گورے کی غلطی اور صدیوں کی سزا


husnain jamal (3) البرٹا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے گذشتہ دنوں ایک انوکھی دریافت کی۔ زیادہ پیچیدہ ناموں سے بچتے ہوئے اتنا جان لیجیے کہ کینیڈا کے برفانی علاقوں میں سے ایک ایلس میئر آئی لینڈ ہے۔ وہاں ایک گلیشیر ہے جو پچھلے پانچ سو برس سے جما ہوا تھا۔ گلوبل وارمنگ یا کسی اور وجہ سے وہاں برف پگھلنی شروع ہو گئی۔ جہاں جہاں بھی صدیوں سے جمی ہوئی برف پگھلتی ہے اور وہ علاقہ انسانی پہنچ میں ہو تو وہاں حسب توفیق اس علاقے کے ماہرین ارضیات اور دیگر شعبوں کے ماہرین ضرور چکر لگاتے ہیں تاکہ برف پگھلنے کے عوامل پر غور کیا جا سکے اور اگر کچھ دبے ہوئے فوسلز یا دیگر چیزیں نظر آ جائیں تو ان کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔ البرٹا یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم بھی وہاں گئی اور انہوں نے ساٹھ مختلف ایسے پودوں کی اقسام دریافت کیں جو پانچ سو برس سے وہیں برف میں دبی ہوئی تھیں اور اب برف پگھلنے پر نمودار ہوئی تھیں۔ اہم بات یہ تھی کہ ان میں سے اکثر پودے مرے نہیں تھے بلکہ زندہ تھے۔ ان پر ننھے منے پتے نمودار ہو چکے تھے اور ان کی گروتھ کا عمل دوبارہ شروع ہو چکا تھا۔ گویا ایسے سخت جان پودے تھے جنہیں پانچ سو برس گزر گئے برف میں دبے ہوئے لیکن جہاں موسم سازگار ہوا وہاں انہوں نے اپنے نئے پتے اور شاخیں نکال لیں۔

یہی مثال صدیوں سے منجمد دماغوں کی ہوتی ہے۔ وہ دماغ جب مشکل حالات کا شکار ہوتے ہیں تو اپنے اندر موجود نفرتیں کہیں پرے پھینک دیتے ہیں، لیکن جیسے ہی حالات تھوڑے سے سازگار ہوتے ہیں تو وہ اپنا رنگ ڈھنگ دکھانے لگ جاتے ہیں۔ بیرون ملک جانے والے بھائیوں کی مثال لے لیجیے۔ برا وقت آیا، جیسے تیسے رقم اکٹھی کی یا ماں اور بیوی کے زیور بیچے اور یورپ پہنچ گئے۔ گوروں کے ملک میں دن رات ایک کر کے کمانا شروع کیا، دس دس لوگ ایک ہی کمرے میں رہے، ایک بستر کو رات اور دن کی شفٹ والے دو لوگوں نے استعمال کیا، گوروں کے دفتروں میں سیکیورٹی کی نوکریاں کیں، گیس اسٹیشن پر کام کیا، ٹیکسیاں چلائیں، ادھ پچھتا کھانا کھایا، کبھی نہ بھی کھایا، موسم کی سختیاں برداشت کیں اور ہر طرح کے عذاب جھیل کر اس قابل ہو گئے کہ بیوی بچوں کو بلا سکیں۔

یہاں پہلا مرحلہ آ گیا برف پگھلنے کا، بیوی کے آتے ہی انہیں حجاب یاد آئے گا، بچوں کو اپنی عظمت کے سبق رٹوائے جائیں گے، گوروں سے نفرت ان کے دماغوں میں بھری جائے گی اور انہیں بار بار یہ بتایا جائے گا کہ یہ لوگ ناپاک ہوتے ہیں، ان کی عورتیں جانوروں کی طرح ہوتی ہیں، یہ گناہ و ثواب کے احساسات سے عاری لوگ ہیں، ان سے زیادہ دوستی مت کرنا وغیرہ وغیرہ۔

