100 لفظوں کی گھٹیا اور ناقابلِ اشاعت کہانیاں


mubashir zaidi

پتھری

پاناما کے ایک اسپتال میں میرا کام یاب آپریشن ہوا۔

اپنے ملک میں اس آپریشن کے ماہر سرجن موجود نہیں تھے۔

میرے سینے پر بوجھ رہتا تھا۔

جب بھی کچھ کھاتا، ہضم کرنا مشکل ہوجاتا تھا۔

پاناما کے ڈاکٹروں سے رجوع کیا تو انھوں نے کہا،

’’سینہ کھول کر دیکھنا پڑے گا۔

ٹیسٹوں سے پتا نہیں چل رہا کہ آپ کے من پر بوجھ کیوں ہے۔‘‘

آپریشن کام یاب رہا۔

ہوش میں آنے کے بعد میں نے پوچھا،

’’میرا سینہ چیرا تو کیا نکلا؟‘‘

سرجن نے کہا،

’’چاندی کی ایک گلک نکلی

جو سونے کی اشرفیوں سے بھری ہوئی تھی۔‘‘

ناول

’’اپنے ناول کے مسوّدے پر نظرِ ثانی کرو۔‘‘ میرے پبلشر نے کہا۔

’’اِس میں سے دہشت گردوں کا ذکر نکال دو،

مذہب سے متعلق مکالمے بدل ڈالو،

سیاست دانوں کا مذاق مت اُڑاؤ،

بھارت کی تعریف اور عرب بادشاہ پر تنقید خارج کردو،

ہیروئن ماڈرن ہے، اُسے دوپٹا اوڑھاؤ،

ہیرو سیکولر ہے، اُسے کلمہ پڑھاؤ،

جنسی اور ایجنسی جہاں جہاں لکھا ہے، اُسے مِٹاؤ۔‘‘

ایک ہفتے بعد میں نے پبلشر کو فون کیا۔

’’اتنی جلدی ہزار صفحات کا مسوّدہ ایڈٹ کرلیا؟‘‘ انھوں نے پوچھا۔

’’جی ہاں۔‘‘ میں نے کہا،

’’سو لفظوں کی کہانی بچی ہے۔ اخبار کو بھیج دوں کیا؟‘‘

ترمیم

مجھے انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی فورس نے گرفتار کیا

اور انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کردیا۔

میں احتجاج کرتا رہ گیا۔

عدالت کے جج نے پوچھا، ’’کیا تم دہشت گردی کے جرم کا اقبال کرتے ہو؟‘‘

میں نے کہا، ’’میں موچی ہوں، سہراب گوٹھ پر جوتے گانٹھتا ہوں۔

میرا دہشت گردی سے کیا تعلق؟‘‘

جج نے وکیلِ سرکار سے دریافت کیا،

’’اس عدالت میں صرف دہشت گردوں کے مقدمے چلیں گے۔

اِس موچی کو کیوں پکڑ لائے؟‘‘

وکیل نے کہا،

’’کل ایک آئینی ترمیم کے ذریعے جوتے گانٹھنے کو دہشت گردی قرار دے دیا گیا ہے۔‘

اضافہ

’’ہم نے زراعت کا شعبہ اپنی فوج کے حوالے کردیا ہے۔‘‘

شمالی کوریا کے باشندے نے مطلع کیا۔

’’فصلوں کی پیدا وار میں اضافہ ہوا؟‘‘

میں نے دریافت کیا۔ جواب نہیں ملا۔

کچھ دیر بعد اس نے آگاہ کیا،

’’ہم نے صنعت کا شعبہ بھی فوج کے حوالے کردیا ہے۔

میں نے پوچھا، ’’مصنوعات کی تعداد میں اضافہ ہوا۔‘‘

وہ چپ رہا۔ کچھ دیر بعد اس نے بتایا،

’’ہم نے تجارت کا شعبہ بھی فوج کے حوالے کردیا ہے۔‘‘

میں نے سوال کیا، ’’درآمدات میں اضافہ ہوا؟‘‘

وہ خاموش رہا۔ پھر کہا،

’’اضافہ صرف فوج کی تعداد میں ہوا ہے۔‘‘

ممنوع

دمشق میں مسجدِ اُمیّہ کے چار دروازے ہیں اور میں سب سے گزرا ہوں۔

کبھی کسی نے نہیں روکا۔

عراق میں مسجدِ کوفہ کے پانچ دروازے ہیں اور میں سب سے گزرا ہوں۔

کبھی کسی نے نہیں روکا۔

مدینے میں مسجدِ نبوی ﷺ کے چھ مرکزی دروازے ہیں اور میں پانچ سے گزرا ہوں۔

کبھی کسی نے نہیں روکا۔

مکہ میں مسجد الحرام کے پچانوے دروازے ہیں، میں پچھتر سے گزرا ہوں۔

کبھی کسی نے نہیں روکا۔

میرے محلے کی مسجد کا صرف ایک دروازہ ہے۔

جب بھی اُس دروازے پر پہنچتا ہوں، مجھے روک کر میرا مسلک پوچھا جاتا ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 51 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi

5 thoughts on “100 لفظوں کی گھٹیا اور ناقابلِ اشاعت کہانیاں

Comments are closed.