حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے


farnood01آپ جانتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک مست مولائی عوامی لیڈر تھے۔ راہ چلتے کسی بھی ڈھابے یا دکان میں جا گھستے اور موقع پر موجود لوگوں میں گھل مل جاتے۔ گھوٹکی سے گزرتے ہوئے اچانک گاڑی سے اترے، ایک تنگ وتاریک سی دکان میں داخل ہوگئے۔ دکا ندار کو تو یقین ہی نہ آیا، سو خوشی سے اول مبہوت ہوا اور پھر جھوم پڑا۔ لوگ جمع ہو گئے، دکاندار اپنا اعزاز جتلانے لگا۔ جاتے دم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا

’’میں تمہارے کیا کام آ سکتا ہوں‘‘

دوکاندار نے کہا

’’سائیں یہ اوپر دیکھو، یہ کھڑکی کا شیشہ دو مہینے سے ٹوٹا ہوا ہے اگر ہم کو بنوا کے دیدو تو بہت دعائیں دے گا سائیں‘‘

مسئلہ پتہ ہے کیا ہے۔؟

جتنا دماغ کا کینوس ہوتا ہے، اتنی ہی تصویر بن پاتی ہے۔ جو تصویر اتاری جا رہی ہے، اس کی اہمیت کا اندازہ بھی اتنا ہی ہوتا ہے جتنی ذہنی سطح ہوتی ہے۔ اپنی دستیاب اور محدود نگاہ سے منظر کو دیکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ سب سے وسیع ترین تناظر میں میری ہی نگاہ دیکھ رہی ہے۔ بیشتر یہ ہوتا ہے کہ ایک دوسرا شخص زیادہ وسیع تناظر میں منظر کو دیکھ کر تجزیہ کرتا ہے، مگر محدود نگاہ کو لگتا ہے کہ یہ ہمہ گیر تجزیہ بھی دراصل کسی عالمی سازش کا نتیجہ ہے۔ ہر وہ تصویر جو میرے ذہن کے سانچے میں نہیں بیٹھتی اسے میں مصور کی فنی کمزوری جان لیتا ہوں۔ شاید صورت حال ہی بدل جائے اگر ایک نگاہِ غلط میں اس فرسودہ سانچے پہ بھی گوارا کرلوں۔

بات یہ ہے کہ۔!

ان دنوں خدا پرستوں سے واسطہ پڑ گیا ہے۔ حرج کی کوئی بات نہیں، پڑتا ہے تو پڑنے دیجیئے۔ افسوس کا مقام بس یہ ہے کہ ان کے ذہن کے پردوں پہ خدا کی جو تصویر ابھرتی ہے اسے دیکھ کر طبعیت میں ضیق اور فضا میں گھٹن پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ خدا کم، کسی دیڑھ فٹی مسجد کا ڈیڑھ انچی خطیب زیادہ لگتا ہے۔ بلند فشارِ خون کے مستقل عارضے میں مبتلا خطیب۔ کبھی یوں لگتا ہے کہ خدا نہیں ہے، کوئی تابع فرمان منشی ہے جو کسی چغہ پوش ہیبت اللہ کے پیچھے فائلیں لئے گھوم رہا ہے۔ یہ خدا ایک مخصوص ذہنیت کا تراشا ہوا خدا ہے۔ یہ ذہنیت سماج میں اپنی وقعت کھو چکی ہے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ جانتے بھی نہیں کہ اس بے وقعتی کا سبب کیا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جاننا بھی نہیں چاہتے۔ کسی بھی نتیجے پہ نہ پہنچ پانے کے بعد اتنا ہی کہہ پاتے ہیں کہ سامراجی و استعماری پروپگنڈے کے تحت ہمارے اور سماج کے بیچ رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں۔ کس قدر کمال کی نرگسیت ہے۔ یعنی تھر کی فضاؤں میں ڈولتے مفلوک الحال زاغوں کا گمان یہ ہے کہ عقابوں کے نشیمن میں صبح شام ان کے خلاف سازش کے تانے بانے بنے جاتے ہیں۔ بات وہی ذہنی سطح کی ٹھہری۔ کبھی آپ اس کوفت سے گزرے کہ ایک شخص کہیں دو لوگوں میں اپنے تئیں تو آپ کی تعریف کر رہا ہو مگر مارے شرمندگی کے آپ کے کانوں کے نرموں سے دھواں اٹھنے لگا ہو؟ عقابوں کا نشیمن جب زاغوں کے تصرف میں آجائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فضاؤں، ہواؤں اور اڑانوں سے متعلق کیسے کیسے تخمینے لگائے جاتے ہوں گے۔ ایسے تخمینے کہ فضا بھی مکدر ہوجائے۔