جب تک وہ کمانے میں مصروف ہوتے ہیں انہیں یہ سب نظر نہیں آتا، اور جب وہ کما چکتے ہیں تو وہ یہ نہیں جانتے کہ یہی ملک ہے جس نے انہیں کھلے بازووں سے خوش آمدید کہا، ان کے پیٹ میں روٹی اور تن پر کپڑے کا سہارا دیا، اتنا کمانے کے قابل ہوئے کہ اپنا گھر لے سکیں اور بیوی بچوں کو رکھ سکیں یعنی کمائی کے وقت جو برف جمتی ہے وہ فیملی کے آتے ہی پگھلنا شروع ہو جاتی ہے۔

اب بچوں کے بڑے ہونے کا مرحلہ شروع ہوتا ہے تو باقاعدہ طور پر برف پگھلنے کے بعد ان پودوں کی طرح دماغ اپنی اصل حالت میں آنا شروع ہو جاتا ہے۔ بیٹیوں پر پابندیاں حد سے زیادہ بڑھنی شروع ہو جاتی ہیں، ان کا ہر لباس انہیں ناقابل قبول ہوتا ہے، ہر گورا دوست یا سہیلی مشکوک لگتا ہے اور کلب جانا یا دوستوں کے ساتھ کہیں باہر نکلنا تو ویسے ہی شجر ممنوعہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ بیٹوں کے ساتھ بھی یہی سب کچھ ہوتا ہے لیکن چوں کہ وہ لڑکے ہیں اور ان کی “عصمت” روایتی قسم کی نہیں ہوتی اس لیے انہیں اپنے ساتھ اسلامک سینٹر لے جانے اور اخلاقیات کے لیکچر دینے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

بچے اس ساری تربیت کے دوران شدید ذہنی عذاب سے دوچار ہوتے ہیں۔ کہاں تو وہ اپنے ہم جماعتوں کا آزادانہ رہن سہن، ان کے والدین کا دوستانہ رویہ، ان کے کھلے ہوئے چہرے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور کہاں گھر آتے ہی وہ ایک یبوست زدہ پنجرے میں قید ہو جاتے ہیں۔ دیسی والدین کی پابندیاں اور ہر بات پر روک ٹوک کے دو نتائج نکلتے ہیں۔

تقریباً اسی فیصد اولاد یا تو بالکل مغربی روایات کی حامی ہو جاتی ہے یا پھر بنیاد پرستی کی جانب مائل ہو جاتی ہے۔

والدین ہر دو صورتوں کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتے۔

مغربی اقدار قبول کرنے والے بچے کیوں کہ بچپن میں بے تحاشا روک ٹوک برداشت کر چکے ہوتے ہیں اس لیے حد سے زیادہ آزادی کے خواہاں ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ تمام عمر مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار رہتے ہیں جن میں احساس کمتری اور مسلسل احساس گناہ سرفہرست ہوتا ہے۔ چھوٹی عمر میں ثواب و عذاب کا ذہن نشین کرایا گیا فلسفہ تمام عمر کسی کھونٹے سے نہیں بندھنے دیتا اور نتیجتہ وہ نہ تین میں رہتے ہیں نہ تیرہ میں۔

دوسری طرف بنیاد پرستی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے اپنے ہی معاشرے میں مس فٹ ہو جاتے ہیں۔ لوگوں سے فاصلہ رکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ مخصوص حلیہ اپنا لیتے ہیں جو ان کے آبائی ملک میں تو بے شک باعث ثواب ہوتا ہے لیکن جن کے یہاں ان کے والد کمانے گئے ہوتے ہیں ان کے لیے وہ حلیہ ایک ڈراؤنے خواب کے ایسا ہوتا ہے۔ غیر مذہب والوں کے ساتھ کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا ترک کر دیا جاتا ہے، اسلامک سینٹر کے پھیروں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، افریقہ اور جاپان کے قبائل کو تبلیغ کرنے کے پروگرام بنتے ہیں اور اپنا گھر آہستہ آہستہ فراموش کر دیا جاتا ہے۔ یوں اپنے ہی علاقے میں ایک لڑکا یا لڑکی ایلین بن جاتا ہے اور ساتھ ساتھ مسلسل احساس برتری کا شکار بھی کہ “ہم نیک ہیں باقی گناہ گار ہیں۔”

ہر دو صورتوں کی انتہا اس صورت حال پر جا کر ختم ہوتی ہے جسے دنیا دہشت گردی کا نام دیتی ہے۔ آپ پیرس اٹیک کو دیکھ لیجیے،امریکہ اور کینیڈا کی جیلوں میں چھوٹے موٹے جرائم میں ملوث مسلمان دیکھ لیجیے، جرمنی میں وقوع پذیر ہونے والے سانحات دیکھ لیجیے یا گذشتہ عشرے کے دوران یورپ میں ہونے والی وہ دہشت گر کارروایاں دیکھ لیجیے جن کے ذمہ دار مسلمان نوجوان تھے۔ اکثر کیسز میں آپ کو وہ لوگ ملوث ملیں گے جو وہیں پلنے بڑھنے والے مسلمان تھے۔ وہ لوگ ہمارے ان بھائیوں کی اولاد تھے جو تیس چالیس برس قبل یہاں سے یا کسی اور مسلمان ملک سے وہاں گئے لیکن دماغ منجمد لے کر گئے، حالات بہتر ہوتے ہی مذہب کی طرف بال بچوں سمیت اس شدت سے رجوع کیا کہ بچے یا تو بالکل مذہبی ہو گئے اور یا باغی ہو کر بالکل آزاد، اور ان دونوں طرح کے بچوں میں ایک سوچ مشترک تھی، گورا ہمارا دشمن ہے، گورا ناپاک ہے، گورا کم تر ہے، گورے کو نیچا دکھانا ہے۔ حالاں کہ رہنا بھی اسی گورے کے ملک میں ہے اور کمانا بھی اسی کے وسائل میں سے ہے۔

اس سب سے تنگ آ کر گورا چیخ اٹھتا ہے، وہ ڈونلڈ ٹرمپ بن جاتا ہے اور پھر وہ کہتا ہے؛

یہ مسئلہ اس ملک بلکہ اس دنیا کی لبرل پالیسی کی وجہ سے ہے، ایسا لگتا ہے جیسے یہ ہماری غلطی ہے۔ یہ ہماری غلطی نہیں ہے، او کے! یہ ہماری غلطی نہیں ہے! یہ ان کی غلطی ہے!

ویسے کیا واقعی یہ غلطی گورے کی نہیں ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 146 posts and counting.See all posts by husnain

2 thoughts on “گورے کی غلطی اور صدیوں کی سزا

  • 03-06-2016 at 7:58 pm
    Permalink

    بہت اچھا کالم ہے اور درست تشخیص ہے- میں کافی عرصے سے اسی راۓ پر قائم ہوں کہ بیرون ملک جانے والے مسلمانوں کی پہلی نسل بہت کم انتہا پسندی کا شکار ہوتی ہے- یہ دراصل دوسری اور تیسری نسل ہوتی ہے جو اس کا شکار ہوتی ہے- اس کا علاج یہی ہے کہ بچے اپنی ابتدائی تعلیم کم از کم اپنے آبائی ملک میں مکمل کریں- اس سے وہ “ایلین” نہیں بنیں گے اپنے دوسرے ملک میں، نا احساس محرومی کا شکار ہوں گے، نا احساس کمتری کا، نا احساس برتری کا اور نا ہی اپنی شناخت کے بحران میں مبتلا ہوں گے- اس کے سوا بہت سوچ کر بھی مجھے کوئی علاج سمجھ نہیں آیا کیونکہ بہت کم مسلمان ایسے ہوں گے جو وہاں کے معاشرے اور معاشرت میں سو فیصد ڈھل جانا پسند کریں یا قبول کریں

  • 04-06-2016 at 9:49 am
    Permalink

    اصل مسئلہ خوف ہے۔ پہلے مرحلے میں ہم غربت کے خوف سے مغرب کی جانب بھاگتے ہیں، مغرب میں غربت کے خوف سے آزادی ملتی ہے تو اپنی اقدار کے مٹنے کا خوف ہم پر مسلط ہو جاتا ہے اور اسی خوف کے نتیجے میں ہم اس آشیانے کو کاٹنے پر تُل جاتے ہیں جس نے ہمیں غربت کے خوف سے نجات دی۔ اس طرح ہم مغرب کو بھی ایک خوف میں مبتلا کر معاشرے کا امن برباد کرتے چلے جاتے ہیں۔

Comments are closed.