اسلامی نظریاتی کونسل: اختلاف میں اعتدال اور احترام قائم رکھیئے


masood abdaliپاکستان کو درپیش مشکلات میں سب سے بڑااور سنگین مسئلہ اہم قومی امور پر اتفاق رائے کا فقدان ہے۔ اس پریشانیِ فکر کی بنیادی وجہ باہمی عدم اعتماد ہے جسکی بنا پر ہمارے یہاں آزادانہ بحث و مباحثے اور اختلافی امور پر کشادہ دلی سے گفتگو کا رواج نہیں۔ اس اجتماعی روش نے جہاں ہمارے معاشرے کو انتشار میں مبتلا کردیا ہے تو دوسری طرف مخالفانہ رائے کی حوصلہ شکنی حکومتی ایوانوں میں چاپلوسی کے کلچر کو عام کر رہی ہے۔ اسی بنا پر ہماری سیاسی جماعتیں،کاروباری انجمنیں، پیشہ ورانہ ادارے حتیٰ کہ طلبہ تنظیمیں بھی دھڑے بندیوں کا شکار ہیں۔ معلومات تک رسائی کی حوصلہ شکنی سے افواہ سازی صنعت کا درجہ اختیار کر گئی ہے۔مخصوص مفادات کے زیر اثر میڈیا ملک کے مختلف طبقات کے درمیان غلط فہمیوں کے شجر زقوم اگانے میں مصروف ہے۔ کہیں چڑیا تماشہ لگتا ہے تو کبھی سیاسی مشران کے جرگے بٹھائے جاتے ہیں۔ ان تمام نشستوں میں بات صرف ‘انکے’ مطابق ہوتی ہے۔ادھر چند ماہ سے مخصوص لکھاری سیاست دانوں، علما اور حکومتی عمال کی نہ صرف کلاس لیتے ہیں بلکہ ممتحن کی طرح ان طفل ہائے مکتب کوباقاعدہ نمبر بھی دئے جاتے ہیں۔ فکری پریشانی کا حالیہ مظاہرہ تحفظ نسواں بل کی صورت میں نظر آیا جسے پنجاب اسمبلی نے بلا سوچے سمجھے منظور کرلیا۔ ہمیں یقین ہے کہ اکثر ارکان نے اسکی حمائت میں ہاتھ اٹھانے سے پہلے مسودے کا سرسری سا جائزہ بھی نہیں لیا کہ تشدد کے جن واقعات کو مستوجب سزا اور قابل دست اندازی پولیس قراردیا جارہا ہے ان سارے جرائم کی تشریح اور مرتکب مجرموں کیلئے مجوزہ سزائیں پاکستان کی قوانین میں پہلے سے موجود ہیں۔ اس بل کو اسلامی نظریاتی کونسل نے ترنت مسترد کرکے ایک متوازی مسودہ پیش کرنے کا اعلان کیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل عملاًایک بےمصرف ادارہ ہے جسکی سفارشات پر عملدراآمد تو کجا انھیں پارلیمان میں بحث کیلئے پیش بھی نہیں کیا جاتا۔ دوسری طررف اسلام بیزار عناصر اسکی سفارشات کو اسلام اور پیغمبر اسلام کی تضحیک اور توہین کیلئے خوب استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ حقوق نسواں کے باب میں اسکی حالیہ سفارشات پر میڈیا کی جانب سے ایسا ہی ردعمل سامنے آیا۔ میڈیا پر یہ پٹی چلادی گئی کہ مجوزہ بل میں شوہر کو بیوی پر ‘ہلکا تشدد’ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ پہلے دور کے فتنہ گر رائی کا پہاڑ بنایا کرتے تھے لیکن پاکستان میڈیا کو دہشت کا پہاڑ تعمیر کرنے کیلئے رائی کے دانے کی بھی ضرورت نہیں۔ جس بات کو ہلکا تشدد کہا جارہا ہے وہ دراصل عربی لفظ ‘ ترہیب’ ہے جسکے لغوی معنی ناگواری و ناراضگی کا پروقارعلامتی اظہار ہے۔ پریس کانفرنس میں مولانا محمد خان شیرانی نے اسکی بہت ہی عمدہ وضاحت بھی کی اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ناگوااری کا اظہار کرتے ہوئے شوہر اپنی بیوی کو مسکرا کر نہ دیکھے یا بستر پر اس کی طرف سے رخ پھیر لے۔ قرآن کے طالب علموں کو معلوم ہوگا کہ ترہیب کی یہ ترکیب قرآن کریم میں بھی بیان ہوئی ہے۔ لیکن کس کے پاس وقت ہے کہ مسودے کو غور سے پڑھے۔ لبرل اور سیکیولر عناصر کو توپوں کے دہانے کھولنے کیلئے ‘ہلکے تشدد’ کا لفظ ہی بہت کافی ہے۔ یہاں پرمجوزہ بل کے چند دوسرے نکات ملاحظہ فرمائیں:

