا انسداد مشکل ہوجاتا ہے۔ جرم کا تفصیلی بیان جرم کی تعلیم پر منتج ہوسکتا ہے۔ اور احتمال ہوتا ہے کہ اثر پذیر ذہن جرم کو قابل قبول حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔ پیمرا کی ان ہدایات کا تناظر تب وسیع ہوگیا جب محرمات کو ہراساں کرنے کی ایک تمثیل کے بارے میں ہدایات جاری کی گئی۔ پھر حکم آیا کہ مانع حمل تدابیر کے اشتہارات کو روکا جائے۔ اس پر احتجاج کے بعد واضح کیا گیا کہ پابندی نہیں، اشتہار دکھانے کے اوقات کار بتائے گئے ہیں۔ دیکھیے، انسانی جسم اور اس کے متعلقات کا احترام انسانی آزادیوں کا بنیادی حصہ ہے۔ ہم نے فیملی تفریح کی ایک “کمبل” اصطلاح گھڑ رکھی ہے۔ اس کی کچھ حدود ہوتی ہیں۔ انسانی آبادی کا فعال ترین حصہ اٹھارہ برس سے پچاس برس کی عمر تک شمار کیا جاتا ہے۔ اس عمر میں انسانوں کی معاشی، پیشہ ورانہ، تولیدی اور تخلیقی صلاحیت نقطہ عروج پر ہوتی ہیں۔ اٹھارہ برس سے کم عمر بچوں کے تحفظ اور بزرگوں کے احترام سے کوئی انکار نہیں لیکن تحفظ اور احترام کی یہ صورتیں آبادی کے اہم ترین حصے کی ذہنی، حیاتیاتی، اور معاشرتی ضروریات سے انکار پر استوار نہیں کی جا سکتیں۔ مشرق ہو یا مغرب، انسانی معاشرے کے حقائق ناقابل انکار ہیں۔ معاملہ حقیقت کو تسلیم کرنے اور اسے بیان کرنے کے آداب کا ہے۔ سوال کی علت انسان کے ساتھ لگی ہے۔ سوال ہر معاشرے میں پیدا ہوتا ہے اور ہر بچہ سوال کرتا ہے۔ ہمارے ریاستی اور تمدنی اداروں کو سوال کی تہذیب پر غور کرنا چاہئے۔ اخفا کی ثقافت سے منافقت جنم لیتی ہے، منافقت کی موجودگی میں انفرادی اور اجتماعی کردار شفاف نہیں ہوتا۔

