احتساب کیسے کیا جائے؟


editایک ایسے وقت میں جب ملک میں حکمران خاندان کے احتساب اور مالی بدعنوانیوں کا حساب کرنے کی بات کی جارہی ہے ، اسلام آباد کی ایک عدالت نے 2009 کے حج انتظامات میں بدعنوانی کے مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی ، اسی وزارت کے سابق جائنٹ سیکرٹری آفتاب اسلام اور سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل کو طویل المدت سزائیں دی ہیں۔ یہ فیصلہ الزامات عائد ہونے کے چھ برس بعد سامنے آیا ہے۔ اس طرح اسے دیر سے انصاف فراہم کرنے کے علاوہ منتخب انصاف Selective Justice بھی کہا جا سکتا ہے۔

حج کرپشن اسکینڈل کو پیپلز پارٹی کے سابقہ دور میں بہت شہرت حاصل ہوئی تھی۔ کابینہ میں ہی شامل ایک وزیر ، اعظم سواتی نے ،( جو اس وقت جمیعت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھتے تھے اور بعد میں تحریک انصاف میں شامل ہوگئے) حامد سعید کاظمی کے خلاف الزامات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس کے بعد سعودی شہزادہ بندر بن خالد بن عبدالعزیز السعود نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ایک خط میں پاکستانی حاجیوں کی رہائشوں میں گھپلے اور بدعنوانی کے الزامات عائد کئے تھے۔ اس معاملہ پر کارروائی بھی سپریم کورٹ کے حکم پر ہی شروع کی گئی تھی۔ ڈی جی حج راؤ شکیل اور جائنٹ سیکرٹری وزارت مذہبی امور آفتاب اسلام کو حاجیوں کے لئے حرم شریف سے دور سستی رہائشیں مہنگے داموں حاصل کرنے کا الزام تھا جبکہ حامد سعید کاظمی پر ان کی معاونت کرنے اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ حامد سعید کاظمی کو مارچ2011 میں گرفتار کیا گیا تاہم دو سال بعد ان کی ضمانت ہو گئی تھی۔ اب عدالت نے مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں اور آفتاب اسلام کو سولہ سولہ برس اور راؤ شکیل کو 40 برس قید کی سزا سنائی ہے۔ حامد سعید کاظمی اور آفتاب اسلام کو عدالتی حکم کے بعد گرفتار کرکے اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے ، جہاں وہ نئی ضمانت اور مقدمہ کی اعلیٰ عدالت میں اپیل تک قید رہیں گے۔ راؤ شکیل مالی بدعنوانیوں کے الزامات میں پہلے ہی نیب کے زیر حراست ہیں۔

یہ فیصلہ اس لحاظ سے مستحسن ہے کہ ملک کی ایک عدالت نے بلا تخصیص سرکاری افسروں اور سابق وزیر کو سزا دی ہے۔ لیکن شکایات سامنے آنے کے سات برس بعد ابتدائی فیصلہ ہونے سے اس انصاف کی اہمیت کم ہو چکی ہے۔ اب یہ تمام لوگ ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے اور ملک کے موجودہ عدالتی طریقہ کار کی روشنی میں یہ سوچنا مشکل نہیں ہے کہ اس کارروائی میں مزید کئی برس صرف ہو جائیں گے۔ یہ طریقہ کار احتساب کے بنیادی اصول، انصاف کے تقاضوں اور کسی معاملہ میں ملوث لوگوں کے حقوق کے حوالے سے بھی ناجائزاور غلط ہے۔ ملک کے کئی سیاست دان کرپشن کے الزامات میں برس ہا برس تک مقدمات کا سامنا کرنے کے بعد الزامات سے بری ہو جاتے ہیں۔ بعض صورتوں میں لوگوں کو کئی برس تک کسی الزام کے ثبوت کے بغیر قید بھی رکھا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین آصف علی زرداری ایسے ہی الزامات میں دس گیارہ برس قید رہے ، بعد میں وہ ملک کے صدر بھی منتخب ہوگئے اور ان الزامات میں سزا بھی نہ دی جا سکی۔ اسی لئے ایسے معاملات میں سیاسی انتقام کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

اس وقت ملک میں پاناما پیپرز کے انکشافات کے بعد وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خاندان کا احتساب کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن اور حکومت اس بات پر اختلافات کا شکار ہیں کہ یہ تحقیقات کیسے ہوں اور کس طرح قصور واروں کا تعین کرکے انہیں سزائیں دی جا سکیں۔ اس سیاسی اختلاف سے ایک بات تو واضح ہو گئی ہے کہ ملک کے کی تمام سیاسی پارٹیاں ملک کے مروجہ عدالتی نظام اور احتساب کے لئے قائم اداروں کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں ہیں۔ آج اسلام آباد میں ہونے والا فیصلہ خوش آئیند ہونے کے باوجود یہ بات یاد دلاتا ہے کہ ملک کا نظام بدعنوانی کے معاملات کا فوری پتہ لگانے اور ملزموں کو جلد از جلد سزائیں دینے میں ناکام ہو رہا ہے۔ 2009 کے حج اسکینڈل کا ابتدائی فیصلہ سات برس بعد سامنے آیا ہے۔ اپیلوں اور عدالتی کارروائی میں طویل مدت صرف ہو گی۔ اس دوران شواہد اور شہادتوں میں خرد برد بھی ممکن ہے۔

ملک میں بدعنوانی ہر شعبہ زندگی میں موجود ہے اور عام طور سے سمجھا جاتا ہے کہ اس میں ہر سطح کے لوگ ملوث ہوتے ہیں۔ یعنی مالی بدعنوانی صرف اعلیٰ سرکاری عہدیداروں یا سیاسی لیڈروں تک محدود نہیں ہے۔ ایسی صورت میں ایک سابق وزیر یا چند سابقہ افسروں کو سزا دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے بہتر قانون سازی، اور ہر قسم کے بدعنوان کے خلاف کارروائی کرنا ضروری ہے۔ چند لوگوں کو قربانی کا بکرا بنا کر ملک میں انصاف کا بول بالا نہیں ہو سکتا ۔ نہ ہی دوسروں کو اس سے عبرت حاصل ہوگی۔ یہ تبدیل صرف اس وقت آئے گی جب سب کو یہ پتہ ہوگا کہ کوئی غلط کام کرنے کی صورت میں ملک کا نظام فوری طور پر حرکت میں آجائے گا۔ اور اس عمل میں کوئی مقدس گائے نہیں ہوگی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “احتساب کیسے کیا جائے؟

  • 03-06-2016 at 4:48 pm
    Permalink

    سیاست دان خاص طور پر پیپلزپارٹی کر رہنما‌ؤں سے جب بھی کرپشن کے الزامات کی بات کی جاۓ تو ہمیشہ نخوت سے کہتے ہیں کہ عدالت میں جاکر ثابت کریں۔ اب اگر تاخیر سے ہی سہی کسی پر الزامات ثابت ہو گۓ ہیں عدالت کر ذریعہ تو آپ صحافی حضرات کو اس پر بھی اعتراض ہے؟ اور اس پر بھی “منتخب انصاف” کی پھبتی کسی جا رہی ہے۔

Comments are closed.