غیر اہم باتوں کا قانون


مسلم دنیا اس وقت تین بڑے مسائل سے دوچار ہے، پہلا، اگر نیل پالش لگی ہو تو کیا وضو ہو جاتا ہے، دوسرا، اگر موبائل فون میں فحش مواد ہو تو کیا اسے جیب میں رکھ کر نماز ہو جاتی ہے، اور تیسرا، کیا روزے کی حالت میں دانت برش کئے جا سکتے ہیں!

آپ میں سے جن لوگوں کا خیال ہے کہ میں نے مسلم امہ پر طنز کرنے کی کوشش کی ہے اُن کی خدمت میں عرض ہے کہ کسی بھی اخبار کا ہفتہ وار مذہبی صفحہ نکال کر پڑھ لیں، کوئی مذہبی ویب سائٹ ڈھونڈ لیں یا کسی عالم دین سے سوالات کی کوئی ویڈیو دیکھ لیں، اگر آپ کو اسی قسم کے سوالات کی بھرمار نہ ملے تو پیسے واپس۔

ٹویٹر پر ایک مذہبی عالم سے کسی نے پوچھا کہ کیا میں روزے کی حالت میں ٹوتھ برش کر سکتا ہوں تو اس نے جواب دیا کہ ہاں آپ ٹوتھ برش استعمال کر سکتے ہیں بلکہ آپ کو ہمیشہ ٹوتھ برش استعمال کرنا چاہیے اور خدا کا واسطہ ہے کہ ٹوتھ برش کیا کرو!

نیل پالش اور وضو کا بھی یہی قصہ ہے، اس بابت سوالات پڑھ کے یوں لگتا ہے جیسے پوری امت مسلمہ کی عورتوں کا اِس سے بڑا اور کوئی مسئلہ نہیں کہ نیل پالش بھی لگ جائے اور وضو بھی ہو جائے، البتہ یہ کسی عورت کا مسئلہ نہیں کہ جب وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ کسی ریستوران میں جائے تو اُس گیارہ برس کی ’’ملازمہ‘‘ کو کیا کھانا کھلائے جو ساتھ والی میز پر اُس عورت کے آٹھ سال کے دھینگڑے کو گود میں بٹھا کر برگر کھلانے کی ڈیوٹی سر انجام دیتی ہے۔

نماز پڑھتے وقت ہمیں موبائل فون میں محفوظ فحش مواد کا خیال تو (غالباً) شرمندہ کرتا ہے مگر صراط المستقیم والی آیات پڑھتے ہوئے یہ سوچ نہیں آتی کہ اپنی یتیم بھتیجی کی جس جائیداد پر میں قبضہ کئے بیٹھا ہوں قیامت کے روز اُس کے متعلق اللہ کے حبیب ﷺ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ ہمیں یہ سوال بھی بہت پریشان کرتا ہے کہ نماز کے وقت ہاتھ کہاں باندھنے چاہئیں مگر اِس بات کی ہمیں کوئی پریشانی نہیں کہ جس دفتر میں کام کرنے کی ہم تنخواہ لیتے ہیں وہ تنخواہ ہم نے حلال کی یا نہیں۔

ہم یہ بات بھی اکثر عالموں سے پوچھتے ہیں کہ اگر عورت کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دی جائیں تو کیا ایک طلاق گنی جائے گی یا تین مگر یہ سوال کوئی نہیں کرتا کہ عورت کو گھر سے نکال باہر کرنے کے بعد اُسے نصف جائیداد کیوں نہیں مل سکتی جیسے کہ اکثر دنیا میں قانوناً رائج ہے!

اور حج کے دوران ہمیں اس بات کا بھی بہت دھیان رہتا ہے کہ کہیں مناسک حج میں کوتاہی نہ ہو جائے، شیطان کو زوردار پتھر مارے جائیں، بال پورے کٹوائے جائیں، احرام ٹھیک سے باندھا جائے مگر اِس بات کی کسی کو فکر نہیں کہ اپنے اندر کا شیطان کیسے مارا جائے، اپنے ملک واپس آ کر گندگی نہ پھیلائی جائے اور اپنی فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کے ساتھ جانوروں کا سا برتاؤ نہ کیا جائے۔

دراصل یہ مسلم دنیا کا قصہ نہیں، یہ انسان کی فطرت ہے، جو بات ہمیں آسان لگتی ہے اُس پر خوشی خوشی عمل کرتے ہیں، ایسے ہمیں تقویت ملتی ہے، گردن فخر سے تنی رہتی ہے، ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آتا ہے۔ اس انسانی رویے کو اگر مشکل انگریزی کے الفاظ استعمال کرکے کسی دقیق مقالے کی شکل میں شائع کیا جائے تو کچھ کچھ Parkinson’s law of trivialityجیسی شکل سامنے آئے گی۔

سرل پارکنسن ایک انگریز تاریخ دان اور لکھاری تھا، اسے مینجمنٹ گرو مانا جاتا ہے، قریب قریب اس نے ساٹھ کتابیں لکھیں، اس کا پارکنسن لا بہت مشہور ہے جو یہ کہتا ہے کہ ’’جتنا وقت کسی کام کو مکمل کرنے کے لئے مختص کیا جاتا ہے وہ کام اُس وقت کے مطابق از خود پھیل جاتا ہے۔‘‘