ہمارے نصیب میں آئے یہ جمعراتیئے سماج کو ایک ایسے خدا کی پرستش پہ مجبور کرنے پہ کمربستہ ہیں، جو انتہائی درجے میں جانبدار ہے۔ جانبدار کیا کہیئے، ہر جائی ہی کہیئے۔ محرم کے دس دنوں میں یہ خدا شیعان علی کو یقین دلاتا ہے کہ تم ہی مومن ہو اور تم ہی نے غالب آنا ہے۔ ربیع الاول میں سنیوں کو بتاتا ہے کہ بہتر فرقوں میں سے جس ایک کو بخشش کا پروانہ ملنا ہے وہ تم ہی ہو۔ شیعہ کو اطمینان دلا رکھا ہے کہ سنی کافر ہے اور سنی کو یقین دے رکھا ہے کہ شیعہ ہی کافر ہے۔ پھر دونوں کے بیچ کچھ وقتی رواداری کی خاطر احمدی پیدا کر رکھے ہیں۔ یہ اتفاق رائے کے ساتھ کافر ہیں، اس لئے ان کے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل کر رکھے ہیں۔ رمضان کی آمد ہے اور چنیوٹ کی انتظامیہ چناب نگر میں رمضان بچت بازار لگانا چاہتی ہے۔ خدا نے محلے بھر کے لڑکے جمع کر لئے اور ڈی سی او کو بتا دیا کہ رمضان بچت بازار اگر چناب نگر میں لگا تو چنیوٹ کا ایک ایک بازار الٹ دیا جائے گا۔ ایک خوبصورت ڈائیلاگ یہ بھی تھا کہ اگر قادیانی اکثریتی علاقے میں بازار لگے تو پھر ختم نبوت کے میدان لگیں گے۔ سب کہو سبحان اللہ۔ رکئے ابھی منظر تمام نہیں ہوا۔ اس خدا نے انتظامیہ کے سامنے ایک لاینحل سوال بھی رکھ دیا ہے کہ جب قادیانی کافر ہے تو پھر کافر کے دیس میں رمضان کی سہولیات دینے کا آخر کیا مطلب؟ کسی خدا بیزار نے جواب دے دیا کہ میرے خدا۔! روزے تو قادیانی بھی رکھتے ہیں، نہیں؟ کان کے نیچے ایک رکھتے ہوئے خدا نے کہا، ناہنجار۔! جب میں قادیانی کے روزے قبول ہی نہیں کرتا تو اس کو روزہ کہنے کی جرات کیسے کی؟ جب میں نہیں مانتا ان کا روزہ تو تم کون ہوتے ہو ان کو سہولیات بہم پہنچانے والے؟ اب خدا کے آگے کب کون بول سکا ہے۔ چونکہ فبھت الذی کفر۔ چنانچہ کیا کہیں، اور کہنے کو کیا رہ گیا۔

ایسے خدا کی ہمنوائی میں اگر آپ سماج میں جائیں گے تو کیوں توقع رکھتے ہیں کہ امت کے یہ فاسق و فاجر پروین شاکر سے کوئی عطار مستعار لے کر خوشبو کی طرح آپ کی پذیرائی کریں گے؟َ آپ یقین رکھیے کہ وہ انور مقصود سے حلوائی ادھار پہ لیکر لڈو کی طرح ہی آپ کی پذیرائی فرما ویں گے۔ بابو سب چھوڑ دے، بس دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ۔ جو سب سے بڑا ٹکراؤ ہے، وہ یہ ہے کہ مردودِ حرم کا خدا پاسبانِ حرم سے مجادلے میں ہے، دونوں کا خدا ایک دوسرے کی سمجھ سے باہر ہوگیا۔ سیاہ کاروں کے وسیع تناظر میں پھیلے ہوئے خدا سے جب بالشتیئے ملتے ہیں تو ان کی عقل اس کے وجود سے انکاری ہوجاتی ہے۔ یہ در اصل حیرت اور تعجب کے ایک بیہودہ اظہار کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ حقیقت چھپائے نہیں چھپتی تو بچوں کی طرح برتن اور کھلونے توڑنے لگ جاتے ہیں ۔ ٹماٹر اور چپاتی پہ خدا کا نام ڈھونڈنے والے ان خدا پرستوں کو کوئی تو بسم اللہ کے اس گنبدِ بے در سے کھینچ نکالے۔ باہر آئیں کہ آپ کو علم ہو کہ آپ ہی کا خدا کتنا چھوٹا سا ایک ذرہ ہے جو خود کائنات کی وسعتوں میں کہیں گم ہوگیا ہے۔ کھلی فضا میں سانس لینے کا کم سے کم فائدہ بھی یہ ہے کہ ادراک ہوجاتا ہے فتح جنگ کس طرف کو ہے اور تلہ گنگ کس طرف کو۔ پتہ پاتے ہی آپ اس خدا سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں جس کا ان دنوں واحد مسئلہ یہ ہے کہ تراویح آٹھ رکعت ہے کہ بیس رکعت۔ آپ اس خلقِ خدا سے جڑ جائیں گے جس کا مسئلہ یہ ہے خور ونوش کی جو اشیا نامبارک مہینوں میں آٹھ روپے کلو ملا کرتی تھیں وہ مبارک مہینے میں ایک سو بیس روپے کلو ہوجائیں گیں۔ پنجوں کے بل اٹھ کر دیکھ لیجیئے کہ انسانیت سے بڑا کوئی مذھب نہیں۔ محبت اس مذہب کی کلیدی عبادت ہے۔ ٹوٹے ہوئے دل اس کے معبد ہیں۔ انہی دلوں میں کہیں خدا بستا ہے۔ نہ بت خانے نہ کعبے میں ملا ہے۔ مگر ٹوٹے ہوئے دل میں ملا ہے۔ حضرت انسان کی خاطر اگر کچھ نہیں کر سکتے تو نہ کیجئے۔ خدا کا سائز ہی اگر تھوڑا سا بڑھا لیں؟ مگر یہ اس وقت تک ممکن بھی کہاں کہ جب تک اپنے یقینوں سے نکل کر سوچنے کا حوصلہ پیدا نہ کر لیں۔ سرِ دیوار کے قصے بتاتے ہیں کہ پس دیوار کچھ فکری خزانے رکھے ہیں۔ یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں۔


Comments

FB Login Required - comments