وزیر اعظم نواز شریف کا آپریشن


ammar masoodوزیر اعظم نواز شریف کی بیماری کے حوالے سے جو کچھ سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر ہو رہا ہے،  وہ شرمناک ہے۔ عبرتناک ہے۔ الم ناک ہے۔

کسی بھی شخص کی بیماری کے حوالے سے تمسخر ، تضحیک اور طعنہ زنی نہ ہماری روایت ہے نہ ہمارے پرکھوں کا ورثہ۔ نہ ہماری تہذیب ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے نہ تمدن اس بات کا غماز ہے۔ نہ ایسے نازک موقع پرنفرتوں کا روبار ہماری سرشت ہے نہ یہ اخلاقی معیار ہے۔ نہ یہ ٹھٹھے سماجی اقدار کا حصہ ہیں نہ ہماری ثقافت ہمیں یہ سبق دیتی ہے۔ نہ مذہب اس کی تعلیم دیتا ہے نہ معاشرہ اس کی تلقین کرتا ہے۔

 ہم تو وہ لوگ ہیں جو بیمار کی عیادت کرنے کو دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ جو صحت کی دعا کو احسن عمل قرار دیتے ہیں۔ میں اب اس نتیجے پر پہنچ چکا ہوں کہ نفرتوں کا یہ کاروبار ہمیں نہائیت سستے داموں فروخت کیا جا رہا ہے۔ ہماری اقدار کو ملیا میٹ کیا جا رہا ہے۔ ہمیں نفرت پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ یہ سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ یہ سازش ہے۔ یہ ظلم ہے۔

ہم ایسے لوگ نہیں تھے جیسے ہو گئے ہیں۔ ہم ایسے لوگ نہیں ہیں جیسے سکرینوں پر دکھ رہے ہیں۔ ہم نفرتوں میں، سیاسی فائدوں میں، اپنے ان دیکھے آقاوں کے حکم کی تعمیل میں اس حد تک نہیں گر سکتے۔ یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ یہ گراوٹ، یہ تنزلی ، یہ بد اخلاقی ہمارا منصب نہیں ہے یہ ہمارا مقام نہیں ہے۔ یہ ہماری ریت روایت نہیں ہے۔

پھر یہ وہ مرحلہ ہے جس سے ہر شخص گزرا ہے یا پھر اس نے گزرنا ہے۔ کبھی ہسپتال جا کر تو دیکھیں ایسے بڑے آپریشن سے پہلے خاندان پر کیا گزرتی ہے۔ دعا کے لیئے ہاتھ بلند ہوتے ہیں، ہونٹوں پر قرانی آیات ہوتی ہیں، انکھوں میں نمی اور دل میں انجانے خوف ہوتے ہیں۔ ایسے میں دل موم ہوتے ہیں۔ وظیفے ہو رہے ہوتے ہیں۔ خیرات کی جا رہی ہوتی ہے۔ صدقے دیئے جا رہے ہوتے ہیں۔ نوافل پڑھے جا رہے ہوتے ہیں۔ بیوی ، بچے ، دوست اور احباب جمع ہوتے ہیں۔ سب کے سب انجانے خوف سے بچنے کے لئے ایک دوسرے کو حوصلہ دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ ہر پاکستانی گھر میں ہوتا ہے۔ ہسپتال میں ہر میجر آپریشن سے پہلے ایسے ہی مناظر نظر آتے ہیں۔ ایسا ہی ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے یہ ہی ہماراطور طریقہ ہے۔