  • قرآن سے شادی پر 10 سال قید ۔ یہ مکروہ حرکت سندھ کے وڈیروں اور پنجاب کے چودھریوں میں بہت عام جو اپنی بہنوں کی قرآن سے شادی کرکے وراثت میں انکا حصہ ہڑپ کرجاتے ہیں۔سندہ کے کئی ارکان اسمبلی اس قبیح حرکت میں ملوث ہیں۔ آپ نے کسی مولوی یا مذہبی گھرانے میں کسی بچی کی قرآن سے شادی کی خبر نہیں سنی ہوگی۔

  • غیر ت کے نام پر قتل قتل عمد سمجھا جائے گا جس کی سزا موت ہوگی۔

  • خواتین سیاست میں آزادانہ حصہ لے سکتی ہیں لیکن انھیں شو پیس کی طرح غیر ملکی مہمانوں کے استقبال کیلئے ائرپورٹ پر پیش نہیں کیا جائے گا۔

  • اسپتالوں کے مردانہ وارڈ میں خواتین نرسیں تعینات نہیں کی جائیگی۔ خواتین مردوٓں کیلئےکھلونا یا دلبستگی کا سامان نہیں

  • خواتین کواعلیٰ تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کئے جائینگے اور پرائمری کے بعد انکے تعلیمی ادارے علیحدہ ہونگے

  • اسقاط حمل قتل گردانا جائیگا۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کوئی الہامی صحیفہ نہیں اور ان پر بحث اور ترمیم کی کافی گنجائش موجود ہے ۔ مثال کے طور پر قرآن سے شادی پر صرف دس سال کی قید بہت کم محسوس ہوتی ہے۔ ایسے سفاک بھائی یا باپ کے خلاف تو توہین قرآن کا پرچہ کٹنا چاہئے۔ اسی مہمل نکاح کی منسوخی، بچی کی ضبط کی جانیوالی وراثت کی بازیابی، اسکا گھر بسانے کی کوشش، ذمہ داروں کی جائیداد کی قرقی اور اس سے لڑکی کی ذہنی و جسمانی اذیت کا مداوہ بھی بہت ضروری ہے۔ اسی طرح اسقاط کے مسئلے پر مزید غور و فکر کی ضرورت ہے۔ علما اور طبی ماہرین کو زندگی کے آغاز کا تعین کرنا چاہئے کہ امید کے کس مرحلے پر اسقاط قتل کے ضمرے میں آتا ہے۔ اس نکتے کے استثنیٰ کو بھی قانون کا حصہ ہونا چاہئےکہ کن حالات میں اسقاط کی اجازت ہوگی مثلاً ماں کی زندگی کو خطرہ وغیرہ۔ واضح رہے کہ کیتھولک اور مارمن عیسائیوں کے یہاں بھی اسقاط پر پابندی ہے بلکہ مارمن تو خاندانی منصوبہ بندی کو بھی قتل ہی کی ایک شکل سمجھتے ہیں۔

بل میں شامل صرف ایک لفظ کو پکڑ کر جو طوفان اٹھایا گیا ہے اس سے ایک بار پھر دائیں اور بائیں کی خلیج گہری ہوتی نظر آرہی ہے۔ اسلام پسندون اور سیکولر دونوں عناصر کو یہ بات اچھی سمجھ لینے کی ضرورت ہے ان میں کوئی بھی دوسرے کو فنا نہیں کرسکتا۔ پرامن بقائے باہمی کیلئے متنازعہ امور پر باوقار اور آزادانہ بحث ضروری ہے۔ حقائق کو چھپا کر یا مسخ کر کے مخالف طبقے کو شکست نہیں دی جا سکتی اور شکست دینے کی ضرورت بھی کیا ہے۔ تنوع ہی تو انسانی معاشرے کا حسن ہے۔اپنے موقف کا دلائل کے ساتھ اظہار اور دوسرے پہلو کی تحمل و وقارکے ساتھ سماعت کے علاوہ اور کچھ بھی درکار نہیں۔ اچھے اور برے کا فیصلہ اس منصف مزاج قاضی پر چھوڑ دیں جسے دل کہتے ہیں۔ اپنے دل سے پوچھ، ملا سے نہ پوچھ

 


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “اسلامی نظریاتی کونسل: اختلاف میں اعتدال اور احترام قائم رکھیئے

  • 31-05-2016 at 11:14 am
    Permalink

    خواتین سیاست میں آزادانہ حصہ لے سکتی ہیں لیکن انھیں شو پیس کی طرح غیر ملکی مہمانوں کے استقبال کیلئے ائرپورٹ پر پیش نہیں کیا جائے گا۔
    اسپتالوں کے مردانہ وارڈ میں خواتین نرسیں تعینات نہیں کی جائیگی۔ خواتین مردوٓں کیلئےکھلونا یا دلبستگی کا سامان نہیں
    —————
    اگر درج بالا بکواسیات کی بنیاد پر آپ کہتے ہیں کہ یہ بل کسی بھی طرح ہماری توجہ اور احترام کا متقاضی ہے تو پھر ایسے میں ہم آپ کی ذہنی بلوغت پر بھی شک کریں گے۔

