شیخ نذیر، طنز و مزاح شاعری کا بھولا ہوا باب


کیسے کیسے نابغے ہم میں تھے جن کو ہم نے پہچانا نہیں ، جو کسی وجہ سے مشہور و معروف نہ ہو سکے اور زمانے کی بھول بھلیوں میں ہم سے کہیں کھو گئے۔ شیخ نذیر کی شاعری کسی بھی طور سے اپنے ہمعصروں سے کمتر نہیں تھی مگر شائد ان کا کلام رسائل میں نہ چھپا یا شائد مشاعروں میں پڑھا نہیں گیا اسی لئے شیخ نذیر کی شاعری کو وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کی وہ مستحق تھی۔

شیخ نذیر پیروڈی کے فن میں یکتا تھے اور بڑے بڑے شعراء کی مشہور نظموں اور غزلوں کی ایسی پیروڈی کرتے تھے کہ نہ بحر میں فرق آتا اور نہ اسلوب میں رخنہ پڑتا بلکہ قافیہ و ردیف بھی وہی۔ علامہ اقبال کی ایک نظم ہے حقیقت حسن، اس میں حسن خدا سے اپنی بے ثباتی کا گلہ کرتا ہے اور خدا اسے تغیر پذیری سے زوال کی حقیقت سمجھاتا ہے۔ اس استعارہ و مجاز سے بھری لطیف نظم کو شیخ نذیر نے جس طرح پیروڈی کے لئے اپنایا ہے اور جس خوبصورتی سے اس کا حق ادا کیا ہے، پڑھنے والا دونوں نظموں کی داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میں آپ کی خدمت میں دونوں نظمیں آمنے سامنے رکھتا ہوں ، آپ بھی اس خوبصورت ادبی شہ پاروں سے حظ اٹھائیں۔

اسی طرح ایک دفعہ شیخ نذیر نے سعید احمد بریلوی کی مشہور نظم گنگا کا اشنان کی پیروڈی لکھی۔ سعید احمد بریلوی نے گنگا پر ایک حسینہ کے اشنان کرنے پر اپنی نظر کی خواہشوں کا ذکر کیا تھا مگر شیخ نذیر نے گنگا پر ایک فربہ سوامی جی کے اشنان کا ذکر کر کے اصل نظم سے دو ہاتھ آگے بڑھ گئے اور پیروڈی کو ایک نئی جہت فراہم کی، افسوس کہ ہمارے شعراء نے اسے کماحقہ آگے نہیں بڑھایا۔ اب دونوں نظموں کو آمنے سامنے پڑھ کر لطف اٹھائیں کہ کس طرح پیروڈی اصل سے بازی لے گئی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں