بھینسیں بیچنا کیوں ضروری ہے؟


روایت ہے کہ ایک گاؤں میں تین جولاہے رہتے تھے۔ تینوں بھائی تھے۔ ایک دن سب سے بڑے نے کہا کہ میں ایک ددھیل بھینس خریدنے جا رہا ہوں، یہ کہہ کر اس نے روپیوں کی کھنکتی ہوئی پوٹلی اٹھائی اور گجر سے جا کر ایک بھینس خرید لایا۔

منجھلا بھائی بھینس کو دیکھ کر بہت امپریس ہوا۔ اس نے بھینس کی موٹی موٹی آنکھیں دیکھیں تو ان میں کھو گیا۔ سینگوں پر ہاتھ پھیر پھیر کر ان کی مضبوطی سے متاثر ہو گیا۔ اس کی چمکتی کھال کو دیکھ کر اس کا جی چاہا کہ اس پر ہاتھ پھیرتا رہے۔

آخر اس کا دل مچل گیا اور اور اس نے کہا ”بھائی مجھے اجازت دو کہ اس بھینس میں آدھا حصہ میں خرید لوں“۔

بڑے نے کہا ”میں نے یہ بھینس خریدنے کے لئے گجر کو بیس روپے دیے ہیں۔ اگر تم شراکت کرنا چاہتے ہو تو پھر تم برابر کا حصہ ڈالو اور گجر کو بیس روپے دے کر آؤ تاکہ ہم دونوں کا برابر حصہ بن جائے“۔

منجھلے بھائی کی سمجھ میں بات آ گئی۔ وہ گجر کے پاس گیا اور اس کے ہاتھ پر بیس روپے دھر دیے اور بھینس میں اپنا حصہ کھرا کیا۔

چھوٹا بھائی بھی گھر پہنچا تو بھینس پر اس کا بھی دل آ گیا۔ اس نے بڑے بھائی کو کہا کہ ”بھینس میں تم نے حصہ لے لیا، منجھلے کو بھی دے دیا، لیکن مجھے نہیں دیا۔ مجھے بھی اس بھینس میں حصہ چاہیے“۔

بڑے نے اسے کہا ”میں نے گجر کو بیس روپے دے کر بھینس لی ہے۔ منجھلے نے بھی اسے بیس روپے دے کر اپنا برابر کا حصہ لیا ہے۔ اب تم بھی گجر کو بیس روپے دینے کو تیار ہو تو تم بھی برابر کا حصہ لے سکتے ہو“۔

چھوٹے بھائی نے بیس روپے پکڑے اور گجر کو دے آیا۔ گجر خوش ہو گیا کہ اچھے گاہک ملے ہیں جو ایک بھینس کے تین مرتبہ پیسے دے رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس پیمنٹ سکیم سے آپ کو ہماری حکومت اور آئی ایم ایف یاد آ جائے، لیکن یاد رہے کہ اس حکایت کا ان دونوں سے ہرگز بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔

تینوں بھائیوں نے طے کیا کہ تینوں ایک ایک دن بھینس کا دودھ دوہیں گے۔ پہلے دن بڑے نے ایک برتن میں دودھ دوہ لیا۔ دوسرے دن منجھلے نے۔ اب چھوٹے کی باری آئی تو وہ مشکل میں پڑ گیا۔ اس کے پاس برتن ہی نہیں تھا جس میں دودھ نکال سکتا۔

وہ پریشان کھڑا تھا کہ بڑے نے اس کی مدد کی۔ اس نے کہا ”تم نے برتن کے بغیر دودھ نکالا تو زمین پر گر کر ضائع ہو جائے گا۔ بہتر ہے کہ اپنا منہ کھولو اور اس میں دھاریں مارو اور خوب سیر ہو کر پیو“۔

اس کی سمجھ میں بات آ گئی اور اس نے ایسا ہی کیا۔ خوب پیٹ بھر کر وہ واپس گھر پہنچا تو اس کی بیوی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ دیکھتے ہی پوچھنے لگی کہ دودھ کہاں ہے؟ چھوٹے نے کہا کہ ”میرے پاس برتن نہیں تھا تو میں سارا دودھ پی گیا“۔

یہ سن کر بیوی آگ بگولا ہو گئی۔ کہنے لگی ”میرا حصہ بھی چٹ کر گئے؟ مجھے اپنی بھینس سے دودھ نہیں ملے گا تو میں اپنے میکے جا رہی ہوں“۔ یہ کہہ کر وہ روٹھ کر میکے چلی گئی۔

تینوں بھائیوں کو سمجھ نہ آیا کہ اس مسئلے کا حل کیسے نکالیں۔ وہ تینوں لمبردار کے پاس پہنچے جو بہت سیانا مشہور تھا۔ اسے بتایا کہ پہلے دن بڑا بھائی بھینس کا دودھ اپنے برتن میں نکالتا ہے۔ دوسرے دن منجھلا بھائی اپنے برتن میں دودھ نکالتا ہے۔ تیسرے دن چھوٹا بھائی سارا دودھ ڈائریکٹ دھاریں مار کر چڑھا جاتا ہے۔ اس پر اس کے گھر میں لڑائی پڑ گئی ہے۔

لمبردار نے اس کی بیوی کو بلایا اور کہا ”دیکھو عقل سے کام لیں تو یہ مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔ دیکھو تمہارے دونوں جیٹھوں کے گھر میں برتن موجود ہیں۔ بڑا پہلے دن اپنا برتن بھرتا ہے اور اس کے سارے گھر والے اس کو پی کر خالی کر دیتے ہیں۔ منجھلا اور اس کے گھر والے دوسرے دن ایسا کرتے ہیں۔ اب تم خود سوچو کہ تمہارے پاس برتن نہیں ہے تو تمہیں کیا کرنا چاہیے؟ “

بیوی سوچ میں پڑی گئی۔ آخر تھک ہار کے لمبردار نے کہا ”دیکھو حل سامنے ہی موجود ہے۔ تمہارا میاں صبح کو دھاریں مار مار کر بھینس کا سارا دودھ پی جاتا ہے تو تم شام کو ایسا کر لیا کرو“۔

بیوی خوش ہو گئی۔ کہنے لگی ”لمبردار تم واقعی سیانے ہو۔ اس طرح نہ مجھے دودھ بلو کر مکھن نکالنا پڑے گا نہ دودھ ابالنا پڑے گا۔“ یہ کہہ کر وہ خوش خوش اپنے میاں کے گھر واپس چلی گئی۔

تو صاحبو۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ اتنے کفایت شعار ہوں کہ آپ کے پاس برتن نہ ہو اور اتنا فارغ وقت بھی نہ ہو کہ صبح شام بھینس کا دودھ خود دوہیں اور دھاریں سیدھی منہ میں مار کر پئیں، یا پھر بھینسیں اتنی زیادہ ہوں کہ ان کا سارا دودھ پینا ممکن نہ ہو، تو مناسب ہے کہ پھر بھینسیں بیچ ڈالنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ مفت میں گھر میں لڑائی ڈلوانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
ایک قدیم دیسی حکایت۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1057 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar