ہمارا ’’دو ٹوک ‘ ‘نصاب


1-yasir-pirzada’’پیارے بچو! ’’ب ‘ ‘ سے کیا بنتا ہے ؟ ‘ ‘

’’ب سے بم ! ‘ ‘

’’اور ت سے کیا بنتا ہے ؟ ‘ ‘

’’ت سے توپ ، ک سے کلاشنکوف اورخ سے خون! ‘ ‘

’’شاباش ! اچھا یہ بتاؤ کہ اگر مجاہدین کا ایک گروہ پچاس روسی فوجیوں پر حملہ کرے جس میں بیس روسی مارے جائیں تو بھاگنے والے روسی فوجی کتنے ہوں گے ؟ ‘ ‘

’’تیس روسی ! ‘ ‘

یہ ان قاعدوں کی ہلکی سی جھلک ہے جو ہمارے بچوں کو اس زمانے میں پڑھائے جاتے تھے جب ہم نے خود کو افغان جنگ میں جھونک رکھا تھا ۔ پرائمری کے بچوں کو سات کا ہندسہ ایک تصویر دکھا کے سمجھایا جاتا جس میں سات خرگوش کلاشنکوف سے اندھا دھند فائرنگ کرکےدشمنوں کو خون میں لت پت کر تے نظر آتے ۔یہ وہ نصاب تھا جو ہم نے اپنے بچوں کو کچی عمر میں پڑھایا اور تشدد اور جنگ کے بیج ان کے ذہنوں میں اُس وقت بو دئیے جب ان کی عمر کھلونوں سے کھیلنے کی تھی ۔اس نصاب کی تشکیل میں امریکہ ہمارے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا تھا ، یونیورسٹی آگ نبراسکا نے پچاس ملین ڈالر کے ایک پروگرام کے تحت یہ نصابی کتب تیار کیں اور ہم نے کمیونزم کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے اپنی ایک پوری نسل کو جہنم کی ایسی بھٹی میں جھونک دیا جس میں آنے والے نسلیں اب تک جھُلس رہی ہیں ۔ جن بچوں نے اس زمانے میں یہ قاعدے پڑھے وہ آج چالیس کے پیٹے میں ہیں ، سو اپنے ارد گرد جب ہم نفرت اور انتہا پسندی کے عملی مظاہرے دیکھتے ہیں اور حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ لوگ اس پاکستان میں کہاں سے آ گئے ، کس نے اِن کے ذہنوں کو آلودہ کیا ، یہ کون سی نفرت ہے جو ختم ہونے میں ہی نہیں آتی ، یہ عفریت ہمارے مقدر میں ہی کیوں لکھ دی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔تو حیران ہونے کی بجائے اُس زمانے کے نصاب پر ایک نظر ڈال لیں، تمام سوالوں کے جواب اپنے آپ مل جائیں گے ۔

آج بھی جو نصاب ہم اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں اِس کے نتیجے میں جو نسل پروان چڑھ رہی ہے وہ یا تو انتہا پسند رجحانات رکھتی ہے یا شکست خوردہ، ایک محدود طبقہ متعدل بھی ہے ۔انتہا پسند ی کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ چونکہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے یہ فصل بوئی تھی سو کاٹنی بھی پڑ رہی ہے لیکن شکست خوردہ رویے کی کیا وجہ ہے ؟ کیا اس میں بھی ہماری درسی کتب کا قصور ہے کہ جنہیں پڑھ کرمعاشرے میں losersپیدا ہو رہے ہیں ۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھ لیا جائے کہ losersیا شکست خوردہ عناصر ہوتے کیا ہیں !یہ معاشرے کے وہ لوگ ہیں جنہیں زندگی میں کوئی شناخت یا پہچا ن نہیں ملتی ، ان میں تھوڑا بہت ٹیلنٹ ضرور ہوتا ہے مگر یہ اس مقام تک کبھی نہیں پہنچ پاتے جہاں ان کے ہم عصر ، ہم جماعت، کولیگ ، رشتہ دار یا دوست احباب اپنی محنت اور ہنر مندی کی بدولت پہنچ جاتے ہیں ۔ اِ ن کی ایک نشانی کرپشن کی حسرت بھی ہے ، یہ ساری عمر کرپشن کرنے کی جدو جہد کرتے ہیں اور اس کام کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگاتے ہیں کہ کوئی اِن کی قیمت لگا کر انہیں خرید لے مگر سرمایہ دارانہ نظام کی بے شمار خرابیوں میں ایک خوبی بھی ہے کہ اس میں نالائقوں کو کوئی نہیں پوچھتا ، یہ بات ان شکست خوردہ عناصر کو ذہنی مریض بنا دیتی ہے اور وہ یہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں کہ جو لوگ بھی زندگی کی دوڑ میں اُن سے آگے نکل چکے ہیں وہ یقینا ً فراڈ اور بے ایمانی سے آگے نکلے ہیں ورنہ ٹیلنٹ تو اِن میں زیادہ تھا ۔ہمارے ارد گرد ایسے لوزرز کی بھرمار ہے اور اس میں کافی حد تک ہمارے نصاب کا قصور ہے ۔پہلی سے لے کر دسویں جماعت تک ہمیں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے اُس میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے لئے احترام تو درکنار نفرت کے جذبات ابھارے جاتے ہیں ، اپنے تاریخی ہیروز پر فخر کرنا بجا کہ ہر قوم ایسا ہی کرتی ہے مگر اس کوشش میں تاریخ کو یوں مسخ کر دینا کہ بچے کو تمام عمر مخالف نقطہ نظر ہضم ہی نہ ہو سکے ایسا خطرناک رجحان ہے جس کی روشن مثالیں ہم روزانہ اپنے میڈیا میں دیکھتے ہیں ۔دراصل ہمارے نصاب کی بنیادی خرابی یہ ہے کہ یہ ایک ’’دو ٹوک نصاب ‘ ‘ ہے ، اس میں کوئی ہیرو ہے یا ولن ، شیطان ہے یا فرشتہ ، انسان کوئی نہیں ۔ حقیقی زندگی یوں سیاہ و سفید نہیں ہوتی ، اس میں ہر قسم کے رنگ ہوتے ہیں ، زندگی میں پیچیدگیاں ہوتی ہیں ، اسے سادہ خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا ، ہمارا نصاب بچے کو یہ موقع فراہم نہیں کرتا کہ وہ زندگی کی پیچیدگیوں سے نبردآزما ہو سکے ، چنانچہ عملی زندگی کے جھٹکے اسے لوزر بنا دیتے ہیں اور و ہ ہر اس شخص کو اپنی ناکامی کا ذمہ دار سمجھتا ہے جو اس سے زیادہ کامیاب ہے ۔

