اللہ کی خوشنودی یا دنیاوی نمائش؟


khizer hayatاَوریا جانی افلاطونوں نے روشن خیالی کو مسلمانوں کے لئے ایک گالی بنا دیا ہے اور یہ ایک ہتھکنڈہ ہے دین محمدی کو فرقہ ورانہ مذھب بنا کے رکھنے کا۔ صدیوں سے ہمارے ہاں یہی تو ہوتا آیا ہے کہ رٹی رٹائی روایات کو مقدس اور کسی بھی منطقی دلیل یا نئی سوچ کو کفر قرار دے دیا گیا۔ اللہ پاک اپنے قران میں صاف کہتے ہیں کہ میں نے اس کتاب کو تم لوگوں کے لئے آسان بنا دیا ہے کوئی ہے جو اسے سمجھے؟ اور یہ کہتے ہیں کہ قران کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اس کے لئے بس علما اور فقہا سے رجوح کریں۔ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ میری آیات جب تمہارے سامنے پیش کی جائیں تو ان پر اندھوں اور بہروں کی طرح نہ گر پڑو سوچ بچار کر کے مانو اور یہ کہتے ہیں کہ سوال کرنا منع ہے۔ بلکہ کچھ تو یہ تک بھی کہہ دیتے ہیں کہ سوال کرنے والے جہنم کا ایندھن بنیں گے۔

ہمارے دیں میں فرض اور نفلی عبادات ہیں مگر صرف یہی دین ہر گز نہیں۔ ہم صرف ان عبادات میں کھو کر ان کی روح سے دور ہو گۓ۔ صلوۃ کا مطلب صرف پانچ وقت کی نماز پڑھنا نہیں بلکہ فلاح کا ایک نظام قائم کرنا ہے۔ بقول میر بشیر صاحب نماز فارسی لفظ ہے اور زرتشتی مذہب کی عبادت کا نام ہے اس کی ترتیب یعنی رکوع و سجود وہی ہے جس کی بنیاد تین ہزار سال قبل رکھی گئی اج بھی زرتشتی مذہب کے پیروکار اسی ترتیب سے نماز ادا کرتے ہیں جس طرح کہ مسلمان ادا کرتے ہیں۔  اور فلاح کا نظام قائم تو حکومت کو چاہئیے مگر اگر ایسا نہیں ہو رہا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بھی بری الذمہ ہو گۓ۔ جب تھر میں بچے خوراک اور دوائیوں کی عدم موجودگی سے مر رہے ہوں اور لوگ بیروزگاری اور بھوک کے ہاتھوں خود کشیاں کر رہے ہوں تو ہماری نمازوں ، عمروں اور قربانیوں پر سوالیہ نشان تو اٹھتا ہے ۔

اور جو ایسے سوال اٹھانے کی جرات کر بیٹھیں جیسے حنیف سمانا بھائی کہہ دیں کہ محلے میں ضرورتمند بیوائیں اور یتیم بچے موجود ہوں اور کسی صاحب حیثیت کی لاکھ روپے کے جانور کی قربانی جائز ہے؟ یا میں کہہ دوں کہ ایک بیمار سبزی فروش کی پوزیشن ہولڈر بچی کو میڈیکل کالج تک تعلیم دلانے پر کتنے عمروں کا خرچہ آئے گا؟ تو اَوریا جانی بریگیڈ والے چیخ پڑتے ہیں کہ ہمیں لوگوں کو نت نئی جدید چیزیں خریدنے پر کوئی اعتراض نہیں مگر قربانی پر کیوں اعتراض اور یورپ کی سیر پر جانے پر کوئی اعتراض نہیں کرتا مگر عمرے پر کیوں اعتراض؟ تو بندہ ان افلاطونوں سے پوچھے کہ کوئی بندہ جدید چیزیں ثواب کمانے کے لئے خریدتا ہے یا یورپ جنت کھری کرنے کے لئے جاتا ہے؟ اللہ کے بندو ایسا ہرگز نہیں مگر یہ بات پکی ہے کہ بندہ قربانی اور عمرہ ثواب اور جنت کھری کرنے کے لئے کرتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اللہ کس چیز پر زیادہ زور دیتا ہے؟ پورے قران میں ہمارا جبار اور قہار اللہ صرف ایک دفعہ عاجز بن کر اپنے بندوں کو اسے قرضہ حسنہ دینے کا کہتا ہے۔ اور کیا اللہ کو قرضہ حسنہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ قیمتی سے قیمتی جانور کی قربانی دی جاۓ یا عمرے پر عمرہ کیا جائے یا گھر سے چالیسویں پر نکل جانا چاہئیے؟ ایسا ہر گز بھی نہیں بلکہ اللہ کو قرضہ حسنہ دینے کا مطلب ہے کہ اپنے مال میں سے اپنے ارد گرد ضرورت مندوں کو ان کا حصہ خیرات سمجھ کر نہیں بلکہ ان کا حصہ سمجھ کر دینا۔ اب یا تو یہ ثابت کریں قران سے کہ اللہ نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا اور یا مسلمانوں کو مزید بے وقوف بنانے سے باز آئیں۔

اَوریا جانی اور مودودی بریگیڈ کا اس وقت بڑا نشانہ جاوید احمد غامدی صاحب کی ذات ہے اور ان پر تابڑ بوڑ حملے کیے جا رہے ہیں۔ وقتاً فوقتاً کچھ ایسے اسلامی سکالر آتے رہے ہیں جیسے مولانا عبیداللہ سندھی، ڈاکٹر غلام جیلانی برق، اور غلام احمد پرویز جنہوں نے قران کو بنیاد بنا کر دلیل اور منطق سے اپنے وقت کے بلکہ آنے والے وقت کے تناظر میں دیں کی تشریح کی جو کہ ظاہر ہے ہمارے روایتی علما کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں تھا۔ اس لیے ان سب نے مل کر بلا تفریق فرقہ ان کی آواز کو دبایا انہیں مختلف نام دے کراور لوگوں تک ان کا پیغام پہنچنے نہیں دیا۔ اب جب کہ میڈیا آزاد ہوا اور سوشل میڈیا کے زریعے ان کا پیغام لوگوں تک نہ صرف پہنچ رہا ہے بلکہ لوگوں کو سمجھ آنا بھی شروع ہوا ہے۔  خاص کر کے ان جیسے ہی ایک سکالر جاوید احمد غامدی صاحب بھی سامنے آ گۓ ہیں جنہوں ہمارے ملاؤں نے دیس نکالا دلوا دیا مگر وہ ملایشیا میں ایک قران کا تحقیقی ادارہ المورید بنانے میں کامیاب ہو گۓ ہیں. اور غامدی صاحب کو پاکستان کے کچھ چینل بھی اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دے رہے ہیں اور وہ سوشل میڈیا کے زریعے بھی کافی مقبول ہیں اور روز بروز ان کو سمجھنے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے غامدی صاحب کے حاسدین کی ردعمل میں ساری تگ و دو انہدامی طرز کی ہے جس سے کبھی کوئی علمی فائدہ نہیں ہوا. ان کو کون سمجھائے کہ غامدی صاحب نے ایک خلا پر کیا ہے جسے آپ حضرات کے بڑے اپنی گوناگوں سیاسی اور جہادی سرگرمیوں کے سبب ہلکا سمجھ کر چھوڑ بیٹھے تھے.


Comments

FB Login Required - comments