اس دوران اسلامی نظریاتی کونسل کی عورتوں کے تحفظ سے متعلق کچھ سفارشات سامنے آئیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ کل 163 سفارشات میں سے کوئی دو درجن جواہر پارے منکشف کیے گئے ہیں۔ صاحب علم نے اس پر ہونے والی بحث کے ردعمل میں بد تہذیبی کا عنوان باندھ کر ملفوظات ارزاں کیے ہیں۔ تہذیب کی اچھی کہی! ملک کا اہم ترین مذہبی رہنما مقبول ترین سیاسی رہنما کی ذاتی زندگی کو تہذیب پر ڈرون حملہ قرار دیتا ہے، کسی کی ذاتی زندگی کو سیاسی مباحث کا موضوع بنانا تہذیب کا قابل تحسین نمونہ ہے؟ یاد رہے کہ یہی مذہبی رہنما چند ہفتے قبل پریس کلبوں میں عورتوں کے تحفظ کے بارے میں استہزا کے گل کھلا رہے تھے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے سے تو صرف یہ عرض کیا گیا تھا کہ آئین کی دفعات 228، 229 اور 230 پر نظر ڈالنے کی زحمت کر لی جائے۔ کیا یہ کونسل ایک مستقل آئینی ادارہ ہے یا اس کے لیے کوئی مدت مقرر کی گئی تھی؟ نیز یہ ایک مشاورتی ادارہ ہے، تو کیا ہم نے مشاورت کے وہ معانی حتمی طور پر متعین کر لیے ہیں جنہیں ہمارے ایک چیف جسٹس نے “بامعانی مشاورت” کی اصطلاح بخشی تھی۔ کیا منتخب نمائندوں کے حق قانون سازی پر ایک غیر منتخب اور نامزد ادارے کو بالا دستی دی جاسکتی ہے؟ بے ضرر سوالات تھے۔ صاحبان تقویٰ برا مان گئے۔ بہر صورت یہ تو تسلیم کیا کہ معاشرے میں عورتوں کے ساتھ بد سلوکی کا چلن عام ہے اور ان کے حقوق کی صورتحال اچھی نہیں۔ اس صورت میں سوال یہ ہوگا کہ استحصال کا تعین استحصال کا شکار ہونے والا کرے گا یا یہ استحقاق بھی اسی فریق کو دیا جائے گا جس پر بد سلوکی کا الزام ہے۔ پاکستان کے آئین کی شق 25 کی دفعہ 2 واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ شہریوں کے مابین جنس کی بنیاد پر امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کا شہری ہونا ایک آئینی و قانونی معاملہ ہے جو کسی مخصوص عقیدے کے تابع نہیں۔ پاکستان کا آئین عورتوں اور مردوں میں شہریت کی درجہ بندی نہیں کرتا۔ چنانچہ پاکستان کے کسی ریاستی ادارے کو جنس کی بنیاد پر امتیاز کی اجازت نہیں۔ قانون کے مطابق تشدد پر ریاست کو اجارہ حاصل ہے۔ کسی شہری یا کسی غیر ریاستی گروہ کو تشدد کا حق نہیں دیا جا سکتا خواہ یہ تشدد مسواک سے کی جائے، ٹوپی سے یا رومال سے۔ یہاں اگر کسی کو منٹو کا افسانہ مسواک یاد آجائے تو لکھنے والے کا کچھ قصور نہیں۔ اور رومال سے تشدد تو انیسویں صدی کے ٹھگ کیا کرتے تھے۔ ہمارے اجتماعی حافظے میں رومال کا استعارہ ریشمی رومال سے منسوب ہے جو آزادی کی ایک محترم تحریک تھی۔ مگر صاحب، آزادی کے سوال ہی پر تو یہ سب جھگڑے ہیں۔ آزادی کی بات کرنے والے عورت کو غلام بنانا چاہتے ہیں یا عورت کے حقوق اور رتبے پر درجہ حکم کا مطالبہ کرنے والے عورت سے انصاف کرنا چاہتے ہیں؟ خاندان کا ادارہ رضاکارانہ بندوبست ہے یا جبر کی کوئی صورت؟ کیا ہمیں اس معاشرت کا اسیر رہنا ہے جس کی بنیاد منافقت، تشدد اور جسمانی خصوصیات کی بنیاد پر انسانوں کی درجہ بندی ہے؟ صاحب علم نے اپنی تحریر میں نو دفعہ بد تہذیبی اور پانچ دفعہ جاہلیت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ پوچھنا چاہئے کہ دوسروں کو جاہل قرار دینا تہذیب کے کس درجہ میں آتا ہے۔ استاذی احمد شاہ بخاری کو کسی نے جاکر بتایا کہ ایک طالب علم پرنسل آفس کے سامنے انہیں برا بھلا کہہ رہا ہے۔ بلا بھیجا، کرسی پر بٹھایا اور کہنے لگے، بیٹا میں گورنمنٹ کالج لاہور کا پرنسپل ہوں تم مجھے نااہل کہتے ہو تو میں تمہیں نالائق طالب علم کہہ سکتا ہوں، تم مجھے برا ادیب قرار دیتے ہو تو میں تمہیں ادب سے نابلد ہونے کا طعنہ دے سکتا ہوں۔ لیکن تم مجھے علم اور تہذیب سے عاری قرار دیتے ہو تو میں بے بس ہوجاتا ہوں، میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اب تمہیں کیا جواب دوں؟


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “تہذیب کے فرزندوں سے ڈیڑھ بات

  • 31-05-2016 at 5:55 am
    Permalink

    most wise descriptuon of the on going debates, welldone sir, wisely convayed

  • 06-06-2016 at 12:10 pm
    Permalink

    such a great article. thank you for this.

Comments are closed.