    سیاست میں آزادانہ حصہ لینے کی اجازت دی لیکن ایر پورٹ جانے کی اجازت نہیں؟ آپ کون ہوتے ہیں کسی کو شو پیس کہنے والے؟ اگر کوئی خاتون اپنی مرضی سے جانا چاہے تو آپ کے پیٹ میں کیوں مروڑ اُٹھ رہے ہیں؟ اگر سیاست تعلقداری کا نام ہے تو پھر “آزادانہ سیاست” کرنےوالی خاتون کیوں نہیں جاسکتی ایرپورٹ کسی کا استقبال کرنے کے لئے؟ یہ اتنی بیہودہ منطق ہے کہ اس کے پرخچے اُڑانے کی ضرورت ہی نہیں۔

    مردوں کے وارڈز میں خواتین نرسیں: اگر زمانہ قدیم میں خواتین میدانِ جنگ میں جنگجووں کی تیمار داری کر سکتی تھیں تو آج وارڈ میں کیوں نہیں کرسکتے؟ اپنے دماغ کا علاج کروا لیجئے۔

    • 03-06-2016 at 11:30 pm
      Permalink

      محترم خان اچکزئی صاحب، میری گزارشات پر تبصرے کا شکریہ۔ اختلاف کے باوجود آپکا نقطہ نظر قابل قدر ہے کرتا ہوں کہ اختلاف رائے انسانی معاشرے کا حسن ہے۔ تاہم آپکے اشتعال کی کوئی وجہ مجھے سمجھ نہ آئی۔ مجھے کبھی بھی اپنے بالغ نظر ہونے پر اصرار نہیں ۔ واجبی سی تعلیم اورمعمولی سوجھ بوجھ کی بنا پر مجھے اپنی علمی کم مائیگی بلکہ بے مائیگی کا اچھی طرح احساس ہے لیکن افسوس کہ آپ نے تحریر پڑھے بغیر ہی اس بکواس قرار دیدیا۔ اگر آپ میری نقل کردہ نکات کو دیکھتے تو آپکو اندازہ ہوتا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے غیر ملکی عمائدین کے استقبل کیلئےخواتین کے ائر پورٹ جانے پر کسی پابندی کی سفارش نہی کہ بلکہ انھیں شو پیس کے طور پر ‘پیش’ کرنے پر ناگواری کا اظہار کیا ہے۔ آپ جیسے بالغ نظر شخص کو اپنی مرضی سے جانے اور ‘پیش کرنے’ کا فرق اچھی طرح معلوم ہوگا۔ یعنی مملکت کے ‘ملائم پہلو’ یا Soft Image کو اجاگر کرنے کیلئے خواتین کو ‘پیش’ کرنے کی حوصلہ شکنی تجویز کی گئی ہے۔اب ذرا اسی تناظر میں مریضوں کی خدمت کیلئے خواتین نرسوں کی تعیناتی کے معاملے پر بھی غور فرمائیں۔ مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج و معالجے کیلئے مرد اور عورت کے درمیاں تفریق مشکل ہے اور کوئی بھی ذی ہوش غیر ضروری پابندی لگاکر مریضوں کی زندگی کو داو پر نہیں لگا سکتا لیکن اصل بات یہ ہے کہ بنتِ حوا کی اپنی ایک شخصیت ہے۔ صرف عارض و گیسو، لب و رخسار، نرم لمس اور شیریں تکلم ہی عورت کی شناخت نہیں کہ اسے مردوں کی دلبستگی کیلئے استعمال کیا جائے۔ مغرب میں بھی ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کیلئے کہ جنکو بستر پر ہی بول و براز کی ضرورت ہو انھیں کے جنس کے نرس تعینات کئے جاتے ہیں۔ آپکو یقیناً معلوم ہوگا کہ امریکہ میں عورت اور مرد نرسوں کی تعداد اب تقریباً برابر ہوچلی ہے بلکہ نئے فارغ التحصیل نرسوں میں مردوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ان ساری وضاحتوں کے بعد بھی آپکو اپنے موقف پر قائم رہنے اور میرے دلائل کو مسترد کردینے کا پورا اختیار حاصل ہے اور میں آپکی رائے کا دل سے احترام کرتا ہوں۔ اپکی طرف سے دماغی علاج کے مشورے پر بھی میں نے بڑی سنجیدگی سے غور کیا ہے۔ شدید اشتعال میں آپ ایک اہم نکتے سے صرف نظر فرماگئے اور وہ یہ کہ پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ بل میں قرآن سے شادی، ونی اور کاروکاری (غیرت کے نام پر قتل) کا کوئی سرسری سا تذکرہ تک نہیں جبکہ مولانا شیرانی کی ‘بکواسیات’ میں ان مظالم کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔

Comments are closed.