ایک تیسری قسم معتدل لوگوں کی بھی ہے ، اس تعلیمی نظام میں غنیمت ہے کہ ایسے لوگ بھی معاشرے میں مل جائیں جن کا نصاب کچھ نہیں بگاڑ پاتا ۔ لیکن اِن لوگوں کو نصاب کے شکنجے سے باہر آنے کے لیے بہت جدو جہد کرنی پڑتی ہے ، ساری عمر جو کچھ اِن کے ذہنوں میں ڈالا جا تا ہے اس پر سوال اٹھانا اور اُن نظریات کا تنقیدی جائزہ لینا جنہیں سوسائٹی کا ایک بڑا طبقہ آفاقی سچائی کی طرح درست مانتا ہو، جوکھم کا کام ہے ۔یہ معتدل طبقہ زیادہ تر ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو تشدد ، نفرت اور بہتان تراشی پر یقین نہیں رکھتے ، اپنی زندگی میں وہ کامیابی کے متمنی ہیں ، اور ساتھ ہی اس ملک کے لئے بھی کچھ کرنا چاہتے ہیں ، یہ ہیں وہ لوگ جو دراصل روشن پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ان کا المیہ یہ ہے کہ اِن میں سے جو زیادہ ذہین نکل آئے وہ ملک چھوڑ کر باہر سیٹل ہونے کی کوشش کرتا ہے جبکہ ملک میں رہنے والی اِس معاشرے کی خرابیوں پر کُڑھتے تو رہتے ہیں مگر انہیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ اِس خرابی کو دور کرنے میں وہ اپنا کیا کردار ادا کریں !یہ وہ کمیاب نسل ہے جس کی ہمیں قدر کرنی چاہئے ، یہ لوگ قطار میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنا چاہتے ہیں مگر اس لئے قطار نہیں بناتے کیونکہ کوئی بھی قطار میں کھڑا نہیں ہوتا، یہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے سیٹ بیلٹ لگانا چاہتے ہیں مگر اس لیے نہیں لگاتے کیونکہ کوئی دوسرا نہیں لگاتا ، یہ ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف کاروائی چاہتے ہیں مگر خود کسی کے خلاف شکایت نہیں کرتے کیونکہ کوئی دوسرا بھی یہ جرات نہیں کرتا ۔۔۔۔یہی اس طبقے کا المیہ ہے ، یہ لوگ کوئی بھی مثبت کام کرنے میں پہل کرنے کی بجائے دوسروں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ جب کوئی دوسرا یہ کام کرے گا تو وہ بھی اس کے پیچھے کھڑے ہو جائیں گے اور کوئی دوسرا بھی یہی سوچتا رہ جاتا ہے کہ کوئی تیسرا کرے گا تو وہ اُس کے پیچھے کھڑا ہو جائے گا اور یوں یہ ہم ایک لا متناہی زنجیر کا حصہ بن جاتے ہیں جس کا کوئی سرا نظر نہیں آتا ۔اس زنجیر کو کیسے توڑا جائے ، یہ ذکر پھر کبھی !


Comments

FB Login Required - comments