فرض کریں کہ آپ اس مرحلے سے گزر رہے ہوں ، یا آپ کے گھر کو کوئی فرد باپ، بھائی ، بہن ، ماں یا بیٹا اس میجر آپریشن کے لیئے تیار ہو رہا ہو۔ آپ کا دل وسوسوں سے بھرا ہو۔ خدشے ذہن میں جاگ رہے ہوں، ڈاکٹر تسلی دے رہے ہوں مگر آپ کا دل نہ مان رہا ہوں، انجانے خوف دامن گیر ہوں اور ایسے میں آپ کے دشمن آپ پر وار کردیں؟ آپ کے مریض کی بیماری کو بہانہ قرار دے دیں۔ آپ کے کھانے کو عیاشی بنا کرپیش کریں، مریض کی چہل قدمی کو ڈرامہ کہہ کر پکاریں، ہسپتال سے ریکارڈ منگوا کر تسلی کریں کہ واقعی آپریشن ہو رہا ہے یا کوئی ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔ آپ کے مریض کی خاندان کے ساتھ ملاقات کی خفیہ وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پ مذاق بنایا جا رہا ہو۔ آپ کے مریض کی مسکراہٹ کو مکر سے تعبیر کیا جائے، مریض کے حوصلے کو ڈھٹائی بنا کر پیش کیا جائے۔ ایسے نازک موقع پر پرانے بدلے نکالے جائیں۔ انتقام کی آگ میں تیمارداروں کو جلایا جائے۔ تو آپ ایسے ہر شخص سے ہمیشہ کے لیئے متنفر ہو جائیں گے۔ بدلہ لینے کا سوچیں گے اور نفرت کا جواب نفرت سے دیں گے۔

جو چند افراد اس غلیظ مہم میں مصروف ہیں انہیں شائد اس بات کا ادراک نہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف اس ملک کے منتخب وزیر اعظم ہیں۔

کڑوڑوں لوگوں نے ان کو ووٹ دیا ہے۔ لاکھوں چاہنے والے موجود ہیں۔ بے شمار ایک جھلک دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب آپ ان افراد کے لیڈر کے بارے میں ایسی گفتگو سرعام کریں گے تو یہ سارے چاہنے والے آپ کے اس سلوک کا جواب نفرت سے دیں گے اور انکا ردعمل آپ سے زیادہ شدید ہو گا۔ خدارا نفرت کی بیخ کنی کا یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ محبتوں اور احترام کی فضا کو پروان چڑھائیں۔ سیاسی مخالفت میں اس قدر نہ گر جائیں کہ خود اپنی نظروں میں سر نہ اٹھا پائیں۔

یہ موقع احترام کا ہے۔ دعا کا ہے۔ رواداری کا ہے۔ دلجوئی کا ہے۔ اس موقعے کا احترام کریں۔ وزیر اعظم پاکستان کی صحت یابی کے لیئے ، آپریشن کی کامیابی کے لیئے اور جلد از جلد وطن واپسی کے لیئے دعا کریں۔ بس دعا کریں۔


Comments

FB Login Required - comments

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 42 posts and counting.See all posts by ammar

One thought on “وزیر اعظم نواز شریف کا آپریشن

  • 04-06-2016 at 4:13 pm
    Permalink

    میں نے بھی عمار مسعود صاحب کی تحریر کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ لے ہی نہیں سکتا کیونکہ کروڑوں لوگوں کے ووٹ سے بننے والے منتخب وزیراعظم والی بات کو کون ہوشمند سنجیدگی سے لے گا اور پھر ایسے شخص کے متعلق جس کی سابقہ ساری زندگی جھوٹ بددیانتی کرپشن وغیرہ سے ملوث ہو اسے تو جب تک اپنے ہاتھوں سے دفنا نہ دیں تب تک اس کی موت کا بھی یقین نہیں کیا جاسکتا یہ تو پھر دوردیس میں آپریشن کی بات ہے۔ وہ کروڑوں لوگ جنہیں تعلیم صحت خوراک لباس اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں جعلی دوائیں وہ بھی مہنگی اور ایک ایک بستر پر تین تین مریض وہ دعائیں نہیں بددعائیں دیتے ہیں۔ دعائیں صرف وہ دے رہے ہیں جن کا کرپشن کا کاروبار مہابلی کی بدولت پھل پھول رہا ہے۔ ویسے تعداد ان کی بھی کروڑوں سے کم نہیں۔ اس لحاظ سے عمار مسعود صاحب بالکل ٹھیک کہتے ہیں لیکن کیا کیا جائے کہ وہ خود اپنی ہی اس کہی گئی درست بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

Comments are closed.