مگر پارکنسن کا law of triviality زیادہ دلچسپ ہے (اس کا ترجمہ ’’قانون غیر اہم‘‘ ہی کیا جا سکتا ہے)، اس قانون کی وضاحت پارکنسن نے ایک فرضی میٹنگ کی مثال کے ذریعے کی ہے، وہ کہتا ہے فرض کریں کہ ایک میٹنگ ہو رہی ہے جس کے ایجنڈے پر تین کام ہیں، پہلا، سو ارب روپے مالیت کے ری ایکٹر لگانے کی منظوری دینا، دوسرا، پانچ لاکھ روپے سے دفتر کے اسٹاف کے لئے پارکنگ شیڈ کی تعمیر اور تیسرا، میٹنگوں کے لئے سال بھر کی چائے کافی کا ٹھیکہ دینا جس کے لئے پچاس ہزار کا بجٹ مختص ہو۔

پارکنسن کا کہنا ہے کہ پہلا ایجنڈا جو بہت گھمبیر اور تکنیکی نوعیت کا ہے اور جس پر ہفتوں دماغ کھپایا جانا چاہیے، درحقیقت چند منٹ میں منظور کر لیا جائے گا جبکہ دوسرے ایجنڈے کی منظوری پر ایک گھنٹہ لگے گا کیونکہ میٹنگ کے ممبران کو ری ایکٹرر کے مقابلے میں پارکنگ شیڈ کی یقیناً زیادہ سدھ بدھ ہوگی ۔

 سب سے زیادہ وقت پچاس ہزار روپے کی چائے کافی کی سپلائی پر صرف ہو گا کیونکہ یہ ایسا موضوع ہے جس پر ہر کوئی بات کر سکتا ہے، ہر شخص کو پتہ ہے کہ کہاں سے اچھی کافی ملتی ہے، کتنے میں ملتی ہے اور کیسے بنتی ہے لہٰذا ری ایکٹر کے مقابلے میں ممبران اس کافی کی سپلائی جیسے trivial(معمولی) مسئلے پر زیادہ غور فرمائیں گے اور یوں سو ارب کے مقابلے میں پچاس ہزار زیادہ اہم ثابت ہوں گے۔

بالکل اسی طرح جیسے کسی عورت کے نزدیک نیل پالش کھرچ کر وضو کرنا زیادہ اہم مسئلہ ہے بہ نسبت کسی غریب ملازمہ کے کھانے پینے کا خیال رکھنا!

پارکنسن کا یہ قانونِ غیر اہم کم از کم ہم لوگوں پر پوری طرح لاگو ہے، ہم غیر اہم باتوں کو زندگی موت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور اہم باتوں کی پروا نہیں کرتے، اشرفیاں لٹاتے ہیں اور کوئلوں پر مہر لگاتے ہیں، چائے بسکٹوں کی خریداری میں بچت کرتے ہیں مگر اربوں روپے کا بجٹ بغیر کسی بحث کے منظور کر لیتے ہیں۔

ہمارے نزدیک سورۃ فاتحہ کے بعد آمین بالجہر بڑا مسئلہ ہے بہ نسبت سورۃ فاتحہ کے مندرجات پر عمل کرنے، ہم مسجد میں صفیں سیدھی کرنے میں زیادہ وقت لگاتے ہیں مگر اپنے اعمال درست کرنے کے بارے میں چند منٹ بھی نہیں سوچتے! پارکنسن نے تو ایسے نہیں سوچا مگر میرا یہ خیال ہے کہ ہماری اکثر محبتیں بھی اسی اصول غیر اہم کی بھینٹ چڑھ کر ختم ہو جاتی ہیں، ہم معمولی باتوں کو انا کا مسئلہ بناتے ہیں اور پھر یہ معمولی باتیں اہم ہوکر ہم سے ہماری محبت چھین لیتی ہیں۔

مسلم دنیا کے تین بڑے مسائل ہیں، پہلا،علم و فلسفے سے دوری، دوسرا، ہر وقت خود کو مظلوم جان کر ماتم کناں رہنا اور تیسرا، غیر مسلموں کی ’’سازشوں‘‘ کو ناکامی کا جواز بنا کر پیش کرنا۔ مسلم دنیا کے زوال کی یہ وجوہات حتمی ہیں اور نہ ہی مکمل۔

مگر یہ بات بہرحال طے ہے کہ مسلم دنیا کاسب سے بڑا مسئلہ نیل پالش، روزے کی حالت میں ٹوتھ برش پھیرنا اور آمین بالجہر نہیں ہے۔ ہماری ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم trivialباتوں میں گم ہو جاتے ہیں اور اصل مقصد کی طرف سے توجہ ہٹا لیتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے ہمارے لئے بڑی عید پر بکرا ذبح کرنا آسان ہے مگر نفس کی قربانی مشکل ہے۔

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 250 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada