عمران اور طاہر قادری کے وارنٹ


\"edit\"اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے رہنما طاہر القادری کی گرفتاری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں۔ اس طرح ایک عدالت نے ایک بار پھر ملک کے عدالتی نظام کا تمسخر اڑانے کا اہتمام کیا ہے۔ کیونکہ انسداد دہشت گردی کی عدالت 14 نومبر2014 سے ہی ان دونوں لیڈروں کو ’بھگوڑا‘ قرار دے چکی ہے۔ اور ان احکامات پر کبھی عمل نہیں ہو سکا۔

یہ بات درست بھی مان لی جائے کہ ملک کا عدالتی نظام خود مختار ہے اور وہ حکومت کے ماتحت کام نہیں کرتا تو بھی ایک ایسے وقت میں ملک کے دو اہم ترین رہنماؤں کے وارنٹ جاری کرنا ناعاقبت اندیشی کے سوا کچھ نہیں ، جبکہ ملک سیاسی بحران سے گزر رہا ہے اور اس کے وزیر اعظم علیل ہیں۔ دونوں لیڈروں کے خلاف یکم ستمبر 2014 کو دھرنے کے دوران سپرنٹنڈنٹ پولیس عصمت اللہ چغتائی اور ان کے ساتھیوں پر حملہ کرنے اور انہیں زد و کوب کرنے کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا تھا جس کی سماعت اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ہو رہی ہے۔ یہ حملہ مبینہ طور پر دونوں پارٹیوں کے کارکنوں نے پاکستان ٹیلی ویژن پر دھاوا کے دوران کیا تھا لیکن ایف آئی آر میں عمران خان اور طاہر القادری کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔ طاہر القادری اس وقت کے بعد سے زیادہ وقت کینیڈا میں مقیم رہے ہیں اور وہ اب بھی وہیں پر ہیں۔ لیکن عمران خان پاکستان میں رہتے ہیں اور پولیس وارنٹ گرفتاری کے باوجود انہیں گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنے سے گریز کرتی رہی ہے۔

ظاہر ہے کہ سیاسی مجبوریوں کی بنا پر ایک مقبول قومی لیڈر پر ہاتھ ڈالنا ایک نئے بحران کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ دوسری طرف عمران خان اور طاہر القادری جو اس ملک میں قانون کی حکمرانی واپس لانے کی بات کرتے ہیں۔ خود ملک کے قانون کا احترام کرنے پر تیار نہیں ہیں اور اپنی مقبولیت اور سیاسی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نچلی سطح کی ایک عدالت کے احکامات کو خاطر میں نہیں لارہے۔ جس طرح ان لیڈروں کے خلاف دہشت گردی کے الزام میں مقدمہ قائم کرنا بد نیتی کا مظہر ہے، اسی طرح عمران خان اور طاہر القادری کی طرف سے ملک کی ایک عدالت کے احکامات کی پرواہ نہ کرنا کسی ایک جج یا ایک عدالت کی توہین ہی نہیں ہے بلکہ ملک میں نافذ نظام انصاف کو مسترد کرنے اور خود کو قانون سے بالا تصور کرنے کے رویہ کا آئینہ دار ہے۔ جو لیڈر نظام کو جمہوری طریقے سے تبدیل کرنے کی بات کرتے ہیں ، ان سے اس قسم کے طرز عمل کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہی رویہ عام لوگوں میں یہ تاثر قائم کرنے کا سبب بنتا ہے کہ اگر آپ اشرافیہ میں سے ہیں اور کسی اہم پوزیشن پر فائز ہیں تو ملک کا قانون اور نظام آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

یوں تو انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو خود اپنی حدود اور اس آرڈی ننس کے تقاضوں کے مطابق صورت حال کو پرکھنے اور مقدمات کے بارے میں فیصلہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر پولیس نے کسی سیاسی ہنگامہ آرائی کے دوران کسی نا خوشگوار واقعہ میں ملوث ہونے پر کچھ لوگوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات لگائی بھی ہوں تو بھی عدالت کو خود ان دفعات کو مسترد کرکے اس قسم کا مقدمہ عام عدالت میں بھیجنا چاہئے۔ اس طرح ایک تو ملک میں دہشت گردی کے خلاف دائر مقدمات کو ترجیح دی جا سکے ، دوسرے غیر ضروری معاملات میں بے وقعت حکم جاری کرکے یہ عدالتیں خود اس پورے نظام کی ہتک کا سبب نہیں بنیں گی۔

انسداد دہشت گردی کی عدالتیں سب سے پہلے 1997 میں ایک آرڈی ننس کے ذریعے قائم کی گئی تھیں تاکہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث لوگوں کو جلد از جلد سزا دی جا سکے۔ سپریم کورٹ نے 1998 میں ایک فیصلہ کے ذریعے اس آرڈی ننس کی بیشتر دفعات کو غیر آئینی قرار دیا تھا تاہم اگست 1999 میں نواز شریف حکومت نے ایک نئے آرڈی ننس کے ذریعے ایک بار پھر ملک بھر میں انسدا دہشت گردی عدالتیں قائم کردیں ۔ یہ عدالتیں کبھی بھی فوری انصاف فراہم کرنے اور دہشت گردوں کو جلد از جلد سزائیں دینے کا مقصد پورا نہیں کرسکیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو ان عدالتوں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے غیر متعلقہ معاملات میں بھی دہشت گردی کی دفعات شامل کرکے انہیں ان عدالتوں کو بھیجنے کی روایت ہے۔ کام کے بوجھ کی وجہ سے یہ عدالتیں بھی دوسرے عدالتی نظام کی طرح بے اثر ہو چکی ہیں۔ اسی صورت حال سے نمٹنے کے لئے گزشتہ برس اکیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ جو کام انسداد دہشت گردی عدالتیں نہیں کرسکیں ، وہ فوجی عدالتوں کے ذریعے پورا کیا جا سکے۔

یہ صورت حال ملک کے سیاست دانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے یکساں طور سے پریشان کن ہونی چاہئے۔ ایک جمہوری ملک میں زیادہ عرصے تک فوجی عدالتوں کے ذریعے مجرموں کو سزائیں دینے کا طریقہ جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کے لئے عدالتی نظام کو بہتر کرنے، مناسب قوانین بنانے اور وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں عدالتی نظام مؤثر طریقے سے کام کرسکے اور ہر ملزم کے خلاف یکساں قوت اور اتھارٹی سے کارروائی کرسکے خواہ متعلقہ شخص کتنا ہی با اثر اور مقبول کیوں نہ ہو۔ تاہم اس مقصد کے لئے عدالتی نظام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کرنا بھی ضروری ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 478 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali