“ہم سب” پر ٹریفک کیسے جام ہوتی ہے


zeffer05‘ہم سب’ پہ میری بے پناہ مقبول تحریروں کی وجہ سے اتنا رش ہوا، کہ ٹریفک جام ہوگئی. چاہنے والیوں نے پوچھا ہے کہ آخر وہ کیا راز ہے کہ ایک آپ کی وجہ سے قارئین کا رخ ہم سب کی سائٹ کی اور ہوتا ہے. میں جواب دیتا ہوں کہ کالم یا بلاگ لکھنا بہت آسان ہے. آپ نے یہ نہیں سوچنا کہ آپ کو کیا لکھنا ہے. بس یہ پتا ہوتا چاہیے، آپ کس بلاک میں ہیں، اور کس کے خلاف لکھنا ہے. آئیے میں آپ کو کالم یا بلاگ لکھنے کے سنہری اصولوں سے روشناس کرواوں.

اگر آپ مذہب کے حامی ہیں، گر چہ آپ مذہبی تعلیمات پر عمل نہیں بھی کرتے، تو بھی آپ ہر خبر، ہر واقعے کا تجزیہ کرتے یہ ضرور لکھیں، کہ مذہب سے دوری نے سماج کو بگاڑ دیا ہے. حوالے دیجیے، کہ کیسے عظیم الشان اسلامی حکومتوں نے، عظیم بو علی سینا، رازی، ابن رشد، فارابی، گلابی، عنابی، وغیرہ وغیرہ پیدا کیے. یقینا میری طرح آپ بھی نہیں جانتے ہوں گے کہ مذکورہ بالا حکما کیا بیچتے رہے، جاننے کی ضرورت بھی نہیں. لاعلمی نعمتوں میں ایک نعمت شمار ہوتی ہے. ہاں یہ لکھنا قطعاً مت بھولیے کہ لبرل تو چاہتے ہی یہ ہیں، کہ بے حیائی کو فروغ ملے. جمہوریت کو برا بھلا کہیے، خلافت کے گن گائیے.

اگر آپ لبرل بلاک سے ہیں، گر چہ لبرل ہونے کو آپ شراب پینے کی آزادی، مرد عورت کا اختلاط سمجھ بیٹھے ہیں، تو کوئی بات نہیں. پھر بھی آپ ہر ظلم، ہر مصیبت کی وجہ مذہب، خصوصاً مذہب اسلام کو بتائیں. یاد رہے کہ جہاں لبرل ہونے کے ناتے سے عورت کے حقوق، آزادی، عظمت کا راگ الاپنا ہے، وہیں ہندو، عیسائی کو مظلوم بنا کر بھی پیش کرنا ہے. اس طرح آپ زیادہ لبرل لبرل محسوس کریں گے. برٹرینڈ رسل، اسٹورٹ مل، جان لاک، اور اسی طرح کے کچھ مشکل نام رٹ لیں.( معلوم نہیں میں نے بھی یہ نام درست لکھے ہیں یا نہیں) حوالہ دیتے وقت کام آتے ہیں. کارل مارکس کو بھول جائیں، وہ اولڈ فیشنڈ ہو گیا ہے. نہیں نہیں.. ٹرایسکائٹس کی اصطلاح مہمل ہوئی.

بس ایک بات کا خیال رہے، آپ نے کسی اصول کا غلام نہیں ہونا. جیسا کہ دانش ور آئن اسٹائن فرما گئے ہیں، کہ دو ہی اصول بناو، ایک یہ کہ کسی کی پروا مت کرو، دوسرا یہ کہ کوئی اصول مت بناو. کیوں کہ آپ کسی اصول کی بنیاد پر تجزیے کرنے بیٹھے، تو ہر ‘بلاک’ کا بندہ، آپ کو مخالف بلاک کا نکما سمجھے گا.

اب رہا آپ کے لکھے کا کہیں شائع ہونا، تو آپ وجاہت مسعود نام نامی کو ارسال کر دیں، وہ بلا روک ٹوک چھاپ دیں گے. اس لیے نہیں، کہ وہ سچے لبرل ہیں، جو دوسرے کو اپنی بات کہنے کی آزادی دیتے ہیں، بل کہ یہ صاحب ‘ہم سب’ کی کسی تحریر کو پڑھتے ہی نہیں.


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 85 posts and counting.See all posts by zeffer-imran