کپتان پر بھروسا رکھیں، یہ ہار نہیں کرکٹ ڈپلومیسی ہے


سب کو کپتان کے فیصلوں پر بھروسا کرنا چاہیے۔ وہ کچھ سوچ کر ہی ٹیم کو ایسے کھلا رہا ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ساری دنیا میں کسی کو بھی کرکٹ کی کپتان سے زیادہ سمجھ نہیں ہے۔ وہ دنیا کی تاریخ کا عظیم ترین کپتان بلاوجہ ہی نہیں کہلاتا۔ کیا یہ بات ماننے والی ہے کہ جو شخص کرکٹ کو سب سے زیادہ سمجھتا ہے اس کی ٹیم بلاوجہ ہی اس بری طرح ہارے گی؟ اگر لیڈر قابل ہو تو اوسط درجے کی ٹیم سے بھی ورلڈ کپ جیت کر دکھا دیتا ہے۔

یہ سب کپتان کا ایک طویل مدتی منصوبہ ہے۔ ورلڈ کپ تک بھارتی ٹیم اور قوم پاکستان کو اتنا ہارتے دیکھ کر بہت ہلکا لینے لگے گی۔ پھر 2019 کے ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم اچانک اپنا اصل رنگ دکھائے گی اور سب کو سرپرائز دے کر ورلڈ کپ جیت لے گی۔ عین ممکن ہے کہ کپتان ایک مرتبہ پھر قوم کو ورلڈ کپ کا تحفہ دینے کے لیے خود میدان میں اتر آئے اور کرکٹ ٹیم کی کپتانی کرتے ہوئے مکار مودی کو اس کی اوقات یاد دلا دے۔

92 کے ورلڈ کپ میں بھی کپتان نے ایسی ہی حکمت عملی اپنا کر مقابلہ جیتا تھا۔ پہلے سب ٹیموں سے ہار ہار کر ان کو یقین دلوا دیا کہ پاکستانی ٹیم بالکل نکمی ہے۔ سب اسے بھول کر دوسری ٹیموں کے خلاف تیاریاں کرنے لگے۔ ٹورنامنٹ کے عین آخری لمحات میں کپتان نے اچانک سرپرائز دیا اور اپنی ٹیم کو چیمپئن کی طرح کھلانا شروع کیا تو ورلڈ کپ لے کر ہی لوٹا۔

بظاہر یہ کرکٹ کا میچ ہے لیکن کپتان کا ماسٹر سٹروک یہ ہے کہ اس نے بنگلہ دیش اور بھارت کو فائنل میں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر کے خارجہ محاذ پر مکار مودی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا دیا ہے۔ بنگالیوں کو پاکستانی شہریت دینے کے اعلان کے بعد سے ہی بنگلہ دیش میں کپتان کے متعلق مثبت جذبات کا طوفان آ رہا تھا جو پاکستان کے یہ میچ ہارنے کے بعد محبت کے سونامی میں تبدیل ہو چکا ہے۔

ایک طرف تو بنگلہ دیشی قوم اس وقت پاکستان کے بارے میں مثبت جذبات سے لبریز ہے اور دوسری طرف فائنل میں بھارت کو مقابل دیکھ کر اسے اصل دشمن سمجھنے لگی ہے۔ ہمیں ہرگز بھی کوئی تعجب نہیں ہو گا اگر اس شدید ٹینشن کے نتیجے میں بھارت اور بنگلہ دیش میں کراس بارڈر فائرنگ شروع ہو جائے۔

صرف کرکٹ کی بات کی جائے تو جو لوگ سرفراز کی کپتانی کا حساب مانگ رہے ہیں وہ خود سوچیں کہ سرفراز کے ڈھائی درجن میچوں کا تقابل مصباح کے سات درجن میچوں سے کیسے کیا جا سکتا ہے؟ ویسے بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سرفراز بھی ایک عظیم کپتان ہے جو کرکٹ کے علاوہ خارجہ اور دیگر امور کا ماہر بھی ہے اور اسے پتہ ہے کہ کرکٹ کے ذریعے کیسے دشمن ممالک پر فتح پائی جا سکتی ہے اور وہ ہمارے وزیراعظم کے لیے خارجہ محاذ پر آسانیاں پیدا کر رہا ہے۔۔

یہ بات ماننی پڑے گی کہ برصغیر کی سب سے پاپولر ٹیم پاکستان ہے۔ پاکستان سے میچ ہو تو بنگلہ دیش، افغانستان، انڈیا سب پر ہی شادی مرگ والی کیفیت طاری ہو جاتی ہے، جیتنے کے بعد ۔
تاریخ میں پہلے جنرل ضیا الحق کی کرکٹ ڈپلومیسی مشہور تھی، اب ہمارے کپتان عمران خان کی ہو گی اور اس کے داہنے ہاتھ نیچے قدمچے پر سرفراز کھڑا مسکرا رہا ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1036 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar